اماراتی نائب صدر کی سعودی ولی عہد سے ملاقات: کیا یمن کے معاملے پر اختلاف دور ہو سکتا ہے؟

اس دورے کو اس لیے بھی خاص اہمیت حاصل ہے کہ یہ سعودی وزیرِ دفاع کی دعوت پر ہو رہا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سکیورٹی اور عسکری امور، خصوصاً یمن کی صورتِ حال، بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب میں بحری سلامتی، مذاکرات کے ایجنڈے میں نمایاں رہیں گے۔

سعودی عرب کی دعوت پر ’برادرانہ دورے‘ پر آئے متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ منصور بن زاید آل نہیان کی منگل کے روز سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات ہوئی ہے۔

سعودی سرکاری میڈیا کے مطابق اس ملاقات میں ’دونوں برادر ممالک کے تعلقات اور خطے کی تازہ پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

’ملاقات کے دوران شیخ منصور نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کی جانب سے ولی عہد کے لیے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا، جس کے جواب میں ولی عہد نے بھی اماراتی صدر کے لیے اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔‘

اس ملاقات میں وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز بھی شریک تھے جن کی دعوت پر اماراتی نائب صدر سعودی عرب آئے ہیں۔

دونوں ممالک کے تعلقات میں گذشتہ سال کشیدگی بڑھنے کے بعد یہ دونوں فریقوں کے درمیان ایک اعلیٰ سطح کا دورہ ہے جو ریاض اور ابوظبی کے درمیان رابطوں کو دوبارہ متحرک کرنے کے لیے آمادگی کی عکاسی کرتا ہے۔

اس دورے کو اس لیے بھی خاص اہمیت حاصل ہے کہ یہ سعودی وزیرِ دفاع کی دعوت پر ہو رہا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سکیورٹی اور عسکری امور، خصوصاً یمن کی صورتِ حال، بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب میں بحری سلامتی، مذاکرات کے ایجنڈے میں نمایاں رہیں گے۔

یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب یمن میں زمینی صورتِ حال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، جس سے دونوں ممالک کے لیے تنازع کے مستقبل اور ملک کے جنوبی حصے میں سلامتی کے انتظامات کے حوالے سے اپنے مؤقف میں ہم آہنگی پیدا کرنے کا نیا امتحان درپیش ہے۔

جبکہ یمنی حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی عرب اور انصار اللہ حوثی تحریک کے درمیان لڑائی بھی شدت اختیار کر رہی ہے۔

’حوثیوں کے خلاف اتحاد کو دوبارہ فعال بنانے کی ضرورت‘

مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر ڈاکٹر آندریاس کریگ کے مطابق دسمبر میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہونے کے بعد یہ سعودی وزیرِ دفاع خالد بن سلمان اور اماراتی نائب صدر شیخ منصور بن زاید کے درمیان پہلی باضابطہ ملاقات ہے۔

انھوں نے ایکس پر لکھا کہ حالیہ ہفتوں میں دونوں ممالک کے درمیان نچلی سطح کے کئی رابطے ہوئے ہیں، کیونکہ یمن میں متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ عناصر حوثیوں کے خلاف آخری مؤثر رکاوٹ سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم ماضی میں اماراتی حمایت حاصل کرنے والی بیشتر جنوبی ملیشیائیں شمالی یمن میں حوثیوں کے خلاف لڑائی میں حصہ لینے پر آمادہ نہیں ہیں۔

ڈاکٹر کریگ کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے خلاف اتحاد کو دوبارہ منظم اور فعال بنانے کی ضرورت ہے، جبکہ سعودی عرب اپنی دفاعی صلاحیتوں کو ترکی، برطانیہ، فرانس اور پاکستان کی معاونت سے مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

گذشتہ سال سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، جو ایک وقت میں اتحادی تھے، یمن کے تنازع کی وجہ سے حریف بن گئے تھے، جہاں دونوں ممالک نے جنوبی علاقوں میں مختلف فریقوں کی حمایت کی۔

خارجہ پالیسی کے متعدد معاملات، خصوصاً سوڈان اور افریقہ کے خطے میں بھی اختلافات سامنے آئے، جہاں دونوں ممالک متحارب قوتوں کی حمایت کرتے ہیں۔

سعودی عرب کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مملکت کو کئی ہفتوں سے یمن کی انصار اللہ حوثی تحریک کے حملوں کا سامنا ہے۔ یہ حملے تیل بردار جہازوں، تیل کی تنصیبات، ہوائی اڈوں اور حتیٰ کہ دارالحکومت تک کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنا رہے ہیں، خاص طور پر اس کے بعد جب حوثی گروہ نے سعودی حمایت یافتہ یمنی سرکاری افواج سے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ سعودی عرب نے حالیہ ہفتوں میں یمن کی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے اپنے بین الاقوامی اتحادیوں سے مدد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔

امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کے مطابق سعودی ولی عہد نے ٹرمپ سے دوبارہ رابطہ کرکے حوثی پیش قدمی کا مقابلہ کرنے میں مدد مانگی، جبکہ ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ نے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ نے اس سے ایک ہفتہ قبل ایسی ہی درخواست مسترد کر دی تھی۔

دریں اثنا، سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے فوجی سربراہان نے ان گفتگوؤں میں شرکت کی جن میں ریاض کی مدد کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا، جبکہ حوثیوں نے دنیا کے سب سے بڑے خام تیل برآمد کنندہ ملک کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

Getty Images
Getty Images

اختلافات کے باوجود ’مضبوط شراکت داری‘

دسمبر میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں کھلا اختلاف سامنے آیا، جب سعودی عرب نے ابوظبی پر الزام عائد کیا کہ وہ یمن میں جنوبی علیحدگی پسندوں کی حمایت کر کے اس کی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے، جنھوں نے ایک اچانک حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

دونوں خلیجی پڑوسی جنگ اور ایران کے بارے میں اپنے مؤقف میں بھی اختلاف رکھتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے زیادہ سخت مؤقف اپنایا اور کسی بھی ممکنہ معاہدے کے حوالے سے سخت مطالبات پیش کیے، جبکہ سعودی عرب نے پاکستان کی ثالثی کی ان کوششوں کی حمایت کی جن کے نتیجے میں جون میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔

چونکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات خلیجی تعاون کونسل کی دو بڑی معیشتیں اور آبادی کے لحاظ سے دو بڑی ریاستیں ہیں، اس لیے ان کے درمیان مسابقت کا ہونا بھی فطری تھا، خصوصاً دونوں ممالک میں نئی حکمران نسل کے ابھرنے کے بعد، جس کے اہداف، عزائم اور وژن بعض اوقات دوسرے ملک کے ہم منصبوں سے مختلف رہے ہیں۔

عالمی سرمایہ کاری اور بڑی کمپنیوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی بڑھتی ہوئی مسابقت کے باوجود، دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات اب بھی خطے کے بڑے تعلقات میں شمار ہوتے ہیں اور ہر ملک دوسرے کا اہم تجارتی شراکت دار ہے۔

کشیدگی کے باوجود گذشتہ جولائی میں دونوں ممالک کے درمیان خیرسگالی کے عوامی پیغامات سامنے آئے، جب حکام اور وزرا نے سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر اور تبصرے شیئر کیے جن میں دوستی اور یکجہتی کے پیغامات شامل تھے۔

ان میں نمایاں ترین پیغام سعودی جنرل اتھارٹی فار انٹرٹینمنٹ کے چیئرمین ترکی آل شیخ کی جانب سے شیئر کی گئی تصویر تھی، جس میں خالد بن سلمان اور منصور بن زاید ایک ساتھ نظر آ رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ یہ تصویر چند روز قبل لی گئی تھی اور اس کے ساتھ یہ جملہ تحریر کیا: ’سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات برادرانہ تعلقات اور مضبوط شراکت داری کی ایک داستان ہیں۔‘

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب دونوں جانب کی شخصیات کئی ماہ تک انٹرنیٹ پر سخت بحث و مباحثے میں مصروف رہیں، جبکہ سعودی عرب پر اپنی ہمسایہ ریاست کے خلاف ایک میڈیا مہم چلانے کا الزام بھی تھا۔

اگرچہ دورے کا ایجنڈا باضابطہ طور پر جاری نہیں کیا گیا، تاہم علاقائی کشیدگی اور دونوں ممالک کے درمیان سابقہ اختلافات کے تناظر میں اس کا وقت خاصا اہمیت کا حامل ہے۔ اسے اس بات کے امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ ریاض اور ابوظبی اپنے اختلافات پر کس حد تک قابو پا سکتے ہیں اور خطے کے معاملات پر مشترکہ بنیاد دوبارہ قائم کر سکتے ہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US