محمد بن سلمان: سعودی قیدی کی بہن کا فٹبال کلب نیو کاسل یونائیٹڈ کے مداحوں سے ’سعودی عرب پر دباؤ ڈالنے‘ کا مطالبہ

سعودی عرب میں قید ایک شخص کی بہن اریج کہتی ہیں کہ ملک میں ان کے بھائی سمیت کئی لوگ انسانی حقوق کی خلاف وزریوں کا شکار ہیں اور اب فٹبال کلب خرید کر ’ان سے توجہ ہٹائی جا رہی ہے۔‘

ایک سعودی خاتون کا الزام ہے کہ ان کے بھائی کو سعودی عرب میں قید کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انھوں نے برطانوی فٹبال کلب نیو کاسل یونائیٹڈ کے مداحوں سے اپیل کی ہے کہ وہ میچز کے دوران ’مظلوموں‘ کو یاد رکھیں۔

سعودی عرب پبلک انوسٹمنٹ فنڈ (پی آئی ایف) کی حمایت یافتہ کمپنیوں نے کچھ روز قبل نیو کاسل یونائیٹڈ کلب خرید لیا ہے۔ پریمیئر لیگ نے کہا ہے کہ کلب کے نئے مالکان ’سعودی ریاست سے الگ ہیں۔‘

اریج السدھان کے بھائی عبدل رحمان کو سعودی حکام کے خلاف ٹویٹ کرنے پر 20 سال قید کی سزا دی گئی۔ اریج کا کہنا ہے کہ تیس کروڑ پانچ لاکھ پاؤنڈ کے عوض فٹبال کلب خریدنے کا مقصد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ’چھپانا‘ ہے۔

بی بی سی نے سعودی حکام کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے ان سے رابطہ کیا ہے۔

امریکی شہر سان فرانسیسکو میں رہنے والی اریج نے کہا کہ ان کے بھائی، جو کہ ایک فلاحی ادارے کے لیے کام کرتے تھے، کو ان کے دفتر سے مارچ 2018 میں اغوا کر کے جبری طور پر گمشدہ کر دیا گیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے بھائی کو بغیر کسی الزام حراست میں رکھا گیا اور ان پر تین سال تک شدید تشدد کیا گیا جس کے بعد ایک ’جعلی مقدمے میں ان پر یہ الزامات لگائے گئے جو ان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے استعمال سے متعلق تھے۔‘

اریج کے مطابق ان کے بھائی کو جھوٹے الزامات کی بنا پر سزا دی گئی۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے بھائی کو 20 برس قید کے ساتھ اگلے 20 سال سفری پابندی کی سزا دی گئی جو کہ ’اصل میں چالیس برس قید ہے۔‘

اریج، سعودی عرب، برطانیہ، نیو کاسل
BBC

ان کا کہنا ہے کہ نیو کاسل یونائیٹڈ کی فروخت کے اعلان سے دو روز قبل ان کے بھائی نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی مگر اسے عدالت کی جانب سے مسترد کر دیا گیا۔

وہ سمجھتی ہیں کہ ان کے بھائی کی طویل قید اور اہلکاروں کی جانب سے خاندان کو ان سے بات کرنے یا ملاقات کی اجازت نہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے جسم پر تشدد کے نشانات اور ’مستقل زخم‘ ہیں جو حکام ’چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

سعودی ’پی آئی ایف‘ کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا اور اس کے ذرائع آمدن کیا ہیں

ٹی 20 ورلڈ کپ شیڈول: پاکستان کب، کہاں اور کس کے خلاف کھیلے گا؟

چھپ کر یورپ پہنچنے والا پناہ گزین جس کی دوڑنے کی لگن نے اسے سپین کی شہریت دلوا دی

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ ہمارے لیے افسوس ناک صورتحال ہے لیکن (سعودی عرب میں) میرے بھائی کا مقدمہ ایسے کئی مقدمات میں سے ایک ہے۔‘

اریج نے کہا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ’زیر انتظام‘ ریاست اور پی آئی ایف میں کوئی فرق نہیں، جس کے وہ چیئرمین ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک ’قابل احترام فٹبال کلب‘ کی فروخت اسی ہفتے ہوئی جب تین سال قبل صحافی جمال خاشقجی کا قتل ہوا تھا۔ ان کے مطابق اس کا مقصد ’سعودی ریاست کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عوام کی توجہ پھیرنا ہے۔‘

ان کے مطابق یہ توجہ ہٹانے اور اسے چھپانے کے لیے کیا گیا۔ ’سعودی ولی عہد صرف اپنی ساکھ کو بہتر بنانا اور بین الاقوامی پلیٹ فارم حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنی زیادتیوں اور تشدد کو جائز بنا سکیں۔‘

نیو کاسل یونائیٹڈ
Reuters

نیو کاسل کی اس ڈیل سے اس فٹبال کلب کا شمار دنیا کے امیر ترین کلبز میں ہو گیا ہے اور مداحوں کو امید ہے کہ مانچسٹر سٹی اور چیلسی کی طرح اس کلب کو بھی کامیابی مل سکے گی۔

یاد رہے کہ چیلسی اور مانچٹسر سٹی کو روسی اور عرب سرمایہ کاروں نے خریدنے کے بعد ان میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کی اور انھیں کامیابی کے راستے پر لائے۔

مگر اریج کہتی ہیں کہ وہ مداحوں کے جوش و جذبے کو سمجھ سکتی ہیں۔ ’میں سمجھ سکتی ہوں کہ ایک معتبر کلب کے مداح کی حیثیت سے آپ بعض اوقعات چیزوں کو دوسرے زاویے سے نہیں دیکھتے اور صرف اس لمحے کا لطف لینا چاہتے ہیں لیکن مہربانی فرما کر ان سارے مظلوموں کو ذہن میں رکھیں جو اس ظالم رہنما کی وجہ سے اذیت میں ہیں۔ انسانی حقوق کے اداروں کی طرف سے ایسی بہت سی خبریں ہیں جن میں اس تشدد کی تتفصیلات موجود ہیں۔‘

اریجکا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ اس فروخت کے بعد مداح سعودی عرب میں تبدیلی کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔

’میں امید کرتی ہوں کہ مداح میچوں کے دوران جمال خاشقجی اور دوسرے مظلوموں کی تصاویر اٹھائیں گے تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو یاد کروایا جائے اور بہتری لائی جائے۔ مجھے امید ہے کہ فروخت سے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نمایاں ہوں گی اور سعودی عرب میں تبدیلی لانے پر زور دیا جائے گا۔‘

نیو کاسل کلب کی ڈیل میں سعودی پبلک انوسٹمنٹ فنڈ اور دیگر دو کمپنیاں شامل تھیں جس کی قیادت برطانوی سرمایہ کار امینڈا سٹیولی کر رہی تھیں۔ وہ اب کلب کی ڈائریکٹر ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی کمپنی پی سی پی کیپیٹل سعودی عرب کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کو بہت سنجیدگی سے لیتی ہے اور اس بات پر زور دیا گیا کہ ان کے پارٹنر پی آئی ایف ہیں نہ کہ سعودی ریاست۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ سعودی عرب کی جانب سے ’سپورٹس واشنگ (کھیل کے ذریعے توجہ ہٹانے)‘ کی کوشش ہے تو ان کا کہنا تھا کہ 'نہیں، ایسا بلکل نہیں۔ یہ پی آئی ایف کی ایک بہت زبردست فٹبال کلب میں سرمایہ کاری کے بارے میں ہے اور ہم اس کلب کو بہتر کرنے کے حوالے سے پُرجوش ہیں۔‘


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.