امریکی فوج سمندر میں جھینگوں اور کیکڑوں کی آوازیں کیوں سُنتی ہے؟

سمندر میں کسی دشمن شے کی حرکت کی موجودگی کا پتہ سونار لہروں سے کیا جاتا ہے، لیکن سائنسدان اس بات پر تحقیق کر رہے ہیں کہ اگر وہ جھینگوں اور کیکڑوں کی اُن آوازوں کو سونار کی جگہ استعمال کریں جو وہ اپنے دشمن یا کسی جاسوس کو محسوس کر کرنے کے بعد نکالتے ہیں تو شاید ایک بہتر وارننگ سسٹم تریب دیا جا سکے۔
جھتنگے کیکڑے اور سونار امریکی فوج
Getty Images

فوجی نوعیت کے ’سونار‘ (زیرِ آب آواز کے ذریعے فاصلہ ماپنے کا آلہ) کا آبی زندگی پر بہت گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔ کیا زیرِ سمندر قدرتی آوازیں خطرات کا پتہ دے سکتی ہیں؟

شمال مغربی افریقہ کے قریب کینری جزائر میں فويرتيفنتورا کی ساحلی پٹی کے ارد گرد وھیل کے ڈھانچے حفاظتی حصار کی طرح نصب ہیں، جو فوجی سونار کے نقصان دہ اثرات کے واضح شواہد ہیں۔ بحری جہازوں اور آبدوزوں سے جاری ہونے والی سونار لہروں کے بارے میں سوچا جاتا ہے کہ یہ وہیل کو پھندے میں پھانسنے میں استعمال ہونے والے عوامل میں سے ایک ہے، جو وہیل کے اپنے سونار نظام کو الجھاتا ہے اور پھر وہیل مچھلیوں کو خود سے ساحل کی جانب لے جاتا ہے۔

تاہم وہیل کی دشمن اس ٹیکنالوجی کو جلد ہی ایک حریف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی ملٹری ریسرچ ایجنسی 'ڈارپا' کی پراجیکٹ مینیجر لوری ایڈورناٹو کا خیال ہے کہ ہم سونار کی آواز کی نبض (لہر) چھونے کے بجائے قدرتی آواز پر زیادہ توجہ دے کر آبدوزوں کا سُراغ لگا سکتے ہیں۔

ایڈورناٹو کا کہنا ہے کہ ’اس وقت ہم ان تمام قدرتی آواز کو پس منظر کے شور یا مداخلت کے طور پر دیکھتے ہیں، جنھیں ہم دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم ان آوازوں سے فائدہ کیوں نہیں اٹھاتے، دیکھتے ہیں کہ ہمیں کوئی سگنل مل سکتا ہے؟'

اس کا پراجیکٹ، 'پرسسٹنٹ ایکواٹک لیونگ سینسرز' (Pals)، سمندری جانداروں پر پانی کے اندر موجود خطرات کا پتہ لگانے کے طور طریقے پر نظر رکھتا ہے۔ ہوا سے گرائے جانے والے سونار جسم شناور لہروں کے موجودہ نظام - دشمن کی پانی کے اندر سرگرمی کا سراغ لگانے کے لیے فوج کی طرف سے نصب کیے گئے ہیں جو بیٹری کی محدود زندگی کی وجہ سے صرف ایک چھوٹے سے علاقے میں چند گھنٹے کام کرتے ہیں۔ 'پالز' (Pals)نظام اس کے بجائے مہینوں تک وسیع علاقے کا احاطہ کر سکتا ہے۔ یہ ساحلی علاقوں اور زیر آب چینلز کی نگرانی کا قریب قریب مستقل طریقہ فراہم کر سکتا ہے۔ ایڈورناٹو کا کہنا ہے کہ چٹان میں رہنے والی انواع جن پر ایک جگہ رہنے کے لیے بھروسہ کیا جا سکتا ہے ان کے بہترین نگہبان بننے کا امکان ہے۔

لوری ایڈورناٹو کہتی ہیں کہ 'آپ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ آپ کا نظام ہمیشہ موجود رہے گا۔'

'پالز' (Pals)کئی ٹیموں کو سپانسر کر رہا ہے جو بہت ساری اور مختلف چٹانوں پر رہنے والی انواع کا استعمال کرتے ہوئے ان کا مختلف زاویوں سے مطالعہ کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

سمندر کی لہروں کی طاقت کم کیوں ہو رہی ہے؟

شمالی کوریا سے خطرہ، جنوبی کوریا میں امریکی دفاعی نظام

78 برس قبل سمندر کی اتھاہ گہرائی میں ڈوبنے والے امریکی بحری جہاز کی دریافت کی کہانی

فلوریڈا اٹلانٹک یونیورسٹی میں گروپر گارڈ ٹیم کے سرکردہ محقق لورینٹ چیروبین، جو 'گولیتھ گروپرز' کے ساتھ کام کر رہے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ 'گروپر' (مچھلیاں)، جن کا وزن 300 کلو گرام تک ہوسکتا ہے، امریکی پانیوں میں عام ہیں اور اپنے مقامی خطے میں کسی بھی درانداز یا گھس بیٹھیے کا پتہ لگانے کے لیے اونچی آواز میں پکارتی ہیں۔

چیروبن کہتے ہیں کہ 'یہ اونچی آواز میں، کم تعدد والی تیزی ہے۔ وہ مقامی مخلوق ہیں اور ان کی سرزمین پر کسی بھی گُھس بیٹھیے پر وہ حملہ کریں گے۔'

ایک قسم کی ایک مچھلی جسے 'گِھسر' (بومنگ گروپر) کہتے ہیں، اُس کا پتہ یہ مچھلیاں 800 میٹر کے فاصلے سے لگا سکتی ہیں، حالانکہ ضروری نہیں کہ اس مچھلی کا دوسری مچھلی سے کوئی رابطہ ہوتا ہے۔ دوسرے کے خطے میں مداخلت کرنے والوں اور شکاریوں کے لیے مخصوص انتباہی آواز کے ساتھ ساتھ، گروپر کی آوازوں میں مباشرت کی بھی مخصوص آواز ہوتی ہے، کسی علاقے میں مداخلت کرتے وقت خطرے کے انتباہ کی آواز کی بھی ایک قسم ہے، راغب کرنے کے لیے، صحبت کی آوازیں بھیں ہیں، اور ان کی دیگر اقسام کی بھی آوازیں ہیں جن کا مطلب ابھی تک سمجھا نہیں جا سکا ہے اور ایسی آوازیں بھی ہیں جو اب تک ایک معمہ بنی ہوئی ہیں۔

جھتنگے کیکڑے اور سونار امریکی فوج
Getty Images
ملٹری سونار کو ان عوامل میں سے ایک سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہیل مچھلیوں کی کچھ انواع خود ہی ساحل سمندر پر پہنچ کر ساحل بُرد ہو جاتی ہیں جو ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔

چیروبین کا کہنا ہے کہ اُن کی ریسرچ ٹیمیں 'الرٹ کالز' (انتباہی آوازوں) پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں، جیسا کہ کسی محافظ کتے کو دراندازوں پر بھونکنے کی آواز ہے۔ ان انتباہی آوازوں کو دوسروں سے الگ کرنا آسان نہیں ہے، اس لیے ٹیم نے اس کام کے لیے 'مشین لرننگ الگورتھم' تیار کیے ہیں۔ جب تک کہ وہ مختلف گروپر کی انتباہی آوازوں میں فرق اور درجہ بندی نہ کر سکیں ان کو ہزاروں ریکارڈنگز کے کیٹلاگ کو سن کر مطلب سمجھنے کے لیے تربیت دیا گیا ہے۔

اس کے بعد الگورتھم کو سافٹ ویئر میں تبدیل کیا جا سکتا ہے جو ایک چھوٹے لیکن طاقتور پروسیسر پر چلتا ہے جسے پانی کے اندر موجود مائکروفون یا ہائیڈرو فون میں بنایا گیا ہے۔ ان ہائیڈرو فونز کی ایک ٹیم ایک چٹان کا احاطہ کر سکتی ہے، گروپر کی آوازوں کو سن کر اور ان کی پیروی کر سکتی ہیں کیونکہ ان کی تشویش کا باعث بننے والی درانداز مچلیاں ایک گروپر کے علاقے سے دوسرے علاقے میں جاتی ہیں۔

مچھلی کی بات چیت کو ٹیپ کرنا غیر معمولی لگ سکتا ہے، اس کے برعکس ڈیفینس کانٹریکٹر (دفاعی ٹھیکیدار)'ریتھیون' میں پالز (Pals) ٹیم کا کام روایتی آبدوز شکن سونار (اینٹی سب میرین سونار) کی طرح لگتا ہے۔ تاہم اس میں ایک مختلف بات ہے۔

ریتھیون کی سائنسدان ایلیسن لافریئر کا کہنا ہے کہ 'ہم ان بازگشتوں کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں جو سمندر میں آبدوزوں کو دیکھ کر جھینگوں کی آوازوں کی عکاس ہوتی ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک روایتی سونار سسٹم اپنی جاری کی گئی آواز کی باز گشت سے کسی شے کے موجود ہونے کا پتہ لگاتا ہے۔'

دوسرے لفظوں میں، یہ دوسرے عام سونار کی طرح کام کرتا ہے لیکن مصنوعی سونار لہروں کے خارج کرنے کے بجائے جھینگے سے پیدا ہونے والے شور کا استعمال کرتا ہے۔ 'سنیپنگ جھینگا' (یعنی اپنے پنسر یا چمٹا نما بازوں سے آوازیں پیدا کرنے والا جھینگا)، جسے اپنی شکل کی وجہ سے 'پستول کیکڑے' بھی کہا جاتا ہے، کو زمین پر سب سے بلند آواز والی مخلوق کہا جاتا ہے۔ وہ اپنے چمٹی نما ہاتھوں یعنی 'پنسروں' کو اتنی تیزی سے بند کر کے اپنی مخصوص آواز پیدا کرتے ہیں جس سے خلا میں بلبلہ بنتا ہے جو ہزاروں ڈگری کی پیمائش والے پلازما کو بھی غیر موثر کر دیتا ہے۔ اس سے روشنی کی چمک پیدا ہوتی ہے اور اس سے شکار کو حیران کرنے کے لیے کافی طاقتور 'شاک ویوز' پیدا ہوتی ہے۔

جھینگے بھی ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنے پنسروں سے چٹکیاں بجاتے ہیں۔ سنیپنگ کیکڑے یا جھینگوں کا ایک غول ایک مستحکم سی زوردار آواز خارج کرتا ہے جس کا ایلیسن لافریئر گوشت تلنے کی آواز سے موازنہ کرتی ہیں۔

ایلیسن لافریئر کہتی ہیں کہ 'پستول کیکڑے کے ذریعہ تیار کردہ سگنل مدت میں بہت کم لیکن ناقابل یقین حد تک براڈ بینڈ ہے۔ کیکڑے کی ایک ہی پنسر والی آواز روایتی سونار کے ذریعہ سے بہت زیادہ پرسکون ہوتی ہے، لیکن فی منٹ ہزاروں پنسروں کی آوازیں ہو سکتی ہیں۔'

ایلیسن لافریئر کا کہنا ہے کہ آواز دن کے وقت اور پانی کے درجہ حرارت کے ساتھ مختلف ہوتی ہے، لیکن کیکڑے کی کالونی کبھی خاموش نہیں ہوتی۔

جھتنگے کیکڑے اور سونار امریکی فوج
Getty Images
جب 'پستول کیکڑے' اپنے پنجے (پنسر) ٹکراتے ہیں، تو وہ زمین پر موجود کسی بھی مخلوق کی طرف سے بنائی گئی سب سے تیز آواز پیدا کر سکتے ہیں۔

مزلافریئر کا کہنا ہے کہ 'ہم نے جن سب سے بڑے چیلنجز کا سامنا کیا ہے وہ خود جھینگوں کے ذریعہ پیدا ہونے والے بہت زیادہ شور اور ارد گرد کے علاقے سے ان تمام آوازوں کی بازگشت سے نمٹنا ہے۔'

ان بازگشت کو اصل آواز سے جدا کر کے سمجھنا خاص طور پر مشکل کام ہے کیونکہ روایتی آواز کے برعکس اس آواز کے اصل منبع کا مقام معلوم نہیں ہوتا ہے۔ ایک بار پھر اس معمے کا حل ایک جدید سافٹ ویئر کے ساتھ آتا ہے۔

لافریئر کی ٹیم نے آواز کا تجزیہ کرنے اور ایک ہی آواز لینے کے لیے سمارٹ الگورتھم تیار کیے ہیں، پہلے جھینگے کے محل وقوع کا حساب لگاتے ہیں اور پھر اُس کی اصل آواز کی منعکس شدہ آواز کے ذریعے اختیار کیے جانے والے راستے پر کام کرتے ہیں اور آخر میں یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ یہ کہاں منعکس ہوا ہے۔

لوٹنے والی آواز کا احساس دلانے کے لیے، ایلیسن لافریئر کی ٹیم کو کمپیوٹر ماڈل بنانا پڑا تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ کون سی بازگشت ساکت پس منظر کی اشیا سے آتی ہے اور اسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ اس کا کام ماحول میں حرکت کرنے والی ان نمایاں اشیا کو گھٹانا ہے اور یہ مچھلیاں، آبدوزیں یا بغیر پائلٹ کے زیر آب حرکت کرنے والی اشیا ہوسکتی ہیں۔

ایک بار پھر تیار شدہ حل آن بورڈ کمپیوٹنگ کے ساتھ سمارٹ ہائیڈرو فونز کی ایک کھیپ بنےگی جو کیکڑے کی آوازوں پر کارروائی کرنے اور علاقے میں دلچسپی کے کسی بھی ہدف کے مقام کا تعین کرنے کے قابل ہوگی۔

دیگر پالز (Pals) ٹیموں نے بھی اسی طرح کے طریقوں کو اپنایا ہے۔ ’نارتھروپ گرومن‘ کے محققین ایک اور جھینگے پر بنے ہوئے سونار سسٹم پر کام کر رہے ہیں اور بحریہ کی ایک ٹیم عام چٹان کی آوازوں کو دیکھ رہی ہے کہ کس طرح گھس بیٹھیے انھیں پریشان کرتے ہیں۔ سبھی ایک ’سائبورگ‘ (برقی قوت سے چلنے والا ایک ڈیجیٹل آلہ) سینسر نیٹ بنانے کی امید دلاتے ہیں جس میں آئندہ توسیعی مدت کے بعد زیادہ وسیع علاقوں کا احاطہ کیا جائے گا، جس میں زیادہ تر ہارڈ ویئرز فطرت کی طرف سے آسانی سے فراہم کیے گئے ہیں۔ صرف ہائیڈرو فونز کو تبدیل کرنے یا بہتر کرنے کی ضرورت ہوگی۔

برطانیہ کے دفاعی تھنک ٹینک ’رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ‘ (RUSI) میں بحری جنگ کے ماہر، سدھارتھ کوشل کہتے ہیں کہ ’ڈارپا کا نقطہ نظر--- اگر اسے حاصل کر لیا گیا، تو یہ واقعی ایک بڑی پیش رفت ہو گی۔ مستقل طور پر تیرنے والے منتشر زندہ سنسروں کا ایک ماحولیاتی نظام اصولی طور پر بہت دلچسپ لگتا ہے۔‘

صرف اصولی طور پر، لیکن ضروری نہیں کہ عملی طور پر بھی ایسا ہی ہو۔ تاہم کوشل کو اس بات پر شبہ ہے، کیونکہ آبدوزوں کا پتہ لگانے کے لیے ’آبی زندگی‘ (میرین لائف) کا استعمال کرنے والے پچھلے منصوبے کامیاب نہیں ہوئے تھے۔ جرمن انڈر بوٹس کو بعض اوقات ’بایولومینسینٹ پلانکٹن‘ (چھوٹے چھوٹے عضویوں، نباتات اور جانوروں کا حیاتیاتی تنویر پر مبنی ایک جمگھٹ) پر ان کے اثر سے دیکھا جاتا ہے، جو پریشان ہونے کی صورت میں ایک چمکدار روشنی خارج کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک پہلی عالمی جنگ میں مبینہ طور پر اس اثر کی وجہ سے ڈوب گیا تھا۔ لیکن بعد میں اثر کو زیادہ وسیع پیمانے پر استعمال کرنے کی کوششوں میں، خاص سینسرز کے ساتھ وسیع علاقے میں روشنی کے ذرائع کی تلاش کے تجربے میں، بہت کم پیش رفت ہوئی۔

جھتنگے کیکڑے اور سونار امریکی فوج
Getty Images
ٹیکنالوجی کی تبدیلیاں، اگر کارگر ثابت ہوتی ہیں تو وہیل مچھلیوں کے ساحل بُرد ہوجانے کی وجہ سے ان کا خاتمہ کر سکتی ہیں

کوشل کہتے ہیں کہ 'سوویت یونین اور امریکیوں کی طرف سے سرد جنگ کے دوران ان کو ایک منظم طریقے سے استعمال کرنے کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔ جزوی طور پر چونکہ ان کے پاس سونار کی جھوٹی مثبت لہروں کا فرق جاننے کا کوئی طریقہ نہیں تھا، جیسے کہ گزرتی ہوئی وہیل اور کسی حقیقی شے کے گزرنے کے درمیان دو مختلف لہروں کا فرق۔‘

پالز (Pals) ایک آبدوز اور شارک میں کتنی اچھی طرح سے فرق کر سکتے ہیں یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ ایڈورناٹو کا خیال ہے کہ سمندری جانداروں اور جدید سمارٹ الگورتھم کا امتزاج ایک قابل اعتماد ’ٹرپ وائر وارننگ‘ فراہم کرے گا، تاکہ زیادہ روایتی آبدوز شکاریوں کو ممکنہ گھس بیٹھیے کے چیک کرنے کے لیے رہنمائی حاصل کی جا سکے۔

پالز (Pals) نے پہلے ہی اپنا ابتدائی آزمائشی مرحلہ مکمل کر لیا ہے، اور ڈویلپرز اب دوسرے مرحلے پر کام کر رہے ہیں تاکہ یہ پتا لگایا جا سکے کہ وہ موسم گرما میں کنٹرولڈ ٹیسٹوں میں کتنا اچھا کام کرتے ہیں۔ ایڈورناٹو کا کہنا ہے کہ پالز (Pals)کے لیے تیار کی گئی ٹیکنالوجیز کو چند ایک سینسر کے ساتھ چٹانوں اور پانی کے اندر کے دیگر ماحول کی نگرانی کر کے سائنسی تحقیق کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ایڈورناٹو کا کہنا ہے کہ ’یہ کم اثر، مشاہداتی نظام بغیر ماحولیاتی نظام کی فطرت میں خلل ڈالے، بہت سے مختلف ماحول میں تعینات کیے جا سکتے ہیں۔‘

عام سمندری زندگی کی آوازوں کو جوڑنا، اور یہ سمجھنا کہ وہ کیسے بدلتے ہیں، محققین کو پانی کے اندر انسانی سرگرمیوں کے اثرات کو ٹریک کرنے کا ایک کم لاگت، ماحول دوست طریقہ فراہم کرے گا۔ یہ آف شور ونڈ فارمز، تیل کی کھدائی، اور سمندری فرش کی کان کنی جیسے منصوبوں کے لیے مفید ہوگا۔

اس منصوبے کی توجہ ان انواع پر ہے جو امریکہ کے مقامی پانیوں میں عام ہیں، اس لیے ضروری نہیں کہ اسے دوسرے خطوں میں منتقل کرنا آسان ہو۔ تاہم عام طور پر ٹیکنالوجی زیادہ وسیع پیمانے پر قابلِ استعمال ہوسکتی ہے۔

پالز (Pals) نے پہلا مرحلہ مکمل کر لیا ہے جو سننے کے دو مختلف طریقوں کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی تھا کہ چٹان کی نسلیں گُھس بیٹھیوں پر کیسے رد عمل ظاہر کرتی ہیں، اور کیکڑے کے پنسروں سے نکلنے والی آوازوں کو 'سونار' کس طرح سنتے ہیں۔ ایڈورناٹو کو امید ہے کہ سنہ 2023 میں فیلڈ ٹیسٹنگ کی جائے گی۔ اس کے بعد اگر تجربہ کامیاب رہا تو ٹیکنالوجی کو پیداواری نظام میں ترقی کے لیے صارفین (ابتدائی طور پر امریکی بحریہ) کو منتقل کر دیا جائے گا۔

اس کامیابی کے بعد ہم آبدوز کی کھوج لگانے کے نظام میں ایک بہت بڑی تبدیلی دیکھ سکتے ہیں، جس میں سونار کی وجہ سے وہیل مچھلیوں کی مزید ہلاکتیں نہیں ہوں گی۔ جنگلی حیات کے لیے خطرہ بننے کے بجائے، دونوں کے فائدے کے لیے آبدوزوں کو پکڑنے والے قدرتی دنیا کے ساتھ شراکت داری میں ہم آہنگ ہو کر کام کرنا شروع کر سکتے ہیں۔


News Source   News Source Text

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.