پشاور میں چھت گِرنے سے 34 ہلاکتوں کے بعد تحقیقاتی کمیٹی قائم: سکول کی خستہ حال عمارت بچوں کا وزن برداشت نہ کر سکی، پولیس کا دعویٰ

پشاور کے علاقے دیر کالونی میں واقع نجی سکول کی چھت گرنے کے واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 34 ہو گئی ہے۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور نصیر اللہ خان بابر ہسپتال کی جانب سے 33 طلبہ اور ایک ٹیچر کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ مرنے والے بچوں کی عمریں چھ سے 14 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں جبکہ ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد پولیس نے بتایا ہے کہ سکول پرنسپل زیرِ حراست ہیں۔
  • پشاور کے علاقے دیر کالونی میں واقع نجی سکول کی چھت گرنے کے واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 34 ہو گئی ہے۔ ہلاک ہونے والے بچوں کی عمریں چھ سے 14 سال بتائی گئی ہے
  • یہ سکول شہر کی تنگ گلیوں میں واقع ہے جہاں ریسکیو آپریشن میں دشواری پیش آئی۔ جب ریسکیو اہلکار پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ ’عمارت کی ایک چھت دوسری چھت پر گری ہوئی تھی‘
  • پشاور پولیس کے مطابق سکول پرنسپل زیر حراست ہے، جبکہ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ ملبے تلے سے تمام لاشوں اور زخمیوں کو نکال لیا گیا ہے
  • واقعے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے جبکہ پولیس کا دعوی ہے کہ سکول کی خستہ حال عمارت بچوں کا وزن برداشت نہیں کر سکی تھی
  • ایک عینی شاہد سہیل نے بی بی سی کو بتایا ’میری بہن نے ساڑھے نو بجے مجھے بلایا کہ بھائی جلدی آ جاؤ۔ سکول کے چھوٹے چھوٹے بچے چھت کے نیچے آ گئے تھے۔ میں نے اور علاقے کے لوگوں نے جلدی سے بیلچے سے انھیں نکالنے کی کوشش کی‘
  • پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے سکول کی چھت گرنے سے بچوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے جبکہ گورنر نے متعلقہ حکام سے سکول کی چھت گرنے کے واقعے کی تفصیلی رپورٹ کر لی ہے

پشاور میں چھت گِرنے سے 34 ہلاکتوں کے بعد تحقیقاتی کمیٹی قائم: سکول کی خستہ حال عمارت بچوں کا وزن برداشت نہ کر سکی، پولیس کا دعویٰ


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US