ایران نے اپنے مطالبات کی منظوری تک امریکا کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کردیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اپنے ایک نشریاتی خطاب میں واضح کیا ہے کہ تہران امریکا کے ساتھ نہ تو لامتناہی جنگ کا خواہاں ہے اور نہ ہی طویل مذاکرات کا، تاہم جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، لڑائی جاری رہے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران پائیدار دفاعی بازدارندگی کے قیام کے لیے مذاکراتی عمل کا حامی ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک بیان میں اسپیکر نے کہا کہ امریکی حکومت کی جانب سے معاشی دباؤ کی مہم سمیت تمام ڈیڈ لائنز گزرنے کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران بدستور قائم اور فعال ہے۔
اس دوران انہوں نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ امریکی دباؤ کے نتائج سے متعلق ان کی پیش گوئیاں غلط ثابت ہوئی ہیں جس پر انہیں فزکس کا نوبیل انعام ملنا چاہیے۔
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے بتایا ہے کہ 40 روزہ جنگ کے بعد ایران نے زیادہ جدید ہتھیار حاصل کر لیے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگرچہ ایران پر نیا امریکی حملہ غیر معقول ہوگا، لیکن امریکی مڈٹرم الیکشنز کے باعث اس کا خدشہ موجود ہے، جس کا جواب دینے کے لیے ایران پہلے سے زیادہ طاقت اور مکمل تیاری کے ساتھ موجود ہے۔