حجاب پہنے پر گھر والے ڈر جاتے ہیں ۔۔ 17 سال کی عمر میں اسلام قبول کرنے والی لڑکی، جس کے والدین غیر مسلم ہیں، دیکھیے

image

سوشل میڈیا پر ایسی کہانیوں سے بھرا پڑا ہے جو کہ سب کو حیرت میں مبتلا کر دیتی ہے، کچھ تو اس حد تک حیرت انگیز ہوتی ہیں کہ سب کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔

سوشل میڈیا پر ایک ایسی دوشیزہ کی کہانی کافی وائرل ہے، جس کا گھرانہ والدین، عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں تاہم دوشیزہ اسلام قبول کر چکی ہے۔

کروشیا سے تعلق رکھنے والی حنا نے 17 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا تھا، چہرے پر حجاب اوڑھے، اسلام کے حوالے سے سنجیدہ نظریہ رکھنے والے حنا کے والدین کو شروعات میں تو اہمیت نہیں دی۔

انہی لگا شاید بیٹی کو شوق چڑھا ہے، چند دنوں میں اتر جائے گا، تاہم ان کی پریشانی میں اُس وقت اضافہ ہوا جب وہ عملی طور پر مسلمان ہونے لگی۔ حجاب کرنا، نماز پڑھنا اور اسلامی طور طریقے سے خود کو ڈھالنا انہیں پریشان کر رہا تھا۔

حنا کا کہنا تھا کہ میں 5 وقت کی نماز پڑھتی ہوں، میرا ایمان میرے لیے سب کچھ ہے۔ حنا اپنے والدین کی فرمانبرداری بھی کرتی ہیں، ان کے لیے وہ کھانے بنانے میں بھی مدد کرتی ہیں جو کہ اسلام میں حرام ہیں۔

والدہ کہتی ہیں کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ ہمیشہ کے لیے تبدیل ہو گئی ہے۔ یہ سب میرے لیے کافی مشکل تھا کیونکہ میری بیٹی 80 سالہ خاتون کی طرح رہن سہن کر رہی تھی اور یہ مجھے قبول نہیں تھا۔

جبکہ والد کا کہنا تھا کہ بیٹی کے عمل کے بعد فیملی اور دوست احباب ہم سے تعلق توڑ دیں گے، ایک خوفناک تجربے کے حوالے سے حنا بتاتی ہیں کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور مجھے کہا کہ تمہیں اپنے آپ کو مار دینا چاہیے، یہ سُن کر میں حیران رہ گئی۔

وہ بتاتی ہیں کہ مجھے میرے مذہب اور ایمان سے ہٹانے کی کوشش کرنے والے مجھے مزید میرے ایمان میں پختہ کر رہے ہیں۔


مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.