سابق وزیر اعظم عمران خان کا ’مضبوط گڑھ‘ حکومت کی گرفت میں: مگر کیا یہ اقدام اُلٹا بھی پڑ سکتا ہے؟

پاکستان میں عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی کے مضبوط گڑھ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر تنقید اور خدشات سامنے آ رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدام سیاسی عدم استحکام کو بڑھا سکتا ہے۔
عمران خان کے حامی ہزاروں افراد ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کئی دنوں سے صوبہ خیبر پختونخوا میں ریلیاں نکال رہے تھے
Getty Images
عمران خان کے حامی ہزاروں افراد ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کئی دنوں سے صوبہ خیبر پختونخوا میں ریلیاں نکال رہے تھے

سکول بند، انٹرنیٹ جزوی طور پر معطل، سڑکیں کنٹینر رکھ کر بند کر دی گئی ہیں اور فوج بھی شہر میں پہنچ رہی ہے۔

عمران خان کی جماعت کے مضبوط گڑھ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ ہے، جبکہ ان کی جماعت کی صوبائی حکومت معطل کر دی گئی ہے۔

یہ سابق وزیرِ اعظم کے حامیوں اور پاکستانی ریاست کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک اور ڈرامائی اضافہ ہے اور بعض لوگوں کو خدشہ ہے کہ اس سے استحکام کے بجائے مزید عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔

وفاقی حکومت کے مطابق آئین اسے صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کا اختیار دیتا ہے اور صوبے کی آبادی کو شدت پسندی کے خطرے سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے یہ قدم اٹھانا ضروری تھا۔

اتوار کے روز وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا حکومت شدت پسندوں کے ساتھ ملی ہوئی تھی۔‘

انھوں نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی اور نہ ہی کوئی ثبوت پیش کیا، تاہم وعدہ کیا کہ جلد ایسا کریں گے۔

دو دن بعد بھی ان کی جانب سے کوئی تازہ معلومات فراہم نہیں کی گئی تھیں، لیکن پشاور اور صوبے کے بیشتر علاقوں میں سکول دوبارہ کھل چکے تھے اور انٹرنیٹ سروسز بحال ہو چکی تھیں۔

اگرچہ پولیس نے کسی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی، تاہم یہ واضح ہے کہ احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے کریک ڈاؤن جاری ہے۔ صوبے میں پی ٹی آئی کی بیشتر قیادت روپوش ہو چکی ہے۔

منگل کے روز درجنوں پی ٹی آئی حامی صوبائی وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کے آبائی علاقے، ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں سڑکوں پر نکل آئے۔ اس علاقے میں آنسو گیس کے استعمال کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

خیبر پختونخوا کی ایک سڑک پر سیاہ سوٹ پہنے درجنوں افراد سفید حفاظتی ہیلمٹ پہنے افراد کے ساتھ ہاتھا پائی کر رہے ہیں
EPA/Shutterstock
عمران خان کے مضبوط گڑھ میں ایمرجنسی کے نفاذ نے ان کے حامیوں کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے

بہت سے مبصرین کے نزدیک اتوار کو ایمرجنسی رُول لگانے کا وقت محض اتفاق نہیں تھا۔

گذشتہ ایک ہفتے سے عمران خان کے ہزاروں حامی ان کی رہائی کا مطالبہ لے کر خیبر پختونخوا میں مارچ کر رہے تھے، جہاں پی ٹی آئی 13 برس سے اقتدار میں ہے۔

تھنک ٹینک چیتھم ہاؤس سے وابستہ ایسوسی ایٹ فیلو فرزانہ شیخ کہتی ہیں: ’نرم ترین الفاظ میں کہا جائے تو یہ جواز کچھ بناوٹی سا محسوس ہوتا ہے۔‘

صحافی اور تجزیہ کار عارفہ نور کہتی ہیں: ’مجھے شدت پسندی کے ساتھ اس کا تعلق نظر نہیں آتا۔ میں تو یہ بھی یقینی طور پر نہیں کہہ سکتی کہ اس کی وجہ لانگ مارچ ہی تھا۔ شاید یہ آخری تنکا ثابت ہوا ہو یا شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ وفاقی حکومت صوبے میں اپوزیشن جماعت کے ہاتھ میں حکومت نہیں رہنے دینا چاہتی تھی۔‘

ان مظاہروں کی قیادت وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کر رہے تھے اور تاحال یہ بات ایک معمہ ہے کہ وہ کہاں ہیں۔ ان کی جماعت کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ حکومت کہتی ہے کہ وہ حفاظتی تحویل میں ہیں۔

لانگ مارچ شروع ہونے سے پہلے ہی کریک ڈاؤن کیا جا رہا تھا۔ ستمبر میں عمران خان کی تین بہنوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر دیگر الزامات کے علاوہ حامیوں کو متحرک کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا اور تب سے وہ زیرِ حراست ہیں۔

گذشتہ ایک سال کے دوران عمران خان سے ان کے اہلِ خانہ یا وکلا کی بہت کم ملاقات ہو سکی ہے۔ ان کی دو بہنوں نے اگست میں ان سے ملاقات کی۔ ایک نے جیل میں، جبکہ دوسری نے اُس وقت، جب سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کی صحت کے بارے میں تشویش ظاہر کیے جانے کے بعد انھیں طبی معائنے کے لیے ہسپتال لے جایا گیا تھا۔

اس کے بعد انھیں دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ تین سال سے زیادہ عرصے سے قید ہیں۔

پی ٹی آئی کے رہنما، جن کے بارے میں بڑے پیمانے پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ انھوں نے پاکستان کی طاقتور فوج کے ساتھ اختلافات کے باعث اقتدار کھویا، اگست 2023 سے قید میں ہیں۔ انھیں بد عنوانی کے کئی مقدمات میں سزا سنائی جا چکی ہے، جنھیں وہ سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیتے ہیں۔

جب جماعت پہلے ہی کمزور ہو چکی تھی تو پھر حکام کی جانب سے یہ ردِعمل کیوں سامنے آیا؟

اس کے جواب میں اٹلانٹک کونسل سے وابستہ جنوبی ایشیا کے سینئر فیلو مائیکل کوگل مین کہتے ہیں: ’عمران خان کی صحت کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کے باعث حالیہ مہینوں میں پی ٹی آئی کے عہدیداروں اور کارکنوں میں بے چینی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

’یہ احساس موجود ہے کہ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ جماعت کو ایک بہت سخت پیغام دیا جائے اور اس کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنا مزید مشکل بنا دیا جائے۔‘

حکومت اس سے پہلے مؤقف اختیار کر چکی ہے کہ عمران خان اپنی ملاقاتوں کو سیاسی گفتگو کے لیے استعمال کر کے جیل کے قواعد کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔

عطا اللہ تارڑ نے ایمرجنسی لگانے کے بارے میں کہا: ’اس میں کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں تھا۔ وہ اپنا مارچ جاری رکھ سکتے تھے‘ اور فیصلے سے قبل دونوں فریقوں کے درمیان ہونے والی بات چیت کو اس بات کی دلیل قرار دیا کہ بات چیت کی کوشش کی گئی تھی۔

لیکن بعض دیگر لوگ اسے عمران خان اور ان کی جماعت کو محدود کرنے کی ایک اور کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں۔

عارفہ نور کہتی ہیں: ’حکومت کے پاس اختلافِ رائے یا احتجاج کے لیے برداشت کم سے کم ہوتی جا رہی ہے اور وہ کسی بھی قسم کے تنازعے کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالنا نہیں چاہتی۔‘

ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کے فیصلے کے پیچھے کون تھا: اسلام آباد میں مقیم مصنف اور دفاعی امور کے تجزیہ کار زاہد حسین اس بارے میں واضح رائے رکھتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’طاقت کا توازن مکمل طور پر فوجی اسٹیبلشمنٹ کی طرف منتقل ہو چکا ہے۔‘

فرزانہ شیخ کا خیال ہے کہ پاکستان کی فوج خود کو پُر اعتماد محسوس کر رہی ہے کیونکہ اسے یقین ہے کہ اس کے وائٹ ہاؤس کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں اپنے کردار کے باعث اس کی بین الاقوامی ساکھ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’سوچ یہ ہے کہ یہی وقت ہے، اس موقع سے فائدہ اٹھایا جائے۔ یہ احساس موجود ہے کہ تمام پتے ہمارے ہاتھ میں ہیں۔ ہم بین الاقوامی سطح پر اس دباؤ سے نمٹ سکتے ہیں۔‘

تاہم پاکستان کو کئی دیگر چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ شدت پسندی بڑھ رہی ہے۔ گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026 میں پاکستان کو دنیا کا سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثر ملک قرار دیا گیا۔

پاکستان کا اپنے دو ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی تنازع ہے۔ یہ متعدد بار افغانستان میں فضائی حملے کر چکا ہے اور افغان طالبان حکومت پر شدت پسند گروہوں کو پناہ دینے کا الزام لگاتا رہا ہے، جس کی وہ تردید کرتی ہے۔ انڈیا کے ساتھ بھی تنازعات کی طویل تاریخ ہے اور معمولی محرک سے وہ دوبارہ بھڑک سکتے ہیں۔

دریں اثنا پاکستان نے سعودی عرب کو حوثیوں کے حملوں کے خلاف دفاع میں مدد دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

بعض افراد نے خبردار کیا ہے کہ ایمرجنسی لگانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔ اس سے سیاسی عدم استحکام میں اضافہ ہونے کا خطرہ ہے کیونکہ اسلام آباد ایک ایسے صوبے کی براہِ راست ذمہ داری لے رہا ہے جہاں اب درمیان میں صوبائی حکومت بطور بفر موجود نہیں، جس پر الزام ڈالا جا سکے۔

کوگل مین کہتے ہیں: ’میرا خیال ہے کہ یہ اقدام الٹا بھی پڑ سکتا ہے۔ آپ آگ سے کھیل رہے ہیں، کیونکہ اگر اس اقدام کے نتیجے میں وہاں پہلے سے موجود غصہ اور بے اطمینانی مزید بڑھ گئی تو پھر آپ کے سامنے ایک بہت بڑا مسئلہ کھڑا ہو جائے گا۔‘

زاہد حسین کہتے ہیں: ’ملک کو درپیش متعدد چیلنجز کے تناظر میں یہ ایک غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے۔‘

انھیں خدشہ ہے کہ اسی نوعیت کے مزید اختیارات پاکستان کے دیگر حصوں میں بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

فرزانہ شیخ کے مطابق زیادہ شدید فوجی کارروائیوں کے ذریعے شدت پسندی سے نمٹنے کی کوشش کے خطرات بھی ہو سکتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’اگر وہ یہ کارروائیاں شروع کرتے ہیں تو پھر انھیں مسلح افواج کے اہلکاروں کی ہلاکتیں قبول کرنے کے لیے بھی تیار رہنا ہو گا۔‘

ان کے مطابق اگر ان ہلاکتوں کی تعداد نمایاں ہوئی تو فوج کے اندر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

پاکستان، جس کی تاریخ میں فوجی اقتدار پر قبضے کی متعدد مثالیں موجود ہیں، ماضی میں ایسے تجربات دیکھ چکا ہے جہاں منتخب حکومتوں کو ہٹانا، خواہ وہ صوبائی سطح پر ہو یا قومی سطح پر، ناخوشگوار نتائج کا باعث بنا۔

عارفہ نور کہتی ہیں: ’ایسا نہیں ہے کہ مسلم لیگ (ن) [جو وفاقی حکومت میں ہے] کی اعلیٰ قیادت کو یہ احساس نہ ہو کہ ان میں سے بعض اقدامات مستقبل میں ان کے لیے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔

’اسی طرح میرے خیال میں کسی حد تک پی ٹی آئی کو بھی احساس ہے کہ وہ صرف احتجاج کر کے عمران خان کو رہا نہیں کرا سکے گی۔ میرے نزدیک اس تمام صورتحال کا سب سے افسوس ناک پہلو یہی ہے کہ ہم یہ بات جانتے بوجھتے بھی اسی راستے پر آگے بڑھ رہے ہیں۔

’ہر کوئی جانتا ہے کہ ایک ٹرین حادثہ ہونے والا ہے، لیکن کسی طرح بھی اسے روکا نہیں جا رہا۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US