میرا سب کچھ پاکستان میں ہے، میرا جینا مرنا پاکستان کیلئے ہے،  تاجروں کی ہڑتال سے ڈر کر پیچھے ہٹا تو قوم سے غداری ہوگی :عمران خان

 وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ  میرا سب کچھ پاکستان میں ہے میرا جینا مرنا پاکستان کیلئے ہے،کسی دبائو میں آئے بغیر ٹیکس نیٹ کا دائرہ   وسیع کیا جائے گا ،جو بھی کروں گا ملک و قوم کی بہتری کیلئے کروں گا،ہم ریاست  مدینہ کے ماڈل کو آگے لے کر چلیں  گے اسی طرح ہم اپنے تمام مسائل بہتر طریقے  سے حل کرسکتے ہیں، عدل و انصاف ،رحم ، فلاحی ریاست  قانون کی حکمرانی  اور امیروں  سے پیسہ لے کر غریبوں پر خرچ کرنا ریاست مدینہ کے بنیادی اصول  تھے جن پر چل کر مسلمانوں نے پوری دنیا میں حکمرانی کی۔ گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس کی سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم  نے کہاکہ میرا ایمان ہے کہ معاشرتی ترقی کیلئے ریاست مدینہ کے اصولوں پرعمل ضروری ہے۔ماضی میں مسلمانوں نے انہی  سنہری اصولوں  کو اپنا کر دنیا کی امامت کی ۔ عدل و انصاف ریاست مدینہ کے بنیادی اصول تھے ۔ مدینہ کی ریاست میں قانون امیر و غریب سب کیلئے برابر تھا۔قرآن مجید میں ہر چیز ہماری بہتری کیلئے ہے۔ ریاست مدینہ  نے اپنے غریب طبقے کی ذمہ داری لی ۔  پنشن کا بھی مدینہ کی ریاست سے ہی آغاز ہوا۔ حالانکہ   پیسہ نہیں تھا مگر احساس تھا ۔سرکار مدینہ نے بہت  بڑی بات کہی تھی کہ تم سے پہلے بڑی قومیں تباہ ہوگئیں جہاں طاقت ور اورکمزور کیلئے دو الگ الگ قانون تھے ۔ آج پاکستان میں ہم یہی کچھ دیکھ رہے ہیں جنہوں نے اربوں روپے کی چوری کی انہیں جیلوں میں ایئرکنڈیشن مل رہا ہے۔ جبکہ چھوٹی چوری والے کمزور پر جیلوں میں کیا کچھ ہورہا ہے  سب جانتے ہیں، آج جو معاشرے  آگے نکلے ہیں وہاں طبقاتی  قانون نہیں ہے وہاں سب کیلئے ایک ہی قانون ہے ۔ مدینہ  کی ریاست نے  یہ اصول بھی اپنایا کہ پیسے والوں سے ٹیکس لے کرکمزوروں پر خرچ کیا جاتا تھا ،مغرب میں اسے پروگرایسو ٹیکسیشن کہتے ہیں۔ وزیراعظم  نے کہاکہ میرا سب کچھ پاکستان میں ہے میرا جینا مرنا پاکستان کیلئے ہے اس لئے میں جو کام آپ کیلئے کروں گا  وہ اپنے لئے سمجھ کر کروں گا ۔ میں ان لوگوں کی طرح نہیں  جن کا منی لانڈرنگ  کے ذریعے اربوں روپے باہر پڑا ہے۔  ان کے اور آپ کے مفادات ایک جیسے نہیں  ہیں ان کے مفادات  کچھ اور ہیں اگر پاکستان میں پیسے کی قدر کم ہوتی ہے تو ان کو کوئی  فکر نہیں کیونکہ ان کی دولت باہر پڑی ہے ۔ میرا جینا مرنا اس ملک میں ہے اس لئے جو بھی کروں گا ملک و قوم کی بہتری کیلئے کروں گا۔ پاکستان سے باہر میری کوئی جائیداد  یا بینک بیلنس نہیں ہے ،ہم سب نے اکٹھے مل کر  ملک کو آگے کی طرف لے کر جانا ہے، دس سالوں میں قرض 6 ارب سے 30 ارب ہوگیا اس کا مطلب  یہ ہے کہ ہم نے ایک سال میں جو ٹیکس اکٹھا کیا آدھا قرضوں پر سود کی ادائیگی پر چلا گیا ۔ اس طرح ملک نہیں  چل سکتا۔پاکستان کا 70 فیصد  ٹیکس 300 کمپنیاں دیتی ہیں سروسز سیکٹر 20 فیصد ہے مگر ایک فیصد بھی ٹیکس نہیں دیتا جس طرح ماضی میں پاکستان کو چلایا جارہا تھا اب اس طرح پاکستان نہیں چل سکتا۔ جدھر آج ہم ہیں اس طریقہ کارکے تحت آگے بڑھنا مشکل ہے۔ ہم کوشش کررہے ہیں کہ سب ٹیکس نیٹ پر آئیں مگر ایک بڑا مطالبہ ہورہا ہے کہ  ہم سے فکس ٹیکس لے لیں مگر ٹیکس نیٹ پر نہ ڈالیں اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو ایف بی آر پر اعتمادنہیں ہے ۔ 2013 میں وزیر خزانہ شوکت ترین تھے انہوں نے کہاکہ ایف بی آر میں تو 700 ارب روپے کی  چوری ہوتی ہے اب ایف بی آر کو ٹھیک کرنا ہمار کام ہے  اسی لئے ہم شبر زیدی کو باہر سے لائے ہیں۔ ایف بی آر کی اصلاحات کیلئے پوری طرح تیاری ہورہی ہے۔ تاجروں نے شوکت خانم کیلئے بڑا پیسہ دیاہوا ہے لیکن وہ ٹیکس نہیں دیتے اس لئے میں ان سے کہنا چاہتا ہوں  کہ اگر کوئی سہ سمجھتا ہے کہ ہم حکومت پر دبائو ڈالیں گے ،ہڑتالیں  کریں گے تو وزیراعظم پیچھے  ہٹ جائے گا  ،برائے مہربانی سمجھ جائیں اگر میں پیچھے ہٹوں گا تو قوم سے غداری کروں اگر لوگ ٹیکس نہیں دیں گے تو ملک کیسے چلے گا ۔ تاجر برادری کے لوگ کہتے ہیں کہ جس طرح پہلے ہوتا رہا ہے ایسا ہی ہونا چاہیے میں کہتا ہوں اب اس طرح نہیں ہوسکتا۔ انشاء اللہ ہم نے سب کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے ۔ تاجر ہمیں بتائیں ہم کس طرح آپ کیلئے آسانیاں  پیدا کرسکتے ہیں  اس کیلئے بزنس کمیٹی سے ہمارا رابطہ رہے گا تاجروں کے مسائل کے حل کیلئے ہیلپ لائن تیار کی جارہی ہے ۔22کروڑ لوگوں میں سے صرف 15 لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں۔ اگر 22کروڑ لوگ تھوڑا تھوڑا بھی ٹیکس دیں تو ہم قرضوں کی دلدل سے بھی نکل سکتے ہیں اور لوگوں کے بنیادی مسائل بھی حل کرسکتے ہیں، آپ سب نے ہمارے ساتھ مل کر ٹیم بننا ہے، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کے ایف بی آر اور دیگر حکومتی اداروں کے جو مسائل ہیں وہ ہم حل کریں گے ۔ مشیر تجارت  اور چیئرمین ایف بی آر تاجروں سے مسلسل رابطہ میں رہیں گے۔ ہم ٹیکس نیٹ کا دائرہ کار وسیع کرنے کیلئے پرعزم ہیں  ہم  ایز آف ڈوئنگ بزنس پر پورا زور لگا رہے ہیں میں خود اس کی نگرانی کررہاہوں۔ سرمایہ کاروں کیلئے ہرقسم کی آسانیاں  پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہم سمگلنگ روکنے کیلئے بھرپور  کارروائی کرنے جارہے ہیں ، سمگلنگ نے بھی پاکستان کی صنعت کوبہت نقصان پہنچایا ہے ۔ افغان ٹرانزک ٹریڈ میں ہونے والی سمگلنگ پر بھی افغانستان کے ساتھ بات چیت ہوگی۔سمگلنگ روکے بغیر صنعت ترقی نہیں کرسکتی تاجروں کا ایک طبقہ  ایسا ہے جو سی این آئی سی کے کارڈ کو رجسٹر نہیں کرانا چاہتے اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ سمگلنگ  کا مال بیچ رہے ہیں خود تو پیسہ بنا رہے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے ملک کی صنعت کو نقصان پہنچا رہے ہیں اگر انڈسٹری آگے نہیں بڑھے  گی تو ہم نوجوانوں کو نوکریاں کیسے دیں گے ۔ ہم برآمدات بڑھانے کی پوری کوشش کررہے ہیں ، ہماری حکومت پاکستان کی انڈسٹری کی ترقی کیلئے پوری کوشش کررہی ہے  تجارتی خسارہ کم کرنے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.