گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز سے امریکا میں تعلیم اور اسکالرشپ دلوانے کے نام پر لاکھوں روپے کا فراڈ کرنے والا مرکزی ملزم نعمان مبینہ طور پر اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔
اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے مطابق پولیس ٹیم زیرِ حراست ملزم نعمان کو برآمدگی کے لیے لے جا رہی تھی کہ تھانہ رمنا کی حدود میں دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار نامعلوم افراد نے اسے چھڑانے کے لیے فائرنگ کردی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ملزم زخمی ہوگیا، جسے اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکا۔
پولیس حکام کے مطابق بلٹ پروف جیکٹس اور حفاظتی اقدامات کے باعث پولیس اہلکار محفوظ رہے جبکہ ملزم کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
واضح رہے کہ لائبہ اعجاز انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ تھیں جو اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا جانا چاہتی تھیں۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے انہیں امریکی ویزا، ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلے اور اسکالرشپ دلوانے کا جھانسہ دے کر مبینہ طور پر 93 لاکھ روپے وصول کیے۔
ملزم نے لائبہ کو جعلی اسکالرشپ، یونیورسٹی کے آفر لیٹرز اور فیس کی رسیدیں بھی فراہم کیں۔ پولیس کے مطابق اس نے مبینہ طور پر مصنوعی ذہانت کی مدد سے اسٹوڈنٹ ویزا اور داخلے سے متعلق جعلی دستاویزات تیار کی تھیں۔
تحقیقات کے مطابق ملزم نعمان نے لائبہ سے رابطے کے لیے مبینہ طور پر عائزہ کے نام سے جعلی نمبر استعمال کیا اور عائزہ کے بھائی اظہر کے نام سے جعلی جی میل اکاؤنٹ بھی بنایا۔ انہی اکاؤنٹس کے ذریعے طالبہ سے مسلسل رابطہ رکھا گیا۔
پولیس نے ملزم اور لائبہ کے درمیان ہونے والی گفتگو کا کچھ حصہ حاصل کرلیا تھا، جبکہ مزید شواہد سامنے لانے کے لیے ملزم کا موبائل فون فرانزک تجزیے کے لیے بھیجا گیا۔ ملزم پر متعدد خواتین کے ساتھ فراڈ اور دیگر خواتین کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے الزامات بھی سامنے آئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی یونیورسٹی میں داخلے اور اسکالرشپ کا خواب پورا نہ ہونے، مالی نقصان اور ذہنی اذیت کے بعد لائبہ اعجاز نے 9 اکتوبر کو مبینہ طور پر خودکشی کرلی تھی۔ واقعے کے بعد ملزم نعمان کو گرفتار کیا گیا تھا، تاہم اب پولیس کے مطابق اسے چھڑانے کی کوشش کے دوران ہونے والی فائرنگ میں وہ ہلاک ہوگیا۔