مسلمانوں کی نسل کشی کیوں ؟

(Inayat Kabalgraami, )

 کچھ دنوں قبل سوشل میڈیاپر ایک ویڈیودیکھنے کا اتفاق ہوا ،ایک ایسی ویڈیوں جس کو دیکھ کر پتھر دل انسان بھی رونے پر مجبور ہوجائے ، ویڈیو ہندستان کے ریاست راجستھان کی ہے ، جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک جنونی ہندوں (شمبو لال ) ایک مسلمان مزدورافراز السلام کو مزدوری کے بہانے بلا کر اسی کیکھودال سے اس کے پیٹھ پر وار کرتا ہے ، جس سے افراز السلام زمین پر گر جاتا ہیں اس کے بعد یہ جنونی ہندوں ایک کے بعد ایک وار کرکے افراز کو شدید زخمی کردیتا ہے ، پھر پیٹرول چیڑک کر آگ لگا دیتا ہے ، جس سے افراز السلام کی شہادت واقعی ہوجاتی ہیں ۔ یہ ویڈیو نہ تو پہلی ویڈیو تھی اور نہ ہی اس قسم کاظلم پہلی مرتبہ مسلمانوں پر کیا گیا ، برما،فلسطین، شام،عراق،کشمیر اور افغانستان کی موجودہ تاریخ ایسے مظالم سے بھری پڑی ہیں، اس قسم کی لاتعداد، ویڈیوز یوٹیوب یا دیگر سائڈز پر موجود ہے،’’ ایسا کیوں ؟’’ مسلمانوں کی نسل کشی ہی کیوں ‘‘؟ کیا وجہ ہے کہ دنیا کفر مسلمانوں کو اس طرح بیدردی سے قتل کرنے پر تولی ہوئی ہیں؟

آ ج مسلمانوں میں اتفاق و اتحاد ختم ہوچکا ہیں ، آج مسلمانوں کے اندر اخو ات و بھائی چارگی کا نام و نشان سرے سے موجود ہی نہیں ، آج مسلمانوں کے حکمران اپنے آپ کو بھیج چکے ہیں ،ایک زمانہ وہ بھی دنیا نے دیکھا کہ مدینہ منورہ سے چلی اسلام کی ہواؤں نے پوری دنیاکو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا ، کفار کے بڑے بڑے بادشاہ مسلمانوں کے سامنے بے بس ہوگئے تھے ، مسلمانوں کا ایک ہزار والا لشکر کفار کے ایک لاکھ کے لشکر کو شکست دیدیا کرتا تھا ، اور ایک آج کا زمانہ جہاں یورپین ہواؤں نے مسلمانوں کو دین سے دور کردیا ہیں، مسلمانوں کے حکمران مغربی دنیا کفر کے سامنے جھک چکے ہیں ، ڈیڑ ارب مسلمانوں اور ان کی ایک کروڑ سے زائد فوج ہونے کے باوجود ایک اسرائیل( جس کی کھل آبادی ستر لاکھ سے بھی کم ہے، )کے سامنے بے بس و شکست خوردہ نظر آرہی ہیں۔

اسی موقع پر ایک حدیث پاک یاد آئی لکھتا چلوں، ،حضرت ثوبان رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کے رسول اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا۔قریب ہے کے دوسری (غیرمسلم) قومیں تم سے لڑنے اور تمہیں مٹانے کے لئے اس طرح ایک دوسرے کو بلائیں کہ جیسے کھانا کھانے والے دوسرے (بھوکے) لوگوں کو دسترخوان پر بلاتے ہیں یہ سن کر صحابہ کرام رضوان اﷲ علیھم اجمعین میں سے کسی نے پوچھا۔۔۔ وہ لوگ ہم پر اس لئے غلبہ حاصل کرلیں گے کہ اس وقت ہم تعداد میں کم ہونگے؟۔ نبی پاکﷺنے فرمایا،،،،، بلکہ تم اُن دنوں بہت زیادہ تعداد میں ہوگے لیکن ایسے جیسے کہ دریا یا نالوں کے کنارے پانی کے جھاک ہوتے ہیں (یعنی تم نہایت کمزور اور ضعیف ہوگے) تمہارا رعب اور ہیبت دشمنوں کے دل سے نکل جائیگی اور تمہارے دلوں میں دھن کی بیماری پیدا ہوجائے گی کسی نے عرض کیا۔ اے اﷲ کے نبیﷺ دھن (ضغف وسستی) کیا چیز ہے،،،،حب الدنیا وکراھیہ الموت،دنیا کی محبت اور موت سے نفرت،یعنی اس دور میں مسلمان مادیت کی دوڑ میں اتنے آگے ہوں گے کہ دنیا کی محبت ان کے رگ وریشہ میں سراہت کر جائے گی جس کے نتیجہ میں وہ موت سے ڈرنے لگیں گے اور اس طرح جہاد فی سبیل اﷲ کو وہ ترک کردیں گے۔

محمد عربی ﷺ نے جو بھی ارشادات فرمائے وہ سب سچ ہے اور آج ہمارے سامنے دن کی روشنی کی طرح وا ضح ہورہے ہیں،آج پوری دنیا میں مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہونے باؤجود اقلیت بنتی جارہی ہیں، ستر سال سے زائد عرصہ ہوگیا ہیں کہ کشمیر پر ہندوں کا قبضہ ہے، وہ آئے روز مسلمانوں کے شہید کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں، ہزاروں کشمیری مسلمان ہندو قابض فوج کے مظالم سے شہید ہوچکے ہیں ، کشمیر میں ہندوستانی فوج جب چاہیئے کسی مسلمان عورت کو اپنی حوس کا نشانہ بناتھی ہیں جبکہ ہندوستان کے دیگر ریاستوں میں بھی مسلمانوں کا جینا دوبر کردیا گیا ہیں، ستر واں سال ہے فلسطین پر اسرائیل کے قبضے کا ، اسرائیلی مظالم سے آج تک ایک لاکھ سے زائد فلسطینی مسلمان شہید ہوچکے ہیں، لاکھوں کو بے گھر کردیا گیا ہیں۔ اسی طرح روس نے 1979میں افغانستان پر حملہ کرکے ہزاروں مسلمانوں کو بمباری کرکے شہید کردیا تھا ، نائن ایلون کا بہانہ بنا کر امریکا نے 2001میں افغانستان پر یلغار کردی جس سے گزشتہ سترہ سالوں میں لاکھوں کی تعداد میں مسلمان شہید ہوچکے ہیں ، ان میں ایک بڑی تعداد خواتین و بچوں کی بھی ہیں ، عراق پر امریکی مظالم دنیا کے سامنے ہیں ، شام میں مسلمانوں کا حال اور کمیائی بموں سے جلی لاشوں پر دنیا کی خاموشی سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہیں کہ دنیائے کفر مسلمانوں کے خلاف یک زبان ہوچکے ہیں،

آج دہشت گری کے نام پر بے گناہ مسلمانوں کو خاک و خون میں غرق کردیا گیا ہیں اور ان کے آباد گھروں کو ویرانوں میں تبدیل کردیاگیا ہیں۔ ابھی دہشت گردی کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام جاری تھا کہ ، دنیا میں خود کو امن پسند کہنے والے ’’بدہشتوں‘‘ نے برما میں حکومت کی مدد سے وہاں پر صدیوں سے رہ رہے، مسلمانوں کیخلاف ایک نئی جنگ کا آغاز کردیا ہے۔ جس میں لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں نے اپنے گھر بار چھوڑ کر مہاجروں کے طرح دوسرے ممالک کی سرحدوں پر پناہ گزین ہیں۔ اس لئے کہ ان کے ہرے بھرے کھیت کھلیان اور گھروں کو بودھ دہشتگردوں نے جلادئے اور ظلم و بربریت کا ایسا آہ آ کارمچایا کہ آج پوری دنیا ان کے ظلم پر حیران ہے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اس ملک کی نوبل انعام یافتہ خاتون رہنما مسلمانوں کی اس نسل کشی پر خاموش ہے۔سوشل میڈیا کے ذریعہ نکل کر آنے والے خبروں سے اس بات کا انکشاف ہورہا ہے کہ اس ظلم میں وہاں کی حکومت اور فوج کے ساتھ عوام بھی شامل ہے۔ جو مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیل رہے ہیں۔ ایسی صورت حال افریقہ کے کچھ ممالک کی بھی ہیں ، وہاں بھی مسلمانوں کو گاجر مولی سمجھ کر کاٹا جاتا ہیں۔

اتنے مظالم گھر سے بے گھری، قتل عام کے باوجو’’د مسلمانوں کی حالت زار‘‘ پر کوئی آواز تک اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہے، بلکہ اقوام متحدہ بھی اس ظلم کے خلاف اپنا سکوت توڑنے کے لئے تیار نہیں ہے۔اس سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتاہے، کہ اس کے پیچھے وہی استعماری طاقتیں کام کرہیں۔ جوروز اول سے مسلمانوں کی خلاف سازش میں مصروف ہے ، بس چاہیئے انہیں ایک موقع جو آج ہماری ناچاقیوں نے انہیں فرایم کیا ہے ۔ اس نازک حالات میں تمام مسلمانوں کی یہ اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہئے کہ وہ مسلکی منافرت کو چھوڑ کر آپسی اتحاد کا مظاہر ہ کریں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو وہ وقت دور نہیں۔ کہ جس میں ملک میں بھی مسلمان اقلیت میں ہو وہاں تو ان کے ساتھ ایسا سلوک ہوہی رہا ہے مگر اکثریت بھی اس کا شکار ہوسکتے ہیں، ان کے ساتھ بھی ایک دن ایساہوتا نظر آرہاہیں۔ جیسا کہ برما ،کشمیر ،افغانستان،فلسطین اور شام میں مسلمانوں کے ساتھ کیا جارہا ہیں۔
یا اﷲ توہی مسلمانوں کی حالات زار پر رحم فرما: ( آمین )

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Inayat Kabalgraami

Read More Articles by Inayat Kabalgraami: 30 Articles with 11738 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Dec, 2017 Views: 459

Comments

آپ کی رائے