کراٹے

(Rafi Abbas, Karachi)
خواتین اپنے تحفظ کے لیے مردوں کی قوت بازو پر انحصار کرنے کی بجائے اپنا دفاع خود کرنے کے لیے کراٹے کی تربیت حاصل کرتی ہیں

کراٹے کا کھیل ’’ریوکیویا اوکیناواجزیرے‘‘ میں عام لڑائی جھگڑوں کے طور پر شروع ہوا،لیکن چین میں یہ وہاں کی ثقافت کا ایک حصہ تھا۔ 1372 میں منگ شہنشاہوں کے دور میں چین کے جاپان سے تجارتی تعلقات استوار ہونے کے بعد ’’ریوکیو‘‘ آنے والے چینی سیاحوں نے وہاں مارشل آرٹس کے کچھ ااسٹائل متعارف کرائے۔ 1429 میں جاپانی شہنشاہ شوہاشی کے عہد میں اوکیناوا کو جاپان کی سیاست میں مرکزی حیثیت حاصل ہوگئی۔ 1477میں بادشاہ شوشن نے مذکورہ جزیرے میں تمام اقسام کے اسلحہ پر پابندی عائد کردی۔ 1609میں ’’شمیازو‘‘ قبائل کی اوکیناوا میں آمد کے بعد یہاں امن و امان کی فضا مکدر ہوگئی۔ اسلحہ رکھنے پر تو شاہی فرمان کے مطابق پابندی عائد تھی اس لیے وہاں کے مقامی باشندوں نے ان کا خالی ہاتھ سے مقابلہ کیا اور اس دور میں مارشل آرٹ کی کئی نئی جہت ایجاد ہوئیں۔ کراٹے کی موجودہ شکل آنکو ایٹوسو نے بیسوی صدی کے اوائل میں خود دفاعی کھیل کے طور پر ایجاد کی جس میں جسم کی حرکات و سکنات ، دفاع اور حملے کے وقت پوزیشن کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔کراٹے دو الفاظ کا مجموعہ ہے، کرا+ٹے جس کے لغوی معنی خالی ہاتھ کے ہیں۔ یہ کھیل چینی مارشل آرٹ کی ایک قسم ہے جس میں کھلاڑی حملہ کرتے ہوئے کہنی، گھٹنے، مکے اور اوپن ہینڈ تکنیکس جیسے اسپیئر ہینڈ اور ہام ہیل اسٹرائیک کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس کھیل میں کئی قدیم اور جدید انداز استعمال ہوتے ہیں جن میں جوڑوں کا لاک لگانا، مخالف کھلاڑی کو پھینکنا اوراس کے جسم کے اہم حصوں پر ضربات لگانایا دباؤ ڈالنا سکھایا جاتا ہے۔ کراٹے کی تربیت حاصل کرنے والے کھلاڑی کو ’’کراٹیکا‘‘ کہا جاتا ہے۔ 1922 میں جاپانی وزارت تعلیم نے اس کھیل کے استاد گیچن فونا کوشی کو اس کھیل کے مظاہرے کے لیے ٹوکیو مدعو کیا۔ 1924 میں کراٹے کی تعلیم کے لیے ’’کیو یونیورسٹی‘‘ قائم کی گئی جس میں کراٹے کی تعلیم کا شعبہ بھی رکھا گیا اور وہاں پہلی مرتبہ کراٹے کلب کا قیام عمل میں آیا۔ 1932 تک جاپان کی زیادہ تر یونیورسٹیوں میں کراٹے کلب بن گئے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد اوکیناوا کا جزیرہ امریکی بری فوج کا ایک اہم اڈہ بن گیا اور اس کے فوجیوں میں کراٹے کا کھیل خاصا مقبول ہوگیا۔ 1960 سے 1970 کے دوران کراٹے کے کھیل پر کئی فلمیں بنیں، جن کی وجہ سے اس کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا اور دنیا بھر میں کراٹے سکھانے کے اسکول اور تربیت گاہیں وجود میں آگئیں۔ امریکی نژاد ہانگ کانگ کے کھلاڑی ’’لی جن فین‘‘ جو بروس لی کے نام سے معروف ہوا، اس کا شمار مارشل آرٹ کے عظیم کھلاڑیوں میں ہوتا ہے، اس نے کراٹے کے کھیل میں اسپیڈ اور پرسکون انداز کو روشناس کرایا۔ بروس لی نے مذکورہ کھیل میں کئی جدید اسٹائل متعارف کرائے۔ اس کھیل میں کھلاڑیوں کو ان کی پوزیشن کے لحاظ سے مختلف رنگوں کی بیلٹ دی جاتی ہیں۔ کھیل کیتربیت کے وقت سفید بیلٹ اس کے بعد یلو، اورنج، گرین، بلیو، پرپل، برائون، ریڈ اور اس پر مکمل دست رس حاصل کرنے والے کھلاڑی کو بلیک بیلٹ دی جاتی ہے۔ خواتین میں بھی یہ کھیل خاصا مقبول ہے۔ زیادہ ترخواتین اپنے تحفظ کے لیے مردوں کی قوت بازو پر انحصار کرنے کی بجائے اپنا دفاع خود کرنے کے لیے کراٹے کی تربیت حاصل کرتی ہیں اور کئی خواتین کھلاڑیوں نے عالمی سطح پر خاصی شہرت حاصل کی۔ انہی میں سے 2014میں اس کھیل میں عالمی چیمپئن بننے والی اٹلی کی کراٹیکاز سارہ کاروین بھی شامل ہیں۔انہوں نے 14سال کی عمر سے کراٹے کے مقابلوں کا آغاز کیا اور اٹالین کراٹے چیمپئن شپ جیتی۔اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے بے شمار ملکی و غیرملکی انعامات، اعزازات اور میڈلز حاصل کیے۔ 2014میں کراٹے کی عالمی چیمپئن بنیں۔
جن مرد و خواتین کراٹیکاز نے اس کھیل میں ملک و قوم کا نام روشن کیا ان میں سے چند کا تذکرہ ذیل میں نذر قارئین ہے۔

محمد اشرف طائی
پاکستان میں یہ کھیل 60اور 70کی دہائی میں متعارف ہوا اور اس وقت سے آج تک اس میں کئی کھلاڑیوں نے ملک و قوم کا نام روشن کیا ہےجن میں پہلا نام محمد اشرف طائی کا ہے۔ وہ برما کے ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے، جس کا تعلق عرب کے قبیلہ’’ بنوطے‘‘ سے تھا اور ان کے آباء و اجداد حاتم طائی کی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا خاندان برما سے ہجرت کرکے مشرقی پاکستان منتقل ہوگیا۔ 1970میں وہاں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعداشرف طائی مغربی پاکستان چلے آئے۔ شروع میں بے روزگاری اور کوئی شناسا نہ ہونے کی وجہ سے وہ میری ویدر ٹاور کے ایک فٹ پاتھ پر شب بسری کرتے تھے، اسی فٹ پاتھ پر ان کے ساتھ ایک باڈی بلڈر بھی رات گزارتا تھا۔ اشرف طائی نے بھی9سال کی عمر میں برمی استاد لی فوشن سے کراٹے کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی اور16سال کی عمر میں بلیک بیلٹ حاصل کی تھی۔ ان کے ساتھی کو جب کراٹے کے کھیل میں ان کی مہارت کا علم ہوا تو اس نے انہیں اس کھیل کو ذریعہ معاش بنانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے اس پر عمل کرتے ہوئےکراٹے کےکھیل کو کراچی میں متعارف کراکے اپنی آمدنی کا ذریعہ بنایا اور ہل پارک میں طلباء کو مارشل آرٹ کی تربیت دینا شروع کی، جس کی وجہ سے ان کی مالی اور سماجی ساکھ بہتر ہونا شروع ہوگئی۔ پاکستان میں کراٹے کے بانی کی حیثیت سے انہوں نے پاکستان کراٹے فیڈریشن کی بنیاد رکھی اور پاکستان اسپورٹس بورڈ اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن سے اس کا الحاق کرانے میں کامیاب رہے۔ وہ کافی عرصے تک پاکستان کراٹے فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے، اس کے ساتھ انہوں نے کراٹے کے کھلاڑی کی حیثیت سے پاکستان کی جانب سے بے شمار ملکی و بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لیا۔انہیں 1978اور 1979میں دو مرتبہ ایفرو ایشین مارشل آرٹ چیمپئن، 9مرتبہ پاکستان میں کراٹے کے قومی چیمپئن اور 10ڈان بلیک بیلٹ ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ 2000ء میں امریکا کی انٹرنیشنل گرینڈ ماسٹر کونسل نے انہیں انٹرنیشنل گرینڈ ماسٹر کے اعزاز سے نوازاجو کسی پاکستانی کا یہ پہلا اعزاز ہے۔ انہیں دو مرتبہ پاکستان کے اعلیٰ ترین ایوارڈ ’’پرائیڈ آف پرفارمنس‘‘ سے نوازا گیا۔ پہلی مرتبہ انہیں 2003ء میں اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نےیہ اعزاز دیا جب کہ دوسری مرتبہ انہیں 2012ء میں صدر آصف علی زرداری نے ملک میں کراٹے کے کھیل کے لیے خدمات پر پرائیڈ آف پرفارمنس کے اسی اعزاز سے نوازا۔ ان کا 1971ء میں قائم کیا ہوا طائیز بانڈو کراٹے سینٹر اب تک ہزاروں مارشل آرٹس کے کھلاڑیوں کو تربیت فراہم کرچکا ہے اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ 1980ء میں ڈان ولسن سے ان کی آخری فائیٹ ٹوکیو میں منعقد ہوئی جس کے دوسرے رائونڈ میں وہ ہارگئے جس کے بعد انہوں نے اس کھیل سے ریٹائرمنٹ لے لی۔ 2017ء میں انہوں نے ڈان ولسن کے ساتھ فائٹ ہارنے میں ’’میچ فکسنگ‘‘ کا اعتراف کیا۔۔

کلثوم ہزارہ
کراچی میں رہنے والی کلثوم ہزارہ، بچپن سے کراٹے کی شوقین ہیں۔ وہ اپنے کیریئر کے دوران بے شمار ملکی و بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لے چکی ہیں، جن میں انہوں نے کئی تمغے جیتے ہیں۔ وہ کئی مرتبہ قومی اور جنوبی ایشین کراٹے چیمپئن بھی رہ چکی ہیں اور وہ واپڈا کی جانب سے کھیلتی ہیں۔ انہوں نے 2005ء میں تہران میں منعقد ہونے والے ویمن اسلامک گیمز میں پانچویں پوزیشن، 2006ء میں کولمبو، 2010ء میں ڈھاکا اور 2011ء میں دہلی میں منعقد ہونے والے سائوتھ ایشین گیمز میں دو طلائی اور 4کانسی کے تمغے حاصل کئے۔ تین مرتبہ کراٹے کی خاتون قومی چیمپئن اور دو بار نیشنل گیمز کراٹے چیمپئن رہ چکی ہیں۔

عبدالخالق
کراچی سے تعلق رکھنے والے عبدالخالق کا تعلق بھی واپڈا سے ہے۔ انہوں نے بھی انتہائی کم عمری میں کراٹے مقابلوں میں حصہ لینا شروع کیا اور بے شمار تمغے اور اعزازات حاصل کئے۔ 2005ء میں انہوں نے کراچی میں ہونے والی 15ویں قومی کراٹے چیمپئن شپ میں طلائی تمغہ، 2007ء میں لاہور میں منعقد ہونے والی انٹر یونٹ کراٹے چیمپئن شپ میں طلائی تمغہ، 2006ء میں سرگودھا میں ہونے والی 21ویں قومی کراٹے چیمپئن شپ میں دو چاندی کے تمغے، 2008ء میں سیالکوٹ میں منعقد ہونے والی 17ویں قومی کراٹے چیمپئن شپ میں ایک چاندی اور ایک کانسی، 2004ء میں 14ویں قومی کراٹے چیمپئن شپ میں کانسی، 2005ء میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والی قومی کراٹے چیمپئن شپ میں کانسی، 2009ء میں لاہور میں منعقد ہونے والی انٹر یونٹ کراٹے چیمپئن شپ میں چاندی، 2011ء میں راولپنڈی (جی ایچ کیو) میں منعقد ہونے والی 21ویں قومی کراٹے چیمپئن شپ میں چاندی کے تمغے حاصل کئے۔ 2011ء میں دہلی میں منعقد ہونے والی پہلی سائوتھ ایشین کراٹے چیمپئن شپ کے مقابلوں میں چاندی کا تمغہ حاصل کرچکے ہیں۔

سعدی عباس
سعدی عباس کراچی کے علاقے لیاری میں پیدا ہوئے۔ سات برس کی عمر میں انہوں نے اپنی بستی میں واقع کراٹے اکیڈمی میں داخلہ لیا۔ 2003ء میں سعدی نے پہلی مرتبہ کراٹے کی قومی چیمپئن شپ میں حصہ لیا اور طلائی تمغہ جیتا۔ وہ قومی مقابلوں میں سونے کا تمغہ جیتنے والے سندھ کے پہلے کراٹیکا زتھے۔ 2006ء میں انہوں نے جنوبی ایشین گیمز میں طلائی تمغہ جیتا اور سائوتھ ایشین چیمپئن بننے والے پہلے سب سے کم عمر پاکستانی کھلاڑی تھے۔ 2007ء میں ملائشیا میں ہونے والی ایشین کراٹے چیمپئن شپ میں پاکستان کی نمائندگی کی لیکن وہ تینوں کیٹگریز میں شکست کھا گئے۔ 2009ء میں انہوں نے ایشین مارشل آرٹس گیمز میں کانسی کا تمغہ جیتا۔ 2010ء میں جنوبی افریقہ اور 2013ء میں مانٹریال میں منعقد ہونے والی کامن ویلتھ کراٹے چیمپئن شپ میں طلائی تمغے جیتے۔ چین میں منعقد ہونے والی 11ویں ایشین کراٹے چیمپئن شپ میں سونے کا تمغہ حاصل کیا۔

انعام اللہ خان
پاکستان کے 7ڈان بلیک بیلٹ مارشل آرٹ کے کھلاڑی تھے اور انہوں نے یہ اعزاز جو ’’شیہان‘‘ کہلاتا ہے پیڈچانگ اور مسوتا تسواویاما سے تربیت حاصل کرکے جیتا۔ ان کا تعلق ضروبی گائوں ضلع صوابی کے دین دار گھرانے سے تھا۔ پرائمری تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ کراچی منتقل ہوگئے اور یہاں انہوں نے 1970ء میں گریجویشن کرنے کے ساتھ مارشل آرٹس کی تربیت حاصل کی اور جوڈو، کراٹے اور بانڈو کا کھیل سیکھا۔ 1977ء میں انہوں نے کوالالمپور میں منعقد ہونے والی عالمی کراٹے چیمپئن شپ کے مقابلوں میں دوسری پوزیشن جیتی اور ’’بہترین فائٹر‘‘ کا اعزاز حاصل کیا۔ 1978ء، 1979ء، 1983ء اور 1989ء میں قومی کراٹے چیمپئن شپ کا اعزاز جیتا۔ انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران 78مقابلے جیتے جب کہ 3میں شکست کھائی۔ وہ کراچی کراٹے ایسوسی ایشن کے صدر جب کہ سندھ کراٹے ایسوسی ایشن کے نائب صدر رہے، انہوں نے پاکستان، افغانستان، سعودی عرب، ازبکستان، بحرین اور ماریشیس میں کراٹے کے کیوکیشن طرز کو فروغ دیا۔ انہیں کراٹے میں پرائیڈ آف پاکستان اور لائف اچیومنٹ کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ نومبر 2007ء میں وہ اس دارفانی سے کوچ کرگئے۔

خواتین کراٹیکاز میں پاکستانی خاتون24سالہ حمیرا عاشق نے بین الاقوامی سطح پر ہونے والے جوڈو کراٹے میں پہلی بار گولڈ میڈل جیت کر پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔حمیرا کا تعلق لاہور سے ہے، وہ تعلیم کے ساتھ جوڈو کراٹے کی تربیت بھی حاصل کرتی رہی ہیں۔کٹھمنڈو میں ہونے والی سائوتھ ایشین جوڈوکراٹے چیمپئن شپ کے مقابلے میں انہوں نے نیپالی حریف کو شکست سے ہم کنار کرکے یہ تمغہ جیتا۔ان کے علاوہ دیگر پاکستانی خاتون کھلاڑیوں مریم جبار، بینش خان، شمائلہ گل، امبرین اور فوزیہ نے بھی چاندی کے تمغے جیتے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rafi Abbas

Read More Articles by Rafi Abbas: 109 Articles with 81096 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Dec, 2017 Views: 1228

Comments

آپ کی رائے