پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائیہ اور ڈرونز کے ذریعے افغانستان میں 10 ’ایسے مقامات پر انتہائی درست حملے کیے گئے ہیں جو ڈرونز داغنے اور انھیں ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔‘
افغانستان کے شہر قندھار میں فضائی حملے کے بعد علاقے سے آگ کے شعلے اور دھواں بلند ہو رہا ہےپاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائیہ اور ڈرونز کے ذریعے افغانستان میں 10 ’ایسے مقامات پر انتہائی درست حملے کیے گئے ہیں جو ڈرونز داغنے اور انھیں ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔‘
پاکستان کی جانب سے ان مقامات کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی تاہم یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب ایک ہی دن قبل پاکستان کی سرکاری چینل نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان نے بدھ کی صبح افغانستان سے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ’آٹھ ڈرون مار گرائے‘ ہیں۔
جمعرات کی صبح اس اعلان کے بعد افغانستان کے طلوع نیوز نے خوست کے گورنر کے ترجمان مستغفر گربز کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ’پاکستان کے حملے رات تقریباً ساڑھے تین بجے ہوئے اور ضلع گربز کے علاقے کمپ گلان کے علاوہ ضلع اسماعیل خیل اور مندوزی کے بعض علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔‘ ان کے مطابق حملوں میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
افغانستان کی طالبان حکومت کی جانب سے حملوں کا نشانہ بننے والے دیگر مقامات کی نشان دہی نہیں کی گئی، تاہم گیٹی امیجز نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کی فراہم کردہ چند تصاویر جاری کی ہیں، جن میں قندھار میں ایک فضائی حملے کے بعد آگ اور دھوئیں کے شعلے بلند ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
قندھار میں فضائی حملے کے بعد آگ اور دھواںسوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں وزیرِ اطلاعات نے الزام لگایا کہ گذشتہ روز (23 ستمبر کو) افغان سر زمین سے پاکستان میں ڈرونز بھیجے گئے تھے۔
عطا اللہ تارڑ کے بقول ’یہ پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے اور جارحیت کا ایک سنگین اور نا قابلِ قبول عمل ہے۔‘
واضح رہے کہ گذشتہ روز پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ بدھ، 23 ستمبر کی صبح پاکستان نے اپنی فضائی حدود میں افغانستان سے داخل ہونے والے آٹھ ڈرونز مار گرائے ہیں۔
سرکاری ذرائع ابلاغ پر رپورٹ کیے گئے سکیورٹی ذرائع کے مطابق ’ان ڈرونز کا تعلق افغان طالبان رجیم سے تھا‘ جن میں سے چار کو طورخم سرحد سے ملحقہ علاقوں میں مار گرایا گیا، جبکہ دیگر چار کو کوہاٹ سے متصل سرحدی پہاڑی علاقوں میں نشانہ بنایا گیا۔
تاہم افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارتِ دفاع کے ترجمان صدیق اللہ نصرت نے اس الزام کی تردید کی تھی کہ افغانستان کی جانب سے آٹھ ڈرونز پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوئے تھے۔
اس سے قبل، پیر (21 ستمبر) کو پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ’مستند خفیہ اطلاعات‘ کی بنیاد پر سرحد سے متصل افغان علاقے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اُس سے وابستہ گروہوں کے ٹھکانوں کو انتہائی درستی کے ساتھ نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں کئی 'خودکش بمباروں' کے علاوہ 28 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔
اُسی روز افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پوسٹ میں کہا تھا کہ ’افغان عوام اس جارحیت کا مناسب جواب دیں گے۔‘
تاہم، بی بی سی سے گفتگو میں افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان صدیق اللہ نصرت نے اس تاثر کو رد کیا کہ پاکستانی حملوں کے ردعمل میں افغانستان نے بھی پاکستان پر ڈرون داغے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’افغان فضائیہ نے ابھی تک کوئی ڈرون حملہ نہیں کیا اور جوابی کارروائی کا وقت اور نوعیت وہ خود طے کرے گی۔‘
جمعرات کے روز اپنی ایکس پوسٹ میں عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کئی سال سے پڑوسی ملک کی طالبان حکومت سے اس تشویش کا اظہار کر رہا ہے کہ افغان سر زمین پر دہشت گردوں کی پناہ گاہیں اور ان کے سہولت کار موجود ہیں۔‘
21 ستمبر کو پاکستان نے 'مستند خفیہ اطلاعات' پر افغانستان میں 28 شدت پسند ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھاپاکستان کے وزیرِ اطلاعات کے مطابق، ’افغان سر زمین استعمال کر کے پاکستان میں دہشت گردی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے افغان طالبان حکومت نے پاکستان پر ڈرون داغ کر صورتحال مزید کشیدہ کرنے کا انتخاب کیا۔‘
عطا تارڑ کے بقول پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے دراندازی کرنے والے ڈرونز کو ان کے کسی بھی مطلوبہ ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی غیر مؤثر کیا اور ’حملے کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔‘
وزیرِ اطلاعات نے اپنی ایکس پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ جوابی کارروائی کے طور پر افغانستان میں ڈرونز داغنے اور ذخیرہ کرنے کے لیے بنائے گئے 10 مقامات کو ’انتہائی درستی‘ سے نشانہ بنایا گیا اور وہ صرف اُن فوجی اہداف تک محدود تھے جن کا پاکستان پر حملوں سے براہِ راست تعلق تھا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان افغان سر زمین سے کیے جانے والے حملوں کو ’قبول کرے گا اور نہ ہی برداشت کرے گا۔‘
ان کے بقول ’افغان طالبان کی جانب سے دھمکیوں، تردید یا ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کوشش سے‘ حقائق نہیں بدلیں گے اور پاکستان اپنے عوام اور قومی سلامتی کا دفاع جاری رکھے گا۔
اپنی ایکس پوسٹ میں وزیرِ اطلاعات نے افغانستان کی طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ دشمنی پر مبنی سرگرمیاں بند کرے اور ’افغان سر زمین سے کارروائیاں کرنے والے شدت پسند عناصر کے خلاف مؤثر، ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کرتے ہوئے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے۔‘
انھوں نے لکھا: ’افغان سر زمین کو پاکستان کے خلاف حملے کرنے یا دشمنی پر مبنی کارروائیاں انجام دینے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔‘
وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا لیکن ’افغان طالبان کی جانب سے کسی بھی مزید اشتعال انگیزی کا سخت جواب دیا جائے گا۔‘
افغان طالبان حکومت کے پاس کس قسم کے ڈرونز موجود ہیں؟
رواں سال 27 فروری کو افغانستان کی طالبان حکومت نے ڈرونز استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے تین شہروں میں ’متعدد فضائی حملوں‘ کا دعویٰ کیا تھا۔
اس دعوے کے بعد طالبان حکومت کی ڈرون صلاحیتوں اور استعمال کیے گئے ڈرونز کی نوعیت کے بارے میں سوالات اٹھے تھے، اور بی بی سی نے اپنی پانچ مارچ کی رپورٹ میں ان کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کی تھی۔
ذیل کی معلومات اسی رپورٹ سے لی گئی ہیں۔
بی بی سی افغانستان کی فیکٹ چیک ٹیم کی تحقیقات کے مطابق طالبان حکومت نے پاکستان پر حملوں کے لیے دو قسم کے ڈرون استعمال کیے تھے، جن میں سے کچھ خودکش ڈرونز جبکہ چند کواڈ کاپٹرز (ایسے ڈرون جو چار پروں کی مدد سے اڑتے ہیں) شامل تھے۔
کواڈ کاپٹرز عمومی طور پر فوجی استعمال کے لیے تیار نہیں کیے جاتے تاہم شدت پسند گروہ ان میں معمولی تبدیلیاں کر کے اور انھیں دھماکہ خیز مواد سے لیس کر کے حملوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلائے جانے والے ان ڈرونز کی پرواز کی حد 25 کلومیٹر تک ہے اس لیے انھیں طویل فاصلے کے اہداف پر حملے کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔
طالبان حکومت کے استعمال کردہ ڈرونز کے بارے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایک افغان ماہر نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ڈرونز کی ایک قسم وہ ہے ’جو 20 کلومیٹرکے فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنا سکتی ہے، ایسے ڈرونز کو ایک خاص ریموٹ کنٹرول کی مدد سے چلایا جاتا ہے اور ان میں چھ سے آٹھ کلوگرام دھماکہ خیز مواد لے جانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔‘
’دوسری قسم ایک سافٹ ویئر کے ذریعے کام کرتی ہے اور ہدف کے محل وقوع کی تفصیلات اس میں فیڈ کی جاتی ہیں۔‘
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہر کے مطابق ان ڈرونز کی پرواز کی حد کئی عوامل پر منحصر ہے مثلاً دھماکہ خیز مواد کا وزن، ایندھن کی مقدار اور موسم کی صورتحال۔ خود اس ڈرون کا وزن تقریباً 15 کلوگرام ہوتا ہے۔
فروری میں افغان طالبان کی جانب سے داغا گیا ڈرون، جو پاکستانی حدود میں گر کر تباہ ہوا تھایوکرین کے دفاع اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سربراہ رائے گارڈنر نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ یہ ڈرونز 150 سے 400 کلومیٹر کے فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر اس کا دار و مدار وار ہیڈ کے وزن پر ہے۔
بی بی سی نے رائے گارڈنر کو ایک ڈرون کے باقی ماندہ حصوں کی تصاویر دکھائی تھیں جو طالبان فورسز کے مطابق پاکستان کے علاقے صوابی پر فائر کیا گیا تھا۔
رائے گارڈنر نے اس ڈرون کو ’غیر معروف اور مقامی طور پر تیار شدہ (دیسی ساختہ)‘ قرار دیا تھا۔
جن ڈرونز سے طالبان نے فروری میں پاکستان میں حملہ کیا تھا، ان میں سے چند اپنی ظاہری شکل کے لحاظ سے ’ڈیلی‘ نامی ڈرون سے بہت مشابہ تھے جو ماضی میں ایک ترک ٹیکنالوجی کمپنی ’ٹیٹرا‘ تیار کرتی تھی۔
رائے گارڈنر کے مطابق ’طالبان کے ڈرونز فکسڈ وِنگ ہیں جن میں سنگل سلنڈر پٹرول سے چلنے والا انجن اور لکڑی کا پہیہ ہے۔ ایسی مشینیں مارکیٹ میں تفریحی ہوا بازی کے شوقین افراد کے لیے دستیاب ہوتی ہیں۔‘
انھوں نے اپنے بیان میں شبہ ظاہر کیا تھا کہ ’زیادہ امکان ہے کہ ان مشینوں کے پرزے کسی اور ملک میں تیار کیے گئے ہوں۔‘
پاکستان پر حملے کے لیے طالبان حکومت کے استعمال کیے جانے والے ڈرون کے بچے ہوئے حصوں کے تجزیے سے معلوم ہوا تھا کہ اس نوعیت کے ڈرونز کی زیادہ سے زیادہ قیمت مارکیٹ میں تقریباً 250 ڈالر (15,000 افغانی) ہے۔
رائے گارڈنر کے مطابق کامی کازی ڈرونز بنانے کی لاگت عام طور پر تقریباً 700 ڈالر (تقریباً 45,000 افغانی) بنتی ہے۔
ایک افغان ٹیکنالوجی ماہرنے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’ان ڈرون کا چھوٹا سائز، کم بلندی پر پرواز، اور فائبر سے بنا ڈھانچہ انھیں ریڈار سے پوشیدہ رکھتا ہے۔ اس ڈرون کی ایک قسم ایندھن جبکہ دوسری لیتھیم بیٹریوں پر چلتی ہے۔‘