’جھاڑیوں میں بٹ کوائن مائننگ‘ لیکن گاؤں میں رہنے والوں کو ہزاروں ڈالر کے بٹ کوائن میں دلچسپی نہیں

افریقہ میں 60 کروڑ لوگ بجلی کی قابل اعتماد سہولت سے محروم ہیں۔ لیکن کرپٹو کرنسی کی ایک کمپنی اس صورتحال کو بدلنا چاہتی ہے۔ یہ کمپنی افریقہ کے دیہاتوں میں چھوٹے پاور پلانٹ لگانا چاہتی ہے تاکہ دور دراز علاقوں میں بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور بٹ کوائن کی مائننگ سے آمدن ہو۔
بٹ کوائن کی مائننگ کے لیے انجینیئروں نے عارضی کمپیوٹر لیب بنا رکھی ہے
BBC
بجلی اتنی سستی ہے کہ فلپ کی کینیا میں قائم کمپنی ’گرڈ لیس‘ کے لیے یہ فائدہ مند سودا بن گیا۔ اسی لیے انھوں نے بٹ کوائن مائننگ کے نازک کمپیوٹرز سے بھرا شپنگ کنٹینر 14 گھنٹے تک مشکل اور ناہموار سڑکوں پر گھسیٹ کر یہاں لا کر نصب کیا

افریقہ میں 60 کروڑ لوگ بجلی کی قابل اعتماد سہولت سے محروم ہیں لیکن کرپٹو کرنسی کی ایک کمپنی اس صورتحال کو بدلنا چاہتی ہے۔ یہ کمپنی افریقہ کے دیہات میں چھوٹے پاور پلانٹ لگانا چاہتی ہے تاکہ دور دراز علاقوں میں بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور بٹ کوائن کی مائننگ سے آمدن ہو۔

افریقہ کے چوتھے سب سے بڑے دریا زیمبیزی میں لاکھوں گیلن پانی کا شور سنائی دیتا ہے جب یہ پتھروں سے ٹکراتا ہے مگر یہاں ایک اور آواز واضح طور پر سنی جا سکتی ہے: بٹ کوائن کی مائننگ کے لیے لگائے گئے پلانٹ کا شور۔

فلپ والٹن مسکراتے ہوئے شپنگ کنٹینر کا جائزہ لیتے کہتے ہیں ’یہ پیسے کی آواز ہے‘۔

اس شپنگ کنٹینر میں 120 کمپیوٹر تیزی سے پیچیدہ قسم کا حساب کتاب کر رہے ہیں تاکہ بٹ کوائن کے لین دین کی تصدیق کی جا سکے۔

اس کے بدلے میں انھیں خودکار طور پر نیٹ ورک کی جانب سے بٹ کوائن ملتا ہے۔

ہم زیمبیا کے انتہائی شمال مغربی حصے میں کانگو (ڈی آر سی) کی سرحد کے قریب ہیں اور آج تک جتنی بھی بٹ کوائن مائنز میں نے دیکھی ہیں یہ ان میں سب سے انوکھی ہے۔

عام طور پر پانی اور الیکٹرانک آلات ایک ساتھ نہیں چلتے لیکن یہاں دریا کے قریب ہونے کی وجہ سے بٹ کوائن مائنرز کو یہ جگہ خاص طور پر پسند آئی ہے۔

فلپ کی یہ مائن براہ راست ایک پن بجلی گھر (ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ) سے منسلک ہے جو زیمبیزی دریا کے تیز بہاؤ کو دیوہیکل ٹربائنز سے گزار کر مسلسل صاف توانائی پیدا کرتا ہے۔

لیکن بٹ کوائن مائننگ کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہاں بجلی سستی ہے۔

بجلی اتنی سستی ہے کہ فلپ کی کینیا میں قائم کمپنی ’گرڈ لیس‘ کے لیے یہ فائدہ مند سودا بن گیا۔ اسی لیے انھوں نے بٹ کوائن مائننگ کے نازک کمپیوٹرز سے بھرا شپنگ کنٹینر 14 گھنٹے تک مشکل اور ناہموار سڑکوں پر گھسیٹ کر یہاں لا کر نصب کیا۔

اب بٹ کوائن مائن اس پلانٹ کی کل آمدنی کا 30 فیصد فراہم کر رہی ہے جس کی بدولت مقامی لوگوں کے لیے بجلی کی قیمت کم رکھی جا سکتی ہے۔
BBC
اب بٹ کوائن مائن اس پلانٹ کی کل آمدنی کا 30 فیصد فراہم کر رہی ہے جس کی بدولت مقامی لوگوں کے لیے بجلی کی قیمت کم رکھی جا سکتی ہے

ہر مشین روزانہ تقریباً پانچ ڈالر کماتی ہے۔ اگر بٹ کوائن کی قیمت زیادہ ہو تو منافع بڑھ جاتا ہے اور اگر قیمت گر جائے تو کمائی بھی کم ہو جاتی ہے۔

ہم سے بات کرتے ہوئے فلپ اپنی سمارٹ واچ پر نظر ڈالتے رہے جس میں انھیں بٹ کوائن کی قیمت کا مسلسل بدلتا ہوا گراف دکھائی دے رہا تھا۔

اس وقت بٹ کوائن کی قیمت 80 ہزار ڈالر کے قریب ہے لیکن فلپ کا کہنا ہے کہ یہاں کی سستی بجلی اور توانائی کمپنی کے ساتھ ان کی شراکت داری کے باعث وہ اس وقت بھی منافع کما سکتے ہیں جب بٹ کوائن کی قیمت نیچے چلی جائے۔

فلپ کہتے ہیں کہ ’ہم نے سمجھا کہ بہتر منافع کے لیے ہمیں بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے ساتھ شراکت کرنی ہوگی اور انھیں بھی کچھ حصہ دینا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اس قدر دور دراز مقام پر آئے کیونکہ یہاں ہمیں انتہائی سستی بجلی ملتی ہے۔‘

زینگامینا ہائیڈرو پاور پلانٹ بہت بڑا ہے لیکن تکنیکی طور پر یہ ایک منی گرڈ ہے یعنی مقامی آبادی کے لیے ایک الگ تھلگ بجلی کا نظام جو مرکزی قومی گرڈ سے منسلک نہیں۔

یہ ہائیڈرو پاور پلانٹ 2000 کی دہائی کے اوائل میں تعمیر کیا گیا تھا جس کے لیے تین ملین ڈالر کی رقم خیراتی عطیات سے اکٹھی کی گئی۔

ڈینیئل ریا جو برطانوی نژاد زیمبیا کے شہری ہیں، اس جگہ کے انتظامات سنبھالتے ہیں۔ ان کے مشنری خاندان نے اس منصوبے کو پایہِ تکمیل تک پہنچایا تھا جس کا بنیادی مقصد مقامی ہسپتال کو بجلی فراہم کرنا تھا۔

اب یہ پلانٹ تقریباً 15000 لوگوں کو بجلی مہیا کرتا ہے لیکن چونکہ مقامی آبادی میں بجلی کا استعمال زیادہ نہیں تھا اس لیے منصوبے کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو رہا تھا۔

یہاں بٹ کوائن مائننگ کی اجازت دینے سے یہ صورتحال یکسر بدل گئی۔

ڈینیئل بتاتے ہیں ’ہر روز ہم اپنی نصف سے زیادہ پیدا ہونے والی بجلی ضائع کر رہے تھے، جس کا مطلب تھا کہ ہمیں اتنی کمائی بھی نہیں ہو رہی تھی کہ اپنے اخراجات پورے کر سکیں۔ ہمیں کسی ایسے بڑے صارف کی ضرورت تھی جو بجلی استعمال کرے اور یہیں سے ’گرڈ لیس‘ کے ساتھ ہماری شراکت داری نے سب کچھ بدل دیا۔‘

اب بٹ کوائن مائن اس پلانٹ کی کل آمدنی کا 30 فیصد فراہم کر رہی ہے جس کی بدولت مقامی لوگوں کے لیے بجلی کی قیمت کم رکھی جا سکتی ہے۔

لیکن زینگامینا کے رہائشیوں کو بٹ کوائن اور اس کے معاشی نظام میں کوئی دلچسپی نہیں۔

یہاں مقامی آبادی والا قصبہ پاور پلانٹ سے کچھ میل کے فاصلے پر ہے اور جہاں ایک چوراہے کے گرد زیادہ تر چھوٹی جھونپڑی نما دکانیں اور عمارتیں بنی ہوئی ہیں۔

پورے قصبے میں صرف ایک دکان ایسی ہے جس میں فریج موجود ہے اور ایک کمپیوٹر بھی ہے جس کے گرد درجن بھر بچے جمع ہو کر باری باری اپنے پسندیدہ گانے چلاتے ہیں۔۔ ان کی اونچی آواز سے قریب سے گزرنے والے بڑی عمر کے افراد ناگواری سے منھ موڑ لیتے ہیں۔

Zengamina hydro plant
BBC

اگرچہ یہ پن بجلی پلانٹ 2007 میں کام شروع کر چکا تھا لیکن اسے مقامی قصبے تک پہنچانے میں مزید چند سال لگ گئے اور پھر گھروں اور دکانوں کو اس سے منسلک کرنے میں اور بھی وقت لگا۔

حجام دامیان بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جو اس نئی سہولت سے لطف اندوز ہو رہے ہیں کیونکہ انھیں صرف ڈیڑھ سال پہلے بجلی ملی۔

’بجلی ملنے سے پہلے میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔ میں کچھ کر ہی نہیں سکتا تھا۔ جب بجلی آئی تو میں نے ایک ہی وقت میں سب کچھ خرید لیا۔‘

وہ مذاق نہیں کر رہے۔ رات میں ان کی چھوٹی سی حجامت کی دکان روشنی سے جگمگا رہی ہوتی ہے۔۔۔ میوزک ویڈیوز چلانے والا ٹی وی، کرسمس لائٹس کی لڑی اور بال کاٹنے والی مشین کی بھنبھناتی آواز۔ نوجوانوں کے لیے ان کی دکان ایک پُرکشش جگہ بن چکی ہے جیسےیہ کوئی یوتھ ہوسٹل ہو۔

وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں ’بجلی نے میری زندگی بدل دی۔ اب جو پیسے میں دکان سے کما رہا ہوں ان سے بچوں کی سکول فیس بھی ادا کر سکتا ہوں۔‘

دامیان کے لیے بجلی لگوانا ایک کاروباری فیصلہ تھا۔ ان کے گھر میں صرف ایک بلب ہے جو دو کمروں کے درمیان روشنی کا کام دیتا ہے۔

قصبے کے چوراہے پر بیٹھی تنبہ اور لوسی لوگوں کو آتے جاتے دیکھ رہی ہیں۔ باقی نوجوانوں کی طرح وہ بھی اپنے موبائل فونز میں مگن ہیں۔

لوسی کہتی ہیں ’بجلی سے پہلے یہ قصبہ بنیادی طور پر جنگل جیسا تھا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ پہلے جو تھوڑی بہت بجلی میسر تھی وہ چھوٹے سولر پینلز سے آتی تھی۔ تنبہ کہتی ہیں ’یہاں نہ فریج، نہ ٹی وی، نہ موبائل نیٹ ورک تھا۔‘

لوسی مزید کہتی ہیں ’بجلی نے یہاں کے لوگوں کی زندگیاں مکمل طور پر بدل دی ہیں۔ اب ہم اپنے فون چارج کر سکتے ہیں، نیٹ ورک آ گیا اور ایک دوسرے سے رابطے میں رہ سکتے ہیں۔‘

تنبہ اور لوسی کا کہنا ہے کہ بجلی سے پہلے یہ قصبہ بنیادی طور پر جنگل جیسا تھا
BBC
تنبہ اور لوسی کا کہنا ہے کہ بجلی سے پہلے یہ قصبہ بنیادی طور پر جنگل جیسا تھا

یہاں زیادہ تر لوگ نہ تو بٹ کوائن مائننگ کے بارے میں جانتے ہیں اور نہ ہی انھیں اس کی پرواہ ہے حالانکہ اس نے پن بجلی پلانٹ کو چلانے میں مدد دی لیکن جلد ہی وہ اس کنٹینر کو قصبے سے گزر کر کسی نئی جگہ جاتے دیکھیں گے۔

زینگامینا ہائیڈرو نے ایک بڑی سرمایہ کاری حاصل کر لی ہے جس سے وہ مزید دیہات تک بجلی پہنچانے اور قومی گرڈ سے منسلک ہونے جا رہا ہے۔ اب وہ اضافی توانائی جو پہلے بٹ کوائن مائننگ میں استعمال ہو رہی تھی، قومی گرڈ کو فروخت کی جائے گی اور زینگامینا میں مائننگ مزید منافع بخش نہیں رہے گی۔

فلپ اور ان کی ٹیم اسے خوش آئند پیش رفت قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہاں ان کے چند کامیاب سال گزرے، زینگامینا کو فائدہ پہنچا اور یقیناً بٹ کوائن کے ذریعے معقول منافع بھی کمایا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ دنیا میں ایسی بہت سی جگہیں ہیں جہاں ’ضائع شدہ توانائی‘ موجود ہے اور وہ اپنی بٹ کوائن مائنز وہاں منتقل کر سکتے ہیں۔

’گرڈلیس‘ پہلے ہی تین افریقی ممالک میں چھ ایسے منصوبے چلا رہا ہے۔

زینگامینا سے شمال میں کانگو کے ویرونگا نیشنل پارک میں ایک اور بٹ کوائن مائن ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ کی اضافی توانائی استعمال کر رہی ہے جس سے پارک کے تحفظ کے منصوبوں کو مالی مدد مل رہی ہے۔

لیکن ’گرڈلیس‘ کا اگلا منصوبہ کہیں زیادہ بڑا ہے اور اب وہ خود اپنے ہائیڈرو پلانٹس بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں جو بٹ کوائن مائننگ کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں کو بجلی بھی فراہم کریں گے۔

کمپنی کی شریک بانی جینٹ ماعنگی کے مطابق اس منصوبے کے لیے وہ کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ افریقہ میں دریاؤں کے بہاؤ سے بجلی پیدا کرنے کے مواقع موجود ہیں۔

وہ وضاحت کرتی ہیں کہ افریقی کمیونٹیز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے توانائی کے بہتر ماڈلز کی ضرورت ہے۔

’گرڈلیس‘ کوئی خیراتی ادارہ نہیں بلکہ ان کا ماننا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں اور سرمایہ کاروں کے لیے معاشی استحکام صرف بٹ کوائن کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

نئی جگہوں کی تلاش یا موجودہ پلانٹس کے ساتھ شراکت داری کوئی مشکل کام نہیں لیکن کمپنی کو ابھی بھی کچھ حکومتوں اور اداروں کی مزاحمت کا سامنا ہے جو بٹ کوائن مائننگ کو بجلی کی فضول خرچی اور خودغرضانہ استعمال سمجھتے ہیں۔

کمپنی کا موقف ہے کہ بجلی ہمیشہ سب سے زیادہ قیمت دینے والے کو بیچی جاتی ہے اور ان کی ترجیح مقامی کمیونٹی ہی ہو گی۔

تاہم تاریخ بتاتی ہے کہ کسی ضابطے یا احتیاط کے بغیر بڑے پیمانے پر بٹ کوائن مائننگ قومی توانائی گرڈ پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔

2020-2021 میں قازقستان میں بٹ کوائن مائننگ کے عروج کے باعث ملک میں بجلی کی کھپت ساتفیصد تک بڑھ گئی تھی جس کے بعد حکومت نے سخت اقدامات لے کر اس صنعت کی رفتار کم کر دی۔

تاہم تاریخ بتاتی ہے کہ کسی ضابطے یا احتیاط کے بغیر بڑے پیمانے پر بٹ کوائن مائننگ قومی توانائی گرڈ پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔
BBC
تاہم تاریخ بتاتی ہے کہ کسی ضابطے یا احتیاط کے بغیر بڑے پیمانے پر بٹ کوائن مائننگ قومی توانائی گرڈ پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔

امریکہ، جو اب بٹ کوائن مائننگ کا نیا مرکز بن چکا ہے وہاں مائنرز، مقامی افراد اور رہائشیوں کے درمیان بجلی کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تنازعات عام ہیں۔

حکام نے کچھ بڑی مائننگ کمپنیوں کے ساتھ ایسے معاہدے کیے ہیں جن کے تحت انھیں بجلی کے بحران کے وقت اپنے کمپیوٹرز سے بھرے گیراج بند کرنے پڑتے ہیں تاکہ قومی گرڈ کو متوازن رکھا جا سکے۔

مثال کے طور پر نیویارک میں گرینیج گیس پاور پلانٹ جو بٹ کوائن مائننگ کے لیے تیار کیا گیا تھا، کو جنوری میں شدید سردی کے دوران بجلی کی فراہمی کے لیے اپنی مائننگ بند کرنا پڑی۔

اگر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ’بٹ کوائن کو امریکہ میں مائن، منٹ اور میڈ‘ کرنے کا خواب پورا ہونا ہے تو اس طرح کے معاہدے بڑے پیمانے پر کرنے ہوں گے۔

ماحولیاتی اثرات بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ اندازہ ہے کہ بٹ کوائن مائننگ پولینڈ جیسے ایک چھوٹے ملک جتنی توانائی استعمال کرتی ہے۔

تاہم کیمرج یونیورسٹی کے محققین جو ہر سال بٹ کوائن کی توانائی کھپت کا تخمینہ لگاتے ہیں، کا کہنا ہے کہ مائننگ توانائی کے زیادہ پائیدار ذرائع کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔

زینگامینا جیسے سیٹ اپ مائننگ انڈسٹری کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں مگر یہ اس چیز کی ایک نایاب مثال بھی ہے کہ متنازعہ صنعت صرف ڈیجیٹل کرنسی بنانے سے آگے جا کر مثبت تبدیلی بھی لا سکتی ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC
مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.