’جان لیوا زہر کی ترکیب جاننے کے لیے اے آئی کا استعمال‘: امریکی ایف بی آئی سے ملنے والی اطلاع پر بہاولپور کا نوجوان کیسے گرفتار ہوا؟

پاکستان کی نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کا کہنا ہے کہ صوبہ پنجاب کے شہر بہاولپور میں 17 سالہ طالب علم کو مصنوعی ذہانت کی مدد سے زہر دینے کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
اے آئی چیٹ بوٹ
Getty Images

پاکستان کی نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے بہاولپور سے تعلق رکھنے والے ایک 17 سالہ لڑکے کے خلاف مبینہ طور پر اپنے والد کو زہر دے کر ہلاک کرنے کے کوشش کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ امریکی تحقیقاتی ادارے ’ایف بی آئی‘ کی جانب سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق لڑکا مبینہ طور پر اپنے والد کو زہر دے کر قتل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا اور اس سلسلے میں مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارم ’کلاڈ اے آئی‘ سے معلومات حاصل کر رہا تھا۔

اس مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق ایف بی آئی سے ملنے والی معلومات پاکستانی وزارتِ خارجہ نے 22 ستمبر کو ایک سرکاری مراسلے کے ذریعے این سی سی آئی اے کو فراہم کیں، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کلاڈ اے آئی کا ایک صارف مہلک زہریلے مادوں اور اُن کے استعمال اور ممکنہ اثرات پر تفصیلی تحقیق کر رہا تھا۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ شیئر کیے گئے ڈیجیٹل شواہد کے مطابق مذکورہ صارف نے مبینہ طور پر اپنے والد کو لیبارٹری گریڈ میتھانول کھانے میں ملا کر والد کو ہلاک کرنے کی ابتدائی کوشش کی تھی، تاہم اس کوشش میں ناکامی کے بعد وہ ’روزری پیز‘ سے حاصل ہونے والے زہریلے مادے ابرِن (Abrin) کے استعمال سے متعلق اے آئی سے مزید معلومات حاصل کر رہا تھا۔

ایف آئی آر میں ’کلاڈ اے آئی‘ پر لڑکے کی جانب سے کی گئی مبینہ گفتگو کے متعدد اقتباسات بھی شامل کیے گئے ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق لڑکے نے مبینہ طور پر لکھا کہ اُس کے والد نے تقریباً 15 سے 20 ملی لیٹر میتھانول ملا ہوا کھانا کھایا لیکن انھیں ’کچھ نہیں ہوا‘۔

اِسی گفتگو میں میتھانول کی مقدار، فولیٹ کی سطح پر ممکنہ اثرات، ابرِن کے ’لیٹنٹ پیریڈ‘ اور خطرناک زہر بنانے کے طریقوں سے متعلق سوالات بھی شامل تھے۔

ایف آئی آر کے مطابق ایف بی آئی کی جانب سے اس اکاؤنٹ سے وابستہ ای میل اور متعدد آئی پی ایڈریسز کی معلومات بھی پاکستانی حکام کے ساتھ شیئر کی گئی تھیں، جن کی بنیاد پر این سی سی آئی اے لاہور نے ڈیجیٹل ٹریسنگ اور نادرا کے ویری فکیشن سسٹم کے ذریعے تحقیقات کا آغاز کیا۔

این سی سی آئی اے کے مطابق سفارتی ذرائع سے ملنے والی ابتدائی اطلاع میں صارف کے پنجاب کے ضلع فیصل آباد میں موجود ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا، تاہم بعد میں سرکاری ریکارڈ کی مدد سے تفتیش کاروں نے ایک کم عمر لڑکے تک رسائی حاصل کی جو بہاولپور میں مقیم تھا۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ خاندانی تفصیلات کے جائزے سے مبینہ ہدف کے طور پر اس کے والد کی شناخت کی گئی، جو اسی رہائشی پتے پر رہتے ہیں۔

مزید بتایا گیا کہ ایڈیس کی معلومات ملنے کے بعد مجاز عدالت سے وارنٹ حاصل کیے گئے اور مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ مشتبہ شخص کے گھر کی تلاشی کے دوران ایک آئی فون 15 پرو میکس موبائل فون قبضے میں لیا گیا ہے اور اس کے علاوہ میتھانول، ایتھلین گلائکول، ہائیڈروکلورک ایسڈ، پوٹاشیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ سمیت مختلف کیمیائی مادّے بھی برآمد کیے گئے جنھیں، ایف آئی آر میں، زہر تیار کرنے میں استعمال ہونے والے ممکنہ کیمیکلز قرار دیا گیا ہے۔

اے آئی
Getty Images

ایف آئی آر کے مطابق موقع پر کیے گئے ابتدائی تجزیے کے دوران موبائل فون میں کلاڈ اے آئی ایپلیکیشن نصب پائی گئی جبکہ اس سے وابستہ ای میل اکاؤنٹ بھی فعال تھا۔

حکام کے مطابق ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران مشتبہ شخص نے الزامات کی تردید کی ہے، تاہم تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ برآمد ہونے والے کیمیائی مادّوں اورکلاڈ اے آئی پر ہونے والی مبینہ گفتگو کی بنیاد پر ایسا شبہ پیدا ہوتا ہے کہ ملزم زہر تیار کرنے اور متاثرہ شخص کی جان کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ دستیاب شواہد کی روشنی میں ملزم کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 کی دفعہ 15 اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 324 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

این سی سی آئی اے کے ڈائریکٹر حسام بن اقبال کے مطابق یہ دفعہ انفارمیشن سسٹمز کے ذریعے جرائم کے ارتکاب سے متعلق ہے۔

مقدمے کی مزید تفتیش این سی سی آئی اے لاہور کے انسپکٹر عاقب علی خان کے سپرد کی گئی ہے جبکہ ایف آئی آر کی نقول متعلقہ عدالتی اور تفتیشی حکام کو ارسال کر دی گئی ہیں۔

’ملزم معروف امریکی ٹی وی سیریز بریکنگ بیڈ سے متاثر تھا‘

breaking bad
Getty Images
ملزم سیریز ’بریکنگ بیڈ‘ سے متاثر تھا

گذشتہ روز این سی سی آئی اے کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ ملزم معروف امریکی ٹی وی سیریز ’بریکنگ بیڈ‘ سے متاثر تھا اور اس نے مختلف اے آئی چیٹ بوٹس سے مبینہ طور پر میتھانول بنانے کا طریقہ پوچھا تھا۔

اس مقدمے میں این سی سی آئی اے کے تفتیشی افسر نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ملزم سے تفتیش جاری ہے اور یہ کیس ابھی تحقیقات کے مرحلے میں ہے جس میں گرفتاری ڈیجیٹل فٹ پرنٹس کی بنیاد پر کی گئی ہے۔

این سی سی آئی اے نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزم نے گھر میں ایک چھوٹی لیبارٹری بھی بنا رکھی تھی جہاں وہ کیمسٹری سے متعلق تجربات کرتا تھا۔

این سی سی آئی اے کے ڈائریکٹر حسام بن اقبال نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ملزم کے والدین کو کچھ چیزوں کا پتا تھا مگر انھیں 100 فیصد کہانی کا علم نہیں تھا۔

’والدین کو معلوم تھا کہ وہ گھر میں کچھ چیزوں کی مدد سے تجربے کر رہا ہے۔ اس کی کیمسٹری میں دلچسپی تھی۔ انھیں اس حد تک علم تھا مگر دوسری چیزوں سے وہ لاعلم تھے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ملزم کو ’کیمسٹری سے لگاؤ تھا اور وہ امریکی سیریز ’بریکنگ بیڈ‘ سے متاثر تھا۔ اس کا مقصد تھا کہ اگر میتھانول سے بائیو ڈیزل بنایا جائے تو اس کے لیے سوڈیئم ہائیڈرو آسکیڈ پوٹاشیئم ہائیڈرو آسکیڈ استعمال کیا جائے اور ایسا تجربہ کریں جس سے بائیو ڈیزل بنے۔‘

’اس کے بعد ملزم اے آئی پر گیا اور اس سے پوچھا کہ اگر میتھانول کو جسم میں داخل کیا جائے تو اس سے جسم میں کیا ردعمل آتا ہے۔ اور جگر میں کیا ہوتا ہے۔‘

ان کے مطابق ملزم نے اے آئی سے پوچھا کہ ’میتھانول بنانے کے لیے کیا کس مقدر میں شامل کرنا ہو گا اور جسم کا وزن کتنا ہونا چاہیے۔‘

ڈائریکٹر حسام بن اقبال نے مزید بتایا کہ ملزم نے اس مقصد کے لیے گوگل کے اے آئی چیٹ بوٹ جیمنائی سے شروعات کی اور پھر وہ اینتھروپک کے کلاڈ پر منتقل ہوا، اور وہاں سے اس نے ایکس کے چیٹ بوٹ گروک کا رُخ کیا۔

بی بی سی نے اس معاملے پر گوگل، اینتھروپک اور گروک کو سوالات بذریعہ ای میل بھیجے ہیں۔

’والدین بچوں کی نگرانی کریں‘

حسام بن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں پاکستان سمیت مختلف ملکوں کے اداروں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں، خاص کر ایسے کیسز میں۔

انھوں نے کہا کہ چیٹ بوٹس کے الگوردھم اور لارج لینگوئج ماڈلز میں یہ چیز شامل ہوتی ہے کہ ایسے کیسز کی صورت میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چیزیں رپورٹ کی جاتی ہیں۔

انھوں نے مثال دی کہ پاکستان کی ایجنسیوں کے امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی سمیت مختلف ملکوں میں موجود قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ رابطے ہیں اور ایسی معلومات ان تک منتقل کی جاتی ہے تاکہ وہ وقت پر کارروائی کر سکیں۔

انھوں نے کہا کہ مثلاً اگر کوئی بم بنانے کی ترکیب سے متعلق اے آئی چیٹ بوٹ سے سوال کرتا ہے تو اسے رپورٹ کر دیا جاتا ہے۔ 'بعض اوقات وہ آپ کی پلیٹ فارم تک رسائی ختم بھی کر دیتے ہیں۔ ایسی آئی ڈی کو بلاک کر دیا جاتا ہے۔'

انھوں نے کہا کہ مستقبل میں یہ رجحان خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ بچے بھی اے آئی کا استعمال کر رہے ہیں۔

حسام بن اقبال نے زور دیا کہ اس معاملے میں بچوں کی نگرانی بہت ضروری ہے کیونکہ 'اے آئی ماڈلز سے سوال کر کے ہم انھیں خود تربیت دے رہے ہوتے ہیں۔ اس کا مثبت استعمال بھی ہے لیکن کچھ لوگ منفی استعمال بھی کر سکتے ہیں۔'

انھوں نے والدین سے اپیل کی کہ بچوں کی جانب سے اے آئی استعمال کرنے پر نظر رکھیں اور ان کے سکرین ٹائم کو بھی کنٹرول کریں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US