"اسکول کی بنیاد ڈیڑھ سال پہلے رکھی تھی، گزشتہ کئی دنوں سے مسلسل بارشیں ہو رہی تھیں، جس کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔ صبح میں خود متاثرہ کلاس میں گیا تھا، عمارت گری تو فوری طور پر اساتذہ کو بلایا اور بچوں کو ملبے سے نکالنا شروع کردیا۔"
یہ کہنا ہے پشاور کے علاقے دیر کالونی میں منہدم ہونے والے نجی اسکول کے مالک خان محمد کا، جنہوں نے اسکول کی عمارت گرنے کی وجہ حالیہ بارشوں کو قرار دیا ہے۔
خان محمد کے مطابق اسکول کی دوسری منزل پر موجود صرف ایک کمرہ منہدم ہوا تھا، جس کے گرنے سے نچلی منزل کے کمرے بھی متاثر ہوئے اور عمارت کا حصہ زمین بوس ہوگیا۔
انہوں نے بتایا کہ حادثے کے وقت متاثرہ کلاس میں تقریباً 30 بچے موجود تھے، جبکہ اسکول میں مجموعی طور پر 350 طلبہ زیرِ تعلیم تھے۔
دوسری جانب سیکریٹری تعلیم خیبر پختونخوا عنایت اللہ وسیم نے اسکول کی عمارت کی حالت سے متعلق اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ عمارت پہلے ہی مخدوش حالت میں تھی، تاہم متعلقہ حکام کو اس بارے میں کسی نے آگاہ نہیں کیا تھا۔
سیکریٹری تعلیم کے مطابق حادثے کی اصل وجوہات معلوم کرنے کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جو عمارت کی حالت اور دیگر پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس واقعے کے بعد صوبے بھر کے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا معائنہ کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔
حکومت نے حادثے میں زخمی ہونے والے بچوں کے علاج کے تمام اخراجات برداشت کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
واضح رہے کہ اسکول مالک نے حادثے کی وجہ بارشوں کو قرار دیا ہے، تاہم عمارت گرنے کی حتمی وجہ انکوائری رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگی۔