ویرات کوہلی کو اپنی انا ختم کرنا ہوگی، کپل دیو

image

نئی دہلی: سابق بھارتی کپتان اور لیجنڈ کپل دیو نے کہا ہے کہ ویرات کوہلی کو اپنی ذاتی انا اپنے مستقبل کی خاطر قربان کرنا ہوگی۔

بھارتی میڈیا کو انٹریو دیتے ہوئے سابق کپتان کپل دیو نے کہا کہ  ٹیست کپتانی سے دستبرداری کے بعد ویرات کوہلی کو بطور عام کھلاڑی کھیلنے کے لئے اپنی انا کو قربان کرنا ہوگا۔ ان کے اچانک فیصلے نے بھارتی ٹیم کے مستقبل کو متاثر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کی کپتانی سے دستبردار ہونے کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ کی انتظامیہ نے ان کو ون ڈے کی کپتانی سے  بھی برطرف کردیا تھا۔

کپل دیو کا کہنا تھا کہ کوہلی ایک مشکل وقت سے گزر رہے ہیں اور ان کی باڈی لینگویج سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ سنیل گواسکر میرے ماتحت کھیل چکے ہیں خود میں اپنے کیرئیر میں سری کانت اور اظہر الدین کے ماتحت کھیل چکا ہوں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس تناظر میں ویرات کو ایک نوجوان کھلاڑی کی طرح اسکواڈ کا حصہ بننا ہوگا اور نئے کپتان کے ماتحت کھیلنا ہوگا۔ ویرات پر یہ اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نئے کپتان کی فیصلوں میں معاونت کریں اور آنے والے کھلاڑیوں کو بطور سینئر رہنمائی فراہم کریں۔

واضح رہے کہ ٹیسٹ کپتانی کی دوڑ میں روہت شرما اور کے ایل راہول مضبوط امیدوار ہیں۔ 34 سالہ روہت شرما ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے کی کپتانی کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں اور  ان کی کپتانی میں ممبئی انڈینز کی ریکارڈ فتوحات ان کی قومی ٹیم کی کپتانی کا مقدمہ مزید مضبوظ بنا دیتا ہے۔

 دوسری طرف کے ایل راہول جنوبی افریقہ کے خلاف بدھ سے شروع ہونے والی ون ڈے سیریز میں کپتانی کے فرائض سرانجام دیں گے۔

علاوہ ازیں، ویرات کوہلی کہ ٹیسٹ کپتانی سے دستبرداری نے کئی افواہوں کو جنم دیا ہے جس میں کرکٹ اتھارٹی سے ناخوشگوار تعلقات سر فہرست ہیں۔

 بی سی سی آئی کے سربراہ سارو گنگولی نے ویرات کوہلی کو دسمبر کے اوائل میں  کپتانی سے برطرف کردیا تھا جس کہ بابت ویرات کوہلی کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے قبل ان کو آگاہ نہیں کیا گیا۔

معروف بھارتی صحافی ایاز میمن کا کہنا تھا کہ جس انداز سے ویرات کوہلی کرکٹ فارمیٹس کی ذمہ داریوں سے الگ ہورہے ہیں وہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بورڈ اور کوہلی کے درمیان موافقت کی فضا قائم نہیں ہے۔

Square Adsence 300X250


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.