شیریں مزاری: 50 برس پرانے مقدمے میں سابق وفاقی وزیر کی ڈرامائی گرفتاری اور پھر رہائی کا حکم

ملک کی سابق وزیر برائے انسانی حقوق اور پی ٹی آئی کی سینئیر رہنما شیریں مزاری کو پولیس اہلکار اینٹی کرپشن کے ایک مقدمے میں ان کے گھر سے لے کر گئے تاہم پھر پنجاب کے وزیراعلیٰ نے چند گھنٹوں بعد ان کی رہائی کا حکم دیا۔

ستاون سیکنڈز کی ایک ویڈیو جس میں پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری اسلام آباد میں خواتین پولیس اہلکاروں سے گفتگو کرتے ہوئے سوال کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ ’تم کون ہو مجھے گرفتار کرنے والے۔۔۔۔ نہیں مجھے ہاتھ مت لگاؤ۔۔۔ میرا فون مت لو۔۔۔‘

جواب میں وہاں موجود خاتون پولیس اہلکار جو انھیں شاید گاڑی سے باہر لانا چاہتی ہیں انھیں کہتی ہیں ’ریلیکس‘ اور پھر ایک مرد پولیس اہلکار کہتا ہے ’میڈیم آپ باہر آ جائیں کوئی ایشو نہیں۔ ہم بات کر سکتے ہیں‘ جس پر شیریں مزاری کہتی ہیں کیوں؟

اور پھر وہ باہر نکل آتی ہیں اور پھر سنائی دیتا ہے ’لے آئیں لے آئیں‘ اور فوٹیج میں خواتین اہلکار انھیں دائیں بائیں سے پکڑ کر دوسری جانب لے جاتی ہیں۔

یہ واقعہ سنیچر کی دوپہر کا ہے جب پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کو وفاقی دارالحکومت میں محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب کی ٹیم نے اسلام آباد پولیس کی مدد سے تھانہ کوہسار کی حدود میں گرفتار کیا۔

شیریں مزاری
Getty Images

شیریں مزاری کو گرفتار کیوں کیا گیا؟

سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کو ان کے خلاف صوبہ پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان میں درج ایک مقدمہ میں گرفتار کیا گیا۔

اس مقدمے کی بنیاد محکمہ اینٹی کرپشن کی ایک رپورٹ ہے جس میں شیریں مزاری کو 800 کنال اراضی غیر قانونی طریقے سے ایک ایسی کمپنی کو منتقل کرنے کا ملزم ٹھہرایا گیا ہے جو مبینہ طور پر وجود نہیں رکھتی۔

یہ مقدمہ جو 11 اپریل کو درج کیا گیا تھا، دراصل موضع کچہ میانوالی 2 روجھان کی جمع بندی برائے سال 1971-72 کے حوالے سے ہے۔

بی بی سی کو موصول ہونے والی دستاویز کے مطابق اس پر اسسٹنٹ کمشنر روجھان نے ایک تحقیقاتی رپورٹ جمع کروائی جس کی روشنی میں 11 اپریل کو دو پٹواریوں سمیت شیریں مزاری اور دیگر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

اسلام آباد میں پولیس مانیٹرنگ سسٹم کے مطابق صبح نو بجے ڈیرہ غازی خان سے اینٹی کرپشن کی ٹیم شیریں مزاری کو گرفتار کرنے پہنچی تھی۔

ڈپٹی ڈائریکٹر انویسٹی گیشن اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اے ایس آئی فریال احمد نے اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں مقدمہ نمبر 5/22 کے تحت شیریں مزاری کی گرفتاری کے لیے اسلام آباد پولیس کی مدد طلب کی۔

گرفتاری کے بعد یہ ٹیم مقامی عدالت سے راہداری ریمانڈلے کر اُنھیں ڈی جی خان لے جانے لگی۔

’والدہ کو کچھ ہوا تو حکومت کو چھوڑوں گی نہیں‘

شیریں مزاری کی گرفتاری کی خبر فوراً ہی مقامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر آ گئی اور ان کی بیٹی اور انسانی حقوق کی کارکن ایمان مزاری نے والدہ کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے ٹویٹ کی کہ ’مرد پولیس افسران نے ان کی والدہ پر تشدد کیا اور انھیں گھر سے حراست میں لے کر چلے گئے۔‘

انھوں نے ٹوئٹر پر کہا کہ ’مجھے بتایا گیا ہے کہ اینٹی کرپشن ونگ لاہور نے انھیں حراست میں لیا ہے۔‘

https://twitter.com/ImaanZHazir/status/1527956699801440263

شیریں مزاری کی گرفتاری کے فوراً بعد پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کا رخ کیا اور پارٹی کے تمام کارکنوں کو تھانہ کوہسار پہنچنے کی ہدایات کر دی۔

تھانہ کوہسار کے باہر پاکستان تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا پر اپنی والدہ شیریں مزاری کی گرفتاری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میری والدہ کو غیر آئینی اور غیر قانونی طریقے سے اغوا کیا گیا۔‘

اُنھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ اپنی والدہ کی حراست کے لیے گرفتاری کا لفظ استعمال نہیں کریں گی کیونکہ گرفتاری کی صورت میں گھر والوں کو بتایا جاتا ہے کہ اس شخص کا کیا جرم ہے۔‘ اُنھوں نے کہا کہ ابھی تک اُنھیں نہیں پتا کہ اُن کی والدہ کہاں ہیں۔ ایمان مزاری نے کہا کہ اس حکومت کی جانب سے اُنھیں جبراً لاپتہ کیا گیا ہے۔

’مجھے صرف اتنا معلوم ہے کہ غنڈوں کی طرح ایک عورت کو آج اٹھایا گیا ہے نہ اس کے خاندان کو کچھ بتایا گیا ہے نہ کچھ اور۔۔ تو یہ اگر حکومت نے ایسا کام کیا ہے تو میں اس حکومت کے پیچھے آؤں گی میں انھیں وارننگ دیتی ہوں اگر انھیں کچھ ہوا تو میں حکومت کو نہیں چھوڑوں گی۔‘

جبکہ پی ٹی آئی نے بھی شریں مزاری کی گرفتاری پر ملک بھر میں احتجاج کی کال دی اور اپنے کارکنوں سے ملک کے مختلف شہروں میں نکل کر اس گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے کا کہا۔

وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کا شیریں مزاری کی رہائی کا حکم

وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کی گرفتاری پر ان کی فوری رہائی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ’شیریں مزاری بطور خاتون قابل احترام ہیں، ان کی رہائی کا حکم دے دیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی خاتون کی گرفتاری معاشرتی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اُنھوں نے کہا کہ شیریں مزاری کو گرفتارکرنے والے اینٹی کرپشن عملے کے خلاف تحقیقات ہونی چاہییں۔ ان کا کہنا تھا کہ تفتیش اور تحقیقات میں گرفتاری ناگزیر ہے تو قانون اپنا راستہ خود بنا لے گا۔

شیریں مزاری
BBC

اُنھوں نے کہا کہ وہ شیریں مزاری کی گرفتاری کے عمل سے اتفاق نہیں کرتے اور مسلم لیگ (ن) بحیثیت سیاسی جماعت خواتین کے احترام پر یقین رکھتی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کا شیریں مزاری کو رات ساڑھے 11 بجے پیش کرنے کا حکم

شیریں مزاری کی بیٹی اور وکیل ایمان مزاری نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنی والدہ کی پولیس گرفتاری سے متعلق ایک درخواست بھی دائر کی۔ جس میں مؤقف اپنایا گیا کہ ان کی والدہ کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا جس کے بعد پنجاب پولیس نے انھیں غیر قانونی طور پر ’لاپتہ‘ کیا۔

اس درخواست میں کہا گیا کہ ’میری والدہ اس وقت قومی اسمبلی کی رکن ہیں اور قانون کے مطابق سپیکر کی اجازت کے بغیر انھیں گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔ میری والدہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ناقد ہیں، دن کے اجالے میں والدہ کو اٹھایا گیا اور فیملی ممبرز کو اس متعلق کوئی معلومات بھی فراہم نہیں کی جا رہیں، درخواست گزار کی والدہ کو وفاقی دارالحکومت سے اٹھایا گیا اور قانونی تقاضے بھی پورے نہیں کیے گئے۔‘

شیریں مزاری کی بیٹی ایڈووکیٹ ایمان مزاری کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے سیکریٹری داخلہ کو حکم دیا ہے کہ وہ شیریں مزاری کو سنیچر کی شب ساڑھے 11 بجے عدالت کے روبرو پیش کریں۔

شیریں مزاری کی گرفتاری کے بعد اسلام آباد کی مرکزی شاہراہ سری نگر ہائی وے پر ہر چند گز کے فاصلے پر رینجرز اہلکار موجود کھڑے دکھائی دیے۔ اس وقت پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد سمیت ملک کے دوسرے علاقوں میں احتجاج کے کال دی جا چکی تھی۔

شیریں مزاری کون ہیں؟

شیریں مہرالنسا مزاری نے سنہ 2013 میں پہلی بار قومی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشست حاصل کی۔ اس سے قبل وہ شعبہ تدریس اور صحافت سے منسلک تھیں۔

انھوں نے سنہ 2008 میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ وہ انگریزی اخبار دی نیشن کی مدیر اعلیٰ بھی رہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری ٹی وی پر 90 کی دہائی میں اور پھر سنہ 2008 کے بعد انھیں پروگرام اینکر کے طور پر کام کرنے کا موقع بھی ملا۔

وہ ملک کے معروف تعلیمی ادارے قائد اعظم یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کے عہدے پر کام کرتی رہیں اور بعد میں یونیورسٹی کے ڈیفینس اینڈ سٹریٹیجک ڈیپارٹمنٹ میں چیئرپرسن بھی رہیں۔

وہ پی ٹی آئی کی انفارمیشن سیکریٹری اور ترجمان کی حیثیت سے کام کرتی رہی ہیں تاہم ایسا موقع بھی آیا جب ایک بار انھوں نے پارٹی سے استعفیٰ بھی دیا۔ لیکن بعد میں پھر پارٹی میں شامل ہو گئیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت میں انھیں وزیر برائے انسانی حقوق کا قلمدان سونپا گیا۔

مریم نواز کا شریں مزاری کی گرفتاری پر ردعمل

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شریں مزاری کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’مجھے شیریں مزاری کی گرفتاری پر خوشی نہیں ہوئی۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’ان پر یہ مقدمہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی حکومت میں قائم ہوا، 800 کنال کی اراضی جو حکومت کی ہے محکمہ مال کی ہے میں کرپشن کی گئی ہے۔‘

اسلام آباد پولیس نے واقعے کے ڈھائی گھنٹے بعد وضاحت کی کہ شیریں مزاری کو خواتین پولیس اہلکاروں نے گرفتار کیا۔

خیال رہے کہ ایمان مزاری نے بتایا تھا کہ مرد پولیس اہلکاروں نے ان کی والدہ کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے ان کی رہائی کے حکم کے کافی دیر بعد ایک ٹویٹ میں لکھا ’ہماری جماعت کی سینئر رہنما شیریں مزاری کو اس فسطائی حکومت نے ان کی رہائش گاہ کے باہر سے پرتشدد طریقے سے اغواء کیا ہے۔ شیریں ایک باہمت اور نڈر خاتون ہیں۔ اگر امپورٹڈ سرکار سمجھتی ہے کہ اپنی فسطائیت سے وہ اُنھیں زیرِ بار لا کر جھکا سکتی ہے تو اس کا اندازہ غلط ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

فرانسیسی حکومت کے احتجاج کے بعد شیریں مزاری کو ٹویٹ ہٹانا پڑی

’اتنے ویگو کہاں سے لاؤ گے‘: ٹویوٹا کا پک اپ ٹرک پاکستان میں ’بدنام‘ کیوں؟

عمران خان لانگ مارچ کی تاریخ کے اعلان میں تاخیر کیوں کر رہے ہیں؟

قانونی ماہر عمران ایڈوکیٹ نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ اگر ایک لمحے کے لیے فرض کر لیں کہ زمین کے معاملے پر اگر کیس بنتا بھی تھا تو وہ شیریں مزاری کے والد پر بنتا تھا۔

اس کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے بتایا ’آباؤ اجداد کے جرائم سے شیریں مزاری کا کیا تعلق ہے اور اگر کسی نے زمین لے لی تو مقدمہ جلعسازی کا نہیں بنتا، ریاست کو زمین واگزار کروانے کا اختیار ہوتا ہے اور اہم سوال یہ کہ 50 سال ایسا کوئی اقدام کیوں نھیں اٹھایا گیا۔‘

سامنے آنے والی دستاویزات پر بات کرتے ہوئے عمران ایڈووکیٹ نے چند اہم نکات کی وضاحت کچھ یوں کی۔

  • یہ کیس 50 سال پرانا ہے اور تب کا جب شیریں مزاری کی عمر 6 برس ہو گی۔ وہ کم سن بچی تھیں اتنے برانے کیس میں ان کو گرفتار کرنا بدنیتی سے خالی نہیں لگتا۔ اگر گرفتاری ہو بھی تو خواتین کو تو فوری طور پر ضمانت ملتی ہے۔
  • اس رپورٹ میں کہیں کوئی شواہد نہیں دیے گئے کہ شیریں مزاری نے اس معاملے میں کوئی جعلسازی کی ہو یا اس عمل کا کوئی گواہ ہو۔ انھیں فوجداری مقدمے میں ملزم نہیں بنایا جا سکتا جب تک کہ وہ خود جرم کا ارتکاب نہ کریں۔
  • یہ ایک دیوانی نوعیت کا مقدمہ معلوم ہوتا ہے جسے زبردستی فوجداری مقدمے میں تبدیل کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

حکومتی اتحاد میں شامل پیپلز پارٹی کی ایم این اے نفیسہ شاہ نے اپنی ٹوئٹ میں سوال کیا کہ شیریں مزاری کی گرفتاری کا حکم کس نے اور کیوں دیا۔

صحافی حامد میر نے لکھا کہ ’شیریں مزاری پر کیس تو بزدار حکومت میں بنا تھا لیکن مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو اس پر پوزیشن کلئیر کرنی چاہیے۔‘

صحافی ثنا بُچہ نے اپنی ٹویٹ میں حکومت کو مشورہ دیا کہ ’وہ شیریں مزاری کی گرفتاری پر اپنی غیر جانبداری کا اعلان کریں اس سے پہلے کہ کچھ بدترین ہو جائے۔‘


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.