نبی کریم ﷺ جہاں نماز ادا کرتے تھے وہاں آج کیا موجود ہے؟ جانیے اس حوالے سے اہم معلومات جو آپ نہیں جانتے

image

مذہبِ اسلام ہے ہی ایسا دین جس کی مٹھاس اور تعلیمات ہمارے دلوں کو ایمان کو روشنی سے منور کر دیتی ہے۔ ہم دینی مدارس اور مساجد میں جب کچھ دیر کے لیے امام کا خطبہ سننے بیٹھتے ہیں تو آہستہ آہستہ اسلامی باتوں میں کھو جاتے ہیں۔

وہ خوبصورت باتیں خدا اور اس کے پیغبمروں سے متعلق ہوتی ہیں جنہوں نے مسلمانوں کی زندگی اور آخرت کو سنوارنے کے لیے بہت کچھ کیا۔

آج ہم آپ کو ایسی خوبصورت معلومات فراہم کرنے جا رہے ہیں جس میں یہ بتائیں گے کہ نبی کریم ﷺ جہاں نماز ادا کرتے تھے وہاں آج کیا موجود ہے؟

مسجد نبوی کی محرابیں خلافت راشدہ کے اختتام کے بعد سے تیسری سعودی حکومت کے آغاز تک، اسلامی اور سیاسی جدل کا عنوان بنی رہی تھیں۔ سعودی حکومت کے سامنے مسجد نبوی میں 6 محرابیں تھیں جس کے بعد اس نے تمام نمازیوں کو ایک محراب پر لانے کا فیصلہ کیا گیا۔

موجودہ محراب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی نسبت سے 'محرابِ عثمانی' کہلاتی ہے۔ انہوں نے یہ محراب مسجد کی جنوبی سمت (قبلے کی جانب) تجدید کے دوران بنائی تھی۔اس سے قبل حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی جنوبی سمت تجدید کروائی تھی۔ مسجد نبوی کی جنوبی سمت صرف دو مرتبہ تجدید ہوئی ہے جو کہ خیلفہ دوم اور خلیفہ سوم کے دور خلافت میں ہوئی۔

1300 سال سے لے کر آج تک اسلامی حکمرانوں کی جانب سے مسجد نبوی کی محرابوں کی تزئین و آرائش کے کام کا سلسلہ جاری ہے۔

محرابِ عثمانی وہ واحد محراب ہے جس میں مسجد نبوی شریف کے آئمہ کرام حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور سے لے کر آج تک نماز پڑھا رہے ہیں۔

ہر حکمراں کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ اس کا نام تاریخ میں کسی طور مسجد نبوی کے خادم کی حیثیت سے باقی رہے۔

ایک سعودی محقق کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس جگہ قیام فرما کر نماز پڑھاتے تھے یا پڑھتے تھے وہاں محراب میں خلاء (پیٹ) نہیں ہوتا تھا۔

یہ جگہ مشہور تھی جس پر عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے 88 ہجری کے بعد اس مقام پر محراب کے اندر خلاء (پیٹ) تعمیر کروا دیا گیا تھا۔ سعودی ریاست نے مسجد نبوی کی محرابوں کو ناموں کے ساتھ برقرار رکھا اور ساتھ ہی ان کی خاص دیکھ بھال بھی کی۔

اس کے علاوہ ہر محراب کے تعمیراتی پس منظر اور ہیئت ساتھ ساتھ اس کے بارے میں تمام تر تاریخی معلومات کو بھی محفوظ رکھا گیا۔ سعودی محقق کا کہنا ہے کہ محراب ِ نبوی یا ریاض الجنہ کے دائیں جانب محرابِ سلیمانی موجود ہے۔


WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.