فرانس کے عالمی شہرت یافتہ فٹبالر کلیان ایمباپے کو جدید چین کے بانی ماؤ زے تنگ سے متعلق مذاق کرنے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد انہوں نے چینی عوام اور ان کی تاریخ کا احترام کرتے ہوئے معافی مانگ لی ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ نے فرانسیسی فٹبالر کی اس معذرت کو سنجیدگی سے لیا ہے۔
فرانسیسی پروگرام ’دی برج‘ کو دیے گئے انٹرویو میں کلیان ایمباپے سے ان کی پسندیدہ سوشل میڈیا میم کے بارے میں پوچھا گیا، جس پر انہوں نے مزاحیہ انداز میں اس تصویر کا ذکر کیا جس میں ان کا چہرہ چین کے سابق رہنما ماؤ زے تنگ کی تصویر پر لگایا گیا تھا۔ حالانکہ انہوں نے ماؤ زے تنگ کا نام نہیں لیا تھا، لیکن اس اشارے پر چینی سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا اور بعد میں ویڈیو کو ہٹا دیا گیا۔
اس تنازع کے نتیجے میں چین کی تین بڑی کمپنیوں نے کلیان ایمباپے کے ساتھ اپنے معاہدے ختم کرنے کا اعلان کردیا اور کہا کہ وہ چینی عوام کے جذبات کو مجروح کرنے والے کسی اقدام کو برداشت نہیں کرسکتے۔ اس کے علاوہ، چین کے سرکاری نشریاتی ادارے کی نگرانی کرنے والے 'چائنا میڈیا گروپ' نے اسپین کی فٹبال لیگ ’لالیگا‘ کے میچز کی نشریات معطل کردیں۔ صورتِ حال کے پیشِ نظر لا لیگا کے صدر خاویر تیباس اور ریئل میڈرڈ نے بھی چینی شائقین سے افسوس اور معذرت کا اظہار کیا۔
کلیان ایمباپے نے سوشل میڈیا پر فرانسیسی، چینی اور انگریزی زبانوں میں اپنا معذرت نامہ جاری کرتے ہوئے لکھا کہ ان کا تبصرہ غیر محتاط تھا اور ان کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہیں تھا، نیز وہ چینی عوام اور ان کی تاریخ کا دل سے احترام کرتے ہیں۔
اس معذرت پر ردِعمل دیتے ہوئے چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ بیجنگ ایمباپے کی معذرت کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔ تاہم ترجمان کے اس بیان سے یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ایمباپے کے تبصرے کے بعد چین میں ان کے اور لالیگا کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات واپس لیے جائیں گے یا نہیں۔