انڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستانی بحریہ کے ایک جہاز کی انڈین نیوی کے جہاز کے ساتھ ٹکر کے معاملے پر پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور (چارج ڈی افیئرز) کو طلب کر کے ’شدید احتجاج‘ کیا گیا ہے۔
فائل فوٹوانڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستانی بحریہ کے ایک جہاز کی انڈین نیوی کے جہاز کے ساتھ مبینہ ٹکر کے معاملے پر پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور کو طلب کر کے ’شدید احتجاج‘ کیا گیا ہے۔
بدھ کو جاری کردہ بیان میں انڈیا کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور (چارج ڈی افیئرز) کو طلب کر کے پاکستانی بحریہ کے یونٹس کے مبینہ ’غیر پیشہ ورانہ اور ناقابلِ قبول طرزِ عمل‘ پر شدید احتجاج ریکارڈ کروایا گیا ہے۔
انڈیا کا دعویٰ ہے کہ اس واقعے میں بین الاقوامی سمندری حدود میں پاکستانی نیوی کا جہاز انڈین بحریہ کے ایک جہاز کے ساتھ ٹکرایا ہے۔ تاہم اس واقعے میں کسی نقصان کی اطلاع نہیں۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے تاحال اس معاملے پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔
انڈیا نے کیا کہا؟
انڈین وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ بین الاقوامی سمندری حدود میں پیش آیا اور اس کے نتیجے میں کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔
تاہم انڈیا کا مؤقف ہے کہ پاکستانی بحری جہاز کا طرزِ عمل اپریل 1991 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان فوجی مشقوں، نقل و حرکت اور فوجی دستوں کی پیشگی اطلاع سے متعلق معاہدے کے آرٹیکل 10 کی براہِ راست خلاف ورزی تھا۔
وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انڈین حکام نے پاکستانی ناظم الامور کو ہدایت کی ہے کہ وہ متعلقہ پاکستانی حکام تک یہ پیغام پہنچائیں کہ دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ معاہدوں کا احترام کرتے ہوئے تمام فوجی یونٹس احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
انڈیا نے مزید کہا ہے کہ انھوں نے اسلام آباد میں تعینات اپنے ناظم الامور کو بھی ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے سامنے اسی نوعیت کا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔
خبر رساں ادارے اے این آئی نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ واقعہ 15 ستمبر کی شب شمالی بحیرۂ عرب میں پیش آیا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی بحریہ کا جہاز ’تیز رفتاری سے انڈین بحریہ کی وار شپ سے ٹکرایا جو نگرانی کے معمول کے مشن پر موجود تھا۔‘
اگرچہ انڈین وارشپ کا نام نہیں بتایا گیا تاہم انڈین میڈیا نے اس واقعے میں پاکستانی بحریہ کی آف شور پیٹرول ویسل پی این ایس حنین کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
پاکستانی حکام نے اس معاملے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔