والد نے اپنا نام دلاور رکھ لیا تھا کیونکہ ۔۔ اچانک اسلام قبول کرنے پر سنی دیول رو کیوں گئے تھے؟ سنی دیول کی زندگی کا سب سے مشکل وقت

image

سوشل میڈیا پر دلچسپ معلومات تو بہت ہیں، لیکن کچھ ایسی ہوتی ہیں، جو کہ سب کو حیرت میں مبتلا کر دیتی ہیں۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو سنی دیول کی زندگی کے اس لمحے کے بارے میں بتائیں گے جو وہ تکلیف میں تھے۔

سنی دیول اور بابی دیول مشہور اداکار دھرمیندر کے بیٹے ہیں، لیکن ساتھ ہی بالی ووڈ کے مشہور اداکار بھی ہیں۔ تاہم ان کی زندگی میں شہرت اور مقبولیت کے ساتھ ساتھ ایک ایسا تلخ دن بھی آیا تھا، جب وہ کوشش کر رہے تھے کہ میڈیا سے بچ کر رہے ہیں۔

دھرمیندر کی پہلی بیوی پرکاش کور نے دھرمیندر کو ہیما مالنی سے شادی کرنے کی اجازت نہیں دی تھی، دوسری جانب ہندو مذہب میں اگر دوسری شادی کرنی ہو، تو شوہر کو پہلی بیوی کو طلاق دینا پڑتی ہے، تاہم پرکاش کور اس حوالے سے رضامند نہیں تھی۔

نہ ہی پرکاش کور اور دونوں بیٹے سوچ سکتے تھے کہ والد کچھ ایسا کریں گے جو کہ انہیں حیران کر دے، لیکن 1979 میں جب دھرمیندر اور ہیما مالنی کے اسلام قبول کرنے کے بعد شادی کرنے کی خبر سامنے آئی تو جیسے سنی اور بابی دیول سمیت ان کی والدہ پرکاش کور پر بجلی گر گئی ہو۔

سنی دیول نے سب سےپہلے اپنی والدہ کو سنبھالا کیونکہ وہ پہلے ہی شوہر کی بے وفائی کا غم برداشت کر رہی تھیں اور پھر اوپر سے مسلمان ہو کر شادی کرنے کا غم اور آ گیا۔

یہ وہ وقت تھا جب میڈیا سمیت ہر ایک کی نظریں سنی، بابی دیول اور ان کی والدہ کی طرف تھیں۔

ایسے میں اگرچہ سنی دیول والد کو دیکھ کر دکھ اور افسردہ ہو جاتے تھے کیونکہ والد دن بہ دن ان سے دور ہوتے جا رہے تھے اور والدہ کو بھی سنی تکلیف میں نہیں دیکھ پا رہے تھے، لیکن مجبوری یہ تھی کہ وہ کچھ کر بھی نہیں سکتے تھے۔

اگرچہ دونوں بیٹے والد کے رویے پر افسردہ تھے تاہم ان دونوں کے والد کے ساتھ تعلقات خراب نہیں ہوئے، دونوں والد سے آج بھی اتنا ہی پیار کرتے ہیں، جتنا پہلے کرتے تھے۔ لیکن اس وقت کو یاد کر کے جب والد کی دوسری شادی نے والدہ کی آنکھوں کو پانی پانی کیا تھا، دل چھلنی کر دیا تھا، اس لمحے کو یاد کر کے سنی دیول جذباتی ہو جاتے ہیں۔


مزید خبریں
آرٹ اور انٹرٹینمنٹ
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.