ایشین گیمز کے فائنل میں بھارت کے خلاف 96 رنز بنانے والے پاکستان کے باصلاحیت بلے باز حسن نواز نے کہا ہے کہ فائنل میں بھارت سے ملنے والی 19 رنز کی شکست کا دکھ انہیں اب بھی محسوس ہوتا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حسن نواز کا کہنا تھا کہ بھارت کے خلاف فائنل نہ جیت سکنے پر وہ مایوس اور رنجیدہ ہیں کیونکہ میچ کے دوران ہونے والی چھوٹی غلطیوں کی قیمت ٹیم کو چکانی پڑی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے خلاف کھیلنا ہمیشہ ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے، اپنی اننگز سے اطمینان تو ہوا لیکن میچ ہارنے کا افسوس برقرار ہے۔ حسن نے بتایا کہ وہ حساب کتاب کے مطابق بیٹنگ کر رہے تھے کیونکہ بھارتی ٹیم کے پاس ایک بولر کم تھا اور جسپریت بمراہ کا صرف ایک اوور باقی تھا، تاہم رن چیز کے دوران ہونے والی غلطیوں کی وجہ سے میچ ہاتھ سے نکل گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال ایشیا کپ میں بھارت کے خلاف ناکامی کے بعد انہیں ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا تھا، اسی لیے بھارت ہی کے خلاف اچھی اننگز کے ساتھ کم بیک کرنا ان کے لیے اطمینان بخش رہا۔ حسن نواز کا کہنا تھا کہ پاکستانی کھلاڑی بھارت کے خلاف ہمیشہ اپنی بہترین کوشش کرتے ہیں اور آئندہ غلطیوں سے سیکھ کر مزید بہتری لانے کی کوشش کریں گے۔
2024 میں نیوزی لینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سنچری بنا کر ڈیبیو کرنے والے نوجوان بلے باز نے بتایا کہ وہ اپنے کھیل میں بہتری لانے کے لیے کلب اور گراس روٹ لیول کی کرکٹ کھیل رہے ہیں، کیونکہ وہاں کی سخت پچز اور بولنگ سے حاصل ہونے والا تجربہ انٹرنیشنل کرکٹ میں اعتماد فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بطور پیشہ ور کرکٹر بہت آگے کی نہیں سوچتے اور فی الوقت ہوم وائٹ بال سیریز میں سری لنکا اور انگلینڈ کے خلاف اپنی بہترین فارم کو برقرار رکھنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔