یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب صدر آصف زرداری نے کسی صوبے میں گورنر راج لگانے کی دستاویز پر دستخط کیے ہوں۔ اس سے قبل سنہ 2009 میں اُنھوں نے پنجاب میں گورنر راج کی منظوری دے کر اُس وقت کے وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف کی حکومت کو چلتا کیا تھا۔ مگر پیپلز پارٹی پر اس کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟
دیوار پر بانیِ پاکستان محمد علی جناح کی تصویر آویزاں ہے، اور اس کے سامنے صدر آصف علی زرداری ایک کرسی پر موجود ہیں، ان کی بائیں طرف وزیر داخلہ محسن نقوی جبکہ دائیں طرف ایک اور شخصیت کھڑی ہے۔
صدر پاکستان کے سامنے میز پر ایک فائل پڑی ہے، جس پر وہ دستخط کر رہے ہیں۔ یہ کوئی عام دستاویز نہیں۔ بلکہ وفاقی کابینہ کی منظوری اور وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی ایڈوائس کے بعد بھیجے گئے وہ کاغذات ہیں، جن پر دستخط کے ذریعے 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت ختم کی گئی اور صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ کیا گیا۔
یقیناً صدر نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج وفاقی کابینہ کی منظوری اور وزیر اعظم کی ایڈوائس کے بعد نافذ کیے، لیکن سوشل میڈیا پر یہی ویڈیو بار بار گردش کرتی رہی، جس میں آصف علی زرداری کو دستاویزات پر دستخط کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب صدر آصف زرداری نے کسی صوبے میں گورنر راج لگانے کی دستاویز پر دستخط کیے ہوں۔ اس سے قبل سنہ 2009 میں اُنھوں نے پنجاب میں گورنر راج کی منظوری دے کر اُس وقت کے وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف کی حکومت کو چلتا کیا تھا۔
اسی طرح جنوری 2013 میں صدر آصف زرداری ہی تھے، جنھوں نے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کے پیشِ نظر صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کی سمری پر دستخط کیے تھے۔ تو یوں گذشتہ 13 برسوں کے دوران صدر زرداری سندھ کے علاوہ ملک کے تین صوبوں میں گورنر راج لگانے کی توثیق کر چکے ہیں۔
حکومت نے صوبے میں شدت پسندی کے بڑھتے واقعات کو ایمرجنسی اور گورنر راج کی وجہ بنا کر پیش کیا ہے۔
متعدد افراد جہاں اس اقدام پر پاکستان مسلم لیگ ن پر تنقید کر رہے ہیں، وہیں ناقدین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) پر بھی طنز کے تیر برسا رہے ہیں۔
ایک صحافی نے پی پی پی کا ماضی یاد کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ ’بے نظیر بھٹو، جو جمہوریت کی علامت بن کر ابھریں اور ایک فوجی آمر کے دور میں شہید ہوئیں، کے شوہر آصف علی زرداری، جنھوں نے خود 11 برس جیل کاٹی، نے بطور صدر مملکت خیبر پختونخوا کی منتخب حکومت معطل کر کے گورنر راج کے نفاذ کے اعلامیے پر دستخط کر دیے۔‘
ایسے ہی بہت سارے تبصرے و تجزیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرتے نظر آتے ہیں۔
پیپلز پارٹی پر تنقید کرنے والوں میں سابق گورنر سندھ محمد زبیر بھی شامل ہیں، جن کا کہنا ہے کہ ’پیپلز پارٹی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ جمہوریت، آئین اور عوام کے حقوق پر یقین نہیں رکھتی۔ میں حیران ہوں کہ پیپلز پارٹی کے لبرلز کہاں ہیں۔۔۔‘
تاہم اس تمام تر تنقید کے باوجود پی پی پی کا مؤقف ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ ایک ’آئینی اقدام‘ ہے اور تنقید کرنے والوں نے ’آئین نہیں پڑھا‘۔
جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی اتوار کی شب ایک پریس کانفرنس کے دوران خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کو ’جمہوریت پر شب خون‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ عجیب بات ہے اور ایسا تیسری مرتبہ ہوا ہے کہ جب بھی کسی صوبے کی حکومت پر شب خون مارا گیا تو ایسا جمہوریت کو اپنی شناخت قرار دینے والی پاکستان پیپلز پارٹی کے ہوتے ہوئے ہوا، اور تینوں گورنر راج آصف زرداری کے ہوتے ہوئے لگے۔‘
انھوں نے مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ نے جمہوریت کی نفی کی ہے، آپ نے ایک بار پھر آئین کو دفن کیا ہے، انسانی حقوق کو دفن کیا ہے۔‘
لیکن پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیئر بخاری نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’سنہ 1973 کا جو آئین ہے اس میں یہ شقیں رکھی گئی ہیں تاکہ اگر ایسے حالات بن جائیں تو ملک کا یا صوبے کا انتظام سنبھالا جا سکے۔‘
تاہم پی پی پی رہنماؤں کے اس نوعیت کے بیانات بظاہر ناقدین کی تنقید کے آگے بند باندھنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔
پشاور میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد احتجاج کے دوران پولیس نے پی ٹی آئی کے حامیوں کو اپنی تحویل میں بھی لیاپی پی پی کو فائدہ ہوا یا نقصان؟
اکتوبر کے اوائل میں بلاول بھٹو زرداری خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے اور گورنر راج کے نفاذ کو ’آئینی جوہری بم‘ قرار دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ سیاسی جماعتوں کو شدت پسندی سے لڑنے کے لیے کوئی سیاسی حل تلاش کرنا چاہیے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ ایوان صدر میں ہی ہوا تھا۔ تاہم یہ بات چیت کامیاب نہیں ہو سکی اور 11 اکتوبر کو صدر کے دستخط کے بعد خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
پاکستان کے آئین میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی قانونی طور پر گنجائش موجود ہے، لیکن مبصرین و تجزیہ کار اس طریقے سے کسی منتخب حکومت کے خاتمے کو ’غیر جمہوری عمل‘ سمجھتے ہیں۔
صحافی و تجزیہ کار اویس توحید نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ ’جن لوگوں نے ضیا الحق کا دور دیکھا ہے، جمہوریت کی بحالی کی تحریک دیکھی ہے، ان کی توقعات اور امیدوں کو اس وقت شدید دھچکہ پہنچتا ہے۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر کے دستخط سے ایک غیر جمہوری طریقے سے کسی صوبے میں گورنر راج لگا دیا گیا ہے یا ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔‘
’اگر کاغذ پر دیکھیں تو صدر آصف علی زرداری کے دستخط ہیں اور گورنر فیصل کریم کنڈی کا تعلق بھی پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔‘
تاہم اویس توحید سمجھتے ہیں کہ یہ ایمرجنسی اور گورنر راج پی پی پی اور ن لیگ کی مرضی و منشا سے ہی لگے ہیں۔ تاہم ’اس وقت چونکہ ہائبرڈ نظام ہے، اس لیے اس اقدام کے ذمہ دار سیاسی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں ہیں۔‘
تاہم پی پی پی کے سیکریٹری جنرل نیئر بخاری اس نقطے سے اتفاق نہیں کرتے۔ جب ان سے پی پی پی کے اس اقدام کا حصہ بننے کی وجہ پوچھی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان پیپلز پارٹی اس عمل کا حصہ نہیں بنی کیونکہ ہمارے پاس ایگزیکٹو اتھارٹی تو نہیں ہے۔ وہ تو ن لیگ کے پاس ہے۔‘
’یہ غیر آئینی کام نہیں ہے۔ جو رپورٹ وفاقی حکومت نے دی، جو گورنر نے دی اور جو صورتحال تھی اس کے مطابق عملدرآمد ہوا اور آئین کا آرٹیکل 48 ون کے تحت صدر کو وزیر اعظم کی ایڈوائس پر عمل کرنا ہوتا ہے۔‘
تاہم پی پی پی کے مؤقف کے برعکس سیاسی مبصر اس بات پر یقین کرتے ہوئے نظر نہیں آتے اور کہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے پی پی پی کو ’فائدہ ہی فائدہ‘ ہے۔
سیاسی کالم نویس عارفہ نور نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ ’اس سے پاکستان پیپلز پارٹی کو تو فائدہ ہی فائدہ ہے۔ خیبر پختونخوا میں ان کا گورنر ہے۔ پی پی پی کے پاس تو چوتھی حکومت آ گئی ہے۔‘
ان کا اشارہ سندھ، بلوچستان اور گلگت بلستان میں حکومتوں کی طرف تھا، اور اب چونکہ گورنر کا تعلق پی پی پی سے ہے اس لیے عام تاثر یہی ہے کہ خیبر پختونخوا میں بھی اس جماعت کی حکومت ہے۔
عارفہ نور نے پاکستان پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ہمیں ہر وقت لیکچر دیتے ہیں کہ ہم حکومت کا حصہ نہیں ہیں، ہم اپوزیشن ہیں۔ چار صوبائی حکومتیں لے کر بیٹھے ہوئے ہیں، اتنی تو ن لیگ کے پاس نہیں ہیں۔‘
تاہم خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کی وجہ ’دہشتگردی‘ کو قرار دیا گیا ہے اور ایسے میں ن لیگ اور پی پی پی دونوں نے خود کو ایک امتحان میں ڈال لیا ہے۔
اویس توحید کہتے ہیں کہ ’اب دہشتگردی کو وجہ بنا کر پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی نے ایمرجنسی اور گورنر راج تو نافذ کر دیا ہے اور اس کے ساتھ ہی اپنے کندھوں پر ایک بھاری ذمہ داری اُٹھا لی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ آئندہ مہینوں میں وہ امن و امان کو کس حد تک بحال کیا جاتا ہے۔‘
کیا گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد خیبر پختونخوا میں سیاسی تبدیلی ممکن ہے؟
خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی سنہ 2013 سے اقتدار میں تھی اور سنہ 2018 اور 2024 میں عمران خان کی جماعت صوبے میں واضح اکثریت لے کر حکومت میں آئی تھی۔
ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے میں کوئی بڑا احتجاجی مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا، تاہم صوبے کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ وہاں سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کی گرفت اب بھی برقرار ہے۔
طویل عرصے سے خیبر پختونخوا میں صحافتی ذمہ داریاں نبھانے والے تجزیہ کار غلام دستگیر کہتے ہیں کہ ’ہمارے صوبے میں جو سیاسی حقیقت ہے وہ گذشتہ 12، 15 برسوں میں تھوڑی بدل گئی ہیں۔‘
’ہوا یہ ہے کہ اب عمران خان کا یہاں ووٹ بینک کافی مضبوط ہے۔‘
ان کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، پی پی پی یہاں مضبوط نہیں رہے اور آفتاب شیرپاؤ کی جماعت، جو کبھی چند نشستیں جیت کر صوبے میں حکومت بنانے میں اہمیت اختیار کر جاتی تھی، وہ بھی اپنی مقبولیت کھو بیٹھی ہے۔
غلام دستگیر مزید کہتے ہیں کہ سنہ 2018 اور 2024 کے انتخابات میں پی ٹی آئی نے واضح اکثریت لی اور ’اب دیگر جماعتوں کے لیے زیادہ گنجائش بچی نہیں ہے۔‘
’جمعیت علما اسلام کہیں نہ کہیں جنوبی اضلاع میں اپنی جگہ برقرار رکھے ہوئے ہے، تاہم وہاں بھی پی ٹی آئی نے ان کے لیےمشکلات پیدا کیں۔‘
ایمرجنسی اور گورنر راج سے قبل پی ٹی آئی کی ریلی کی ایک تصویرغلام دستگیر نہیں سمجھتے کہ پی پی پی گورنر راج یا ایمرجنسی کے ذریعے صوبے میں اپنے لیے سیاسی گنجائش بنا پائے گی۔
انھوں نے کہا کہ صدر زرداری کی جماعت اور ن لیگ کا پنجاب میں مقابلہ ہوا کرتا تھا لیکن 2018 کے بعد وہاں بھی پی ٹی آئی بڑی جماعت بن کر سامنے آئی۔
’جب پی پی پی پنجاب میں پی ٹی آئی کا مقابلہ نہیں کر سکی تو خیبر پختونخوا میں کیسے کر پائے گی؟ آپ مانیں یا نہ مانیں، خیبر پختونخوا میں اب بھی پی ٹی آئی کا اثر و رسوخ ہے۔‘
تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ واحد طریقہ یہ ہے کہ گورنر اور ان کی کونسل صوبے میں اب کام کرے اور ’لوگوں کو اپنی کارکردگی کا پی ٹی آئی کی کارکردگی سے موازنہ کر کے دکھائے۔‘
’شاید اس وقت تھوڑی گنجائش نکل آئے۔‘
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کہہ چکے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں شدت پسندی گذشتہ ڈیڑھ برسوں میں ’195 فیصد‘ تک بڑھی ہے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا گورنر فیصل کریم کنڈی اور ان کی ٹیم اس بدامنی پر قابو پا سکے گی؟
وزیر داخلہ محسن نقوی کہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں شدت پسندی گذشتہ ڈیڑھ برسوں میں ’195 فیصد‘ تک بڑھی ہےتجزیہ کار اویس توحید کہتے ہیں کہ اس میں ’کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان تحریک انصاف طالبان کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے۔ عمران خان اور ان کی جماعت کے دیگر رہنما طالبان سے مذاکرات کے حامی ہیں اور ہمیشہ سے رہے ہیں۔‘
تاہم ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کی جڑیں مضبوط ہونے کی ذمہ دار تنہا پی ٹی آئی نہیں ہے۔
’یہ معاملہ تو سنہ 2002 میں شروع ہوا تھا، جب خیبر پختونخوا میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت آئی تھی اور وہاں طالبان طرز کے انتظامات نظر آتے تھے۔‘
’اسی طرح جنرل مشرف اور ان کے ادارے کے اس وقت کے ذمہ داران پر بھی اس کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔‘
غلام دستگیر بھی اس طرح کا مؤقف اختیار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں صوبوں میں چھوٹے بڑے درجنوں آپریشنز ہو چکے ہیں لیکن شدت پسندی کم نہیں ہو سکی۔
’لوگوں میں بداعتمادی ہے۔ فی الحال موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی عسکریت پسندی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، امید ہے یہ برقرار رہے کیونکہ ماضی میں تو لوگوں نے گُڈ اور بیڈ طالبان کی پالیسی بھی دیکھی ہے۔‘