ضمانت کے لیے وہیل چیئر پر آگئے، ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی حالت دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین آگ بگولا

image

"ضمانت حاصل کرنے کے لیے بیماری کا ڈرامہ کیا جارہا ہے، کاش غریب لوگوں کو بھی ایسی سہولت ملتی۔"

"یہ سب عدالت سے ریلیف حاصل کرنے کے لیے اداکاری لگ رہی ہے۔"

یہ تبصرے سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے معروف ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی عدالت کے باہر سامنے آنے والی ویڈیو پر کیے جارہے ہیں، جس میں وہ وہیل چیئر پر بیٹھے انتہائی کمزور دکھائی دے رہے ہیں۔

سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے مشہور ٹک ٹاکر محمد انصر جٹ، جو مسٹر پتلو کے نام سے جانے جاتے ہیں، اپنی مہندی کی تقریب سے قبل پیش آنے والے افسوسناک حادثے کے بعد ایک مرتبہ پھر خبروں کی زینت بن گئے ہیں۔

سیالکوٹ کی ڈسکہ روڈ پر ان کی تقریب کے موقع پر بھگدڑ مچنے سے چار افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جبکہ 14 افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد مسٹر پتلو کو گرفتار کیا گیا تھا، تاہم اب انہیں عدالت سے ضمانت مل گئی ہے۔

ضمانت کے بعد عدالت سے باہر آنے کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ویڈیو میں مسٹر پتلو وہیل چیئر پر بیٹھے نظر آئے اور صحافیوں کے سوالات کا زبانی جواب دینے کے بجائے ہاتھوں کے اشاروں سے بات کرتے رہے۔ ان کی جسمانی حالت بھی بظاہر خراب دکھائی دے رہی تھی۔

ویڈیو سامنے آتے ہی متعدد صارفین نے ان کی بیماری پر شکوک و شبہات ظاہر کیے اور الزام لگایا کہ وہ عدالت سے ہمدردی حاصل کرنے کے لیے بیمار ہونے کا تاثر دے رہے ہیں۔ بعض صارفین نے ان کے موجودہ انداز کا موازنہ ان کی سابقہ سوشل میڈیا ویڈیوز سے بھی کیا۔

تاہم مسٹر پتلو کی بیماری حقیقی ہے یا نہیں، اس حوالے سے کوئی مستند طبی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ سوشل میڈیا پر کیے جانے والے تبصرے محض صارفین کی آرا ہیں، جنہیں حقیقت قرار نہیں دیا جاسکتا۔

دوسری جانب اس افسوسناک واقعے میں جان گنوانے والے افراد کے حوالے سے بھی سوشل میڈیا پر تشویش پائی جاتی ہے۔ صارفین مطالبہ کررہے ہیں کہ حادثے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔

مسٹر پتلو کو ضمانت ملنے کے باوجود حادثے سے متعلق قانونی معاملہ اپنی جگہ موجود ہے، جبکہ ان کی عدالت کے باہر سامنے آنے والی ویڈیو پر عوامی ردعمل کا سلسلہ جاری ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US