خیبر پختونخوا حکومت نے پولیس ایکٹ 2026 کی منظوری دے دی ہے، جسے حکومت پولیس اصلاحات، جواب دہی، تفتیشی نظام کی مضبوطی اور افسران کی پیشہ ورانہ ترقی کے لیے اہم قرار دے رہی ہے۔ جبکہ وفاقی حکومت اور گورنر خیبر پختونخوا نے اس قانون پر سخت اعتراضات اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ اس سے پولیس صوبائی حکومت کے تابع ہو جائے گی۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا (کے پی کے) میں تحریک انصاف کی حکومت پولیس کے لیے ایک نیا قانون لا رہی ہے، جو اسمبلی میں پیش کیے جانے سے پہلے ہی متنازع ہو چکا ہے۔
جہاں صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نئے قانون کے بعد پولیس زیادہ جواب دہ، پیشہ اور مؤثر بنے گی، وہیں وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ اس قانون کے نتیجے میں صوبائی حکومت کا پولیس پر اثر و رسوخ بڑھ جائے گا اور خیبر پختونخوا پولیس کی خود مختاری متاثر ہو جائے گی۔
پولیس ایکٹ 2026 کے نام سے یہ مجوزہ قانون خیبر پختونخوا کی کابینہ نے بدھ (23 ستمبر) کو منظور کیا۔
صوبے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت اسے پولیس نظام میں اصلاحات کی جانب ایک اہم قدم قرار دے رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ نئے قانون کے ذریعے پولیس کا تفتیشی نظام مضبوط کیا جائے گا، افسران کی پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع بڑھائے جائیں گے اور پولیس کے پالیسی اور آپریشنل امور کو الگ کیا جائے گا۔
جبکہ وفاق کی رائے ہے کہ اس سے کے پی کے کی پولیس صوبائی حکومت کے تابع ہو جائے گی۔
ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ پولیس کے نئے قانون میں کیا تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں، اور وفاق ان کی مخالفت کیوں کر رہا ہے؟
کارکردگی کی بنیاد پر احتساب
اگرچہ خیبر پختونخوا کابینہ نے پولیس ایکٹ 2026 کی منظوری دے دی ہے تاہم ابھی تک اس کا متن عوامی سطح پر جاری نہیں کیا گیا۔
اس وقت تک قانون کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں، وہ صوبائی حکومت کی اپنی جاری کردہ معلومات اور اس پر سامنے آنے والے اعتراضات پر مبنی ہیں۔
بدھ کو کابینہ سے منظوری کے بعد خیبر پختونخوا حکومت کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے اس مجوزہ قانون کی تفصیلات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی ہیں۔
ان تفصیلات کے مطابق پولیس میں دو بورڈز بنائے جائیں گے۔ ایک پالیسی بورڈ ہو گا، جس کی سربراہی وزیر اعلیٰ کریں گے، جبکہ دوسرا آپریشنز بورڈ ہو گا، جس کی سربراہی انسپکٹر جنرل پولیس کے پاس ہو گی۔
کے پی کے حکومت کا کہنا ہے کہ ’دو الگ بورڈز بنانے کا مقصد یہ ہے کہ پولیس کے پالیسی اور آپریشنل امور کو الگ کیا جائے۔‘
مجوزہ قانون کی سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق صوبائی پولیس افسر ہر سال ایک پولیسنگ پلان تیار کریں گے، جس میں کارکردگی کے اہداف اور آئندہ کے اقدامات شامل ہوں گے۔ تیاری کے بعد یہ پلان منظوری کے لیے پولیس پالیسی بورڈ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 میں صوبائی پولیس افسر کی کارکردگی کی بنیاد پر اس کے احتساب اور جواب دہی کا طریقۂ کار تجویز کیا گیا ہے۔ شفیع جان کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اگر کارکردگی غیر تسلی بخش ہو تو صوبائی حکومت کو پولیس افسر کی خدمات واپس کرنے کا اختیار حاصل ہو گا۔
صوبائی حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ پولیس افسران کی تعیناتی اور تبادلوں کے نظام میں مزید جواب دہی لائی جائے گی، خصوصاً ریجنل پولیس افسران اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران کی تعیناتی اور تبادلوں کو خیبر پختونخوا رولز آف بزنس 1985 کے تحت منظم کیا جائے گا۔
مجوزہ قانون میں تفتیشی نظام کی تنظیم نو بھی شامل ہے۔ حکومت کے مطابق صوبائی اسمبلی سے منظوری کے بعد نئے قانون کے تحت ریجنل انویسٹی گیشن افسران تعینات کیے جائیں گے۔
شفیع جان کی ایکس پوسٹ کے مطابق اس سے تفتیشی نظام مزید مضبوط ہو گا اور پولیس کی تفتیشی صلاحیت اور پیشہ ورانہ استعداد بڑھے گی۔
اسی طرح افسران کی ترقی، فاسٹ ٹریک پروموشن اور براہ راست بھرتی کے کوٹوں کو بھی از سر نو ترتیب دیا جا رہا ہے۔
’ہم نے بہت ہلکا ہاتھ رکھا ہے‘
اگرچہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کا یہ کہنا ہے کہ پولیس کے نئے قانون کا مقصد صرف انتظامی اصلاحات ہیں، تاہم، متعدد رہنماؤں کی گفتگو سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ قانون لانے کے پیچھے سیاسی وجوہات بھی موجود ہیں۔
گذشتہ روز، جمعرات (24 ستمبر) کو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے امن و امان کے حوالے سے پشاور میں ایک اجلاس کی صدارت کی۔
اس اجلاس سے خطاب میں سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کا ’وژن ایک ایسی پولیس فورس تھا جو سیاسی مداخلت سے آزاد ہو اور اسی وجہ سے ہماری حکومت نے پولیس کے انتظامی معاملات، تقرریوں اور تبادلوں میں مداخلت سے گریز کیا۔‘
تاہم ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں پیش آنے والے بعض واقعات ’افسوس ناک‘ ہیں اور پولیس افسران کو ’غلط احکامات‘ ماننے کے بجائے ان کے خلاف ’مزاحمت‘ کرنی چاہیے۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ حالیہ ہفتوں میں خیبر پختونخوا میں اس کے رہنماؤں، وزرا، اراکین اسمبلی اور کارکنوں کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں۔
تحریک انصاف کے مطابق حالیہ دنوں میں جن رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لیا گیا یا مبینہ طور پر ’اٹھایا گیا‘، ان میں صوبائی وزیر فضل شکور خان، رکن قومی اسمبلی زبیر وزیر، رکن قومی اسمبلی فضل محمد خان اور مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے متعدد کارکن شامل ہیں۔
جمعرات کے روز اجلاس سے خطاب میں سہیل آفریدی نے نئے قانون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جو پولیس ایکٹ کابینہ سے منظور کیا گیا ہے ’اس میں ہم نے پھر بھی بہت ہلکا ہاتھ رکھا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اگر مستقبل میں وفاقی ادارے پولیس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں یا شدت پسندی کے خلاف کارروائیوں سے ہٹا کر سیاسی سرگرمیوں میں ملوث کرتے ہیں تو ’صوبائی حکومت مجبور ہو گی‘ کہ اس قانون میں مزید ترامیم کی جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ پولیس کی آزادی سے متعلق ’عمران خان کے وژن‘ کو نقصان پہنچے، تاہم جس طرح دیگر صوبوں کی حکومتیں اپنی پولیس کو کنٹرول کر رہی ہیں ’تو اس طرح ہمیں بھی سوچنا پڑے گا۔‘
’پولیس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سٹرکچر تباہ ہو جائے گا‘
وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا کے مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور اس کے نفاذ کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔
وفاق کا موقف ہے کہ اس قانون کے ذریعے خیبر پختونخوا کی پولیس صوبائی حکومت کے تابع ہو جائے گی اور اس کی خود مختاری متاثر ہو گی۔
گذشتہ روز (جمعرات، 24 ستمبر) اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے خیبر پختونخوا کے مجوزہ پولیس ایکٹ کو آئینِ پاکستان اور پولیس سروس آف پاکستان (پی ایس پی) کے قواعد کے منافی قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ قانون ’پولیس کے موجودہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سٹرکچر کو مکمل تباہ کر دے گا۔‘
طلال چوہدری کے مطابق 18ویں آئینی ترمیم کے بعد بھی پولیس اور امن و امان مکمل طور پر صوبائی معاملہ نہیں ہیں۔
وزیر مملکت برائے داخلہ نے دعویٰ کیا کہ مجوزہ قانون کے ذریعے 17ویں گریڈ سے 19ویں گریڈ تک کے افسران کی تقرریوں اور تبادلوں کے اختیارات وزیر اعلیٰ کے پاس منتقل کیے جا رہے ہیں۔ ان کے بقول اس سے پولیس کے ادارہ جاتی اختیارات محدود ہوں گے اور تمام فیصلے سیاسی قیادت کے تابع ہو جائیں گے۔
انھوں نے کہا کہ اگر کمانڈ سٹرکچر کو اس انداز میں تبدیل کیا گیا تو پولیس افسران پیشہ ورانہ معیار کے بجائے سیاسی وابستگیوں کو ترجیح دینے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ کا کہنا تھا کہ ایسا ہونے سے ’پولیس فورس کا مورال گر جائے گا۔‘
بی بی سی اردو سے گفتگو کے دوران طلال چوہدری نے یہ عندیہ بھی دیا کہ اگر یہ قانون صوبائی اسمبلی سے منظور بھی ہو گیا تو وفاق اس کے نفاذ کہ راہ میں رکاوٹ بنے گا۔
انھوں نے کہا کہ صوبوں کو قانون سازی کے وسیع اختیارات ضرور حاصل ہیں، تاہم یہ اختیارات مطلق (ایبسولوٹ) نہیں ہیں۔
ان کے بقول 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو بہت سے اختیارات منتقل ہوئے، لیکن ’وہ آئین کے بنیادی وفاقی ڈھانچے سے ہٹ کر کوئی بھی تبدیلی نہیں کر سکتے۔‘
طلال چوہدری نے کہا، ’اگر کوئی قانون سیاسی یا ذاتی مقاصد کے تحت بنایا جائے اور اس سے کسی پورے ادارے یا فورس کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ یہ صوبے کا اختیار ہے۔‘
جب پوچھا گیا کہ اگر خیبر پختونخوا اسمبلی یہ بل منظور کر لیتی ہے تو پھر اس کا نفاذ روکنے کا طریقۂ کار کیا ہو گا، تو وزیر مملکت برائے داخلہ کا کہنا تھا کہ ’عدالتوں کا راستہ ہمیشہ موجود ہوتا ہے، تاہم پارلیمان کے پاس بھی قانون سازی کے اختیارات ہیں۔‘
ان کے بقول، ’آئین سے متصادم کوئی قانون چل ہی نہیں سکتا۔‘
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی عندیہ دیا کہ بل منظوری کے لیے ان کے پاس آئے گا تو وہ اعتراضات لگا کر اسے واپس بھیج سکتے ہیں۔
واٹس ایپ کے ذریعے بی بی سی اردو کو بھجوائے گئے اپنے مؤقف میں فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبائی کابینہ کی جانب سے منظور کیا گیا مجوزہ پولیس ایکٹ غیر آئینی ہے اور جب وہ منظوری کے لیے ان کے پاس آئے گا تو وہ اس کا قانونی و آئینی جائزہ لیں گے اور ضرورت پڑنے پر اعتراضات کے ساتھ واپس بھیج دیں گے۔
گورنر کا کہنا تھا کہ اس قانون کے ذریعے خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پولیس کو سیاسی بنا رہی ہے اور اپنے تابع کرنا چاہتی ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے گورنر راج لگانے کا امکان بھی مسترد نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’آئین میں گورنر راج کی گنجائش موجود ہے‘ اور اگر وفاقی حکومت اور صدر مملکت یہ سمجھیں کہ حالات ایسے اقدام کا تقاضا کرتے ہیں تو گورنر راج لگانے میں ’کوئی قباحت نہیں۔‘
’اس مسئلے کو حل کیا جائے گا‘

خیبر پختونخوا حکومت اس تاثر کو مسترد کرتی ہے کہ پولیس ایکٹ 2026 میں پولیس کے اختیارات محدود کیے جا رہے ہیں یا اسے صوبائی حکومت کے تابع بنایا جا رہا ہے۔
بی بی سی پشاور کے نامہ نگار عزیز اللہ خان سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ مجوزہ قانون سازی کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ صوبائی حکومت کے انتظامی اختیارات مؤثر انداز میں استعمال ہو سکیں اور صوبے میں تعینات اعلیٰ سرکاری افسران منتخب حکومت کے قانونی احکامات پر عمل کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ چیف سیکریٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس وفاقی حکومت کے افسران ہوتے ہیں، تاہم صوبے میں تعیناتی کے بعد وہ آئینی طور پر صوبائی حکومت کے ماتحت کام کرتے ہیں۔
شوکت یوسف زئی نے دعویٰ کیا کہ بعض مواقع پر صوبائی حکومت کی ہدایات پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوا۔
اس کی مثال دیتے ہوئے شوکت یوسف زئی نے کہا کہ آئی جی پولیس کو صوبائی اسمبلی میں طلب کیا گیا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں قانون سازی کی جا رہی ہے اور ’اس مسئلے کو حل کیا جائے گا۔‘
وفاق کا یہ بھی اعتراض ہے کہ نئے قانون میں صوبے کے پولیس سربراہ، یعنی انسپکٹر جنرل کی تعیناتی کا طریقۂ کار بھی تبدیل کیا جا رہا ہے۔ تاہم، کے پی کے کی حکومت اس کی تردید کرتی ہے۔
بدھ (23 ستمبر) کے روز نجی ٹیلی وژن چینل سنو نیوز پر انٹرویو میں خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان شفیع جان نے کہا کہ انسپکٹر جنرل کی تقرری کے لیے صوبائی حکومت تین نام تجویز کرے گی اور وفاق ان میں سے ایک کی منظوری دے گا، ’اور آئی جی کی تقرری کے لیے پہلے بھی یہی طریقۂ کار تھا۔‘
اینکر اجمل جامی کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے شفیع جان نے اس بات کی تصدیق کی کہ نئے قانون کے تحت ڈی ایس پی کی سطح پر براہ راست بھرتیوں کا کوٹہ بڑھایا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پہلے یہ کوٹہ پانچ فیصد تھا، اب اسے بڑھا کر 15 فیصد کیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر طلال چوہدری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران ڈی ایس پی سطح پر براہ راست بھرتیوں سے متعلق تجاویز پر بھی اعتراض کیا۔ انھوں نے کہا کہ مجوزہ نظام کے تحت پسندیدہ افراد کو براہ راست ڈی ایس پی بھرتی کرنے اور بعد میں انھیں اعلیٰ عہدوں پر ترقی دینے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ڈی ایس پی سطح کی براہ راست بھرتیوں اور اس کے کوٹے کا مطلب کیا ہے؟
بی بی سی اردو کے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے خیبر پختونخوا پولیس میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کے عہدے سے ریٹائر ہونے والے افسر رحمت خان محسود نے کہا کہ پولیس میں ڈی ایس پی (ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس) کے عہدے تک پہنچنے کے دو طریقے ہیں۔
ان کے مطابق پہلا طریقہ ترقی کا ہے، جس کے تحت پولیس اہلکار، کانسٹیبل، اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی)، سب انسپکٹر (ایس آئی) اور انسپکٹر کے عہدوں سے ترقی پاتے ہوئے آخرکار ڈی ایس پی بنتے ہیں۔
دوسرا طریقہ براہ راست بھرتی کا ہے۔ اس نظام کے تحت امیدوار خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کے ذریعے امتحان دیتے ہیں۔ تحریری امتحان اور انٹرویو میں کامیابی حاصل کرنے والے امیدواروں کو براہ راست ڈی ایس پی مقرر کیا جاتا ہے، جس کے بعد انھیں پیشہ ورانہ تربیت دی جاتی ہے۔
بی بی سی اردو سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایس پی گریڈ 17 کا افسر ہوتا ہے۔
پہلے پولیس فورس میں براہ راست ڈی ایس پی بھرتی کرنے کا کوٹہ پانچ فیصد تھا، صوبائی حکومت کے ترجمان کے مطابق جسے اب بڑھا کر 15 فیصد کیا جا رہا ہے۔
اس فیصلے کے ممکنہ اثرات پر اپنی رائے دیتے ہوئے رحمت خان محسود کا کہنا تھا کہ یہ کوٹہ بڑھنے سے وہ پولیس اہلکار متاثر ہوں گے جو ترقی کرتے کرتے اس عہدے تک پہنچتے تھے۔
بی بی سی سے گفتگو میں سابق ایڈیشنل آئی جی نے بتایا کہ 2017 کے صوبائی پولیس ایکٹ میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل تک کی سطح کے افسران کی تعیناتی کا اختیار آئی جی کو دیا گیا تھا۔
وفاق صوبے کے منظور کردہ قانون کا نفاذ کیسے روکے گا؟

وفاقی حکومت یہ عندیہ دے رہی ہے کہ پولیس ایکٹ کو خیبر پختونخوا اسمبلی نے منظور بھی کر لیا تو وہ پھر بھی اس کا راستہ روکے گی۔
ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ وفاق صوبائی اسمبلی کے منظور کردہ قانون کا نفاذ کیسے روک سکتی ہے؟
اس کے جواب کے لیے بی بی سی اردو نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) کے صدر احمد بلال محبوب سے رابطہ کیا۔
احمد بلال کا کہنا ہے کہ اگرچہ پولیسنگ بنیادی طور پر صوبائی معاملہ ہے، تاہم اس شعبے کے بعض پہلو وفاقی قانون سازی کے دائرے سے بھی منسلک ہیں۔
بی بی سی اردو سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ اگر کسی صوبائی قانون میں ایسی شقیں شامل ہوں جو آئین میں درج وفاقی قانون ساز فہرست (فیڈرل لیجسلیٹو لسٹ) کے تحت آنے والے معاملات میں مداخلت کرتی ہوں تو ایسے قانون کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے اور عدالت اسے غیر آئینی قرار دے سکتی ہے۔
واضح رہے کہ آئین پاکستان میں ایک لیجسلیٹو لسٹ موجود ہے، جس میں دفاع، خارجہ امور اور کرنسی سمیت ایسے معاملات درج ہیں جن پر قانون سازی کا اختیار پارلیمان اور وفاقی حکومت کے پاس ہے۔
کیا صوبے کے گورنر قانون کا نفاذ روک سکتے ہیں؟
اس سوال کے جواب میں احمد بلال کا کہنا تھا کہ صوبائی اسمبلی سے کسی بل کی منظوری کے بعد گورنر اس کے قانون بننے کے عمل میں تاخیر ضرور کر سکتا ہے لیکن مستقل طور پر اسے روک نہیں سکتا۔
احمد بلال محبوب کی اس بات کی وضاحت آئین پاکستان کی شق نمبر 116 سے سامنے آتی ہے۔
اس شق میں درج ہے کہ صوبائی اسمبلی کوئی بل پاس کرتی ہے تو اسے منظوری کے لیے گورنر کے پاس بھیجا جاتا ہے۔ گورنر کے پاس 10 دن ہوتے ہیں کہ یا تو اس کی منظوری دے دیں یا پھر ترامیم تجویز کر کے واپس اسمبلی کو بھجوا دیں۔
آئین کی مذکورہ شق کے مطابق گورنر کے واپس بھجوانے پر اسمبلی ان کی تجویز کردہ ترامیم پر دوبارہ غور کرے گی لیکن انھیں ماننے کی پابند نہیں ہے۔
آئین کی شق نمبر 116 میں لکھا ہے کہ اگر صوبائی اسمبلی ترامیم کیے بغیر یہ بل واپس گورنر کو بھجوا دیتی ہے اور گورنر اس پر دستخط نہیں کرتے، تو بھی 10 دن بعد وہ بل قانون بن جاتا ہے۔
احمد بلال محبوب کے مطابق صوبے کے منظور کردہ قانون کو نافذ ہونے سے روکنے کا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ اس صوبے میں گورنر راج نافذ کر دیا جائے۔ ان کے مطابق اس صورت میں قومی اسمبلی کو بھی صوبائی اسمبلی کی قانون سازی کا اختیار حاصل ہو جاتا ہے۔
جب قومی اسمبلی کو صوبائی اسمبلی کی قانون سازی کا اختیار حاصل ہو جائے، تو کیا وہ پہلے سے بنایا قانون منسوخ بھی کر سکتی ہے؟
بی بی سی اردو کے اس سوال کا جواب اثبات میں دیتے ہوئے احمد بلال کا کہنا تھا کہ ’اس صورت میں قومی اسمبلی کو صوبائی اسمبلی کے منظور کردہ قانون میں ترمیم کا اختیار مل جاتا ہے۔‘