بھارت میں ووٹر لسٹوں کی ترامیم اور احتجاج پر بین الاقوامی میڈیا کی شدید تنقید

image

نئی دہلی میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ووٹر لسٹوں میں کی گئی متنازع ترامیم کے خلاف ہونے والے احتجاج اور پولیس کریک ڈاؤن نے بین الاقوامی میڈیا کی توجہ حاصل کرلی ہے۔

ان ترامیم کے حوالے سے ناقدین کا دعویٰ ہے کہ اس سے حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو غیر منصفانہ فائدہ پہنچتا ہے۔

دارالحکومت میں چیف الیکشن کمشنر گْیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کو روکنے کے لیے سیکیورٹی فورسز نے شہر کے مختلف حصوں کو مکمل طور پر بند کر دیا، جبکہ پولیس کے کریک ڈاؤن کے دوران سیکڑوں مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔

بین الاقوامی جریدوں اور اخبارات نے اس صورتحال پر تبصرے کیے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ نوجوانوں کی جانب سے کھڑے کیے جانے والے اس طوفان کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی کی آہنی گرفت ڈھیلی پڑ رہی ہے اور ان کی ناقابلِ شکست تصویر دھندلا رہی ہے۔

دی نیویارکر نے اپنے مضمون میں سوال اٹھایا کہ 10 کروڑ ووٹرز کا غائب ہونا اور پھر احتجاج پر کریک ڈاؤن کیا جمہوریت کا خاتمہ ہے؟

فنانشل ٹائمز کا کہنا ہے کہ مودی جتنا چاہیں دباؤ ڈال لیں، لیکن اب نوجوان خاموش نہیں رہیں گے۔

دی اکنامسٹ نے تبصرہ کیا کہ 12 سال کے بعد جین زی (Gen Z) نے مودی کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور نوجوان ان کی چالوں سے بالکل متاثر نہیں ہوتے۔

ہیومن رائٹس واچ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پولیس مظاہرین کو پیٹ رہی ہے، گاڑیوں میں ٹھونس رہی ہے اور صحافیوں کو اٹھا رہی ہے، کیا یہ جمہوریت کی ماں ہے یا کچھ اور؟

اس کے علاوہ ٹائم میگزین نے لکھا ہے کہ بھارت میں انتخابی شفافیت پر گہرا سایہ پڑ چکا ہے اور فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US