قومی اسمبلی نے صدر مملکت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کرتے ہوئے متعلقہ قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کرلی جبکہ اپوزیشن نے فیصلے کی مخالفت کی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، سرحد پار دراندازی اور داخلی صورتحال قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہی تھی۔ ان کے مطابق 2026 میں دہشت گردی کے 3 ہزار 787 واقعات رپورٹ ہوئے جس کے بعد ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا۔
اعظم نذیر تارڑ نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی کے بجائے بانی پی ٹی آئی کو جیل میں سہولیات دینے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔
دوسری جانب اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے ایمرجنسی کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک رضاکارانہ فیڈریشن ہے۔ انہوں نے ماضی کی حکومتوں کو دہشت گردی کے پھیلاؤ کا ذمہ دار قرار دیا اور موجودہ حکومت کو غیر آئینی و غیر قانونی قرار دیا۔
ایوان میں قرارداد پر بحث کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔