ٹرین کی پٹری سے ملنے والی لاش کا معمہ اور خاتون کی آخری فون کال: ’ڈبے میں کچھ لوگ شراب پی رہے ہیں‘

ہِما شری بورو کنیا کماری اور ڈبروگڑھ کے درمیان چلنے والی ویویک ایکسپریس میں سفر کر رہی تھیں۔ انھوں نے اپنے اہلِ خانہ کو فون کر کے بتایا کہ جس کوچ میں وہ سفر کر رہی ہیں، ’وہاں کچھ لوگ شراب پی رہے ہیں‘ اور وہ خوف محسوس کر رہی ہیں۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد ان کا فون بند ہو گیا۔

ہِما شری بورو، جو آسام سے وشاکھاپٹنم ایک ڈانس پروگرام میں شرکت کے لیے آئی تھیں، امتحان میں شریک ہونے کے لیے اپنے گھر واپس جا رہی تھیں۔

ہِما شری بورو کنیا کماری اور ڈبروگڑھ کے درمیان چلنے والی ویویک ایکسپریس میں سفر کر رہی تھیں۔ انھوں نے اپنے اہلِ خانہ کو فون کر کے بتایا کہ جس کوچ میں وہ سفر کر رہی ہیں، ’وہاں کچھ لوگ شراب پی رہے ہیں‘ اور وہ خوف محسوس کر رہی ہیں۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد ان کا فون بند ہو گیا۔

اگلے روز ان کی لاش ضلع سری کاکولم میں ریلوے ٹریک کے قریب ملی۔

پولیس کے مطابق یہ تمام واقعہ 5 اکتوبر کی شام اور 7 اکتوبر کی صبح کے درمیان پیش آیا۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہِما شری اتفاقاً ٹرین سے گر گئی تھیں، یا انہیں دھکا دیا گیا تھا؟ اُس رات ٹرین میں آخر کیا ہوا تھا؟

ریلوے سکیورٹی اہلکار اس واقعے کی اطلاع ملنے کے باوجود انھیں کیوں تلاش نہ کر سکے؟ آندھرا پردیش اور آسام کی پولیس ان سوالات کی تحقیقات کر رہی ہے۔

ہِما شری کی موت کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے آسام کے وزیرِ اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما نے ریلوے کے وزیر اشونی ویشنو اور آندھرا پردیش کے وزیرِ اعلیٰ چندرا بابو نائیڈو کو خط لکھا ہے۔

ہِما شری بورو آسام سے وشاکھاپٹنم ایک رقص کے پروگرام میں شرکت کے لیے گئی تھیں

ہِما شری بورو، جو آسام کے شہر گوہاٹی کے بونڈا علاقے کی رہائشی تھیں، ایک رقص کے پروگرام میں شرکت کے لیے ایک ٹیم کے ہمراہ وشاکھاپٹنم آئی تھیں۔

ان کی ٹیم کے دیگر ارکان وشاکھاپٹنم میں ہی رک گئے، لیکن چونکہ اگلے دن ان کا امتحان تھا، اس لیے ہِما شری نے گھر واپس جانے کا فیصلہ کیا۔

ضلع سری کاکولم کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) کے وی مہیشور ریڈی نے بتایا کہ ہِما شری نے 5 اکتوبر کو گوہاٹی جانے کے لیے ٹرین کا ٹکٹ حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن انھیں ریزرویشن نہیں مل سکی۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کے بعد ہِما شری نے جنرل ٹکٹ خریدا اور کنیا کماری اور ڈبروگڑھ کے درمیان چلنے والی ویویک ایکسپریس میں سوار ہو گئیں۔

ایس پی کے مطابق ٹرین میں پہلے ہی بہت زیادہ بھیڑ تھی، اسی وجہ سے ہِما شری کو بیٹھنے کے لیے کوئی نشست نہ مل سکی اور وہ کوچ کے دروازے کے قریب کھڑی رہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ جن مسافروں کے پاس ریزرویشن نہیں تھی، وہ بھی سلیپر کوچ میں سوار ہو گئے تھے، جس کی وجہ سے کوچ میں غیر معمولی بھیڑ جمع ہو گئی تھی۔

’میں ٹرین میں خوفزدہ ہوں‘

ہِما شری ٹرین کے ایس ٹو ڈبے میں سفر کر رہی تھیں۔

آدھی رات کے قریب انھوں نے فون پر اپنے اہلِ خانہ سے بات کی۔ اہلِ خانہ کے مطابق انھوں نے بتایا کہ ’کوچ میں کچھ مرد مسافر شراب پی رہے ہیں اور وہ خوف محسوس کر رہی ہیں۔‘

خاندان کا کہنا ہے کہ رات تقریباً ڈھائی بجے کے بعد انھوں نے ہِما شری سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔

اس کے بعد اہلِ خانہ نے ریلوے ہیلپ لائن 139 اور گوہاٹی ریلوے پولیس کو اطلاع دی۔

ضلع سری کاکولم کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے بتایا کہ ہِما شری نے کوچ کی صورتحال کی ایک ویڈیو بھی اپنی ایک دوست کو بھیجی تھی۔ پولیس ویڈیو میں شراب پیتے ہوئے نظر آنے والے افراد کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

تاہم سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کا کہنا تھا کہ ویڈیو میں بظاہر کوئی خاص مشتبہ سرگرمی نظر نہیں آتی۔ اس کے باوجود پولیس ویڈیو میں دکھائی دینے والے افراد کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔

ایس پی نے بتایا کہ ہیلپ لائن پر اطلاع دیتے وقت یہ معلومات واضح طور پر فراہم نہیں کی گئی تھیں کہ ہِما شری کس کوچ میں سفر کر رہی تھیں۔

ایس پی مہیشور ریڈی نے بی بی سی کو بتایا: ’کال وجیاناگرم سٹیشن عبور کرنے کے بعد موصول ہوئی تھی۔ اس کے بعد اگلا اسٹیشن امدالاولاسا تھا، لہٰذا ریلوے سکیورٹی اہلکاروں نے وہاں ان کی تلاش کوشش کی، لیکن ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔‘

لاش کہاں ملی؟

سات اکتوبر کو ریلوے پولیس نے ضلع سری کاکولم کے امدالاولاسا-پوندورو ریلوے سیکشن میں بودیپَلی پیٹ کے قریب پٹریوں سے ہِما شری کی لاش برآمد کی۔

ان کے دونوں بیگ اسی ٹرین کے اسی کوچ میں ملے، جس میں وہ سفر کر رہی تھیں۔

لاش کے قریب ملنے والے آدھار کارڈ کی معلومات کی بنیاد پر اہلِ خانہ کو اطلاع دی گئی۔ بعد ازاں لاش کو سری کاکولم کے سرکاری ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ہِما شری کے اہلِ خانہ سری کاکولم پہنچے اور انھوں نے لاش کی شناخت کی۔

اس کے بعد خاندان کے افراد نے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے وی مہیشور ریڈی سے ملاقات کی اور اپنے خدشات کا اظہار کیا۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ چونکہ ان کی بیٹی نے ٹرین میں خوف محسوس ہونے کی شکایت کی تھی، اس لیے یہ معلوم کیا جائے کہ ان کے ساتھ کیا ہوا اور اس معاملے کی مکمل اور جامع تحقیقات کی جائیں۔

ہِما شری کی موت کی وجہ جاننے کے لیے پولیس مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے۔

پولیس یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا وہ اتفاقاً ٹرین سے گر گئی تھیں، کسی نے انہیں جان بوجھ کر دھکا دیا تھا یا ٹرین میں ان کے ساتھ کسی قسم کی بدسلوکی ہوئی تھی۔

ضلع سری کاکولم کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے وی مہیشور ریڈی کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جسمانی تشدد کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہِما شری کا ٹرین سے گرنا محض ایک حادثہ تھا یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ تھی، اس بارے میں حتمی طور پر صرف تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی کچھ کہا جا سکے گا۔

پولیس نے ٹرین میں سفر کرنے والے بعض مسافروں سے پوچھ گچھ کی ہے۔ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک جن مسافروں سے تفتیش کی گئی ہے، ان میں سے کسی نے بھی ٹرین میں اس نوعیت کے کسی واقعے کی اطلاع نہیں دی۔

انھوں نے کہا کہ بغیر ریزرویشن سفر کرنے والے مسافروں کی شناخت کرنا مشکل ثابت ہو رہا ہے، تاہم ان کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل

اس واقعے کی تحقیقات کے لیے آسام حکومت نے ایک خصوصی تحقیقاتی افسر مقرر کیا ہے۔

آسام کے انسپکٹر جنرل پولیس جی وی شیوا پرساد ضلع سری کاکولم پہنچے اور مقامی پولیس اور ریلوے پولیس سے بات چیت کر کے مقدمے سے متعلق معلومات حاصل کیں۔

جی وی شیوا پرساد نے کہا کہ ’تحقیقات کئی مختلف زاویوں سے کی جا رہی ہیں۔ کوچ میں سفر کرنے والے تمام مسافروں سے رابطہ کیا جا چکا ہے۔ اب تک ایسا کوئی مضبوط سراغ نہیں ملا، جس سے کسی مشتبہ پہلو کی نشاندہی ہوتی ہو۔ ممکن ہے کہ کوچ میں زیادہ تر مرد مسافروں کی موجودگی کی وجہ سے وہ خوفزدہ ہوئی ہوں۔ یہ واقعہ حادثہ تھا یا کسی نے جان بوجھ کر کیا، اس کا تعین تحقیقات کے دوران ہو جائے گا۔‘

انہوں نے کہا کہ ہِما شری کے موبائل فون میں موجود ویڈیو کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ویڈیو سے متعلق تمام پہلوؤں کی تحقیقات مکمل ہونے تک ان کی موت کی وجہ کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

اس واقعے کی تحقیقات میں ریلوے پروٹیکشن فورس کے چار اہلکار بھی شامل ہیں۔

واقعے کی جگہ کا معائنہ علاقائی فرانزک سائنس لیبارٹری کے ماہرین، کلیوز ٹیم، ڈاگ سکواڈ اور ڈرون ٹیموں نے کیا۔

پولیس وشاکھاپٹنم ریلوے اسٹیشن کی سی سی ٹی وی فوٹیج، ہِما شری کی فون کالز کا ریکارڈ، ان کے سفری کوائف اور وہ ویڈیو بھی جانچ رہی ہے، جو انھوں نے اپنی ایک دوست کو بھیجی تھی۔

پولیس ان افراد کی شناخت اور پوچھ گچھ کی بھی کوشش کر رہی ہے، جن کے بارے میں ہِما شری نے کہا تھا کہ وہ ٹرین میں شراب نوشی کر رہے تھے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US