سپر لیگ: بڑے فٹبال کلب اپنا علیحدہ ٹورنامنٹ کیوں شروع کرنا چاہتے ہیں؟

کورونا کی وبا کے دوران یورپ کے فٹبال کلبوں کو سخت مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے لیے معاشی استحکام حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

یورپ کے بڑے فٹبال کلبوں کی جانب سے ایک علیحدہ یورپین سپر لیگ بنانے کے اعلان پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

جو کلب اس سپر لیگ کا حصہ ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس سے فٹبال کو بہت فائدہ ہو گا جبکہ تبصرہ نگاروں کے خیال میں نئی لیگ بنانے کے محرکات میں ’لالچ‘ سب سے نمایاں ہے۔

کون سی ٹیمیں سپر لیگ چاہتی ہیں؟.

ابھی تک 12 فٹبال کلبوں نے اس لیگ میں شمولیت کی حامی بھری ہے۔ ان ٹیموں میں چھ ٹیمیں انگلش پریمئیر لیگ میں سے ہیں جبکہ تین سپین کی لالیگا، اور تین اطالوی ٹیمیں شامل ہیں۔

انگلش پریئمیر لیگ سے آرسنل، چیلسی، لیورپول، مانچسٹر سٹی، مانچسٹر یونائیٹڈ اور ٹوٹنہم فٹبال کلب نئی یورپی سپر لیگ کا حصہ ہوں گے۔ سپین سے ریال میڈرڈ، بارسلونا اور ایٹلیٹکو میڈرڈ جبکہ اٹلی سے اے سی میلان، انٹر میلان اور یوونسٹس سپر لیگ میں شامل ہیں۔

یہ کلب چاہتے ہیں کہ وہ موجود لیگز میں کھیلتے رہیں اور درمیانِ ہفتہ سپر لیگ کے میچوں میںبھی حصہ لیں۔

نئی یورپی سپر لیگ موجودہ چیمپئنز لیگ کی حریف ہو گی۔ چیمپیئنز لیگ کو اس وقت دنیا کے بڑے مقابلوں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔

منصوبے کے مطابق سپر لیگ میں کل 20 ٹیمیں ہوں گیں۔ اس لیگ کی 12 ٹیموں سمیت 15 ٹیمیں ہمیشہ اس ٹورنامنٹ میں شریک رہیں گیں اور انھیں خراب کارکردگی پر بھی ٹورنامنٹ سے آوٹ ہونے کا ڈر نہیں ہو گا۔ بقیہ پانچ ٹیموں کو ٹورنامنٹ میں شامل ہونے کے لیے کوالیفائی کرنا ہو گا۔

the 12 teams that have signed up for the ESL
BBC

سپیر لیگ کی اتنی مخالفت کیوں؟

فٹبال تنظیموں اور ماہرین نے بڑے کلبوں کی جانب سے نئی لیگ شروع کرنے کے فیصلے کی پر زور مذمت کی ہے۔

ماہرین کا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اس لیگ میں مقابلے کی فضا نہیں ہو گی کیونکہ بیس میں سے پندرہ ٹیموں کو اس سے نکلنے کا کوئی خوف ہی نہیں ہو گا۔

مثال کے طور آرسنل کلب 2016-17 سیزن سےچیمپئنز لیگ کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکا ہے لیکن وہ سپر لیگ کے بانی کلبوں میں سے ایک ہونے کے ناطے ہمیشہ ہی اس ٹورنامنٹ کا حصہ رہے گا۔

پہلے کے برعکس ڈومیسٹک لیگ جیتنے والا کوئی کلب اگر وہ یورپی سپر لیگ کے بانی کلبوں میں سے نہیں ہے، تو اس کے لیے کوئی گارنٹی نہیں کہ وہ بھی سپر لیگ کھیل سکے۔

ڈومیسٹک لیگ میں فاتح ٹیم کو کروڑوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑے گا جو اسے موجودہ چیمپئنز لیگ میں شمولیت کی وجہ سے ٹی وی حقوق اور ٹکٹوں کی فروخت سے حاصل ہوتے ہیں۔

بڑے یورپی کلب کیوں سپر لیگ چاہتے ہیں؟

ہسپانوی فٹبال کلب ریال میڈرڈ کے صدر فلورینٹین پیریز سپر لیگ کے اصل روح رواں ہیں۔ فلورینٹین پیریز کا کہنا ہے کہ نئی یورپیئن لیگ فٹبال کو بچائے گی۔ انھوں نے کہا کہ کھیل کے خراب معیار کی وجہ سے لوگ اس میں دلچسپی کھو رہے ہیں۔

یورپی سپر لیگ کے بانی کلبوں کو تین اعشاریہ پانچ ارب ڈالر کے فنڈ میں حصہ مل سکتا ہے جو انویسٹمنٹ بینک جے پی مورگن نے نئی سپر لیگ کو گرانٹ کی شکل میں دی ہے۔

جو کلب اس نئی یورپی لیگ کا حصہ ہیں ان میں سے اکثریت قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور کورونا کی وبا نے ان پر قرضوں کا بوجھ مزید بڑھا دیا ہے۔

بڑے کلبوں کے پاس سپر سٹار کھلاڑی ہیں جنھیں وہ ماہانہ کئی ملین کی تنخواہ دیتے ہیں۔ اگر یہ گارنٹی ہو کہ وہ ہر سال ایک بڑے یورپی ٹورنامنٹ میں شریک ہوں گے تو ان کا کاروبار مستحکم ہو جائے گا۔

البتہ نقادوں کا کہنا ہے کہ اس ٹورنامنٹ سے مقابلے کی فضا کو ختم کرنے سے ٹورنامنٹ کے وقار میں کمی ہو گی۔

The net financial debts of the top Premier League teams
BBC

سپر لیگ کیسے کام کرے گی؟

سپر لیگ کی تجاویز کے مطابق یہ لیگ ہر سال اگست میں شروع ہو گی۔ اس کے منتظمین چاہیتے ہیں کہ جتنا جلدی ممکن ہو سکے اسے شروع کیا جائے۔

20 ٹیموں پر مشتمل یہ لیگ دو گروپوں میں تقسیم ہو گی جو ایک دوسرے کے خلاف ان کے اپنے اپنے گراونڈ پر ایک ایک یعنی کل دو میچ کھیلیں گیں۔

گروپ میں ٹاپ آنے والی تین ٹیمیں کواٹر فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گی جبکہ چوتھی اور پانچویں پوزیشن کی ٹیمیں کواٹر فائنل میں بقیہ دو پوزیشن کے لیے مقابلے کریں گیں۔

اس کے بعد موجودہ چیمپئنز لیگ میں رائج طریقہ کار کے تحت ٹیمیں دو دو میچ کھیلیں گیں۔ جو ٹیمیں فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گیں وہ مئی میں فائنل مقابلہ کسی نیوٹرل میدان میں کھیلیں گیں۔

فٹبال ایسوسی ایشنز کا کیا کہنا ہے؟

یونین آف یورپیئن فٹبال ایسوسی ایشن (یوایفا) کے صدر الیگزینڈر چیفرین کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ جتنا جلد ہو سکےان 12 کلبوں کی تمام یورپی فٹبال مقابلوں میں شرکت پر پابندی لگا دی جائے اور ان کے کھلاڑیوں پر بھی یورپی مقابلوں میں حصہ لینے پر پابندی ہو۔

ایلگزینڈر چیفرین نے ان کلبوں اور ان کے کھلاڑیوں پر رواں سال چیمپئنز لیگ اور یوروپا لیگ میں شرکت پر پابندی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کی گورننگ باڈی نے کہا وہ سپر لیگ کے خیال کو مسترد کرتے ہیں۔ فیفا کی گورننگ باڈی کا کہنا ہے کہ تھوڑے سے مالی فائدے کے لیے کھیل کا بہت کچھ داؤ پر لگایا جا رہا ہے۔

How revenue has fallen for the ESL clubs during the pandemic
BBC

کیا برطانوی حکومت انگلش کلبوں کو سپر لیگ میں شمولیت سے روک سکتی ہے؟

برطانوی حکومت نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ سپر لیگ کے خیال سے متفق نہیں ہے۔

وزیر اعظم بورس جانسن نے دی سنمیں لکھے گئے مضمون میں کہا ہے کہ وہ سپر لیگ کی تجاویز دیکھ کر پریشان ہو گئے اور وہ اس ٹورنامنٹ کو عملی جامہ پہنانے سے روکنے کے لیے جو کچھ بھی کر سکےکریں گے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ حکومت انگلش کلبوں کو سپر لیگ کا حصہ بننے سے روکنے کے لیے کیا کر سکتی ہے۔ کچھ ایسی تجاویز پیش کی گئی ہیں کہ حکومت ان کلبوں کے کھلاڑیوں کے لیے ورک ویزہ کی شرائظ کو سخت بنا دے۔ دوسرا طریقہ یہ بھی ہے کہ حکومت ان کلبوں پر بھاری ٹیکس لاگو کر دے اور فٹبال کلبوں کے بورڈز میں شائقین کی نمائندگی کو بڑھا دے۔

وزیر اعظم بورس جانسن کی ملک کی فٹبال تنظیموں، فٹبال ایسوسی یشن اور پریمیئر لیگ کی گورننگ باڈیز کے ممبران سے ملاقات طے ہے جس میں سپر لیگ کی تجویز پر غور ہو گا۔

اس کے بعد کیا ہو گا؟

اس کا انحصار اس پر ہے کہ مزید کون سی ٹیمیں سپر لیگ میں شامل ہوتی ہیں۔ ابھی تک جرمنی اور فرانس کے تین بڑے کلبوں، بائرن میونخ، بورشیا ڈورمنڈ، اور پیرس سینٹ جرمین (پی ایس جی) نے اس لیگ میں شمولیت کی حامی نہیں بھری ہے۔

مجوزہ سپر لیگ کے اہلکاروں کی کوشش ہے کہ وہ یوایفا اور فیفا کی جانب سے لیگ کی تشکیل پر کسی قسم کی ممکنہ پابندی کو روکیں ۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

46