جرمن ہوائی اڈوں کو ڈرونز سے محفوظ بنانا مہنگا پڑے گا

جرمنی کی وفاقی وزارت برائے ٹرانسپورٹ کے مطابق ملکی ہوائی اڈوں کو ڈرونز سے محفوظ بنانے پر فی ایئرپورٹ ابتدائی اخراجات تیس ملین یورو سے زائد رہیں گے۔ وزارت نے یہ بات کاروبار دوست سیاسی جماعت ایف ڈی پی کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بتائی۔

جرمن حکومت نے تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ ایسا دفاعی نظام کتنے ہوائی اڈوں کے لیے، اور کیسے خطرات سے نمٹنے کے لیے درکار ہے۔ جرمنی میں سولہ بین الاقوامی ہوائی اڈوں کے علاوہ کئی چھوٹے ایئرپورٹ بھی موجود ہیں۔

مستقبل کی جنگوں کے ’قاتل روبوٹ‘، دنیا کے لیے نیا خطرہ

اس وقت جرمنی کی پولیس کے پاس ڈرونز کی نشاندہی اور انہیں غیر موثر بنانے کی ٹیکنالوجی موجود ہے۔ تاہم حکومت کے مطابق پولیس کے پاس موجود ٹیکنالوجی کی بھی اپنی حدود و قیود ہیں اور وہ ڈرونز کو مکمل طور پر غیر موثر بنانے کی اہلیت نہیں رکھتی۔

ویڈیو دیکھیے 03:26 ’برین ویوَز‘ کی مدد سے اڑائے جانے والے ڈرون طیارے

بھیجیے Facebook Twitter google+ Whatsapp Tumblr Digg stumble reddit Newsvine

پیرما لنک https://p.dw.com/p/3CtOp

’برین ویوَز‘ یعنی دماغی لہروں کی مدد سے اڑائے جانے والے ڈرون طیارے

ٹرانسپورٹ کے امور سے متعلق وزارت ہوائی اڈوں پر 'ڈرونز سے دفاع کا منصوبے‘ کی حمایت کر رہی ہے اور اس دفاعی منصوبے کے لیے تجربات کا آغاز بھی کیا جا چکا ہے۔

ابتدائی طور پر جرمن شہر ہیمبرگ کے ایئرپورٹ پر اس نئی نظام کا تجربہ کیا جا رہا ہے۔ ہوائی جہازوں کی نقل و حرکت محفوظ بنانے کے لیے یہ دیکھا جا رہا ہے کہ ایئرپورٹ کے قریب پرواز کرنے والے ڈرونز کی نشاندہی، شناخت اور انہیں روکنے میں کتنا وقت لگے گا۔

فُنکے میڈیا گروپ کے مطابق گزشتہ برس ہوائی اڈوں کے قریب ڈرونز کی پرواز کی وجہ سے جرمنی کی ایئر ٹریفک 158 مرتبہ متاثر ہوئی تھی۔ ملکی قوانین کے مطابق ہوائی اڈے کے قریب ڈیڑھ کلومیٹر کے علاقے میں تمام اقسام کے ڈرونز اڑانے پر پابندی عائد ہے۔

گیٹ وِک ایئر پورٹ کا نظام ڈرون سے متاثر کرنے پر دو گرفتار

ایف ڈی پی کے سیاست دان بیرنڈ رؤتھر نے منصوبے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا، ''ڈرونز کو جرمن ہوائی اڈوں کی حفاظت خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اس لیے وفاقی حکومت کو چاہیے کہ سن 2021 کے وفاقی بجٹ میں اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے۔‘‘

ش ح / ع ح (اے ایف پی، ڈی پی اے)


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.