آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی خاتون کے مبینہ گینگ ریپ میں ملوث ایک ملزم گرفتار: لاہور پولیس

پاکستان کے شہر لاہور میں پولیس نے ایک غیرملکی خاتون کے ساتھ اجتماعی ریپ میں مبینہ طور پر ملوث تین میں سے ایک شخص کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
Lahore Police
Getty Images

پاکستان کے شہر لاہور میں پولیس نے ایک غیرملکی خاتون کے ساتھ اجتماعی ریپ میں مبینہ طور پر ملوث تین ملزمان میں سے ایک کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پیر کو ڈی آئی جی انویسٹیگیشنز ذیشان رضا کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ خاتون کے مبینہ گینگ ریپ کے مقدمے میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ متاثرہ خاتون کا میڈیکل ٹیسٹ کروایا گیا جس سے یہ ثابت ہوا ہے کہ انھیں ریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

دوسری جانب متاثرہ خاتون نے مجاز عدالت کے سامنے پیش ہو کر اپنا 164 کا بیان بھی ریکارڈ کروا لیا ہے۔

خیال رہے آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی خاتون نے اتوار کو لاہور کے تھانہ ڈیفینس سی میں اجتماعی ریپ کا مقدمہ درج کروایا تھا۔

متاثرہ خاتون کا کیا کہنا ہے؟

تھانہ ڈیفینس سی میں درج ایف آئی آر کے مطابق آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ وہ باکو کی رہائشی ہیں اور 15، 20 دن قبل کاروبار کے سلسلے میں پاکستان آئی تھیں۔

اس ایف آئی آر میں انھوں نے پولیس کو اپنے ساتھ ہونے والے واقعے کے بارے میں تفصیل سے بتایا ہے۔

متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ 25 ستمبر کو 11 اور 12 کے درمیان دو نامعلوم لڑکیاں ان کے پاس آئیں اور انھیں ڈنر کے لیے ایک نامعلوم کیفے پر لے گئیں۔

ایف آئی آر کے مطابق اس مقام پر ’تین نامعلوم لڑکے موجود تھے، جن کی میں شناخت کر سکتی ہوں۔‘

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ یہ افراد خاتون کو ’آؤٹنگ‘ کے بہانے ’نامعلوم فلیٹ پر لے آئے۔‘

ان کا الزام ہے کہ تینوں ملزمان نے شراب میں بےہوشی کی دوا ملا کر پلائی اور انھیں ایک، ایک کر کے ریپ کیا۔

خاتون نے پولیس کو مزید بتایا کہ یہ افراد 26 ستمبر کو دن میں دو بجے انھیں غازی انٹرچینج پر اتار کر فرار ہو گئے، جبکہ ان کا آئی فون 13 اور ریڈمی فون بھی ملزمان کے پاس ہی ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق خاتون نے موقع پر موجود ایک راہگیر سے فون لے کر پولیس کو کال کی تھی۔

پولیس نے یہ مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 375 اے کے تحت درج کی ہے، جو کہ ریپ سے متعلق ہے۔

پولیس نے کیا بتایا؟

لاہور کے ڈی آئی جی انویسٹیگیشنز ذیشان ذیشان رضا نے ایک ملزم کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ طبی معائنے میں خاتون کے ساتھ ریپ ثابت ہو گیا ہے۔

تاہم ان کے مطابق دو مزید ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پولیس کی ٹیمیں چھاپیں مار رہی ہیں اور وہ جلد ہی پولیس کی گرفت میں ہوں گے۔

لاہور میں یہ غیرملکی خواتین کے ساتھ ریپ کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل رواں برس جون میں بھی دو خواتین کے مبینہ اغوا اور ریپ کا واقعہ سامنے آیا تھا۔

File photo
Getty Images

ہالینڈ اور سپین سے تعلق رکھنے والی دو خواتین کے مبینہ اغوا کا واقعہ 29 جون کو پیش آیا تھا اور پولیس نے اس معاملے میں پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے ایک رشتہ دار سمیت آٹھ افراد کو گرفتار کیا تھا۔

لاہور کے اس وقت کے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ یہ خواتین 26 جون کو اسلام آباد پہنچیں تھیں اور اس دوران وہ مری اور دیگر مقامات پر بھی گئیں اور 29 جون کو وہ لاہور آئیں اور پھر اُن کے ساتھ اغوا کا واقعہ پیش آیا۔

درخواست گزار نے اس وقت ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا تھاملزمان نے انھیں ’آزاد’ کرنے کے لیے ان سے تاوان کا مطالبہ کیا اور ان کی ساتھی کا متعدد بار ریپ کیا گیا اور ان کا ریپ کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US