میلکم مارشل: ویسٹ انڈیز کے فاسٹ بولر جو ’صرف دو گیندوں میں بلے باز کی کمزوری پہچان لیتے تھے‘

پاکستان کے تیز بولر وسیم اکرم نے ایک انٹرویو میں کہا تھا: 'میلکم مارشل کسی بھی بلے باز کی کمزوری کو صرف دو گیندوں میں پہچان جاتے تھے۔ یہی خصوصیت انھیں مارشل بناتی تھی۔'
میلکم مارشل
Getty Images

کرکٹ کی دنیا ہمیشہ 18 اپریل کی احسان مند رہے گی۔ 18 اپریل سنہ 1958 کو میلکم مارشل بارباڈوس میں پیدا ہوئے۔ ان کی آمد سے کرکٹ کی دنیا مزید دلچسپ اور پُرجوش ہوگئی۔

دنیائے کرکٹ میں جب ویسٹ انڈیز کے تیز بولرز کا طوطا بولتا تھا اس زمانے میں میلکم مارشل کے ساتھ اینڈی رابرٹس، جوئل گارنر، مائیکل ہولڈنگ اور کولن کرافٹ سے دنیا بھر کے بلے باز خوفزدہ رہتے تھے۔ لیکن ان میں میلکم مارشل سب سے مختلف اور جدا تھے۔

میلکم مارشل جس طرح کے بولر تھے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ ان خطرناک بولرز میں تیز ترین تھے۔

جب مارشل نے سنہ 1991 میں ٹیسٹ کرکٹ کو خیرباد کہا تو انھوں نے 81 ٹیسٹ میں 376 وکٹیں لے رکھی تھیں۔ ان کا بولنگ سٹرائک ریٹ 47 سے کم تھا جبکہ اوسط 21 سے کم۔ تاہم ان اعداد و شمار سے یہ انکشاف نہیں ہوتا کہ مارشل کتنے خطرناک بولر تھے۔

https://twitter.com/ICC/status/986590176829833217

خوف کا دوسرا نام

در حقیقت سنہ 1983 سے 1991 تک مارشل دنیا بھر کے بلے بازوں کے لیے خوف کا دوسرا نام تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مارشل جتنے مہلک فاسٹ بولر تھے اتنا ہی اپنی گیندوں پر انھیں کنٹرول تھا۔

اگر آپ رفتار کے لحاظ سے انھیں 'بروٹل' (سفاک) کہتے ہیں تو لائن اور لینتھ کے معاملے میں انھیں 'روتھ لیس' یعنی بے رحم کہنا بے جا نہ ہوگا۔

اپنے بین الاقوامی کیریئر کے 13 سال میں مارشل صرف آٹھ سال ہی بین الاقوامی کرکٹ کھیل سکے۔ لیکن اس دوران انھوں نے پوری دنیا میں اپنے مداح بنائے۔

یہ بھی پڑھیے

ریورس سوئنگ: دنیائے کرکٹ کا ’کالا جادو‘

’ویوین رچرڈز نے کہا تمہارے آنے سے بھی فرق نہیں پڑا، سکور صفر ہی ہے‘

ریورس سوئنگ کون لوٹائے گا؟

مارشل کے ساتھ کھیلنے والے بولر مائیکل ہولڈنگ نے اپنی سوانح عمری 'نو ہولڈنگ بیک' میں لکھا: 'میرے خیال میں میلکم مارشل اور اینڈی رابرٹس دنیا کے تیز ترین بولرز تھے۔ میلکم رابرٹس سے تیز تھے۔ ہم اسے میکو پکارتے تھے۔

'میں نے مارشل کو سنہ 1979-80 کے دورہ آسٹریلیا سے پہلے دیکھا تھا۔ ان کا قد چھ فٹ سے کم تھا، لہذا ہمارا خیال تھا کہ وہ زیادہ تیز بولر نہیں ہوں گے لیکن ہمارے ساتھی کھلاڑی ڈیسمنڈ ہینز نے کہا تھا دیکھنا کہ وہ کتنا تیز ہے، وہ واقعی تیز ہے۔ بہت تیز ہے۔'

مارشل
Getty Images
لارڈو کے میدان پر رچی رچرڈسن کے ساتھ مارشل

پاؤں پر وزن رکھتے تھے

مارشل اپنی کرکٹ پر کس قدر توجہ دیتے تھے اور وہ اپنے قد سے اونچے بولرز کے مقابلے میں زیادہ تیز رفتاری سے گیند کس طرح پھینکتے تھے، اس کے متعلق مائیکل ہولڈنگ نے ایک دلچسپ بات بتائی۔

ہولڈنگ کے مطابق: 'ایک بار جب ہم تاش کھیل رہے تھے اور کسی وجہ سے میکو کی فل پینٹ اوپر کھسک آئی تھی۔ میں نے دیکھا کہ انھوں نے اپنے دونوں پیروں پر وزن کی پٹیاں لگا رکھی تھیں۔ میں حیرت زدہ تھا، میں نے پوچھا کہ یہ کیا لگا رکھا ہے تو میکو نے کہا کہ وہ ہر وقت اپنے پاؤں پر اضافی وزن رکھتے ہیں، یہاں تک کہ جب خریداری کرتے ہوں یا آرام کر رہے ہوں تو بھی۔ تاکہ ٹانگوں کے پٹھے زیادہ مضبوط ہوں۔'

ہولڈنگ اپنے ساتھی کرکٹر کی اس مشق پر حیران تھے۔ انھوں نے میلکم سے پوچھا کہ جب میچ کے دوران تم یہ سٹرپس کھولتے ہو تو کیسا محسوس کرتے ہو۔ میلکم مارشل نے ان سے کہا اس کے بعد 'میں سارا دن دوڑتا رہ سکتا ہوں۔'

یہ مارشل کے کریئر کی محض ایک مثال ہے۔ اس وقت کرکٹ کی دنیا میں ٹیکنالوجی پر اس قدر زور نہیں دیا جاتا تھا۔ کوچنگ عملے کی بیٹری ایک، ایک کھلاڑی کے پیچھے نہیں ہوتی تھی، لیکن مارشل نے پریکٹس کے ذریعے خود کو مہلک بنانے کا طریقہ سیکھ لیا تھا۔

چنانچہ جب وہ اپنے رن اپ سے دوڑ کر امپائر کے پاس سے گزرتے تو ان کی اپنی رفتار انتہائی تیز ہوتی تھی اور کندھے کے استعمال والے ایکشن کے ساتھ جب گیند ان کے ہاتھ سے نکلتی تو وہ گولی کی رفتار سے بیٹسمین کے پاس پہنچتی تھی۔

مارشل
Getty Images
سنہ 1989 میں ایس جی سی پر مشق کے دوران مارشل

ابتدا بہت سنسنی خیز نہیں تھی

میلکم مارشل نے پہلے ٹیسٹ میں کوئی دھماکہ خیز کارنامہ انجام نہیں دیا۔ سنہ 1978 میں انڈیا کے خلاف اپنے پہلے ٹیسٹ میں زیادہ متاثر نہیں کرسکے تھے۔ 20 سال کی عمر میں ڈیبیو کرنے کے بعد انھوں نے سنہ 1980 میں اپنے تیسرے ٹیسٹ میں پہلی بار لوگوں کو متاثر کیا۔ انھوں نے انگلینڈ کے خلاف اس ٹیسٹ میں سات وکٹیں حاصل کیں اور پھر اس کے بعد وہ دو سالوں تک ٹیم سے باہر رہے۔

لیکن سنہ 1982-83 میں ٹیم میں واپسی کے بعد وہ ہر میچ کے ساتھ خطرناک ہوتے گئے۔ انھوں نے مسلسل سات ٹیسٹ سیریز میں 21 یا اس سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔ اپنے پہلے 14 ٹیسٹ میچوں میں انھوں نے 11 مرتبہ ایک اننگز میں پانچ یا اس سے زیادہ وکٹیں حاصل کی تھیں۔ اس کے بعد انھوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

میلکم مارشل اپنی نوعیت کے واحد بولر تھا جو تیز گیند بازی والی پچ پر اتنا ہی خطرناک تھے جتنا وہ برصغیر کی پچوں پر تھے۔وہ سپنرز کی مدد کرنے والی پچوں پر حیرت انگیز بولنگ کے لیے بھی جانے جاتے تھے۔ وہ ایک ایسے کرکٹر تھے جو ہر میچ میں اپنی پوری طاقت لگا دیتے تھے۔

ان کے سابق کپتان کلائیو لائیڈ نے کرکٹ لیجنڈز کے پروگرام میں میلکم مارشل کے متعلق انٹرویو دیتے ہوئے کہا: 'انگلینڈ کے خلاف 1984 میں ہیڈنگلے ٹیسٹ سے قبل لیڈز ٹیسٹ میں ان کے بائیں بازو کو ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ میں نے پوچھا کہ ہیڈنگلے میں کھیلو گے تو بے چین ہو گئے کہ میں اس طرح کا سوال کیسے پوچھ سکتا ہوں۔'

میلکم مارشل نہ صرف اس ٹیسٹ میں کھیلے بلکہ ایک ہاتھ سے وہ بیٹنگ کے لیے مسکراتے ہوئے پہنچے۔ دوسرے سرے یا اینڈ پر وہ اس وقت تک رہے جب تک کہ لیری گومز نے اپنی سنچری مکمل نہ کرلی۔ اس کے بعد بولنگ کرتے ہوئے انھوں انگلینڈ کی پہلی اننگز کو تباہ و برباد کر دیا اور سات وکٹیں حاصل کیں۔

مائک گیٹنگ
Getty Images
انگلینڈ کے بیٹسمین مائیک گیٹنگ کی ناک ٹوٹنے کا واقعہ کرکٹ کی تاریخ میں یادگار ہے

'صرف دو گیندوں میں بلے باز کی کمزوری پہچان لیتے'

خواہ ان کی لیگ کٹر گیندیں ہوں یا اسٹمپ سے باہر سوئنگ کرنے والی گیندیں ہوں، بلے بازوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ خاص بات یہ تھی کہ مارشل اپنی بولنگ سے پوری طرح لطف اٹھاتے تھے۔ لہذا وہ وقت بے وقت اپنے باؤنسر سے بیٹسمینوں کی آزمائش کیا کرتے تھے۔

ان کے باؤنسروں کی درستی اتنی زیادہ تھی کہ زیادہ تر بیٹسمین ان کی گیندوں پر چوٹ کھا جاتے تھے۔ سامنے بیٹسمین کو پریشان دیکھ کر مارشل کو ایک قسم کی خوشی ہوتی تھی۔ جب وہ راؤنڈ دی وکٹ بولنگ کے لیے آتے تو ان کے باؤنسروں کی درستگی میں کافی اضافہ ہوجاتا تھا۔

انگلینڈ کے بلے باز مائیک گیٹنگ کی ناک مارشل کے باؤنسر سے ہی ٹوٹی تھی۔ پاکستان کے تیز بولر وسیم اکرم نے ایک انٹرویو میں کہا تھا: 'میلکم مارشل کسی بھی بیٹسمین کی کمزوری کو صرف دو گیندوں میں پہچان جاتے تھے۔ یہی خصوصیت انھیں مارشل بناتی تھی۔'

مارشل نے جن 81 ٹیسٹ میں شرکت کی ان میں سے ان کی ٹیم 43 ٹیسٹ میں فاتح رہی اور انھوں نے ان جیتنے والے میچز میں 254 وکٹیں حاصل کیں۔ چار فاسٹ بولرز کے ساتھ کسی ایک بولر کا ایسا غلبہ کرکٹ کی دنیا میں شاید ہی دیکھا جائے۔

گاوسکر
Getty Images
گواسکر ویسٹ انڈیز کے خلاف کامیاب ترین بیٹسمینوں میں شمار ہوتے ہیں

جب گواسکر نے سکل کیپ پہننا شروع کیا

انڈین کرکٹ ٹیم کے سدا بہار بیٹسمین سنیل گواسکر ویسٹ انڈیز کے خلاف خاصے کامیاب رہے۔ وہ اس دور میں بغیر ہیلمٹ کے بیٹنگ کرتے تھے۔

آج بھی گواسکر کی بے خوفی کی مثال پوری دنیا میں دی جاتی ہے۔ سنہ 1983 میں ویسٹ انڈیز کا دورہ کرنے والی انڈین ٹیم کے بیٹسمین گواسکر کے سر پر مارشل کا باؤنسر پڑا تھا۔ اگرچہ گواسکر نے مارشل کے طوفان کے سامنے اپنی اس اننگز میں سنچری بنائی تھی، لیکن اس کے بعد ہی گواسکر نے سکل کیپ پہننا شروع کر دیا تھا۔

اس کے بعد گواسکر نے یہ بھی کہا ہے کہ بعض مواقعے پر مارشل کی یاد سے ان کی نیند اڑ جاتی تھی۔

انڈیا کے سابق کرکٹر اور سب سے بڑے آل راؤنڈر کپل دیو نے مارشل کے بارے میں کہا ہے کہ 'کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ مارشل کی کون سی گیند آپ کی گردن پر پڑے گی اور کون سی سٹمپ اڑا دے گی۔ کانپور کی پچ پر میں نے دیکھا کہ ان کی ایک گیند گواسکر کے بازو سے ٹکرائی اور ان کا بیٹ ہاتھ سے چھوٹ کر ہوا میں اچھل گیا۔ اس سے پہلے میں نے پہلے کبھی ایسا نہیں دیکھا تھا، لہذا میرے منہ سے واو نکل آیا۔

بیٹنگ
Getty Images
مارشل نے بولنگ سے قبل بیٹنگ پر توجہ مرکوز کی تھی

دلیپ وینگسرکر سے چپقلش

لیکن میلکم مارشل کی گواسکر کے ساتھ کوئی خاص دشمنی نہیں تھی اور نہ ہی مارشل کو انڈین کرکٹر مہندر امرناتھ کے ہک شاٹس پر کوئی ملال تھا۔ لیکن میلکم مارشل کی اس وقت سٹائلش بیٹسمین دلیپ وینگسارکر سے ایک قسم کی پرخاش تھی۔ وینگسارکر لارڈز میں لگاتار تین سنچریاں بنا چکے تھے۔ یہ پرخاش دشمنی کی سطح تک پہنچ گئی تھی۔

میلکم مارشل نے اپنی تصنیف 'مارشل آرٹس' میں اس دشمنی پر دو ابواب تحریر کیے ہیں۔

میلکم مارشل نے سنہ 1978 میں بنگلور میں اپنے کیریئر کا پہلا ٹیسٹ کھیلا تھا۔ اس ٹیسٹ کے بارے میں مارشل نے لکھا: 'میرے پہلے ٹیسٹ کا تجربہ بہت خراب تھا۔ مجھے دھوکے سے آوٹ کردیا گیا اور میں پویلین لوٹتے ہوئے رونے لگا تھا۔ میں اس لمحے کو کبھی نہیں بھولوں گا اور اس میں شامل کھلاڑیوں کو بھی کبھی فراموش نہیں کر پاؤں گا۔'

بہرحال کیا ہوا کہ مارشل اسے کبھی فراموش نہیں کرنا چاہتے تھے اور اس میں وینگسارکر کا کیا کردار تھا۔

وینگسارکر کے کیچ لینے سے آنسو نکل آئے

اس کے بارے مین مارشل نے خود لکھا: 'میچ کے دوسرے دن ویسٹ انڈیز کا سکور سات وکٹوں پر 383 تھا اس وقت میں بیٹنگ کے لیے آیا۔ میں بالکل نروس نہیں تھا۔ چندر شیکھر نے تیز گیند پھینکی، گیند میرے پیڈ سے ٹکرائی اور اچانک میں نے دیکھا کہ وینگسارکر میرے خلاف بیٹ پیڈ کیچ کی اپیل کررہے ہیں۔

'میں نے اپنی زندگی میں ایسی چیز کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اگرچہ امپائر نے مجھے آوٹ نہیں قرار دیا۔ اس کے ایک یا دو گیندوں کے بعد میں نے پیڈز کو آگے بڑھا کر چندرشیکھر کا اسپن کھیلا، وینگسارکر نے ایک بار پھر اپیل کی۔ اس بار گیند اچھل کر وینگسارکر کے ہاتھوں میں پہنچی تھی اور امپائر نے مجھے آؤٹ قرار دیا۔ میرے آنسو نکل آئے۔'

مارشل کی نظر میں اس واقعے کے ذمہ دار وینگسارکر تھے۔ انھوں نے اپنے ذہن میں وینگسارکر کو ولن کی حیثیت سے بٹھا لیا۔ چار سال بعد انڈین ٹیم ایک بار پھر ویسٹ انڈیز کا دورہ کررہی تھی۔

وینگسارکر
Getty Images
وینگسارکر کے ساتھ مارشل کی ازلی پرخاش تھی

سنچری نہ بنانے دینے کے لیے رسہ کشی

سنہ 1982-83 کے دورے پر میلکم مارشل نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ وینگسارکر کو کسی بھی صورت اس سیریز میں سنچری بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ وینگسارکر سیریز کے باقی میچوں میں کچھ خاص کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکے، لیکن سینٹ جانز انٹیگا میں وہ سنچری کے قریب پہنچے۔

مارشل نے اپنی سوانح عمری میں اس میچ کی دلچسپ تصویر کشی کی ہے۔ مارشل کے مطابق وہ وینگسارکر کو سنچری بنانے سے روکنے کے لیے کسی بھی سطح پر بولنگ کرنے کو تیار تھے۔ لیکن وینگسارکر بھی اس وقت دنیا کے ٹاپ بلے بازوں میں شمار ہوتے تھے، لہذا یہ مقابلہ بہت ہی دلچسپ ہوگیا۔

مارشل نے لکھا: 'میں اس میچ میں زیادہ تیزی سے بولنگ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس دوران میں نے وینگسارکر کو بار بار امپائر سے یہ کہتے ہو سنا کہ میں اوور اسٹیپنگ کرکے نو بال کر رہا ہوں۔ یہ بات درست نہیں تھی۔ اس بات نے میرے غصے کو مزید بڑھادیا۔ اگر وہ مجھے مشتعل کرنے کے لیے کر رہے تھے تو وہ اس میں کامیاب ہوگئے تھے۔'

'اگرچہ وہ مستقل رن سکور کررہے تھے۔ اور دیکھتے دیکھتے وینگسارکر 60 سے 70 اور پھر 81 رنز پر پہنچ گئے۔ ہمارا مقابلہ دلچسپ ہوگیا۔ میں نے انھیں ایک سٹیک باؤنسر پھینکی جو ان کے ہیلمٹ سے ٹکرائی۔ وہ اس سے متزلزل ہوگئے، مجھے لگا کہ اب شاید وہ مثبت طور پر نہیں سوچ رہے ہوں گے لیکن وہ جواب دینے کے لیے تیار تھے۔ انھوں نے اوور کی باقی گیندوں پر تین باؤنڈریز لگائیں۔ مجھے یقین نہیں آیا۔ اگرچہ وہ پرفیکٹ شاٹس نہیں تھے لیکن یہ جنگ جیسی صورتحال تھی۔'

'میں انھیں سنچری بنانے نہیں دینا چاہتا تھا اور وہ کسی بھی صورت وہاں پہنچنا چاہتے تھے۔ اب وہ 94 رنز پر کھیل رہے تھے۔ میں اپنی پوری طاقت سے گیند پھینک رہا تھا لیکن انھیں روکنا آسان نہیں لگ رہا تھا۔ .میں نے ایک بار پھر انھیں باؤنسر کیا۔ ہیلمٹ پر گیند لگنے کے بعد سے وہ اپنے معمول کی طرح نہیں کھیل رہے تھے۔ لہذا میں نے انھیں دوبارہ باؤنسر گیند پھینکی اور میرا اندازہ درست تھا۔ انھوں نے ہک شاٹ کھیلا اور گیند ان کے بیٹ کے اوپری حصے پر لگی اور لانگ لیگ پر ڈیوس نے ان کا کیچ پکڑا۔ اگر یہ گیند بیٹ کے وسط میں ہوتی تو یہ چھ ہوتی اور ان کی سنچری مکمل ہوجاتی۔'

اظہار غم
Getty Images
نومبر سنہ 1999 میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان برزبن میں کھیل سے قبل مارشل کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی

'زندگی امتحان لیتی ہے'

مارشل نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ وکٹ ان کی سب سے قیمتی وکٹوں میں شامل تھا۔ اس مثال سے معلوم ہوا ہے کہ مارشل دل سے اور ایمانداری سے کرکٹ کھیلنے والے ایک اچھے کرکٹر تھے۔ وہ فاسٹ بولنگ کے ایسے سفیر تھے جو دنیا کے ہر کونے میں مشہور تھے۔

سنہ 1991 میں ریٹائر ہونے کے بعد انھوں نے ویسٹ انڈیز ٹیم کی کوچنگ کی، انھوں نے جنوبی افریقہ میں شان پولاک جیسے تیز بولرکو تیار کیا۔ وہ پہلے کرکٹر تھے جنھوں نے ان قوانین پر تنقید کی جس سے کرکٹ کی دنیا میں بیٹسمینوں کو فائدہ ہوتا ہے۔

ان کے ساتھ کرکٹ کھیلنے والے کولن کرافٹ نے مارشل کے بارے میں کہا ہے کہ ان کا دماغ کبھی چین سے نہیں ہوتا تھا، وہ ہمیشہ بہتر سے بہتر کرنے کے بارے میں سوچتے رہتے تھے۔ وہ تیز بولنگ کو بہتر کرنے کے بارے میں سوچتے تھے۔

یہاں یہ جاننا بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ مارشل نے اپنے کیریئر کے شروع میں ویسٹ انڈیز کے اوسط بولرز سے کم قد کی وجہ سے وکٹ کیپنگ اور بیٹنگ پر توجہ دی تھی، لیکن جب انھوں نے تیز بولنگ شروع کی تو وہ اس میں سماتے چلے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی گیند تیز رفتاری سے سلائیڈ کرتی ہوئی بلے باز تک پہنچتی تھی۔ مارشل نے اپنے دادا سے کرکٹ سیکھی تھی۔ جب مارشل ایک سال کے تھے تو ان کے والد ایک حادثے میں فوت ہوگئے۔

لیکن ان مشکلات سے باز آتے ہوئے مارشل کرکٹ کے آسمان میں درخشاں ستارے کی مانند چمک اٹھے۔ کاؤنٹی کرکٹ نے ان کے کریئر میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ انھوں نے ہیمپشائر کی جانب سے 1000 وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔

کاؤنٹی کرکٹ کے مشکل حالات نے ان کی صلاحیتوں کو نکھارا لیکن وہ رقم کے پیچھے بھاگنے والے کرکٹر نہیں بنے۔ اپنے کریئر کے آخری ایام میں انھیں جنوبی افریقہ کا دورہ کرنے والی باغی ٹیم کا حصہ بننے کے لیے دس لاکھ ڈالر کی پیش کش ہوئی تھی جسے انھوں نے مسترد کردیا۔

بہر حال دنیائے کرکٹ کو میلکم مارشل کی صلاحیتوں اور معلومات سے زیادہ فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں ملا کیونکہ ان کا انتقال صرف 41 سال کی عمر میں ہو گیا۔

سنہ 1999 کے مئی، جون میں ہونے والے ورلڈ کپ کرکٹ کے دوران پتا چلا کہ انھیں کولن کینسر تھا۔ اور اس کے چند ماہ بعد 4 نومبر کو مارشل نے دنیا کو الوداع کہا۔

کولن کینسر کی تشخیص کے بعد مارشل نے فاکس ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا: 'یہی زندگی ہے۔ زندگی آپ کا امتحان لیتی ہے، اور آپ اسے بدل نہیں سکتے۔ اس پر میرا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔'

لیکن جب تک مارشل کرکٹ کی دنیا میں رہے وہ اس دنیا کو بدلتے رہے۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

220