عمران خان لانگ مارچ کی تاریخ کے اعلان میں تاخیر کیوں کر رہے ہیں؟

فواد چوہدری نے اس تاخیر کو سٹریٹجک ڈیلے کا نام دیا ہے۔ تاہم سابق وزیراطلاعات نے کہاں ہے کہ اتوار کو پشاور کو کور کمیٹی کے اجلاس میں اس متعلق فیصلہ کر لیا جائے گا۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی حتمی تاریخ کا اعلان اتوار کو پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد کریں گے۔

سنیچر کو اپنی ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اتوار کو کور کمیٹی کےاجلاس کے بعد اپنے لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کریں گے۔

اس سے قبل جمعے کی شب ملتان میں ہونے والے جلسے میں انھوں نے اسلام آباد لانگ مارچ کی ممکنہ تاریخ رواں ماہ کی 25 سے 29 کے درمیان بتاتے ہوئے کہا تھا کہ پارٹی کی کور کمیٹی کے پشاور میں ہونے والے اجلاس میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے حتمی پلان پر غور کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل عمران خان نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ملتان میں ہونے والے جلسے میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی حتمی تاریخ کا اعلان کریں گے۔

عمران خان اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد سے عوامی رابطہ مہم کے تحت ملک کے مختلف شہروں میں جلسوں کے دوران ملک میں قبل از وقت انتخابات کروانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

ایسے میں یہ سیاسی و سماجی حلقوں میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ جہاں ایک جانب قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے وہاں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟ اس کے محرکات یا وجوہات کیا ہیں؟

کیا تحریک انصاف نے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ میں تاخیر کی؟

تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی تمام تیاریاں مکمل ہیں۔ انھوں نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ میں تاخیر کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ’اس تاخیر کے پیچھے بھی مقاصد ہیں۔‘

فواد چوہدری نے اس تاخیر کو ’سٹریٹجک تاخیر‘ کا نام دیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اتوار کو پشاور میں کور کمیٹی کے اجلاس میں اس کے متعلق فیصلہ کر لیا جائے گا۔

ان کے مطابق ’یہ بات طے ہے کہ یا تو الیکشن کی تاریخ دی جائے گی یا پھر لانگ مارچ ہو گا۔‘

واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بی بی سی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا تھا کہ رواں برس نومبر سے قبل عام انتخابات کا امکان مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

اُن کا کہنا تھا ’ہو سکتا ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی سے پہلے ہم الیکشن ہی کروا دیں۔ نومبر سے پہلے۔ تب نگران حکومت ہو گی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے نومبر سے پہلے نگران حکومت چلی جائے اور نئی حکومت آ جائے۔‘

خواجہ آصف سے جب جلد انتخابات کے امکان پر بات کی گئی تو انھوں نے واضح کیا کہ اکتوبر یا نومبر تک عام انتخابات کے انعقاد کا مطلب جلد الیکشن ہی ہیں۔

خواجہ آصف
BBC

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری بھی خواجہ آصف کی اس بات کی تائید کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اب اگر حکومت انتخابات کا اعلان کرے گی تو آئینی مدت کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ انتخابات اکتوبر تک ہی ممکن ہو سکیں گے۔

کیا اسلام آباد کی طرف مارچ میں تاخیر کرنے کی درخواست کی گئی؟

پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری نے اس امکان کو مسترد نہیں کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہر درخواست الیکشن کی تاریخ کے مطالبے کے ساتھ ہی جڑی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اگر انتخابات کی تاریخ نہیں دی گئی تو پھر اسلام آباد کی طرف مارچ 29 مئی سے مزید آگے نہیں جائے گا۔

فواد چوہدری کے مطابق پشاور میں کور کمیٹی کے اجلاس اور اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کے فیصلے سے متعلق غور اس وجہ سے بھی کیا جا رہا ہے کہ وہاں تحریک انصاف کی اپنی حکومت ہے۔

تحریک انصاف کے سینئر رہنما اسد عمر نے بھی سنیچر کو اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ عمران خان کی طاقت عوام ہیں اور ان کا طاقت استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

انھوں نے میڈیا سے گفتگو میں تحریک انصاف کے حکومت یا کسی اور محکمے کے ساتھ کسی بھی سمجھوتے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ایسا ہوا ہوتا تو پھر اسلام آباد پولیس گذشتہ شب بنی گالا کی رخ نہ کرتی۔‘

اسد عمر نے حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر کوئی حرکت کی گئی، عمران خان کو حراست میں لینے کی کوشش کی گئی یا ان کی جان کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کی گئی تو پھر جو پاکستان میں جو ہو گا اس کے آپ ذمہ دار ہوں گے۔ پھر ہم میں سے کوئی اسے نہیں روک سکے گا، عمران خان خود اسے نہیں روک سکیں گے۔

اسد عمر نے بھی حکومت سے جلد الیکشن کے اعلان کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق شہباز شریف بغیر اختیارات کے وزیر اعظم ہیں جنھیں یہی نہیں پتا کہ انھیں یہاں کس نے بٹھایا ہے۔ ان کے مطابق یہ طے ہے کہ عمران خان نے واپس آنا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے ایک روزہ دورہ کراچی کے دوران حکومت کو درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ جتنی حمایت پاکستان کے 75 برسوں میں اس (عمران خان) لاڈلے کو ملی ہے اس کا اگر 35 فیصد بھی ہمیں ملی ہوتی تو ہم پاکستان کو کہاں سے کہاں پہنچا چکے ہوتے۔

’تاخیر یہ ظاہر کرتی ہے کہ کچھ مشاورت کا عمل کہیں چل رہا ہے‘

سیاسی امور کے ماہر رسول بخش رئیس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر عمران خان نے تصادم سے بچنے کے لیے کچھ وقت لیا ہے۔ ان کے مطابق عمران خان اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ ضرور کریں گے۔

رسول بخش کے مطابق اس وقت حکومت بھی سوچ بچار کر رہی ہے۔ شاہد یہی وجہ ہے کہ ابھی تک وزیر اعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب بھی نہیں کیا ہے۔

ان کے مطابق ’روایت تو یہی ہے کہ قوم کو اعتماد میں لیا جاتا ہے مگر اس میں تاخیر یہ ظاہر کرتی ہے کہ کچھ مشاورت کا عمل کہیں چل رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سب سے اہم بات یہ دیکھنا ہو گی کہ عالمی حالات اور معیشت اجازت دیتی ہے کہ یہ حکومت مزید آگے کام کرتی رہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ابھی حکومت، اتحادیوں اور سیاسی رہنماؤں کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے۔

’قومی حکومت تو بن نہیں سکتی، موجودہ اتحاد میں صرف ایک قدر مشترک ہے کہ یہ عمران مخالف ہیں۔‘

ان کے مطابق وزارتیں ملنے سے قبل تو خود مولانا فضل الرحمان نے بھی جلد انتخابات کی بات کی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں رسول بخش رئیس کا کہنا تھا عمران خان کی جانب سے پشاور میں جا کر لانگ مارچ کے اعلان کی منطق انھیں سمجھ نہیں آئی۔

وہ کہتے ہیں ’لانگ مارچ کا اعلان تو لاہور اور اسلام آباد سے بھی کیا جا سکتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

کیا ادارے عمران خان کی عوامی مقبولیت کا دباؤ محسوس کر رہے ہیں؟

کیا عمران خان پاکستان کی نئی اسٹیبلشمنٹ ہیں؟: عاصمہ شیرازی کا کالم

عمران خان سے معافی کا مطالبہ: ’آپ کو لگتا ہے عورت تنقید کرے تو وہ آپ میں دلچسپی لے رہی ہے‘

تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا بھی ماننا ہے کہ حکومت اور عمران خان کے درمیان ممکنہ طور پر پس منظر میں بات چیت ہو رہی ہے جس کی وجہ سے لانگ مارچ کے اعلان میں تاخیر ہوئی ہے۔

بی بی سی سے گفتگو میں اُنھوں نے کہا کہ یہ زیادہ بہتر ہے کہ متفقہ طور پر انتخابات ہو جائیں اور اس کے لیے تاریخ کا اعلان کر دیا جائے۔ اُنھوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ یہی مذاکرات اس وقت ہو رہے ہوں۔

اُنھوں نے کہا کہ فی الوقت تو حکومت اور عمران خان کے درمیان انتخابی ٹائم لائن پر ایک واضح خلیج موجود ہے پر اگر حکومت کی طرف سے کوئی تاریخ دے دی جاتی ہے تو معاملات بہتری کی طرف جائیں گے، پھر اگر اس میں کچھ تاخیر بھی ہو گئی تو وہ شاید قابلِ قبول ہو۔

انتخابات کروانے میں انتظامی طور پر درکار وقت کے بارے میں اُنھوں نے کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف بھی اس بات کو سمجھتی ہے کہ انتخابات کروانے میں چھ سے سات ماہ تو درکار ہوں گے۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.