اے آئی سرچ آپ کو فوری جواب دیتی ہے، لیکن کیا اس پر بھروسا کیا جا سکتا ہے؟

اے آئی سرچ ٹولز انٹرنیٹ پر موجود غلط یا گمراہ کن معلومات کو حقیقت کے طور پر پیش کر سکتے ہیں، جبکہ بعض اوقات درست مگر متضاد شواہد کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کے جوابات کو حتمی سمجھنے کے بجائے ان کے حوالہ جات اور اصل ذرائع کی تصدیق کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق اے آئی معلومات سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن صحت، قانون اور مالی معاملات جیسے اہم فیصلوں کے لیے معتبر شواہد اور ماہرین کی رائے ضروری ہے۔
Getty Images
Getty Images

کیا آپ نے کبھی کسی ایک سیدھے سادے جواب کی تلاش میں 15 ٹیب کھولے ہیں؟ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا وعدہ ہے کہ وہ آپ کو اس جھنجھٹ سے بچا سکتی ہے۔ چیٹ جی پی ٹی، جیمنی اور کلاڈ جیسے ٹولز چند سیکنڈ میں کسی خبر کا خلاصہ پیش کر سکتے ہیں، طبی اصطلاح کی وضاحت کر سکتے ہیں یا کسی بحث کا فیصلہ کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

زیادہ سے زیادہ لوگ جواب تلاش کرنے کے لیے ان ٹولز کا رخ کر رہے ہیں۔ روئٹرز انسٹیٹیوٹ فار دی سٹڈی آف جرنلزم کے سنہ 2025 کے ایک سروے کے مطابق، چھ ممالک ارجنٹینا، ڈنمارک، فرانس، جاپان، برطانیہ اور امریکہ میں 54 فیصد افراد نے گذشتہ ہفتے کے دوران کسی سرچ کے جواب میں اے آئی سے تیار کردہ جواب دیکھا تھا۔ ان میں سے 28 فیصد نے کہا کہ وہ فراہم کردہ ذرائع کی ویب سائٹس پر جانے کے لیے دیے گئے لنکس پر شاذ و نادر ہی کلک کرتے ہیں یا کبھی ایسا نہیں کرتے۔

دوسری جانب برطانیہ میں صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ’وِچ؟‘ کے مطابق، برطانیہ کے 51 فیصد بالغ افراد آن لائن معلومات تلاش کرنے کے لیے اے آئی ٹولز استعمال کرتے ہیں، اگرچہ روایتی سرچ انجن اب بھی زیادہ وسیع پیمانے پر استعمال ہوتے ہیں۔

اے آئی سرچ کی کشش سمجھ میں آتی ہے۔ روایتی سرچ انجن صارفین کے سامنے مختلف ویب سائٹس کے لنکس پیش کرتا ہے، جنھیں انھیں خود کھول کر دیکھنا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اے آئی سے چلنے والی سرچ معلومات کا انتخاب کرتی ہے، ان کا خلاصہ پیش کرتی ہے اور ان کی تشریح بھی کرتی ہے۔

لیکن جیسے جیسے ہم تلاش اور معلومات کی چھان بین کا کام چیٹ بوٹس کے سپرد کرنے کے عادی ہوتے جا رہے ہیں، ویسے ہی ان کے دیے گئے جوابات پر سوال اٹھانے کا رجحان بھی کم ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب یہ جوابات پُراعتماد اور مستند انداز میں پیش کیے جائیں۔

محققین خبردار کرتے ہیں کہ اے آئی سے چلنے والی سرچ کو پُرکشش بنانے والی خصوصیات، یعنی تیزی، سہولت اور پُراعتماد انداز میں دیے جانے والے جوابات، غلط معلومات کی نشاندہی کو بھی مشکل بنا سکتی ہیں۔

اس طرح اے آئی نہ صرف معلومات تلاش کرنے کے ہمارے طریقے کو بدل رہی ہے بلکہ اس بات کو بھی متاثر کر رہی ہے کہ ہم ان معلومات کی سچائی اور اعتبار کا فیصلہ کیسے کرتے ہیں۔

جب کوئی بات درست محسوس ہو، تو ضروری نہیں کہ وہ حقیقت میں بھی درست ہو

Getty Images
Getty Images

یونیورسٹی آف واشنگٹن میں لسانیات کی پروفیسر ایملی ایم بینڈر کہتی ہیں کہ ’یہ مسئلہ اس بنیادی غلط فہمی سے شروع ہوتا ہے کہ بڑے لینگویج ماڈلز (ایل ایل ایم) دراصل کام کیسے کرتے ہیں۔‘

یہ نظام اپنے اندر موجود مواد میں پائے جانے والے نمونوں کی بنیاد پر اندازہ لگاتے ہیں کہ اگلا لفظ یا جملے کا اگلا حصہ کیا ہونا چاہیے اور اسی طرح متن تیار کرتے ہیں۔ ان کی جانب سے رواں اور انسانوں کی طرح جوابات دینے کی صلاحیت کا یہ مطلب نہیں کہ وہ پیش کردہ معلومات کو سمجھتے بھی ہیں۔

بینڈر اس عمل کا موازنہ موبائل فون میں موجود پیش گوئی کرنے والے ٹیکسٹ فیچر سے کرتی ہیں۔ آپ کوئی جملہ لکھنا شروع کریں اور بار بار تجویز کردہ الفاظ منتخب کرتے جائیں تو ممکن ہے کہ آخر میں ایک ایسا جملہ بن جائے جو بظاہر بالکل رواں ہو، لیکن اس کا کوئی خاص مطلب نہ نکلتا ہو۔

ان کے مطابق چیٹ بوٹس اور معلومات فراہم کرنے والی سروسز میں استعمال ہونے والے بڑے لینگویج ماڈلز بھی بنیادی طور پر یہی کام کر رہے ہوتے ہیں۔

فرق صرف یہ ہے کہ ان کے جوابات مستند اور پُراعتماد محسوس ہو سکتے ہیں، چاہے ان میں کیے گئے دعووں کی سچائی ثابت نہ ہوئی ہو۔

بینڈر کہتی ہیں کہ ’یہ نظام مستند اور پُراعتماد محسوس ہونے والی زبان تیار کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں، نہ کہ سوالات کے درست جواب دینے کے لیے اور یہ مستند اور پُراعتماد محسوس ہونے والی زبان ہی تیار کرتے ہیں۔‘

یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ لوگ فطری طور پر پُراعتماد انداز میں دی گئی وضاحتوں کو علم اور معلومات سے جوڑتے ہیں۔ ایک چیٹ بوٹ جب حوالوں کے ساتھ کسی سوال کا نفیس اور مربوط جواب پیش کرتا ہے تو وہ سرچ کے بے ترتیب لنکس کی فہرست کے مقابلے میں زیادہ قابلِ بھروسا دکھائی دے سکتا ہے، چاہے اس کے جواب کے حق میں موجود شواہد کمزور ہوں۔

ویب سرچ کی سہولت شامل کرنے سے کسی نظام کو دستیاب معلومات بہتر ہو سکتی ہیں، لیکن اس سے مسئلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔ بینڈر خبردار کرتی ہیں کہ حوالہ جات اس بات کی ضمانت نہیں کہ جواب میں پیش کردہ معلومات ان ذرائع سے درست طور پر اخذ کی گئی ہیں۔

ممکن ہے کہ دیا گیا لنک کسی حقیقی اور معتبر ویب سائٹ پر لے جائے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ویب سائٹ اس مخصوص دعوے کی تائید بھی کرتی ہے جس کے ساتھ اسے منسلک کیا گیا ہے۔

Getty Images
Getty Images

اے آئی کی جانب سے چھوڑی گئی معلومات کا خطرہ

گمراہ کن جواب میں ہر بار کوئی من گھڑت بات شامل نہیں ہوتی۔ بعض اوقات مسئلہ ان معلومات کا ہوتا ہے جو نظام آپ کو بتانے میں ناکام رہتا ہے۔

یونیورسٹی آف واشنگٹن کے پروفیسر ’انفو سیکنگ لیب‘ کے ڈائریکٹر اور کتاب ’رائزنگ اے آئی‘ کے مصنف چراغ شاہ کہتے ہیں کہ ’جواب پیش کرنے سے پہلے اے آئی نظام کئی فیصلے کرتے ہیں، کون سے سوالات تلاش کیے جائیں، کن نتائج کو ترجیح دی جائے اور کون سی دستاویزات استعمال کی جائیں۔‘

صارفین کو اکثر ان فیصلوں کا علم نہیں ہوتا۔

’ممکن ہے کوئی نظام ایسے سوال سے متعلق معلومات حاصل کرے جو کسی طنزیہ، پرانے یا گمراہ کن ویب صفحے سے لی گئی ہوں۔ اس کے بعد لینگویج ماڈل انہی معلومات کی مدد سے جواب تیار کرتا ہے اور ممکن ہے کہ اسے قابلِ اعتماد معلومات کے طور پر پیش کر دے۔‘

شاہ کے مطابق اس عمل کے نتیجے میں ایک ایسا جواب سامنے آ سکتا ہے جو بظاہر قائل کرنے والا ہو، حالانکہ اس کی بنیاد بننے والی معلومات غلط ہوں۔

’مسئلہ اس سے بھی زیادہ باریک ہو سکتا ہے۔ فرض کریں کہ آپ کسی خاص دوا کے استعمال کے تجربات تلاش کر رہے ہیں۔ جن لوگوں کو اس دوا کے مضر اثرات کا سامنا ہوا ہو، ممکن ہے وہ ان لوگوں کے مقابلے میں انٹرنیٹ پر اپنے تجربات زیادہ بیان کریں جنہوں نے دوا استعمال کی ہو اور انھیں کوئی مسئلہ پیش نہ آیا ہو۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’اگر اے آئی نظام زیادہ تر ایسے ہی تجربات پر انحصار کرے تو وہ دوا کے حقیقی مضر اثرات تو بیان کر سکتا ہے، لیکن ساتھ ہی صارفین کو یہ غلط تاثر بھی دے سکتا ہے کہ یہ اثرات کتنے عام یا سنگین ہیں۔‘

شاہ کہتے ہیں کہ ’اکثر اوقات نظام آپ کو یہ نہیں بتاتا کہ کوئی معلومات غائب ہیں۔ اس سے بھی بدتر یہ ہے کہ وہ ان خالی جگہوں کو ایسی معلومات سے پُر کر سکتا ہے جو بظاہر قابلِ یقین ہوں، لیکن پھر بھی غلط ہوں یا ان میں معلومات کی کمی ہو۔ یوں آپ کو ایسا جواب ملتا ہے جو مکمل دکھائی دیتا ہے۔ لیکن آپ کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آپ کیا نہیں جانتے اور نظام کو اس انداز میں تیار نہیں کیا گیا کہ وہ آپ کو یہ دکھا سکے۔‘

’یہ صورتِ حال خاص طور پر اس وقت تشویش ناک ہوتی ہے جب لوگ صحت، پیسے، قانونی معاملات یا دیگر ایسے فیصلوں کے بارے میں مشورے لینے کے لیے اے آئی سے رجوع کرتے ہیں جہاں نامکمل جواب کے حقیقی زندگی میں سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔‘

Getty Images
Getty Images

کیا اے آئی سرچ میں ہیرا پھیری کی جا سکتی ہے؟

ایک اور کمزوری یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر دستیاب معلومات میں بھی ہیرا پھیری کی جا سکتی ہے۔ بی بی سی کی ایک تحقیق میں ایک صحافی نے دکھایا کہ کس طرح اپنی ذاتی ویب سائٹ پر مکمل طور پر جھوٹا دعویٰ شائع کرنے سے چیٹ جی پی ٹی اور گوگل کے اے آئی اوورویوز سمیت مقبول اے آئی ٹولز اس دعوے کو حقیقت کے طور پر دہرانے لگے۔ دعویٰ یہ تھا کہ وہ صحافی مسابقتی مقابلوں میں ہاٹ ڈاگ کھانے کے عالمی چیمپیئن ہیں۔

یہ مثال ایک بڑے مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے۔ اے آئی سرچ ٹولز مختلف حد تک ان معلومات پر انحصار کرتے ہیں جو وہ انٹرنیٹ سے حاصل کرتے ہیں۔ اگر یہ معلومات غلط ہوں یا جان بوجھ کر گمراہ کرنے کے لیے پھیلائی گئی ہوں تو ان سے صارف کو ملنے والا جواب بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

یہ خطرہ صرف کسی شخص کی جانب سے من گھڑت کہانی تیار کرنے اور اس امید پر شائع کرنے تک محدود نہیں کہ کوئی چیٹ بوٹ اسے دہرا دے گا۔ اے آئی سسٹمز مختلف سیاق و سباق سے حاصل ہونے والی درست معلومات کو بھی آپس میں جوڑ سکتے ہیں، متضاد شواہد کو نظر انداز کر سکتے ہیں یا کسی ابتدائی تحقیق کے نتائج پیش کرتے ہوئے یہ بتانے میں ناکام رہ سکتے ہیں کہ بعد کی تحقیق میں ان نتائج کو چیلنج کیا جا چکا ہے۔

آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف کوئنزلینڈ کی انفارمیشن انجینیئرنگ لیب سے وابستہ پوسٹ ڈاکٹریٹ ریسرچ فیلو ڈاکٹر ہینگ (ایلکس) لی کا کہنا ہے کہ کسی معلومات کا متعلقہ ہونا اور اس کا درست ہونا دو الگ باتیں ہیں۔

ڈاکٹر لی کہتے ہیں کہ ’ممکن ہے کہ اے آئی کو متضاد معلومات کبھی ملیں ہی نہیں، یا وہ انھیں حاصل تو کر لے لیکن انھیں مناسب اہمیت نہ دے۔ تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ لینگویج ماڈلز متعلقہ معلومات کو نظر انداز کر سکتے ہیں، چاہے وہ فراہم کردہ مواد میں موجود ہوں۔ متضاد شواہد سے نمٹنا بھی ایک چیلنج ہے۔ شواہد تلاش کرنا اور انھیں درست طریقے سے استعمال کرنا دو الگ مسائل ہیں۔‘

تو کیا ہمیں معلومات تلاش کرنے کے لیے اے آئی کا استعمال بند کر دینا چاہیے؟

Getty Images
Getty Images

ماہرین اے آئی ٹولز کے استعمال کے خلاف نہیں ہیں۔ ان کی تشویش یہ ہے کہ سہولت حاصل کرنے کی قیمت درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت کی صورت میں ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

لی کا مشورہ ہے کہ ’اے آئی کو معلومات حاصل کرنے کا نقطۂ آغاز سمجھنا چاہیے، نہ کہ حتمی اتھارٹی۔ صارفین کو چاہیے کہ وہ جواب کے ساتھ دیے گئے حوالہ جات کھول کر دیکھیں، معلوم کریں کہ معلومات کب شائع ہوئی تھیں اور یہ جانچیں کہ آیا وہ واقعی چیٹ بوٹ کے جواب کی تائید کرتی ہیں۔ وہ اصل ذرائع اور ایسے معتبر شواہد بھی طلب کر سکتے ہیں جو اے آئی کے جواب سے اختلاف کرتے ہوں۔‘

سوال پوچھنے کا انداز بھی اہمیت رکھتا ہے۔ لی وضاحت کرتے ہیں کہ ’اس بارے میں شواہد کیا کہتے ہیں؟‘ پوچھنا، ’یہ نقصان دہ کیوں ہے؟‘ پوچھنے سے بہتر نقطۂ آغاز ہے، کیونکہ دوسرا سوال تلاش شروع ہونے سے پہلے ہی ایک نتیجہ فرض کر لیتا ہے۔ تاہم، چیٹ بوٹ سے اپنے ہی جواب کی جانچ کرنے کو کہنا شواہد کا خود جائزہ لینے کا متبادل نہیں ہے۔

’صحت، قانون، مالی معاملات یا حفاظت سے متعلق فیصلے کرنے سے پہلے صارفین کو سرکاری ذرائع سے معلومات کی تصدیق کرنی چاہیے یا متعلقہ شعبے کے مستند ماہرین سے مشورہ لینا چاہیے۔‘

بنیادی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اے آئی غلط جواب دے سکتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ نامکمل یا غلط جواب اتنے پُراعتماد انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے کہ ہم مزید معلومات تلاش کرنا ہی چھوڑ دیں۔

اگلی بار جب کوئی چیٹ بوٹ آپ کو بالکل وہی جواب دے جس کی آپ تلاش کر رہے ہوں تو اسے حتمی بات تسلیم کرنے سے پہلے ایک لمحے کے لیے رکیں۔ لی کے الفاظ میں ’اے آئی کو معلومات سمجھنے میں آسانی پیدا کرنے کے لیے استعمال کریں، نہ کہ شواہد کی ضرورت ختم کرنے کے لیے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US