ترکی کی پارلیمان میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے بیچ طے پانے والے ’مکہ دفاعی معاہدے‘ کا مکمل متن جمع کروائے جانے کے بعد ملک کے ذرائع ابلاغ میں اس معاہدے میں شامل دفاع سے متعلق ایک مخصوص شق پر کافی بحث جاری ہے۔

ترکی کی حکومت کی جانب سے مکہ دفاعی معاہدے کا متن پارلیمان میں جمع کروائے جانے کے بعد معاہدے میں دفاع سے متعلق ایک مخصوص شق ملک کے ذرائع ابلاغ میں بحث کا موضوع بن گئی ہے۔
مکہ دفاعی معاہدے کا یہ متن گذشتہ روز ترک پارلیمان میں جمع کروایا گیا تھا تاکہ اس کی منظوری حاصل کی جا سکے۔ یاد رہے کہ سعودی عرب اور پاکستان نے تاحال اس معاہدے کا کوئی متن یا زیادہ تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔
ترکی کے بڑے نیوز چینل ’این ٹی وی‘ کے مطابق پارلیمان میں جمع کروائے جانے کے بعد اب اس معاہدے کو آئندہ چند روز میں پارلیمان کی خارجہ اُمور سے متعلق کمیٹی کے پاس بھیجے جانے کی توقع ہے۔
ترکی کے ذرائع ابلاغ میں ہونے والی بحث سے قبل یہ جان لیتے ہیں کہ پارلیمان میں جمع کروائے گئے مکہ دفاعی معاہدے کے متن میں کیا ہے۔
ترک پارلیمان میں جمع کروائے گئے متن میں کیا ہے؟
16 شقوں پر مشتمل مکہ دفاعی معاہدے کا متن 20 اکتوبر کو ترکی کی پارلیمان میں پیش کیا گیا (فائل فوٹو)ترکی کی حکومت نے 16 شق پر مبنی مکہ معاہدے کا متن 20 اکتوبر کو توثیق کے لیے پارلیمان میں جمع کروایا ہے۔
بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق ملک کے سرکاری نشریاتی ادارے ’ٹی آر ٹی ھبر‘ کی جانب سے شائع کیے گئے معاہدے کا مکمل متن کچھ یوں ہے:
شق 1: فریقین ایک دوسرے کی آزادی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کے تقدس کے تحفظ اور دفاع کے لیے تعاون کریں گے۔ اگر کسی فریق کی علاقائی سالمیت، خودمختاری یا تسلیم شدہ سرحدوں کو خطرہ لاحق ہو تو فریقین اس خطرے یا نقصان کو ختم کرنے کے لیے تمام ضروری ذرائع استعمال کریں گے۔
شق 2: کسی بھی فریق پر بیرونی مسلح حملہ تمام فریقین پر حملے کے مترادف تصور کیا جائے گا۔ اگر کسی فریق کو کسی ملک یا ممالک کے گروہ کی جانب سے مسلح حملے یا فوجی جارحیت کا سامنا ہو تو دیگر فریق فوری طور پر باہمی امداد کے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرتے ہوئے اس کی مدد کریں گے۔ اقوام متحدہ کے منشور کی شق 51 کے تحت تسلیم شدہ حقِ دفاع کے استعمال کے لیے فریقین مطلوبہ امداد کے معروضی جائزے کے بعد فراہم کی جانے والی معاونت کی نوعیت اور دائرہ کار کا تعین کریں گے، اور اپنے دستیاب وسائل بشمول فوجی ذرائع اور صلاحیتوں کی حد تک تعاون کریں گے۔
شق 3: فریقین دفاع، دفاعی صنعت اور سلامتی کے شعبوں میں قریبی تعاون کریں گے، اپنی مسلح افواج کے درمیان تعلقات کو فروغ دیں گے اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے متفقہ سرگرمیاں انجام دیں گے۔
شق 4: فریقین بین الاقوامی سلامتی کے امور پر باقاعدگی سے مشاورت کریں گے۔ اپنے اہم قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ اور قومی سلامتی کو درپیش خطرات کے خاتمے کے لیے فریقین مشترکہ جائزوں کی بنیاد پر انفرادی اور اجتماعی اقدامات کی تیاری میں ایک دوسرے کی مسلسل اور مؤثر معاونت کریں گے۔
شق 5: فریقین دہشت گردی کی ہر شکل اور مظہر کے خلاف موجودہ تعاون اور مشترکہ کوششوں، بشمول عملی تعاون، کو مضبوط بنائیں گے تاکہ علاقائی اور عالمی استحکام و سلامتی کو متاثر کرنے والے خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔
شق 6: جنگ اور امن دونوں حالات میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے فریقین دفاعی اداروں کے عملے کے باہمی تبادلے، مشترکہ تربیتی پروگراموں اور مشقوں، نیز ایسی تعیناتیوں اور سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کریں گے جو مسلح افواج کے درمیان باہمی ہم آہنگی میں اضافہ کریں۔
شق 7: دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے فریقین باہمی رضامندی کی بنیاد پر دفاعی صنعت میں ٹیکنالوجی کے تبادلے، مشترکہ ترقی، مشترکہ پیداوار اور دفاعی اداروں کے درمیان تعاون کی حمایت کریں گے، جن میں دفاعی پیداوار میں مشترکہ منصوبوں کا فروغ، مہارت پر مبنی ٹیکنالوجیز میں مشترکہ تحقیق و ترقی کے ذریعے دفاعی جدت، ماہرین کے ذریعے انسانی وسائل کی تربیت اور دفاعی صنعت کی معاونت، دفاعی صنعت، تحقیق، ترقی اور جدت کے شعبوں میں تجربات اور مہارت کا تبادلہ اور اور دیگر باہمی متفقہ شعبہ جات شامل ہوں گے۔
شق 8: بنیادی فریقین ایک 'سٹریٹیجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی' قائم کریں گے جس میں وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور سربراہانِ مسلح افواج شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی مشترکہ دفاع کے لیے سٹریٹجک رہنمائی فراہم کرے گی، دفاعی و سلامتی تعاون کو فروغ دے گی اور معاہدے کے نفاذ میں درپیش رکاوٹوں کو دور کرے گی۔ کمیٹی سال میں دو مرتبہ اجلاس منعقد کرے گی اور میزبانی باری باری فریقین کے پاس ہو گی۔ ضرورت پڑنے پر رکن ممالک کے سربراہان سال میں ایک بار ملاقات کر سکیں گے۔
کمیٹی ضرورت پڑنے پر ذیلی کمیٹیاں بھی قائم کر سکے گی۔ معاہدے میں شامل تعاون کے شعبوں پر عمل درآمد کے لیے اضافی معاہدے اور پروٹوکول بھی طے کیے جا سکیں گے۔ دیگر ممالک کی شمولیت سے متعلق اصول و ضوابط کا تعین بھی بنیادی فریقین کے اتفاقِ رائے سے یہی کمیٹی کرے گی۔ اس کمیٹی کے لیے ایک سیکرٹریٹ سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا۔ سیکرٹری جنرل کا عہدہ تین سالہ مدت کے لیے بنیادی فریقین کے درمیان باری باری منتقل ہو گا جبکہ پہلے سیکرٹری جنرل کا تعلق پاکستان سے ہو گا۔
شق 9: انٹیلیجنس تعاون کو فروغ دینے اور ضروری رابطہ کاری کے لیے فریقین معلوماتی سلامتی، ڈیٹا کے تحفظ اور رازداری کو مدنظر رکھتے ہوئے محفوظ اور باہمی طور پر متفقہ ذرائع سے انٹیلیجنس معلومات کا تبادلہ کریں گے۔
شق 10: لاجسٹک سہولیات کی دستیابی اور مطابقت کے مطابق فریقین امن، جنگ اور دیگر ہنگامی حالات میں ایک دوسرے کو اسلحہ، گولہ بارود، ایندھن، سپیئر پارٹس اور دیگر سازوسامان سمیت لاجسٹک معاونت فراہم کریں گے۔
شق 11: بین الاقوامی قانون اور فریقین کے ملکی قوانین کو متاثر کیے بغیر فریقین اس معاہدے کو اس کی شقوں کے نفاذ کے لیے قانونی بنیاد تسلیم کریں گے اور ضرورت پڑنے پر اضافی قانونی ضوابط تجویز کریں گے۔
شق 12: یہ معاہدہ فریقین کے ان حقوق اور ذمہ داریوں کو متاثر نہیں کرے گا جو پہلے سے موجود بین الاقوامی معاہدوں سے پیدا ہوتے ہیں۔
شق 13: فریقین معاہدے کے تحت حاصل ہونے والی خفیہ معلومات اور دستاویزات کی رازداری برقرار رکھیں گے اور قومی قوانین کا احترام کریں گے۔ ایسی معلومات کسی ریاست، کمپنی یا فرد کے ساتھ شیئر نہیں کی جائیں گی جو اس معاہدے کا فریق نہ ہو۔ حساس معلومات تک رسائی صرف 'ضرورت کے مطابق آگاہی' کے اصول اور مناسب سکیورٹی کلیئرنس رکھنے والے افراد کو دی جائے گی۔
شق 14: معاہدے کی تشریح یا نفاذ سے پیدا ہونے والا کوئی بھی تنازع فریقین کے درمیان مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے خوش اسلوبی سے حل کیا جائے گا۔
شق 15: اس معاہدے میں ترمیم بنیادی فریقین کے متفقہ فیصلے اور باہمی مشاورت سے کی جا سکے گی۔
شق 16: یہ معاہدہ ہر فریق کے متعلقہ قانونی طریقہ کار کے مطابق توثیق کے بعد نافذ العمل ہو گا اور اس وقت مؤثر ہو جائے گا جب توثیق کی آخری دستاویز اسٹریٹیجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کے سیکرٹریٹ میں جمع کرا دی جائے گی۔
’ترکی کے کسی فوجی تنازع میں الجھنے کا خطرہ برقرار رہتا ہے‘
ترکی کے سیینئر صحافی مراد یتکن نے نشاندہی کی کہ پارلیمان میں پیش کیے جانے والے معاہدے کے متن میں اِس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مشترکہ دفاع سے متعلق شق فعال ہونے کی صورت میں رُکن ممالک ایک، دوسرے کو فراہم کیے جانے والے تعاون کی نوعیت اور دائرہ کار کا خود تعین کریں گے، تاہم انھوں نے استدلال کیا کہ اس کے باوجود ترکی کے کسی فوجی تنازع میں الجھنے کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے تینوں رکن ممالک میں رائج مختلف سیاسی نظام اس بات کا اظہار ہیں کہ ’مکہ معاہدے میں نگرانی اور توازن کا نظام نیٹو کے مقابلے میں کمزور ہے۔‘
خارجہ پالیسی کے اُمور پر تبصرہ کرنے والے حسن اونال نے کہا کہ اگرچہ یہ کہا جا رہا ہے کہ ہر ملک اپنی استعداد کے مطابق فوجی تعاون فراہم کرے گا، لیکن کسی بحران یا کشیدگی میں اضافے کی صورت میں یہ ناگزیر ہو سکتا ہے کہ کسی ملک کی شمولیت تمام فوجی وسائل کو بروئے کار لانے تک پھیل جائے۔
سابق ترک ایڈمرل جیم گوردینیز نے تبصرہ کیا کہ یہ معاہدہ ’مغربی ایشیا میں فرقہ وارانہ اور جغرافیائی سیاسی بلاکوں کو مزید گہرا کرنے‘ کا خطرہ رکھتا ہے۔
انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ترکی کو ایسی صف بندی کا حصہ بننا چاہیے جہاں فرقہ وارانہ تقسیم جغرافیائی سیاسی رقابتوں میں تبدیل ہو رہی ہو؟
دوسری جانب حکومت نواز مبصرین نے مکہ معاہدہ پارلیمان میں پیش کیے جانے کا خیرمقدم کیا ہے۔
تجزیہ کار محمد مظہر شاہین نے سرکاری نشریاتی ادارے ’ٹی آر ٹی‘ سے گفتگو میں کہا کہ معاہدے کی شقیں ’خطے کی توقعات کو پورا کرنے کے لیے تیار کی گئی ہیں۔‘
’ینی شفق‘ کے کالم نگار ابراہیم کاراگل نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے کا پارلیمان میں پیش کیا جانا ’اسرائیل کے خلاف ایک جغرافیائی سیاسی ہدف‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔