قریب کھڑی ایک معمر خاتون ارملا نے غفورن کو یاد کرتے ہوئے کہا، ’ان کا خاندان قریبی ایک گاؤں کا تھا، جو تقریباً 50 سے 55 سال پہلے یہاں آ کر آباد ہو گیا۔ غفورن کی شادی قریبی جٹ پورہ گاؤں کے اکبر حسین سے ہوئی۔ کچھ وجوہات کی بنا پر وہ بھی یہیں آ کر رہنے لگے۔ غفورن کہا کرتی تھیں کہ یہ گاؤں محبت والا ہے۔‘
غفورن اپنے شوہر اکبر حسین کے ساتھ جن کا کافی پہلے انتقال ہو گیا تھا (فائل فوٹو)’گاؤں میں غفورن بوا کا جنازہ رکھا تھا۔ وہ ہمارے گاؤں کی بیٹی تو تھیں ہیں، ہماری بوا کے برابر بھی تھیں۔ ان کا جنازہ گاؤں میں رکھا ہو اور ہم رام لیلا کر کے تفریح کریں، دل نے گوارا نہیں کیا۔ ہماری کمیٹی نے اس دن شروع ہونے والی رام لیلا کے انعقاد کو ملتوی کر دیا۔‘
یہ کہنا ہے اتر پردیش کے ضلع بجنور کے گاؤں موہڑا کے رہائشی رشپال سنگھ کا۔ رشپال سنگھ گاؤں میں ہی آدرش رام لیلا کمیٹی کے سرپرست اور گرام پردھان ہیں۔
مذہبی اور معاشرتی باہمی ہم آہنگی کا یہ معاملہ پورے علاقے میں سرخیوں میں آ گیا۔ سوشل میڈیا پر بھی لوگ اس کا ذکر کرنے لگے۔
بی بی سی نیوز ہندی سے گفتگو کرتے ہوئے رشپال سنگھنے بتایا کہ ویسے تو ہمارا پورا گاؤں ہی باہمی ہم آہنگی کی مثال ہے۔ یہاں کبھی ہندو مسلم کشیدگی جیسی کوئی تاریخ نہیں رہی۔ وہ ایسی خاتون تھیں جو اپنے گھر کے سامنے پیپل کے درخت کے نیچے بیٹھی رہتی تھیں۔ دیوتاؤں کی پوجا کے لیے جب نئے جوڑے آتے تو وہ انھیں آشیرواد دیتی تھیں۔
وہ مزید کہتے ہیں، ’گاؤں کے ہر چھوٹے بڑے کو وہ ان کے خاندان سے پہچانتی تھیں۔ ہر کوئی ان کی ایسی عزت کرتا تھا کہ شاید ہی کوئی ان کے سامنے سے دعا سلام کیے بغیر گزرا ہو۔‘
رام لیلا ہندو مذہبی اور ثقافتی روایت کا ایک اہم حصہ ہے، جس میں قدیم ہندو رزمیہ داستان رامائن کے واقعات کو ڈرامائی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔
اس روایت میں بھگوان رام کی زندگی، ان کے جلا وطنی کے دور، سیتا کے اغوا اور راون کے خلاف جنگ کو مختلف مناظر، مکالموں، گیتوں اور اداکاری کے ذریعے عوام کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ یہ تقریبات عموماً دسہرہ کے تہوار کے دوران منعقد کی جاتی ہیں اور انڈیا کے مختلف شہروں اور دیہات میں بڑی تعداد میں لوگ ان میں شریک ہوتے ہیں۔
غفورن بوا کی میت پر رام لیلا ملتوی
رشیرام سنگھ، گرام پردھان اور آدرش رام لیلا کمیٹی کے سرپرستدرحقیقت، بجنور کی دھام پور تحصیل کے تحت گرام پنچایت موہڑا واقع ہے۔
تقریباً 3200 آبادی والے اس گاؤں میں چوہان اکثریت میں ہیں، جبکہ مسلمان، والمیکی برادری اور دیگر طبقات کے لوگ بھی رہتے ہیں۔ 10 اکتوبر کو یہاں تقریباً 85 سالہ معمر خاتون غفورن کی وفات ہو گئی۔ وہ کچھ عرصے سے بیمار تھیں۔
ان کی میت شام تقریباً پانچ بجے گاؤں پہنچی تو وہاں کا ماحول سوگوار ہو گیا۔ اسی دن گاؤں میں رات آٹھ بجے سے رام لیلا کا سٹیج ڈراما شروع ہونا تھا۔
یہ نوراتری کا پہلا دن تھا، جب ہر سال کی طرح اس گاؤں میں رام لیلا کا آغاز ہوتا ہے۔
لیکن غفورن بوا کی وفات کو دیکھتے ہوئے آدرش رام لیلا کمیٹی سے وابستہ تمام منتظمین نے باہمی اتفاق سے رام لیلا کا انعقاد ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔
کیسی تھیں موہڑا گاؤں کی غفورن بوا
گاؤں کے تمام لوگوں نے مل کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ رام لیلا آگے نہ کی جائے۔دھام پور سے مراد آباد جانے والی شاہراہ سے تقریباً ڈیڑھکلو میٹر اندر موہڑا گاؤں واقع ہے۔ گاؤں میں داخل ہوتے ہی جگہ جگہ لکڑی کے کھمبوں پر لاؤڈ سپیکر لگے ہوئے ہیں۔ سڑک کے دونوں جانب سجاوٹ ہو رہی ہے۔
رام لیلا گراؤنڈ غفورن کے گھر سے تقریباً 500 میٹر کے فاصلے پر ہے۔
پورے گاؤں میں جگہ جگہ لگے لاؤڈ سپیکروں کی وجہ سے ہر گھر تک رام لیلا کے سٹیج پروگرام اور بھجنوں کی آواز پہنچ رہی ہے۔
ایک مسلمان خاتون نے نام شائع نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے ہم سے بات کی۔
اُنھوں نے کہا کہ ’ہم بھی اکٹھے ہو کر رام لیلا دیکھنے جاتے ہیں۔ گاؤں کا ہر شخص بھائی بھتیجے جیسا لگتا ہے۔‘
اسی دوران رام لیلا گراؤنڈ میں سامنے سے آتے رام لیلا کمیٹی کے صدر رشپال سنگھ دکھائی دیے۔
غفورن کی وفات اور رام لیلا ملتوی ہونے کے سوال پر اُنھوں نے بی بی سی نیوز ہندی سے کہا، ’غفورن سے اگرچہ ہمارا خون کا رشتہ نہیں تھا، لیکن وہ گاؤں کی بیٹی تھیں۔‘
قریب ہیکھڑے بھوپیندر سنگھ نے بھی ہم سے بات کی۔ وہ کمیٹی میں نائب سیکریٹری ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ ’گذشتہ تقریباً 40 سال سے گاؤں میں رام لیلا ہو رہی ہے۔ یہاں کبھی کشیدگی جیسی کوئی بات نہیں رہی۔ بلکہ مسلمانوں کے کئی خاندان رام لیلا کمیٹی کو تعاون دیتے ہیں۔ ان کے گھروں سے بھی خواتین یہاں رام لیلا دیکھنے آتی ہیں۔‘ جس دن ہم موہڑا گاؤں پہنچے، وہاں رام بارات نکالی جا رہی تھی۔
رام لیلا گراؤنڈ میں بچے کھیل رہے تھے۔ خواتین اور بزرگ بھی اچھی تعداد میں موجود تھے۔
رام بارات دیکھنے آئی ایسی ہی ایک خاتون سنیتا دیوی سے ہم نے غفورن بوا کے بارے میں پوچھا۔
اُنھوں نے کہا کہ ’میری عمر تقریباً 56 سال ہے۔ جس دن سے میں یہاں بیاہ کر آئی ہوں، سب کے درمیان محبت دیکھ رہی ہوں۔ غفورن بوا اسی لیے گاؤں والوں کی لاڈلی تھیں کیونکہ وہ ہر آنے جانے والے کے سر پر ہاتھ پھیرتی تھیں۔‘
قریب کھڑی ایک معمر خاتون ارملا نے غفورن کو یاد کرتے ہوئے کہا، ’ان کا خاندان قریبی ایک گاؤں کا تھا، جو تقریباً 50 سے 55 سال پہلے یہاں آ کر آباد ہو گیا۔ غفورن کی شادی قریبی جٹ پورہ گاؤں کے اکبر حسین سے ہوئی۔ کچھ وجوہات کی بنا پر وہ بھی یہیں آ کر رہنے لگے۔ غفورن کہا کرتی تھیں کہ یہ گاؤں محبت والا ہے۔‘
گاؤں کے رہائشی بھورے میاں کہتے ہیں، ’ہمارے گاؤں میں آج تک فرقہ وارانہ ماحول خراب نہیں ہوا۔ ہمارے گاؤں کی سرحد پر ایسے تمام معاملات دم توڑ دیتے ہیں۔ آئندہ بھی ایسا ہی ہو گا۔‘
رام لیلا ملتوی ہونے پر غفورن کے بیٹے نے کیا بتایا؟
ذاکر حسین، غفورن کے بڑے بیٹے ہیں۔گاؤں میں داخل ہوتے ہی بائیں جانب ایک چھوٹا راستہ مڑتا ہے۔ اس راستے کے کنارے گنے کی فصل کھڑی ہے۔
تقریباً 300 میٹر چلنے پر بائیں جانب چار دیواری سے گھرا ایک بڑا پیپل کا درخت دکھائی دیتا ہے۔
یہاں سے 15 سے 20 قدم آگے چلنے پر غفورن کا گھر ہے، جس کے دروازے پر سرخ رنگ کا لوہے کا گیٹ لگا ہے۔
غفورن کے چار بیٹے اور ایک بیٹی تھے۔ ان کے شوہر کے علاوہ ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی وفات پا چکے ہیں۔
اب ان کی اولاد میں تقریباً 65 سالہ ذاکر حسین اور ان کے چھوٹے بھائی شمشاد حسین ہی زندہ ہیں۔
ذاکر گاؤں میں ہی اپنا ایک کلینک چلاتے ہیں اور ان کے بچوں کی بھی شادی ہو چکی ہے۔
اس طرح غفورن کے گھر میں ان کی چوتھی نسل کے بچے پرورش پا رہے ہیں۔
ذاکر نے بی بی سی نیوز ہندی سے کہا، ’امّاں کی طبیعت 10 اکتوبر کی صبح اچانک خراب ہو گئی تھی۔ انھیں دھام پور میں ایک ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا، لیکن شام چار بجے ان کی وفات ہو گئی۔‘
اُنھوں نے مزید کہا کہ ’گاؤں میں رام لیلا کی تیاری تھی۔ پوجا پاٹ کے لیے بھی اکثر لاؤڈ سپیکر بجتا ہے، لیکن اس دن گاؤں میں لاؤڈ سپیکر نہیں بجا۔ رات کو ہونے والی رام لیلا بھی اس دن کے لیے ملتوی کر دی گئی۔‘
وہ مزید کہتے ہیں، ’امّاں نے ہمیشہ ہمارے خاندان کو متحد رکھا۔ آج بھی ہمارے پورے خاندان کا ایک ہی دروازہ ہے۔ یہی اتحاد وہ گاؤں والوں کے ساتھ بھی رکھتی تھیں۔‘
ذاکر یہ بھی کہتے ہیں کہ بچپن سے ہی رام لیلا میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی تعلیم انھیں ان کی امّاں دیتی تھیں۔
اُنھوں نے کہا کہ ’دیوالی ہو یا عید، ہندو بھائیوں کے گھروں میں ہمارا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ امّاں کے جنازے میں گاؤں کے کئی ہندو بھائی شریک ہوئے۔‘
وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ کئی لوگ ہر روز ان کے گھر تعزیت کے لیے پہنچ رہے ہیں۔
رام لیلا کے فنکاروں نے کیا کہا؟
گاؤں میں رہنے والے وکیل گجیندر سنگھ بھی گاؤں والوں کے فیصلے کی حمایت کرتے ہیں۔آدرش رام لیلا منچ میں رام کا کردار امت چوہان ادا کر رہے ہیں۔
اُنھوں نے رام لیلا ملتوی کیے جانے اور غفورن کے بارے میں ہم سے بات کی۔
امت کہتے ہیں، ’پرفارمنس کے لیے کافی پہلے سے مکالمے یاد کرنے پڑتے ہیں اور اداکاری کی مشق چلتی ہے۔ ایسے میں جس دن کے لیے تیاری ہو، اسی دن پروگرام ہی ملتوی ہو جائے تو بہت بھاری لگتا ہے۔‘
اُن کے بقول ’غفورن بوا کے بارے میں ہم اپنے بڑوں سے سنتے آ رہے ہیں۔ ہم نے انھیں دیکھا بھی ہے۔ ان کا جانا پورے گاؤں کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔‘
دھام پور میں ہونے والے فسادات کی زد اس گاؤں کو نہیں چھو سکی، اس گاؤں سے دھام پور شہر کا فاصلہ تقریباً تین کلومیٹر ہے۔
دھام پور اتر پردیش کا ایک اسمبلی حلقہ بھی ہے۔ یہاں سے بی جے پی کے اشوک کمار رانا رکن اسمبلی ہیں۔
دھام پور ایک بلدیاتی علاقہ بھی ہے، جہاں ہندوؤں اور مسلمانوں کی مخلوط آبادی ہے۔
آس پاس کے دیہات سے ہر روز بڑی تعداد میں دیہاتی اپنی روزمرہ ضروریات کے لیے خریداری کرنے یہاں آتے ہیں۔
ایس ڈی ایم دفتر کے قریب وکلا کے چیمبر ہیں۔
یہاں وکالت کرنے والے سینئر وکیل اور سابق صحافی گجیندر سنگھ کہتے ہیں ’دھام پور میں 1978 میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہوئی تھی۔ اس دور میں دھام پور کو کافی نقصان ہوا۔ اس کے بعد بھی چند بار فرقہ وارانہ کشیدگی کی صورت حال بنی، لیکن موہڑا گاؤں میں کبھی بے امنی نہیں پہنچی۔ وہاں شروع سے ہی باہمی بھائی چارہ قائم ہے۔ یہ بات سب جانتے ہیں۔‘