انگلینڈ کے مغربی علاقے میں واقع رائل ایئر فورس (آر اے ایف) کے فیئرفورڈ اڈے کے قریب ایک بڑے واقعے کے بعد پانچ افراد کو دھماکہ خیز مواد اور دہشتگردی سے متعلق جرائم کے شبے میں گرفتار کر لیا ہے۔
جائے وقوعہ کی فضا سے لی گئی تصاویر میں وہ تین وینیں دکھائی دیتی ہیں جو آر اے ایف اڈے کے قریب کھڑی تھیںانگلینڈ کے مغربی علاقے میں واقع رائل ایئر فورس (آر اے ایف) کے فیئرفورڈ اڈے کے قریب ایک بڑے واقعے کے بعد پانچ افراد کو دھماکہ خیز مواد اور دہشتگردی سے متعلق جرائم کے شبے میں گرفتار کر لیا ہے۔
بم ڈسپوزل سکواڈ گلوسٹرشائر میں آر اے ایف فیئرفورڈ کے قریب گاڑیوں کا معائنہ کر رہا ہے اور قریب واقع گھر بھی خالی کروا لیے گئے ہیں۔
اس واقعے کے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟
معاملہ کیا ہے؟
گلوسٹرشائر پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں مقامی وقت کے مطابق 12 بج کر 45 منٹ پر ایک کال پر اطلاع ملی کہ ’تین مشکوک گاڑیاں‘ آر اے ایف فیئرفورڈ کی طرف جا رہی ہیں۔
اس کے بعد پولیس اہلکاروں نے ویلفورڈ گاؤں کے قریب پانچ افراد کو گرفتار کیا، جو آر اے ایف فیئرفورڈ ایئربیس سے تقریباً دو میل جنوب مشرق میں واقع ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گاؤں میں متعدد گاڑیوں کا معائنہ کرنے کے لیے بم ڈسپوزل سکواڈ کی ٹیم تعینات کی گئی ہے۔ ان گاڑیوں کے گرد تقریباً 400 میٹر کا حفاظتی حصار قائم کیا گیا ہے۔
فضا سے لی گئی تصاویر میں ایک ریموٹ کنٹرول روبوٹ کو جنگلاتی علاقے میں کھڑی دو سفید وینوں کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ تاہم پولیس نے ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا اس روبوٹ کو واقعی کارروائی کے دوران استعمال کیا گیا تھا یا نہیں۔
کاؤنٹر ٹیررازم پولیسنگ (سی ٹی پی) اس واقعے کی تحقیقات کی قیادت کر رہی ہے۔ تاہم بی بی سی سمجھتا ہے کہ اس آپریشن کی قیادت انٹیلیجنس نہیں کر رہی۔
آر اے ایف فیئرفورڈ کَوٹس وولڈزمیں واقع ہے، جو دریائے کولن کے کنارے آباد قصبے فیئرفورڈ سے تقریباً چار میل جنوب میں واقع ہے۔
اس فضائی اڈے کی امریکی فوج کے ساتھ طویل تاریخ رہی ہے اور حالیہ عرصے میں اسے امریکی جنگی طیاروں نے ایران کے خلاف دفاعی نوعیت کی کارروائیوں کے لیے ایک عبوری یا آپریشنل مرکز کے طور پر استعمال کیا تھا۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ’اس صورتحال پر نظر رکھنے، ممکنہ اثرات کو کم سے کم کرنے اور امریکی اہلکاروں، ان کے خاندانوں اور مقامی آبادی کی حفاظت یقینی بنانے‘ کے لیے برطانوی حکام کے ساتھ ’قریبی تعاون‘ کر رہی ہے۔
گلوسٹرشائر پولیس کی قائم مقام چیف کانسٹیبل میگی بلائتھ کا کہنا ہے کہ اتوار کی صبح سے علاقے میں ایمرجنسی سروسز کی بڑی تعداد موجود ہے اور ان کی موجودگی آئندہ چند دنوں تک برقرار رہے گی۔
بلائتھ نے اتوار کی شام ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ان کی فورس سی ٹی پی کی معاونت جاری رکھے گی اور دیگر قومی پارٹنر اداروں کے ساتھ رابطے میں رہے گی۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ کسی واقعے کو ’دہشت گردی کا واقعہ‘ قرار دینے یا نہ دینے کا فیصلہ وہ سی ٹی پی پر چھوڑیں گی۔
حراست میں لیے گئے مشکوک افراد کون ہیں؟
ابتدائی طور پر پانچ افراد کو دھماکہ خیز مواد سے متعلق جرائم کے شبہے میں حراست میں لیا گیا تھا۔ تاہم بعد میں انھیں دہشت گردی کی کارروائی کی تیاری کے شبہے میں باقاعدہ گرفتار کیا گیا۔
یہ تمام افراد اب بھی پولیس کی تحویل میں ہیں، تاہم ان کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔ پولیس نے یہ بھی نہیں بتایا کہ انھیں کس مقام پر رکھا گیا ہے۔
انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 2000 کے تحت گرفتار کیے گئے مشتبہ افراد کو فردِ جرم عائد کیے بغیر 14 دن تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے، جبکہ عام گرفتاریوں کی صورت میں، اگر توسیع کی درخواست نہ دی جائے، تو یہ مدت 24 گھنٹے ہوتی ہے۔
جب قائم مقام چیف کانسٹیبل میگی بلائتھ سے پوچھا گیا کہ آیا پولیس اس واقعے کے سلسلے میں مزید افراد کی تلاش کر رہی ہے، تو انھوں نے کہا کہ ان کے خیال میں معاملہ ’قابو میں ہے۔‘
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد ’بڑا نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’ہم کافی عرصے سے ان پر نظر رکھے ہوئے تھے اور ہم نے انہیں پکڑ لیا۔‘

بی بی سی یور وائس کو ایک تصویر موصول ہوئی ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس میں وہ لمحہ دکھایا گیا ہے جب پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا۔
تصویر میں مبینہ طور پر زیرِ حراست افراد ویل فورڈ میں دکھائی دیتے ہیں، جو آر اے ایف فیئرفورڈکے کریش گیٹ سکس اے کے رن وے تک رسائی کے مقام سے تقریباً 350 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
بی بی سی اس تصویر کے اصل ذریعے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا، تاہم بی بی سی ویریفائی نے تصویر کے مقام کی جغرافیائی نشاندہی کی ہے اور تصدیق کی ہے کہ تصویر بظاہر حقیقی معلوم ہوتی ہے۔
بی بی سی ویریفائی نے آر اے ایف فیئرفورڈ کے نزدیک کھڑی تین سفید وینوں پر موجود برانڈنگ اور نشانات کا بھی جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔
ایک تصدیق شدہ تصویر میں سفید وینوں میں سے ایک پر سرخ رنگ کا لوگو دکھائی دیتا ہے جس پر ’Fuel 2You‘ لکھا ہوا ہے، جبکہ اس کے ساتھ ایک موبائل فون نمبر بھی نظر آ رہا ہے۔
بی بی سی نے جب اس نمبر پر رابطہ کیا تو کال براہِ راست لائیکاموبائل کے خودکار وائس میسج سسٹم پر منتقل ہو گئی۔
ہمیں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ’Fuel 2You‘ برطانیہ میں کام کرنے والی کوئی باقاعدہ کمپنی یا کسی حقیقی برانڈ کا نام ہے۔
تاہم بی بی سی ویریفائی نے ’Fuel2U‘ نامی ایک کمپنی سے رابطہ کیا، جس کا نام اس وین پر درج نام سے ملتا جلتا ہے اور جو برطانیہ بھر میں ڈیزل کی ترسیل کا کام کرتی ہے۔
کمپنی کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ’ان وینوں کا ہماری کمپنی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘
انھوں نے کہا ’ہمارے نقطۂ نظر سے یہ ایک نہایت بدقسمت اتفاق ہے۔‘
ان کے مطابق کمپنی کے نام کی ’سپیلنگ مختلف ہے، فون نمبر مختلف ہے اور برانڈنگ بھی مکمل طور پر مختلف ہے، لہٰذا یہ ہمارے برانڈ کا کوئی پرانا یا سابقہ بھی ورژن نہیں ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہماری تمام وینیں اپنی جگہ موجود ہیں اور ان کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔‘
’اگر ہماری کوئی وین چوری بھی ہو جاتی تو اس پر ہمارا لوگو موجود ہوتا۔ تصویر میں نظر آنے والا لوگو ہمارا لوگو نہیں ہے۔‘
کمپنی نے یہ بھی تصدیق کی کہ وہ ایک نئی قائم ہونے والی کاروباری کمپنی ہے اور اس نے ماضی میں کبھی ’Fuel 2You‘ کا نام استعمال نہیں کیا۔
کمپنی کے مطابق اس کی برانڈنگ میں سبز رنگ نمایاں ہے، جبکہ مشتبہ وینوں پر نظر آنے والا لوگو سرخ رنگ میں تھا، جس سے دونوں کے درمیان واضح فرق ظاہر ہوتا ہے۔
گرفتاریاں کیوں ہوئیں؟
ایک مقامی رہائشی، جس نے ویلفورڈ گاؤں میں تین سفید وینوں کی اطلاع دینے کے لیے 999 پر کال کی تھی، نے کہا کہ ان گاڑیوں کو دیکھ لینا ’محض خوش قسمتی‘ تھی۔
بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام 'ٹوڈے' سے گفتگو کرتے ہوئے اس خاتون، جو اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتیں، نے کہا کہ جب وہ گھر پہنچیں تو ڈرائیو وے اور سڑک بند تھی اور انھوں نے ’ہڈ اور ماسک پہنے مردوں کے ایک بڑے گروہ‘ کو دیکھا۔
انھوں نے مزید کہا ’جب انھوں نے مجھے دیکھا تو وہ مجھ سے آگے بھاگ گئے، کچھ کھیت کی طرف اور کچھ پڑوسی گاؤں کیمپسفورڈ کی جانب۔ تب مجھے احساس ہوا کہ کوئی غیر معمولی بات ہو رہی ہے۔‘
خاتون نے پروگرام کو بتایا کہ انھوں نے آر اے ایف فیئرفورڈ میں وزارتِ دفاع کی پولیس کو کال کی لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔
اس کے بعد انھوں نے 01:36 بی ایس ٹی پر 999 پر کال کی اور کہا کہ '10 منٹ کے اندر گاؤں مسلح پولیس سے بھر گیا تھا۔'
’میرا خیال ہے کہ میری 999 کال نے ان کے جو بھی منصوبے تھے، انھیں ناکام بنا دیا۔‘
انھوں نے کہا 'مجھے واقعی حیرت ہے کہ ایک عام شہری کے طور پر یہ سب کچھ دیکھنا اور رپورٹ کرنا میرے ذمے آ گیا۔'
'اس معاملے میں کسی نے واقعی بہت بڑی کوتاہی کی ہے۔'
ایک اور رہائشی نے وہ لمحہ بیان کیا جب ان کے بقول انھوں نے پولیس کو مشتبہ افراد کو گرفتار کرتے دیکھا۔
جیف، جنھوں نے اپنا خاندانی نام نہیں بتایا، نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے 'اپنے گھر کے سامنے شور شرابہ' سنا، اگرچہ وہ اس کے مقام کے بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ پھر انھوں نے کھڑکی سے باہر دیکھا اور 'لوگوں کو پولیس کی تحویل میں' دیکھا۔
آر اے ایف فیئرفورڈ کے قریب پانچ افراد کی گرفتاریوں کے بعد یہ تصویر گردش کر رہی ہےکتنے گھروں کو خالی کروایا گیا ہے؟
گلوسٹرشائر پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ رہائشیوں کو بتایا گیا ہے کہ وہ اتوار کی رات اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکیں گے۔
ڈپٹی چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ سٹینلی کے مطابق جو افراد خاندان یا دوستوں کے پاس نہیں ٹھہر سکتے ان کے لیے کاٹس وولڈ ڈسٹرکٹ کونسل رات گزارنے کے انتظامات کرے گی۔
واقعے کے بعد 85 گھرانوں کو نقل مکانی کرائی گئی اور انھیں قریب موجود ایک تفریحی مرکز میں پناہ لینے کا مشورہ دیا گیا۔
متعدد افراد نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کی صبح کے ابتدائی اوقات میں پولیس نے انھیں جگایا اور گھر چھوڑنے کا حکم دیا۔ ایک رہائشی، جنھوں نے اپنا نام صرف جو بتایا، نے کہا کہ ’ہمیں بس جلدی سے کپڑے پہن کر آنا پڑا۔ ہمیں کچھ معلوم نہیں تھا۔‘
ایک اور رہائشی جیسن نے کہا ’یہ سب بہت تیزی سے ہوا۔ ہم نے صرف اپنا سامان سمیٹا اور یہاں آ گئے۔‘
وہاں موجود بی بی سی کے ایک رپورٹر کے مطابق تفریحی مرکز میں موجود کئی افراد اب بھی رات کے کپڑوں میں ہیں۔
برطانیہ کی حکومت نے کیا کہا ہے؟
وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے کہا کہ یہ واقعہ 'شدید تشویش کا باعث' ہے اور حکومت لوگوں کے تحفظ کے لیے ’ہمیشہ ہر ضروری قدم اٹھائے گی۔‘
وزیرِ اعظم نے زور دیا کہ ’جب تک حکام تمام حقائق معلوم نہ کر لیں، قیاس آرائیاں نہ کریں۔‘
پیر کو بی بی سی بریک فاسٹ سے گفتگو میں وزیرِ دفاع ویس سٹریٹنگ نے ایمرجنسی سروسز کو منصوبے کے بارے میں فوری آگاہ کرنے پر مقامی لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ جس خاتون نے بی بی سی کو اپنی 999 کال کے بارے میں بتایا، اس نے مردوں کی اطلاع دے کر ’درست کام کیا‘۔ تاہم ان کے پاس صرف ’جزوی تصویر‘ تھی جس کی مزید وضاحت انھوں نے نہیں کی۔
اس بارے میں کہ آیا اس منصوبے میں ایران کا کوئی کردار تھا، وزیرِ دفاع نے کہا ’میرے لیے یہ قیاس آرائی کرنے کا وقت نہیں ہے۔‘
برطانیہ کے خلاف عمومی طور پر ایرانی خطرات کے بارے میں سٹریٹنگ نے مزید کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ ایران اور اس کے حمایتی ہمیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا ’جس خطرناک اور ہنگامہ خیز دنیا میں ہم رہ رہے ہیں، اس میں دفاع پر سرمایہ کاری ایک ایسی قیمت ہے جو ادا کرنا بنتی ہے۔‘
آر اے ایف فیئرفورڈ کس مقصد کے لیے استعمال ہوتا ہے؟
آر اے ایف فیئرفورڈ کئی دہائیوں سے امریکی فضائیہ (یو ایس اے ایف) کے فارورڈ آپریٹنگ مقام کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔
سرد جنگ کے دوران اور بعد ازاں 1991 کی پہلی خلیجی جنگ میں یہ اڈہ یو ایس اے ایف سٹریٹیجک ایئر کمانڈ کے زیرِ استعمال رہا۔
2003 میں عراق پر حملوں کے دوران یو ایس اے ایف کے بی 52 بمبار طیارے بھی آر اے ایف فیئرفورڈ سے تعینات کیے گئے تھے۔
حال ہی میں یکم مارچ کو بھی اس کا استعمال کیا گیا جب سابق برطانوی وزیرِ اعظم سر کیئر سٹامر نے امریکہ کو برطانیہ کے اڈوں، جن میں آر اے ایف فیئرفورڈ بھی شامل تھا، ایران کی صلاحیتوں کے خلاف ’دفاعی‘ حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر وسیع حملے کیے جانے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں تنازع بھڑک اٹھا۔
ایران نے جواب میں اسرائیل اور خلیج میں امریکہ کے اتحادی ممالک پر حملے کیے۔