لمپی وائرس: عید قرباں کا انتظار کرنے والا فارمر اور بیوپاری پریشان

پاکستان کے مختلف صوبوں میں بڑے جانوروں کی کثیر تعداد جن میں گائے، بیل اور ان کی اقسام شامل ہیں لمپی وائرس کا شکار ہیں۔ جانوروں کی ویکسینیشن تو جاری ہے لیکن منڈیوں میں خریدار اور بیوپاری دونوں ہی پریشان دکھائی دیتے ہیں۔
جانور، عید
BBC

'باجی ہمارا گزر بسر اور تمام تر جمع پونجی یہ جانور ہیں۔ لیکن اس سال سمجھ نہیں آرہی ہے کہ ہمارے ساتھ کیا ہوگا۔ اگر کسینے چالیس جانور پالے تھے تو ان میں سے اس کے دس جانور لمپی وائرس کی وجہ سے مر گئے اور جو باقی بجے وہ بھی بیماری کا شکار ہو گئے۔ ایسے بیوپاری کا تو سارا سال برباد ہو گیا ہے۔ کیونکہ وہ انھیں عید پر بیچ نہیں سکتا۔'

لاہور منڈی میں اپنے جانور لانے والے ایک بیوپاری نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی تکلیف کے بارے میں بات کی۔

انھوں نے مزید کہا کہ سارا سال عید قرباں کا انتظار کرنے والا فارمر اور بیوپاری دونوں ہی اس سال پریشان ہیں۔

پاکستان کے مختلف صوبوں میں بڑے جانوروں کی کثیر تعداد جن میں گائے، بیل اور ان کی اقسام شامل ہیں لمپی وائرس کا شکار ہیں۔

صوبہ سندھ سے شروع ہونے والی یہ بیماری ملک کے دیگر حصوں میں پھیل چکی ہے جو مویشیوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ جبکہ اس بیماری کا شکار ہونے سے ہزاروں کی تعداد میں جانور اب تک مر چکے ہیں اور لاکھوں جانور اس سے متاثر ہوئے ہیں۔

لپمی وائرس ہے کیا اور یہ جانوروں کو کیسے بیمار کرتا ہے؟

جانور، عید
BBC

فورٹ عباس سے آئے محمد اکرم اپنے 12 بڑے جانور لیے شیخوپورہ منڈی میں بیچنے کے لیے آئے تھے۔ تاہم جب وہ شیخوپورہ پہنچے تو ان کا ایک جانور لمپی وائرس کا شکار ہو گیا۔ کئی سو کلو میٹر کا سفر طے کر پہنچنے والے محمد اکرم اب پچھلے کئی روز سے منڈی میں ہی بیٹھے ہیں کیونکہ ان کا جانور جب تک ٹھیک نہیں ہو جاتا تب تک وہ واپس نہیں جا سکتے ہیں۔

انھیں منڈی انتظامیہ کی جانب سے وہاں ہی روک لیا گیا ہے۔

بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے محمد اکرم کا کہنا تھا کہ اس سال ہمارے مویشی ہمیں فائدہ نہیں دے رہے بلکہ نقصان ہی دی رہے ہیں۔

محمد اکرم کو نہیں معلوم کہ ان کے جانور کو یہ بیماری کیسے ہوئی تاہم وہ اس بیماری کے بارے میں جانتے ضرور تھے کیونکہ ان کےعلاقے میں کئی لوگوں کے جانور اس وائرس کا شکار ہو کر مرے بھی اور بیمار بھی ہوئے۔ ان کا اس بارے میں مزید کہنا تھا کہ بیوپاری جو بھی جانور خریدتا ہے دیکھ بھال کر لیتا ہے لیکن اس بیماری کا کوئی پتا نہیں چلتا کہ راستے میں ہی جانور کو ہو جائے۔

انھوں نے بتایا کہ اس جانور کے بیمار ہو جانے سے انھیں کم از کم دو لاکھ روپے کا نقصان ہوا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘پیٹرول مہنگا ہونے سے جانوروں کو لالنے لے جانے کے کرائے میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔ ہم سارا سال محنت کر کے جانور پالتے ہیں اور پھر عید کا انتظار کرتے ہیں تاکہ اچھے پیسے کما سکیں اور انھی پیسوں سے ہمارا سال بھر کا خرچہ چلتا ہے۔ اس دفعہ تو میں فورٹ عباس سے ساٹھ ہزار دے کریہاں پہنچا تھا اور اب پچھلے پانچ دن سے یہاں ہی بیٹھا ہو سمجھ نہیں آرہی کہ کیا ہوگا؟‘

محمد اکرم کے جانور کو چیک کرنے والے ڈاکٹر محمد عتیق جو کہ شیخوپورہ منڈی کے انچارج بھی ہیں، انھوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اس بیماری کے بارے میں بتایا کہ ‘ہم نے ہفتے والے دن تقریباً 80 سے 100 جانور منڈی میں داخل نہیں ہونے دیے جو لمپی بیماری کا شکار تھے۔ تاہم محمد اکرم جیسے لوگ جو کئی سو کلو میٹر کا سفر کرکے آتے ہیں اور فوری طور پر واپس نہیں جا سکتے ان کے لیے میں نے منڈی میں الگ جگہ مختص کر دی ہے جہاں ہم بیمار جانوروں کو قرنطیبہ کررہے ہیں۔‘

مزید پڑھیے

سندھ میں ’لمپی سکن‘ وائرس: کیا متاثرہ جانوروں کا دودھ، گوشت انسانی صحت متاثر کر سکتا ہے؟

کورونا کی وبا کے دوران مویشی منڈی جانا محفوظ ہے؟

لمپی وائرس کا شکار ہونے والے جانور کو با آسانی پہچانا جا سکتا ہے۔ اس بیماری میں مبتلا جانور کو تیز بخار ہوتا ہے، وہ کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے، جانور ڈپریس ہو جاتا ہے اور اس کی حرکت بھی کم ہو جاتی ہے اور اس کے علاوہ اس کی جلد پر بڑے بڑے دانے بن جاتے ہیں جو 4 سنٹی میٹر تک بڑے ہو سکتے ہیں۔

لپمی وائرس کے شکار جانور کے ٹھیک ہونے کا وقت تقریباً دو ہفتے ہوتا ہے۔ لیکن اگر جانور اس بیماری سے شدید بیمار ہو جائے یعنی اس کے دانے پھٹ جائیں اور ان میں پس نکلنے لگے یا بیماری شدت اختیار کر لے تو اس صورت میں جانور مر جاتا ہے۔ اس لیے ایسا جانور جس کی بیماری کا پتا چل جائے تو اس کو فوری طور پر دیگر جانوروں سے الگ کردیں اور ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

نہ صرف یہ جب اس جانور کو الگ کر لیا جاتا ہے تو پھر اس علاقے میں موجود تمام تر جانوروں کو ویکسین لگائی جاتی ہے۔ بیمار جانور اور اس جگہ کے اطراف میں سپرے کیا جاتا ہے اور جانور کو ادوایات بھی دی جاتی ہیں۔

یہ بیماری پھیلتی کیسے ہے اور اب تک پاکستان میں اس کی کیا صورت حال ہے؟

جانور، عید
BBC

ڈاکٹر عتیق کے مطابق ‘یہ بیماری ایک جانور سے دوسرے جانور تک با آسانی منتقل ہو جاتی ہے۔ کیونکہ جب کوئی جانور لپمی وائرس کا شکار ہوتا ہے، یہاں تک کہ جب بیمار جانور کے زخم پر کوئی مچھر یا مکھی بھی اس جانور کے دانوں کے زخم پر بیٹھتی ہے تو وہ اس وائرس کو ساتھ لے کر دوسرے جانور پر بیٹھے گی تو بھی وہ وائرس کو وہاں منتقل کر دے گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ جانور اور اس کے اطراف میں اسپرے کریں۔‘

اس بارے میں بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے محکمہ لائیو سٹاک پنجاب سے منسلک اور اس بیماری کے بارے میں مقرر کیے گئے فوکل پرسن ڈاکٹر رحمان نے یہ دعویٰ کیا کہ ہماری تحقیق کے مطابق یہ بیماری پاکستان میں انڈیا سے آئی ہے جبکہ پنجاب میں یہ بیماری سندھ سے پہنچی ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ مارچ 2022 میں پنجاب میں پہلا کیس رپورٹ ہوا تھا اور اب تک پنجاب میں متاثرہ جانوروں کی کل تعداد تقریباً گیارہ ہزار ہے اور مرنے والے جانور لگ بھگ پچاس ہیں۔

انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پنجاب میں اس وائرس سے متاثر ہونے والے جانوروں کی تعداد ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ جبکہ اب تک محکمہ لائیو سٹاک لاکھوں کی تعداد میں جانوروں کو ویکسینیشن لگا چکا ہے اور اب تک یہ عمل جاری ہے۔ ‘یہی نہیں بلکہ ہم نے ٹول فری نمبر بھی دے رکھا تاکہ اگر کسی کا جانور بیمارہوتا ہے تو وہ فوری اس پر اطلاع دے۔ ہمھیں معلوم تھا کہ یہ بیماری سندھ سے پنجاب آسکتی ہے اس لیے ہم تیار تھے۔‘

پنجاب میں یہ بیماری کیسے داخل ہوئی؟

اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ہم نے جنوبی پنجاب کا دورہ بھی کیا اور اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی کہ اگر محکمہ لائیو سٹاک پنجاب پہلے سے ہی تیار تھا تو یہ بیماری منتقل کیسے ہوئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سندھ سے پنجاب میں اس وائرس کا شکار بیمار جانور ان راستوں سے پنجاب میں داخل ہوئے جہاں محکمہ لائیو سٹاک کی چیک پوسٹیں موجود نہیں تھیں جس کی وجہ سے جنوبی پنجاب میں یہ بیماری خاصی پھیلی اور لوگوں کا نقصان بھی ہوا۔

لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جنوبی پنجاب کی ضلعی انتظامیہ نے معاملات کو بہتری کی جانب لے جانے اور بیماری کے پھیلنے کے لیے اقدامات تیز کر دیے۔

کمیشنر بہالپور ڈویژن راجہ جہانگیر انور نے بی بی سی کو بتایا کہ ہم نے ویکسینیشن کا عمل تیز کرنے کے علاوہ داخلی راستوں پرچیک پوسٹیں بھی بڑھا دی ہیں تاکہ سختی سے اس بیماری کی روک تھام کے عمل میں تیزی لائی جا سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہمھیں احساس ہے کہ یہاں کے لوگوں کا گزر بسر مویشوں پر ہے اس لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ ان کے جانوروں کو اس بیماری سے بچایا جائے۔ ہم اس عمل میں کامیابی کے طرف بڑھ رہے ہیں کیونکہ اگر اس علاقے میں جانور متاثر ہوئے تھے تو اب وہ کم ہو کر تین سے چار فیصد تک رہ گئے ہیں کیونکہ ہم نے ویکسینشن کا عمل تیز کیا ہے۔ ‘

جانور، عید
BBC

تاہم بی بی سی کی تحقیق کے مطابق وسطی پنجاب میں بھی یہ بیماری پھیلتی جا رہی ہے کیونکہ عید قرباں کے لیے زیادہ تر بیوپاری اور فارمز والے اپنے جانور ان علاقوں میں بیچنے کے لیے لاتے ہیں۔

ہم نے لاہور سمیت دیگر شہروں کی منڈیاں بھی دیکھیں، وہاں اس بیماری کی روک تھام کے لیے کیے انتظامات نہ ہونے کے برابر تھے۔

ہم نے لاہور کی سب سے بڑی منڈی میں کئی گھنٹے گزارے لیکن وہاں ہمھیں نا تو محکمہ لائیو سٹاک کے لوگ دیکھائی دئے اور نا ہی کوئی ڈاکٹر۔

کسی آنے جانے والے کو نہیں روکا گیا نا ہی جانوروں کی چیکنگ کا کوئی انتظام تھا۔ جب ہم محکمہ لائیو سٹاک کے سٹال پر پہنچے تو وہاں کوئی شخص موجود نہیں تھا۔ جبکہ وہاں چند منٹ گزرنے کے بعد جو شخص آیا اسے کچھ معلوم نہیں تھا۔ نام نہ ظاہر کرتے ہوئے انھی کے ایک ملازم نے بتایا کہ میڈم یہ صرف خانہ پوری ہو رہی ہے۔ منڈی میں لمپی وائرس کے شکار جانور بھی فروخت کیے جا رہے تھے۔ جبکہ ہماری تحقیق کے مطابق پنجاب کے حوالے سے بتایا گیا آفیشل ڈیٹا کے نمبر اصل نمبر سے خاصے زیادہ ہیں۔

ہم نے ان تمام تر سوالات اور اپنی تحقیق کے بارے میں جوابات لینے کے لیے محکمہ لائیو سٹاک سے متعدد بار رابطہ کیا لیکن انھوں نےجواب نہیں دیا۔

پنجاب کے علاوہ سب سے زیادہ جانور صوبہ سندھ میں ہیں جبکہ خیبر پختونخواہ میں متاثرہ جانوروں کی تعدادتیزی سے بڑھ رہی ہے۔

عید پر جانور بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں ہی پریشان ہیں۔

جانور، عید
BBC

بی بی سی گفتگو کتے ہوئے کئی بیوپاریوں اور فارمز والوں نے بتایا کہ ہم بہت پریشان ہیں کیونکہ لوگ اس وہم کا شکار ہیں کہ شاید بیماری دیگر جانوروں میں نہ آجائے۔ اور بیماری کے بعد ٹھیک ہونے والے جانور کو قربانی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

یہی سوال ہم نے ڈاکٹر عتیق سے بھی پوچھا جنکا کہنا تھا کہ جب کوئی جانور لپمی بیماری سے ٹھیک ہو جائے تو وہ سو فصید قابل خرید ہے اور اس کا گوشت بھی قابل استعمال ہوتا ہے اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس بات کو سمجھیں کہ ایک بیماری ہے جو گزر گئی۔ اس لیے خریداروں کو بھی سمجھانے اور بتانے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب کئی خریداروں نے بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جو لوگ بڑے جانور خریدنا پسند کرتے ہیں وہ وہی خرید رہے ہیں۔ تاہم جانور کو اچھی طرح سے تسلی کر کے اور دیکھ بھال کر خرید رہے ہیں۔ جبکہ کچھ ایسے لوگ بھی جو چھوٹے جانور کو خریدنے کو زیادہ ترجح دے رہے ہیں۔


News Source   News Source Text

مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.