اروناچل پردیش میں انڈیا اور چین کے فوجیوں کے درمیان کئی مقامات پر ٹکراؤ: بارڈر پولیس کے سربراہ کا اعتراف

انڈیا کی سرحدی فورس آئی ٹی بی پی کے سربراہ شتروجیت کپور نے اعتراف کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں اروناچل پردیش میں متعدد مقامات پر انڈین اور چینی افواج کے درمیان ٹکراؤ ہوا ہے اور بعض علاقوں میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
20 اکتوبر 2021 کی تصویر: انڈیا کی شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کی چوکی پر تعینات انڈین فوجی پہرہ دے رہا ہے
AFP via Getty Images
انڈیا کی شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کی چوکی پر تعینات انڈین فوجی پہرہ دے رہا ہے (فائل فوٹو)

انڈیا کی شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش کے سرحدی علاقوں میں کشیدگی کی خبروں کے درمیان انڈیا اور تبت بارڈر پولیس کے ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کپور نے اعتراف کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں اروناچل پردیش میں کئی مقامات پر انڈین اور چینی افواج کا ٹکراؤ ہوا ہے، جو ان کے بقول اب بھی جاری ہے۔

اطلاعات کے مطابق صورتحال پر قابو رکھنے کے لیے اروناچل کے کئی سرحدی علاقوں میں بڑی تعداد میں انڈین فورسز تعینات کی گئی ہیں۔

یہ پہلا موقع ہے جب سرکاری سطح پر اروناچل میں حالیہ دنوں میں چینی افواج سے ٹکراؤ کا اعتراف کیا گیا ہے۔

انڈیا کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی قومی سلامتی کے اس اہم معاملے پر عوام کو اصل صورتحال سے آگاہ کریں۔

انڈیا کی شمال مشرقی سرحدوں کی نگرانی کرنے والی فورس انڈو تبتن بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کے سربراہ شتروجیت کپور نے راجستھان میں فورس کی ایک سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: ’اروناچل پردیش میں حالیہ دنوں میں کچھ ایسی صورتحال پیدا ہوئی جس میں کئی مقامات پر ٹکراؤ کا سامنا ہوا اور یہ صورتحال اب بھی جاری ہے۔‘

انھوں نے اس صورتحال سے نمٹنے میں فورس کی ’شوریہ کمانڈو‘ ٹیموں کی کارکردگی کو سراہا۔

چین کا نام لیے بغیر انھوں نے کہا: ’حال ہی میں تشکیل دی گئی شوریہ کمانڈو فورس بہترین کام کر رہی ہے۔ وہاں ہمارے شوریہ کمانڈوز نے مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ جلد ہی ہم شوریہ کمانڈوز کی ایک مکمل بٹالین تشکیل دیں گے۔‘

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر گشت اور دیگر معاملات کے حل کے لیے دونوں ممالک کے مقامی فوجی کمانڈروں کے درمیان متعدد ملاقاتوں کے بعد چھ ستمبر کو دونوں ملکوں کے کور کمانڈروں کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے تھے۔

روزنامہ ’دی ہندو‘ نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اروناچل پردیش کے تاکسنگ گاؤں کے قریب اسافیلا کے علاقے میں جولائی سے چینی اور انڈین افواج ایک دوسرے کے مقابل موجود تھیں۔

رپورٹ کے مطابق: ’جولائی میں کسی وقت ماجا کے مقام پر انڈین اور چینی افواج آمنے سامنے آ گئیں۔ مختصر کشیدگی کے بعد دونوں جانب کے فوجی واپس چلے گئے، تاہم چند روز بعد چینی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے اہلکار بڑی تعداد میں دوبارہ وہاں پہنچے اور تقریباً چھ سے سات کلومیٹر اندر اس علاقے میں خیمے نصب کر لیے، جسے انڈیا اپنا علاقہ تصور کرتا ہے۔‘

یہ صورتحال 11 سے 13 ستمبر تک نئی دہلی میں منعقد ہونے والے برکس سربراہی اجلاس (جس میں چینی صدر شی جن پنگ بھی شریک ہوئے تھے) اور جولائی کے بعد سرحدی تنازع پر ہونے والے اعلیٰ سطح کے تین مذاکراتی ادوار کے باوجود برقرار رہی۔

’چین کا روایتی انداز میں مقابلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے‘

آئی ٹی بی پی کے سربراہ شتروجیت کپور نے اہلکاروں اور کمانڈوز سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’چین کا روایتی انداز میں مقابلہ کرنا اب شاید زیادہ مشکل ہو گیا ہے، کیونکہ پیپلز لبریشن آرمی نے اپنی صلاحیت میں اضافے اور جدت کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل استعمال کیے ہیں۔‘

انھوں نے روس، یوکرین جنگ اور ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈرون ٹیکنالوجی نے جنگ کا انداز بدل دیا ہے۔

’ڈرون ایسی ٹیکنالوجی ہے جس کی مدد سے ایک نسبتاً چھوٹا ملک بھی بڑے ملک کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ روایتی افواج کا کردار تبدیل ہو رہا ہے۔ ہمیں بڑے پیمانے پر ڈرون اور اینٹی ڈرون نظام متعارف کرانے ہوں گے۔ اسی لیے ہم نے فورس کے بجٹ کا 70 فیصد حصہ ڈرونز کے لیے مختص کیا ہے۔ ہم ہر بٹالین میں ایک ڈرون پلاٹون قائم کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔‘

اروناچل پردیش کے تاکسنگ علاقے میں بعض مقامات پر چینی فوج کی موجودگی کے بارے میں مقامی افراد سوشل میڈیا پر اطلاعات دیتے رہے ہیں۔ بعض پوسٹس میں چینی افواج کے ساتھ کشیدگی اور ٹکراؤ کا بھی ذکر کیا گیا تھا، تاہم اروناچل پردیش کی حکومت اور مقامی فوجی حکام نے ان خبروں کو مبالغہ آمیز قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔

آل اروناچل پردیش سٹوڈنٹس یونین کے رابطہ سیکریٹری چوکی راجہ ہیکی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے نزدیک، خصوصاً اپر سوہن سیری ضلع کے تاکسنگ اور گلیمو علاقوں میں چینی افواج کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں ہمارے لیے گہری تشویش کا باعث ہیں۔

’پی ایل اے کی نقل و حرکت کی خبروں اور فوج کی جانب سے عائد پابندیوں کے باعث مقامی لوگوں کو اپنی روایتی چراگاہوں اور شکارگاہوں تک رسائی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’یہ علاقہ انتہائی دشوار گزار اور گھنے جنگلات سے گھرا ہوا ہے۔ ہمیں دور دراز علاقوں سے اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ پی ایل اے متعدد مقامات پر سرگرم ہے اور وہاں سڑکیں اور فوجی تنصیبات تعمیر کی گئی ہیں۔‘

اپوزیشن کے سوالات اور حکومت کا ردعمل

چینی افواج کے ساتھ ٹکراؤ کے اعتراف کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر حقائق چھپانے کا الزام عائد کیا ہے۔

کانگریس نے ایک بیان میں کہا: ’گلوان کے بعد اب اروناچل پردیش؟ اطلاعات تشویش ناک ہیں کہ چین اروناچل پردیش کے بعض علاقوں میں مزید اندر تک پیش قدمی کی کوشش کر رہا ہے۔ مودی حکومت فوری طور پر وضاحت کرے۔‘

کانگریس کے سینیئر رہنما اور سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا: ’چین کے ساتھ سرحد پر جو کچھ ہو رہا ہے اس کی مکمل حقیقت عوام کو نہیں بتائی جا رہی۔ حکومت کو چاہیے کہ اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بیان دے اور بحث کرائے تاکہ ایک مشترکہ حکمت عملی بنائی جا سکے۔‘

شیو سینا کی رہنما پریانکا چترویدی کا کہنا تھا: ’یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔ یہ ملک کے مفاد کا سوال ہے۔ وزیر داخلہ، وزیر دفاع اور وزیر خارجہ کو اس بارے میں جواب دینا چاہیے۔‘

کانگریس کے رہنما جے رام رمیش نے چین سے بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’سرحدی کشیدگی کے باوجود چین کے ساتھ بڑھتے اقتصادی روابط کس قسم کی قوم پرستی ہیں؟ ملک کو نعروں کی نہیں بلکہ قومی سلامتی کے سوال پر واضح جواب کی ضرورت ہے۔‘

انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک نیوز کانفرنس میں اروناچل پردیش کی صورتحال سے متعلق سوال کے جواب میں حالیہ ٹکراؤ پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم کہا: ’ماضی میں ہم نے دیکھا ہے کہ انڈیا چین سرحد پر صورتحال اس وقت پیچیدہ ہو جاتی ہے جب چینی افواج گشت کے دوران طے شدہ علاقوں سے انحراف کرتی ہیں۔

’دونوں ممالک موجودہ سفارتی اور فوجی نظام کے تحت غلط فہمیوں کے ازالے اور صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سرحدی علاقوں میں امن برقرار رکھنا دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے۔‘

اروناچل پردیش انڈیا کی شمال مشرقی ریاست ہے۔ چین اسے جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے اور اسے زینان کے نام سے پکارتا ہے۔ چین اس ریاست پر دعویٰ بھی کرتا ہے۔

اروناچل پردیش کا رقبہ تقریباً 83 ہزار مربع کلومیٹر ہے اور اس کی آبادی تقریباً 16 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ ریاست کی 1129 کلومیٹر طویل سرحد چین سے ملتی ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US