پاکستان میں ہالووین منانے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر سینئر اداکاراؤں سیمی راحیل اور حنا بیات کے بیانات نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ دونوں اداکاراؤں نے اس مغربی تہوار کی تقریبات پر اعتراض کرتے ہوئے اس کی مذہبی اور تاریخی حیثیت سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں، جس کے بعد صارفین کی رائے بھی تقسیم ہوگئی ہے۔
سیمی راحیل نے سوشل میڈیا پر ایک مذہبی اسکالر کی ویڈیو شیئر کی، جس میں ہالووین کی قدیم غیر مسیحی مذہبی روایات کا ذکر کیا گیا تھا۔ اداکارہ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ لوگ عام زندگی میں بھی تقریبات اور خوشیاں منا سکتے ہیں، اس کے لیے ہالووین پر خوفناک کرداروں اور عجیب و غریب مخلوقات کا روپ دھارنا ضروری نہیں۔
دوسری جانب حنا بیات نے بھی اس رجحان پر تحفظات ظاہر کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عام تفریحی سرگرمیوں اور شیطانی رسومات میں حصہ لینے کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی تہوار کو منانے سے پہلے اس کے پس منظر اور اس سے وابستہ روایات سے آگاہ ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ ہالووین بنیادی طور پر مغربی ممالک میں منایا جاتا ہے، جہاں لوگ مختلف کرداروں کے ملبوسات پہنتے ہیں اور تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں بھی اس کا رجحان بڑھا ہے۔ ماہرہ خان اور ہانیہ عامر سمیت کئی معروف شخصیات مختلف مواقع پر اپنے ہالووین ملبوسات کی تصاویر شیئر کر چکی ہیں۔
دونوں سینئر اداکاراؤں کے مؤقف پر بعض صارفین نے ان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو کسی بھی روایت کو اپنانے سے پہلے اس کی حقیقت جاننی چاہیے۔ تاہم کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آج کے دور میں ہالووین زیادہ تر ایک تفریحی سرگرمی بن چکا ہے، اس لیے ہر تقریب کو مذہبی تنازع بنانا مناسب نہیں۔
اس اختلافِ رائے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ پاکستان میں مغربی تہواروں کو محض تفریح سمجھ کر منایا جانا چاہیے یا ان کے تاریخی اور مذہبی پس منظر کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔