bbc-new

’میک اِن انڈیا‘ پروگرام: فوجی ساز و سامان کی درآمد پر پابندی کا انڈین فوج پر کیا اثر پڑے گا؟

میراج، جیگوار، سخوئی اور رافیل جیسے لڑاکا طیارے ہوں یا اپاچی اور چنوک جیسے جنگی ہیلی کاپٹرز، انڈین فوج کی ’ریڑھ کی ہڈی‘ زیادہ تر وہی ہتھیار سمجھے جاتے ہیں جو بیرون ملک سے درآمد کیے جاتے تھے۔ مگر اب ان ہتھیاروں کی درآمد پر پابندی انڈین فوج کو کیسے متاثر کرے گی؟
انڈین فوج
Getty Images

رواں سال فروری میں دفاعی شعبے میں خود انحصاری کے موضوع پر منعقدہ ایک سیمینار میں انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے دفاعی نظام میں انفرادیت اور جدت کی اہمیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ دفاعی شعبے میں انفرادیت اور حیران کر دینے والے عناصر اُسی وقت آ سکتے ہیں جب انڈین فوج کو فراہم کیا جانے والا ساز و سامان انڈیا میں ہی تیار کیا جائے۔

اسی سیمینار میں وزیراعظم نریندر مودی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی منڈی سے فوجی ہتھیاروں کی خریداری کا عمل اتنا طویل ہے کہ اسلحہ آنے میں کافی وقت لگ جاتا ہے اور جب یہ اسلحہ فوج کے حوالے کیا جاتا ہے تو اس وقت تک وہ متروک ہو جاتا ہے (یعنی اس کی جگہ نئی ٹیکنالوجی اور جدید ہتھیار لے لیتے ہیں)۔

ان مسائل سے نمٹنے کے لیے مودی نے اس کا حل ’خود انحصار انڈیا‘ اور ’میک اِن انڈیا‘ پروگرام کو بتایا اور کہا کہ دفاعی بجٹ کا تقریباً 70 فیصد صرف مقامی طور پر اسلحہ بنانے کی صنعت کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

درآمدی ہتھیار انڈین فوج کے لیے ’ریڑھ کی ہڈی‘ کی حیثیت رکھتے ہیں

گذشتہ کئی برسوں سے انڈیا دنیا میں اسلحے کا سب سے بڑا درآمد کنندہ رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ چاہے وہ مگ، میراج، جیگوار، سخوئی اور رافیل جیسے لڑاکا طیارے ہوں یا اپاچی اور چنوک جیسے جنگی ہیلی کاپٹر ہوں، انڈین فوج کی ’ریڑھ کی ہڈی‘ زیادہ تر وہی ہتھیار اور فوجی ساز و سامان سمجھے جاتے تھے جو بیرون ملک سے درآمد کیے جاتے تھے۔

جہاں روایتی طور پر انڈیا دفاعی شعبے سے متعلق فوجی ساز و سامان اور ہتھیاروں کی خریداری کے لیے بیرون ممالک پر انحصار کرتا رہا ہے، وہیں گذشتہ چند برسوں میں انڈین حکومت کے ’خود انحصار انڈیا‘ پروگرام کے تحت دفاعی شعبے میں ساز و سامان اور ہتھیار انڈیا میں بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔

دریں اثنا، یہ خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ ’میک ان انڈیا‘ پالیسی کو ترجیح دینے کی وجہ سے انڈیا کی بری فوج، فضائیہ اور بحریہ اب بہت سے پرانے آلات کو تبدیل کرنے کے لیے بہت سے ضروری ہتھیاروں کے آلات یا پرزے درآمد کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ اور اس کی وجہ سے اُن کی عسکری تیاری اور مہارت متاثر ہو رہی ہے۔

انڈین فوج
Getty Images

بلومبرگ کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہتھیاروں اور آلات کی درآمد پر پابندیوں کی وجہ سے انڈین فوج کو سنہ 2026 تک جنگی ہیلی کاپٹروں اور 2030 تک سینکڑوں لڑاکا طیاروں کی کمی کا خطرہ ہے۔

دفاعی آلات کی درآمد پر پابندی

انڈیا کو دفاعی شعبے میں خود کفیل بنانے کے لیے وزارت دفاع نے گذشتہ چند مہینوں میں ایسی تین فہرستیں جاری کی ہیں جن میں ملک میں فوجی ساز و سامان تیار کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

ان فہرستوں کو مقامی سطح پر دفاعی ساز و سامان کی تیاری کی مثبت فہرست (پازیٹو انڈیجنائزیشن لسٹ) کا نام دیا گیا ہے اور ان میں وہ دفاعی آلات شامل ہیں جو سنہ 2020 سے 2028 تک انڈیا میں تیار کیے جائیں گے اور جن کی درآمد پر سال بہ سال پابندی عائد رہے گی۔

ان فہرستوں میں کل 310 دفاعی ہتھیار یا آلات شامل کیے گئے ہیں اور یہ طے کیا گیا ہے کہ کس سال تک ان کی درآمد کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔

انڈین فوج
Getty Images

لیکن ساتھ ہی حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر کوئی ایسی صورت حال پیدا ہوتی ہے جس میں ملکی صنعت مقررہ وقت یا مقدار میں ہتھیار یا آلات فراہم نہیں کر پاتی ہے یا اگر تیار شدہ آلات میں ایسی خامیاں پائی جاتی ہیں جو فوجیوں کی حفاظت کو متاثر کرتی ہیں تو درآمد کی اجازت کا فیصلہ دفاعی انڈیجنائزیشن کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے۔

لیکن انڈین حکومت کا کہنا ہے کہ سنہ 2020 اور 2028 کے درمیان، اس مثبت مقامی فہرست میں شامل ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے مالیت کے آلات مقامی صنعت سے حاصل کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان اور انڈیا کی عسکری قوت کا تقابلی جائزہ

کیا جے ایف 17 تھنڈر رفال طیاروں کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟

کیا انڈیا کا نیا ارجن ٹینک پاکستانی ٹینکوں پر برتر ثابت ہو سکتا ہے؟

فیوچر انفنٹری سولجر سسٹم انڈین فوج کو پاکستانی، چینی فوج پر برتری دلوا سکے گا؟

مثبت انڈیجنائزیشن کی فہرست میں نہ صرف عام دفاعی سازوسامان شامل ہیں بلکہ اس میں آرٹلری بندوقیں، بکتر بند جنگی گاڑیاں، ہلکے لڑاکا طیارے، ہلکے جنگی ہیلی کاپٹر، جدید میزائل اور کارویٹ (طیارہ شکن اور آبدوز شکن میزائل)، زمینی ہائی پاور ریڈار، زمین سے کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور مختلف قسم کےعسکری سافٹ ویئرز بھی شامل ہیں۔ اس فہرست میں ریڈیوز جیسے دفاعی نظام بھی شامل ہیں۔

انڈین فضائیہ کے بارے میں خدشات

مقامی سطح پر ہتھیاروں اور فوجی ساز و سامان کی تیاری اور میک ان انڈیا پر زور دینے کی وجہ سے سب سے زیادہ خدشات انڈین فضائیہ کے بارے میں اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس وقت انڈین فضائیہ کے پاس لڑاکا طیاروں کے 42 سکواڈرن ہیں لیکن ان میں سے صرف 32 سکواڈرن فعال ہیں۔

ان 32 سکواڈرن میں سے 12 ایس یو-30 ایم کے آئی لڑاکا طیارے ہیں، چھ جیگوار، چار مگ-21، تین سکواڈرن میراج 2000 اور تین مگ 29 لڑاکا طیارے، اور دو سکواڈرن ہلکے جنگی طیاروں کے ہیں۔ جبکہ ایک سکواڈرن رافیل لڑاکا طیاروں کا ہے۔

عام الفاظ میں انڈین فضائیہ کو دس سکواڈرن کی کمی کا مطلب یہ ہے کہ ملکی فضائیہ کے پاس تقریباً 180 لڑاکا طیاروں کی کمی ہے اور اس وقت اس کے پاس موجود کئی لڑاکا طیارے بہت پرانے ہیں۔

مثال کے طور پر مگ-21 لڑاکا طیاروں کو 1960 کی دہائی کے اوائل میں انڈین فضائیہ میں شامل کیا گیا تھا۔ اس طیارے کے گرنے کے اتنے زیادہ واقعات ہوئے کہ انھیں ’اڑنے والا تابوت‘ کہا جانے لگا۔ تقریباً 60 سال کے دوران مگ- 21 طیاروں کے تقریباً 400 حادثے ہوئے جن میں تقریباً 200 پائلٹ ہلاک ہوئے۔

نئے لڑاکا طیاروں کی انڈین فضائیہ میں شمولیت کی سست رفتار

آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے سینیئر فیلو اور دفاعی امور کے ماہر سوشانت سرین کا کہنا ہے کہ 'انڈین فوج میں استعمال ہونے والا کچھ فوجی سازو سامان بہت پرانا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ 'آج آپ 1960 میں تیارہ کردہ گاڑی بھی نہیں چلاتے۔ اسے بھی ونٹیج کہا جاتا ہے۔ مگ-21 لڑاکا طیاروں کو دس سال پہلے مرحلہ وار ختم کر دینا چاہیے تھا۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ یہ طیارے آپ کی فضائیہ کا ایک بڑا حصہ ہیں۔‘

ایک قابل غور امر یہ ہے کہ حکومت کا جس شرح سے پرانے لڑاکا طیاروں کو انڈین فضائیہ میں سروس سے ہٹانے کا منصوبہ ہے، اسی شرح سے نئے طیاروں کے آنے کے امکانات بہت کم ہیں۔

انڈین حکومت نے پہلے ہی ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) کو مقامی سطح پر تیار کردہ ہلکے جنگی طیارے تیجس مارک-1 کا آرڈر دے رکھا ہے، جس کے تحت 123 لڑاکا طیارے انڈین فضائیہ میں شامل کیے جانے ہیں۔

یہ کوئی راز نہیں ہے کہ انڈین فضائیہ کو نئے لڑاکا طیاروں کی فوری ضرورت ہے اور ہلکا جنگی جہاز تیجس مارک-1 ان عمر رسیدہ مگ-21 لڑاکا طیاروں کی جگہ لے گا جو فی الحال مرحلہ وار سروس سے ریٹائر کیے جا رہے ہیں۔

خلا کو پُر کرنے کی کوشش

حال ہی میں انڈین حکومت کی مرکزی کابینہ کی سکیورٹی کمیٹی نے ہلکے لڑاکا طیارے تیجس مارک-2 کی منظوری بھی دی ہے اور اندازہ ہے کہ اس قسم کے تقریباً 110 سے 120 لڑاکا طیارے انڈین فضائیہ میں شامل کیے جائیں گے۔

لیکن تیجس مارک-2 لڑاکا طیاروں کی تیاری 2030 سے پہلے شروع ہونے کا امکان نہیں ہے۔ تیجس مارک-2 آہستہ آہستہ میراج-2000، جیگوار اور مگ-29 لڑاکا طیاروں کی جگہ لے لیں گے۔

مقامی سطح پر فوجی سازو سامان کی تیاری کی پالیسی کے تحت دفاعی شعبہ جس اہم منصوبے پر نظریں جمائے ہوئے ہے وہ ایڈوانسڈ میڈیم کمبیٹ ایئر کرافٹ ہے جو کہ ففتھ جنریشن کا لڑاکا طیارہ ہو گا۔

اطلاعات کے مطابق انڈین فضائیہ ایڈوانسڈ میڈیم جنگی طیاروں کے سات سکواڈرن بنانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

انڈیا کی مقامی عسکری صنعت
Getty Images

اس کے ساتھ ہی حکومت انڈین فضائیہ میں 114 ملٹی رول لڑاکا طیارے شامل کرنے کا بھی منصوبہ رکھتی ہے۔

وزارت دفاع کے ذرائع کے مطابق ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) کے پاس اب ایک سال میں 16 لڑاکا طیارے بنانے کی صلاحیت ہے، جسے ضرورت پڑنے پر 30 طیاروں تک بڑھایا جا سکتا ہے۔

جہاں تک جنگی ہیلی کاپٹر بنانے کی صلاحیت کا تعلق ہے تو ذرائع کا کہنا ہے کہ (ایچ اے ایل) نے گذشتہ 20 برسوں میں 300 ہیلی کاپٹر بنا چکا ہے اور اب اس کے پاس سالانہ 50 سے زائد ہیلی کاپٹر بنانے کی صلاحیت ہے۔

’اپنی صلاحیتوں کو بڑھانا ضروری ہے‘

دفاعی ماہر سوشانت سرین کہتے ہیں کہ ’اگر آپ واقعی دفاعی سازوسامان اور جنگی آلات کی تیاری میں خود کفیل بننا چاہتے ہیں تو آپ کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کچھ اقدامات کرنے ہوں گے کہ آپ خود اپنی صلاحیتوں کو فروغ دیں اور درآمدات پر انحصار نہ کریں۔‘

سرین کے مطابق ایسی صورتحال میں ایک عبوری دور ہوتا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ یہ منتقلی بغیر کسی پریشانی کے ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ممکن نہیں ہے کہ آپ گذشتہ کل تک فوجی سازو سامان درآمد کر رہے ہوں اور آنے والے کل سے آپ انھیں تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ میرے خیال میں مسلح افواج کو جن مسائل کا سامنا ہو گا، ان میں سے کچھ اس تبدیلی کے عمل کا حصہ ہوں گے۔‘

رافیل لڑاکا طیاروں کی مثال دیتے ہوئے سوشانت سرین کہتے ہیں کہ ان طیاروں کو خریدنے کے لیے بات چیت شروع ہونے سے انڈین فضائیہ میں شامل ہونے تک تقریباً 20 سال لگے۔ وہ کہتے ہیں ’یا تو آپ ایسا کرتے رہیں یا آپ اپنا نظام خود تیار کریں۔ ہم اس سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور یہی وہ سمت ہے جس میں ہمیں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔‘

رافیل جنگی طیارہ
Getty Images

ریٹائرڈ ایئر کموڈور اور انڈین فضائیہ کے سٹریٹجک امور کے نقاد، پرشانت دیکشت کہتے ہیں کہ ’مقامی سطح پر ساز و سامان کی تیاری کے عمل سے گریز نہیں کیا جا سکتا۔‘

اُن کا کہنا ہے کہ دفاعی شعبے میں مقامی سطح پر فوجی سازو سامان بنانے کے عمل کو کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن ان کے ساتھ رہنے کی عادت ڈالنے کی ضرورت ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر ہم روس جیسے ممالک پر اپنا انحصار کم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں انڈیجنائزیشن کی طرف جانا ہو گا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’اگر سپیئر پارٹس کی فوری ضرورت ہو تو افواج حکومت سے مطالبہ کر سکتی ہیں۔ لیکن فی الحال ایسی کوئی صورتحال پیدا نہیں ہو رہی ہے۔ ہمیں طویل مدتی نقطہ نظر اپنانا ہو گا اور ہمیں آگے بڑھنا ہو گا۔ مقامی سطح پر فوجی سازو سامان کی تیاری کے اس عمل کے ساتھ۔ یہ ہمیں آنے والےبرسوں میں بچائے گا۔‘

مزید پڑھیے

انڈین فوج میں بھرتیوں کی نئی سکیم ’اگنی پتھ‘ پر ماہرین کو کیا تحفظات ہیں؟

کیا نریندر مودی انڈین فوج کے اہلکاروں کی تعداد میں کمی کر رہے ہیں؟

انڈیا کو پاکستانی فضائیہ کے بارے میں کیا جاننا ضروری ہے؟

ریٹائرڈ ایئر کموڈور پرشانت دیکشت کا کہنا ہے کہ مسلح افواج کو پریشان کرنے والے کچھ مسائل ہو سکتے ہیں، لیکن مقامی سطح پر سازو سامان اور آلات بنانے کا عمل اتنا بُرا نہیں ہے۔

انھوں نے انڈین فضائیہ کے لیے ایک نئے فوجی مال بردار طیارے کی مثال دی، جسے ٹاٹا اور ایئربس مل کر انڈیا میں تیار کریں گے۔ اس منصوبے کے تحت 56 میں سے 40 سی-295 طیارے انڈیا میں تیار کیے جانے کا ارادہ ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ انڈین فضائیہ میں 114 ملٹی رول لڑاکا طیاروں کو شامل کرنے کا کام بھی مقامی سطح پر طیاروں کی تیاری کی جانب ایک اہم قدم ہو گا۔

انڈین حکومت کیا کہتی ہے؟

انڈیا کی وزارت دفاع کے سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ انڈیا کی مسلح افواج کے پاس ہتھیاروں کی کوئی کمی نہیں ہے اور مسلح افواج کسی بھی سکیورٹی چیلنج کا سامنا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔

ان ذرائع کے مطابق موجودہ ’میک ان انڈیا‘ اقدام جدید ترین ہتھیار اور آلات فراہم کر رہا ہے جو نہ صرف دنیا کے بہترین ہتھیاروں اور آلات سے مقابلہ کرتے ہیں بلکہ کئی لحاظ سے وہ دنیا بھر میں دستیاب ہتھیاروں سے بہتر ہیں۔

وزارت دفاع کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ’جب ہماری مسلح افواج انڈیا میں تیار کردہ ہتھیاروں اور آلات سے لیس ہوتی ہیں، تو ان ہتھیاروں اور آلات کی انفرادیت کی وجہ سے دشمنوں کو حیران کرنے کی عسکری صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’دشمن ان ہتھیاروں کی صلاحیت سے بے خبر ہوتے ہیں جو درآمدی ہتھیاروں سے ممکن نہیں ہے۔‘

انڈیا
Getty Images

دفاعی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ جہاں ایک طرف انڈین مسلح افواج اب اپنی دفاعی ضروریات مقامی صنعت سے پوری کر رہی ہیں، وہیں دوسری طرف جہاں ملکی صلاحیت نہیں ہے، وہاں انڈیا میں موجود عالمی اوریجنل ایکوپمنٹ مینوفیکچررز (او ای ایمز) سے خریدنے کی ضرورت ہے۔ اور اس ضمن میں دفاعی ہتھیار و آلات بنانے والی کمپنیوں اورپلیٹ فارمز کو انڈیا میں سازو سامان تیار کرنے پر آمادہ کرنے کوششیں کی گئی ہیں۔

ایئربس اور ٹاٹا کے اشتراک سے انڈیا میں سی-295 جنگی مال بردار طیاروں کی تیاری کا حالیہ فیصلہ اس کی ایک مثال ہے۔ اس کے علاوہ اگر اس طرح کی پیداوار کے لیے معاشی استحکام موجود نہیں ہے تو حکومت غیر ملکی او ای ایمزسے ضروری آلات درآمد کرنے پر بھی غور کرتی ہے۔

انڈیا ہتھیاروں کی درآمد میں سب سے آگے

انڈیا کی وزارت دفاع کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرون ممالک سے 2.2 لاکھ کروڑ روپے کے معاہدے اور 5.07 لاکھ کروڑ روپے مالیت کا عسکری ساز و سامان خریداری کے مختلف مراحل میں ہیں۔

سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سپری) عالمی سطح پر مسلح تصادم، فوجی اخراجات اور ہتھیاروں کی تجارت کے ساتھ ساتھ تخفیف اسلحہ اور ہتھیاروں کے کنٹرول جیسے موضوعات پر ڈیٹا، تجزیہ اور سفارشات فراہم کرتا ہے۔

مارچ 2022 میں شائع ہونے والی سپری کی ایک رپورٹ کے مطابق 2012-16 اور 2017-21 کے درمیان انڈیا کی جانب سے ہتھیاروں کی درآمد میں 21 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود انڈیا 2017-21 کے درمیان سب سے زیادہ ہتھیار درآمد کرنے والا ملک تھا۔

اس عرصے کے دوران عالمی سطح پر اسلحے کی درآمدات میں انڈیا کا حصہ 11 فیصد تھا۔ اسلحے کی درآمد کے معاملے میں انڈیا کے بعد سعودی عرب، مصر، آسٹریلیا اور چین سب سے زیادہ ہتھیار درآمد کرنے والے ممالک تھے۔

انڈین فوج
Getty Images

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2012 سے 2016 اور 2017 سے 2021 کے دونوں ادوار میں روس انڈیا کو بڑے ہتھیار فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک تھا لیکن ان دونوں ادوار کے درمیان روس سے انڈیا کی درآمدات کے حجم میں 47 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اس کمی کی وجہ انڈیا کا ہتھیاروں اور دفاعی سازوسامان کو مقامی سطح پر تیار کرنے پر زور دینا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ 2017 اور 2021 کے درمیان فرانس سے انڈیا کی ہتھیاروں کی درآمدات میں دس گنا سے زیادہ اضافہ ہوا، جس سے فرانس انڈیا کو فوجی ہتھیار فراہم کرنے والا دوسرا بڑا ملک بن گیا۔


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.