زیادہ تر سانحےدل کا دورہ پڑنے اور فٹ بالرز کی ایک دوسرے کو ککس لگنے یا ٹکرانے کی وجہ سے رونما ہوئے

(Rafi Abbasi, Karachi)

فٹ بال کا کھیل بے انتہا تیز اور جارحانہ انداز میں کھیلا جاتا ہے، جس میں کھلاڑی فٹ بال کو اپنی دسترس میں رکھنے اور مخالف ٹیم کی گول پوسٹ پر حملہ کرتے وقت تیز دوڑنے کی کوشش میں ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں،ساتھی کھلاڑیوں کو پاس دیتے ہوئے پوری قوت سےکک لگاتے ہیں، ہیڈ کا استعمال کرتے ہیں ، بعض اوقات ان کی کک اور سر کی ٹکر فٹ بال پر لگنے کی بجائے مخالف یا ساتھی فٹ بالر کےلگ جاتی ہے، جس کی وجہ سے اکثر و بیشترفٹ بالر زخمی یا مر جاتے ہیں۔ فٹ بال کے کھیل کے آغاز 1889 ء سے2016ء تک تقریباً 150 اموات واقع ہوچکی ہیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے 70 فیصد اموات کا سبب دل کا دورہ تھا جبکہ باقی کھلاڑی سر ،سینے اور پیٹ پر فٹ بال یا لات لگنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں سے چند کھلاڑیوں کے بارے میں ذیل میں مختصر احوال پیش کرتے ہیں۔
ولیم کرویر
برطانیہ کے فٹ بالر ولیم کرویرڈربی شائر کاؤنٹی کی جانب سے کھیلتے تھے۔ 1889ء میں’’ کیلی پارک، لنکن شائر‘‘ کے مقام پر’’ گرمیس ٹاؤن‘‘ کی ٹیم کے خلاف میچ کھیل رہے تھے کہ مخالف ٹیم کےرائٹ فل بیک ،ڈان ڈوئل کا گھٹنا ان کے پیٹ میں لگا، جس سے وہ فوراً زمین پر گر گئے، انہیں اٹھا کر ڈریسنگ روم میں لے جایا گیا، جہاں ان کی موت واقع ہوگئی۔ موت کا سبب چھوٹی آنت پر مہلک زخم بتایا گیا تھا۔
جیمز ڈنلپ
جیمز ڈنلپ اسکاٹ لینڈ کے کھلاڑی تھے۔۔ 1892ء میں پیسلے کے مقام پر ایک میچ کے دوران گرنے سے ان کا گھٹنا زخمی ہوگیا، اس زخم نے تشنج کی صورت اختیار کرلی، جس کی وجہ سے چند روز میںوہ زندگی کی بازی ہار گئے۔
جیمز لوگان
جیمز لوگان اسکاٹ لینڈ کے پروفیشنل فٹ بالر تھے ۔ ان کی وجہ شہرت 1894ء میں منعقد ہونے والے ایف اے کپ کے فائنل میں ناٹس کاؤنٹی کی جانب سے بولٹن وانڈررز کے خلاف ان کی طرف سے کیے جانے والے گولز کی ہیٹ ٹرک تھی، جس کے نتیجے میں ان کی ٹیم ایف اے کپ کی فاتح بنی تھی۔ 1900ء میں ایک میچ کے دوران گرنے سے ان کا بازو زخمی ہوگیا تھا، جس نے ٹیٹنس کی شکل اختیار کرلی جو بعد ازاں ان کی موت کا سبب بنا۔
ڈائی جونز
ڈائی جونزویلز کے کھلاڑی تھے اور بولٹن وانڈررز اور مانچسٹر سٹی کی جانب سے کھیلتے تھے۔ انہیں اپنے کیریئر کے دوران 14مرتبہ ویلز کی قومی ٹیم کی کپتانی کا اعزاز حاصل رہا۔ 1888ء میں ان کی قیادت میں ویلز کی ٹیم نے ویلش کپ جیتا۔ 1902ء میں وہ پری سیزن کا پریکٹس میچ کھیل رہے تھے کہ فٹ بال کو کک لگانے کے دوران ان کا پاؤں سلپ ہوگیا اور وہ گراؤنڈ میں گر گئے، جہاں کانچ کا ٹکڑا پڑا تھا، جس سے ان کا گھٹنا زخمی ہوگیااور یہ زخم انفیکشن کا سبب بنا، جس سے ان کی موت واقع ہوگئی۔
ڈیوڈ سولجر
ڈیوڈ سولجرولسن، برطانیہ کے پروفیشنل فٹ بالر اور سینٹر فارورڈ پوزیشن پر کھیلتے تھے، وہ برطانیہ کے علاوہ جنوبی افریقہ کی جانب سے فٹ بال کے مقابلوں میں حصہ لیتے تھے۔ 1906ء میں وہ لیڈزسٹی کی جانب سے برنلے کی ٹیم کے خلاف کھیل رہے تھے کہ میچ کے دوسرے ہاف میں وہ سینے میں درد کی وجہ سے گراؤنڈ سے باہر چلے گئے۔ انہیں ڈریسنگ روم میں لے جاکر طبی امداد دینے کی کوشش کی گئی لیکن وہ جان بر نہیں ہوسکے۔ ڈاکٹروں کی تشخیص کے مطابق انہیں دل کا دورہ پڑا تھا۔
ٹامی بلیک اسٹاک
ٹامی بلیک اسٹاک، اسکاٹش فٹ بالر تھے اور ڈیفنڈر کی پوزیشن پر کھیلتے تھے۔ 1907ء میں وہ مانچسٹر یونائیٹڈ کی جانب سے سینٹ ہیلنز کے خلاف کھیل رہے تھے کہ مخالف کھلاڑی کی جانب سے پھینکی گئی گیند انہوں نے سر سے روکنے کی کوشش کی لیکن وہ ان کے سر پر اتنی شدت سے لگی کہ اس کی ضرب سے میدان میں گر گئے، ان کے دماغ میں چوٹ آئی تھی، جس کی وجہ سے چند گھنٹے بعد وہ فوت ہوگئے۔
جیمز مین
جیمز مین اسکاٹ لینڈ کے فٹ بالر تھے جو ہیبرنین اور اسکاٹ لینڈ کی قومی ٹیم کی جانب سے رائٹ بیک کی پوزیشن پر کھیلتے تھے۔ ’’فرہل‘‘ کے گراؤنڈ پر، وہ پیٹرک تھسٹل کی ٹیم کے خلاف کرسمس کی خوشی میں منعقد ہونے والا ایک دوستانہ فٹ بال میچ کھیل رہے تھے کہ مخالف ٹیم کے آؤٹ سائیڈ لیفٹ، فرینک نے فٹ بال کو پوری قوت کے ساتھ کک لگانے کی کوشش کی جو فٹ بال پر لگنے کی بجائے قریب کھڑے جیمز کے پیٹ میں لگی جس سے ان کا پتہ پھٹ گیا اور اسپتال لے جاتے ہوئے وہ انتقال کرگئے۔
ہوریس فیئر ہرسٹ
ہوریس فیئر ہرسٹ برطانوی فٹ بال کے پروفیشنل کھلاڑی تھے جو دفاعی پوزیشن پر کھیلتے تھے۔ 1920 ء میں وہ انگلش لیگ میں اپنا بیسواں میچ، بلیک پول کی جانب سے کھیل رہے تھے کہ ایک کھلاڑی کی تیز ہٹ ان کے سر پر لگی جس کے نتیجے میں دماغ زخمی ہونے کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوگئی۔
جوشوا ولکنسن
جوشوا ولکنسن اسکاٹش فٹ بالر تھے جو ڈمبرٹن اور رینجرز کی جانب سے کھیلتے تھے۔ 1921ء میں میچ کھیلتے ہوئے وہ سر پر لگنے والی چوٹ کی وجہ سے انتقال کرگئے۔
ٹام بٹلر
ایک برطانوی فٹ بالرز تھے،جو ان سائیڈ لیفٹ کی پوزیشن پر کھیلتے تھے۔ انہوں نے اپنے کیرئیر کے دوران 60 لیگ میچز کھیلے جن میں 23 گول اسکور کیے۔ 1923ء میں پورٹ ویل کی طرف سے کھیلتے ہوئے مخالف ٹیم ڈارلسٹن کے کھلاڑی کی ٹکر لگنے سے وہ زمین پر گرگئے جس سے ان کا بازو ٹوٹ گیا۔ اس کی وجہ سے وہ تشنج کی بیماری میں مبتلا ہوگئے اور حادثے کے آٹھ دن بعد ان کا انتقال ہوگیا۔
البرٹ وان کولی
البرٹ وان کولی بلجیم کے فٹ بالر تھے،اور سپرسل بروگ کی جانب سے سینٹر فارورڈ کی پوزیشن پر کھیلتے تھے۔ 1927ء میں ٹور کوئینگ کے مقام پر وہ اپنی ٹیم کی جانب سے یو ایس ٹور کوئینگ کے خلاف میچ کھیل رہے تھے کہ مخالف ٹیم کی گول پوسٹ پر حملہ کرتے ہوئے گول کیپر سے ٹکرانے کے بعد گر کر زخمی ہوگئے۔ انہیں اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے مختلف اقسام کے ٹیسٹ کے بعد بتایا کہ مخالف کھلاڑی سے تصادم کی وجہ سے ان کی آنتوں کو نقصان پہنچاہے۔ انہیں بچانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن حادثے کے دوسرے روز وہ فوت ہوگئے۔
جان تھامسن
اسکاٹ لینڈ کے فٹ بالرجان تھامسن، جو سیلٹک اور اسکاٹ لینڈ کی قومی فٹ بال ٹیم کی جانب سے گول کیپر کی پوزیشن پر کھیلتے تھے، 1931ء میں آئیریکس کے مقام پرایک میچ کے دوران مخالف کھلاڑی کی جانب سے ہٹ لگائی گئی۔ گول کی جانب آتی ہوئی فٹ بال کو ڈائیو مار کر روکنے کی کوشش میں رینجرز کے کھلاڑی سام سے ٹکراگئے جس کی وجہ سے ان کی کھوپڑی کی ہڈی ٹوٹ گئی اور اسی شام ان کا انتقال ہوگیا۔
سم ریلے
برطانیہ کے پروفیشنل فٹ بالر تھے، 1934ء میںکلنگھم کی ٹیم کی جانب سےبرائٹن اینڈ ہووالبین کے خلاف میچ کھیل رہے تھے کہ مخالف ٹیم کے کھلاڑی پال مونے سے ٹکرا کر گرے جس کی وجہ سے انہیں برین ہیمبرج ہوگیا اور اسپتال میں دوران علاج دم توڑدیا۔
میٹوٹونیو
اسپینی فٹ بالر ، جو لیفٹ ونگ کی پوزیشن پر کھیلتے تھے، 1951 ء میں وہ’’ سیرا ‘‘کی ٹیم کی جانب سے جینٹی لانڈا کے خلاف میچ کھیل رہے تھے۔ پہلے ہاف میں انہوں نے میچ کے آغاز میں ہی گول کردیا۔ دوسرے ہاف میں ایک کھلاڑی کی کک ان کے پیٹ پر لگی جس کی وجہ سے ان کی حالت خراب ہوگئی، انہیں فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا جہاں طبی امداد دینے کے بعد انہیں گھر بھیج دیا گیا، اسی شام گھر پر ان کا انتقال ہوگیا۔
جان کربی
جان کربی ایک امریکی فٹ بالر تھے جو لیگ فٹ بال میں اسٹاک سٹی کی طرف سے کھیلتے تھے۔ 1953ء میں وہ ’’ورکہسام کلب ‘‘کی جانب سے بارو کلب کی ٹیم کے خلاف میچ کھیل رہے تھے کہ مخالف ٹیم کے کھلاڑی سے ٹکرا گئے جس سے ان کے دل پر شدید ضرب لگی اور وہ کھیل کے میدان میں ہی حرکت قلب بند ہونے کے باعث انتقال کرگئے۔
ٹونی ایلڈن
ٹونی ایلڈن امریکا کے پروفیشنل فٹ بالر تھے اور ہائی گیٹ یونائیٹڈ کی جانب سے کھیلتے تھے۔ 1967 ء میں ایف اے ایمیچر کپ کے کوارٹر فائنل میں انفیلڈ کے خلاف کھیلتے ہوئے وہ کسی دائمی بیماری کی وجہ سے گرائونڈ میں گرگئے اور انتقال کرگئے۔
نکولا مینٹوو
اٹلی کے فٹ بالر جو ایف کے اوسو گووکلب کی جانب سے کھیلتے تھے۔ 1973ء میں ایک لیگ میچ میں ایف اے ایس الیون اوکٹو مری کے خلاف کھیل رہے تھے کہ کھیل کے دسویں منٹ میں انہیں دل کا شدید دورہ پڑا۔ انہیں ڈریسنگ روم میں لے جا کر طبی امداد دی جارہی تھی لیکن وہ انتقال کرگئے۔
پوائو
فرانڈو پاسکل نیو س، جو پوائو کے نام سے مشہور تھے، پرتگال کے معروف فٹ بالر تھے اور پرتگیز لیگ میں ایف سی پورٹو کی جانب سے مڈفیلڈر پوزیشن پر کھیلتے تھے۔ 1973 ء میں ایک لیگ میچ کے دوران ا سیٹو بال کے خلاف کھیلتے ہوئے، کھیل کے 13ویں منٹ میں دل کا دورہ پڑنے سے فوت ہوگئے۔
ٹونی ایو یارڈ
ٹونی ایو یارڈ انگلش فٹ بالر تھے اور اسکاربرو کی جانب سے کھیلتے تھے۔ 1977 ء میں ایک میچ کے دوران سر پر شدید چوٹ لگنے کی وجہ سے فوت ہوئے۔
رینا توکیوری
رینا توکیوری اٹلی کے فٹ بالر تھے 1977 ء میں مقامی کلب جووینتس کے خلاف کھیلتے ہوئے دوسرے ہاف کے پانچویں منٹ میں دل کے دورے کی وجہ سے انتقال کرگئے۔
ایرک جانگ بلیوڈ
ہالینڈ کے معروف فٹ بالر تھے اور ڈی ڈبلیو ایس ایمسٹرڈیم کی جانب سے کھیلتے تھے۔ وہ فیفا ورلڈکپ 1978ء میں بھی حصہ لے چکے تھے۔ 1984ء میں ایک نمائشی میچ کے دوران سر میں تکلیف ہونے کی وجہ سے گرائونڈ میں گرگئے اور کچھ دیر بعد ان کا انتقال ہوگیا۔
موکنڈی تسمایہ
موکنڈی تسمایہ،کیمرون کے فٹ بالر تھے۔ 1995ء میں ایک میچ کے دوران مخالف کھلاڑی کی کہنی ان کی گردن پر لگی جس سے ان کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی، انہیں اسپتال لے جایا جارہا تھا لیکن وہ راستے میں انتقال کرگئے۔
مائیکل گوڈرڈ
اسپینی فٹ بالر جو ڈنڈیلا کلب کی جانب سے کھیلتے تھے، 1995ء میں ڈنگانون سوفٹز کے خلاف اسٹینگ مورپارک میں میچ کے دوران مخالف کھلاڑی کی جانب سے پھینکی گئیفٹ بال ان کے سینے پر آکر لگی جس کی وجہ سے ان کا قلب متاثر ہوا اور وہ اسپتال لے جاتے ہوئے انتقال کرگئے۔
پیڈی پرفیسا
پیڈی پرفیسا،تیونس کے فٹ بالر تھے جو اسپیرنیک اور تیونس کی قومی ٹیم کی جانب سے ڈیفنڈر کھلاڑی کی حیثیت سے کھیلتے تھے۔ 1997 ء میں ایک دوستانہ میچ کھیلتے ہوئے دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے انتقال کرگئے۔
ایکسل جپٹنر
ایکسل جیپٹنر،جرمنی کے فٹ بالر تھے، جو بنڈس لیگا میں وی ایف سی اسٹٹگرٹ کی جانب سے کھیلتے تھے۔ 1998 ء میں ’’جینا‘‘ کے علاقے میں ٹریننگ سیشن کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔
ایری اریانتو
ایری اریانتو،سربیا کی فٹ بال ٹیم کے کھلاڑی تھے۔ 2000 ء میں’’ گیلورا 10 نومبر اسٹیڈیم‘‘ میں پی ایس آئی ایم یوگیا کارٹہ کے خلاف میچ کھیل رہے تھے کہ دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے زمین پر گر گئے اورانتقال کرگئے۔
حسنی گاسیمی
حسنی گاسیمی الجزائر کے فٹ بالر تھے، 1991 ء میں فرانس کی لیگ ٹیم سے منسلک ہوگئے تھے۔ 2000 ء میں پیرس میں ایک میچ کے دوران ہیڈ کے ذریعے گول کرتے ہوئے ان کا سر مخالف ٹیم ،یو ایس ایم انبا کے ڈیفنڈر یوسین سلاتنی سے ٹکراگیا جس کی وجہ سے وہ چکرا کر گرگئے۔ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا انتقال ہوگیا، ان کی موت کا سبب دماغ میں لگنے والی چوٹ بتایا گیا۔
کیٹانس ہلڈان
کیٹانس ہلڈان، رومانین فٹ بال ایسوسی ایشن کے مڈفیلڈر تھے جو ایف سی ڈینا موبخارسٹ اور رومانیہ کی قومی ٹیم کی جانب سے کھیلتے تھے۔ 2000ء میں ڈینا مور اور ایف اولٹینٹا کے میچ کے دوران 74ویں منٹ میں وہ دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے گرائونڈ میں گرگئے اور چند منٹ بعد ان کا انتقال ہوگیا۔
مارک ویوین
کیمرون کےبین الاقومی فٹ بالر،جو کلب اور کاؤنٹیز کی جانب سے مڈفیلڈ پوزیشن پر کھیلتے تھے۔ 2003ء میں فیفا ورلڈ کپ سیمی فائنل میں کھیل کے دوران 72 ویں منٹ میں وہ گرائونڈ میں گرگئے۔ انہیں اسٹریچر پر ڈال کر ڈریسنگ روم پہنچایا گیا جہاں انہیں طبی امداد دی گئی، لیکن ان کی طبیعت بہتر نہ ہوسکی۔ جس کے بعد انہیں اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ انتقال کرگئے۔
علی بکر
علی بکر ملائیشیا کی قومی فٹ بال ٹیم میں شامل تھے اور مڈفیلڈر کی پوزیشن پر کھیلتے تھے۔ وہ 1972ء میں میونخ اولمپکس فٹ بال مقابلے اور ایران میں منعقد ہونے والے 1974 کے ایشین گیمز میں حصہ لے چکے تھے جب کہ ڈھاکا میں آغا خان گولڈ کپ بھی جتوانے میں ان کا نمایاں کردار تھا۔ 2003ء میں سنگاپور میں فٹ بال کے چیریٹی میچ کے دوران وہ دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔
پال سرگینو
پال سرگینواولیوارا ڈی سلوا، برازیل کے معروف فٹ بالر تھے جو ساؤسیتانو کی جانب سے ڈیفنڈر کی پوزیشن پر کھیلتے تھے۔ 2004ء میں وہ ساؤ پولو کی ٹیم کے خلاف میچ کھیل رہے تھے کہ انہیں دل کا شدید دورہ پڑا اور وہ زمین پر گر گئے۔ انہیں فوری طور سے اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ انتقال کرگئے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان کے دل کا سائز 600گرام ہوگیا تھا جو ایک عام آدمی کے دل کی بہ نسبت دوگنے حجم کا تھا۔
کرسٹیانو جونیئر
کرسٹیانوڈی لیما جونیئر ، برازیلین فٹ بالر تھے جو ویمپو کلب کی جانب سے فارورڈ پوزیشن پر کھیلتے تھے۔ 2004ء میں وہ بھارت کے شہر بنگلور میں سوبارٹا پال کی ٹیم کے خلاف ایف اے کپ کا فائنل میچ کھیل رہے تھے کہ کھیل کے 78ویں منٹ میں اپنی ٹیم کی طرف سے دوسرا گول کرنے کی کوشش میں مخالف ٹیم کے گول کیپر، مورگن سے ٹکر کر گرے اور بے ہوش ہوگئے، انہیں فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا جہاں ان کا انتقال ہوگیا۔ بنگلور اسپتال کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان کی موت ’’ہرٹ اسٹروک‘‘ کی وجہ سے واقع ہوئی۔
ایلن پیکو
ایلن پیکو، کیمرون کے فٹ بالر تھے اور مینورل مٹاساری ٹیم کی جانب سے گول کیپر کی حیثیت سے کھیلتے تھے۔ 2005ء میں ایک دوستانہ میچ کے دوران انہوں نے اپنے گول پوسٹ کی طرف آنے والی ایک تیز گیند کو سر سے ہٹ لگاکر روکنے کی کوشش کی جس کے دوران وہ زمین پر گر گئے، انہیں فوری طور سے ڈریسنگ روم لے جاکر طبی امداد فراہم کی گئی لیکن وہ جان بر نہ ہوسکے۔ ان کی موت بھی دل کا دورہ پڑنے سے واقع ہوئی۔
ہرو جی کسٹک
ہرو جی کسٹک، کروشیا کے فٹ بالر تھے اور مڈفیلڈر کی حیثیت سے این کے زیڈر کی ٹیم کی جانب سے کھیلتے تھے۔ 2008ء میں وہ ایچ این سیبالیا کی ٹیم کے خلاف میچ کھیل رہے تھے کہ مخالف کھلاڑی سے فٹ بال چھیننے کی کوشش میں گراؤنڈ کے اطراف بنی ہوئی کنکریٹ کی دیوار سے ٹکر کر گرے اورکومامیں چلے گئے، انہیں فوری طور سے اسپتال پہنچایا گیا، جہاں ان کے دماغ کا آپریشن ہوا لیکن حادثے کے تیسرے روز بے ہوشی کی حالت میں ہی وہ انتقال کرگئے۔
جمادی ابدی
جمادی ابدی، انڈونیشین فٹ بال ٹیم کے مڈ فیلڈر تھے اور 2005ء میں ساؤتھ ایشین گیمز میں بھی شرکت کرچکے تھے۔ 2009ء میں وہ مولاورمان اسٹیڈیم میںپرسیلاز کی ٹیم کے خلاف میچ کھیلتے ہوئے مخالف ٹیم کے کھلاڑی، ڈینی ٹرکاس سے ٹکرا گئے، جس سے ان کے معدے میں شدید چوٹ آئی، انہیں فوری طور سےیونٹانگ کے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا آپریشن کیا گیا لیکن ان کی طبیعت سنبھل نہ سکی اور موت واقع ہوگئی۔
انڈورینس ایداہور
نائیجریا کے فٹ بالر تھے جو سوڈانی کلب المریخ کی جانب سے کھیلتے تھے۔ 2010ء میں وہ ’’الامل اٹبارا‘‘ کے خلاف میچ کھیلتے ہوئے گراؤنڈ میں گر گئے، انہیں اسپتال لے جایا جارہا تھا کہ راستے میں فوت ہوگئے۔ ان کی موت بھی دل کے دورے سے واقع ہوئی۔
محمد فہد
محمد فہد، کویتی فٹ بالر تھے، جو قدسیہ ایس سی کی طرف سے کھیلتے تھے۔ انہوں نے اپنے فٹ بال کیریئر میں بے شمار اعزازت حاصل کیے تھے، جن میں وہ چار مرتبہ کویتی پریمیئر لیگ، چار مرتبہ کراؤن پرنس کپ، دو بار الخرافی کپ اور دو مرتبہ جی سی سی چیمپینز لیگ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔ وہ سینٹرفارورڈ کی پوزیشن پر کھیلتے تھے اور کھیل کے دوران متعدد مرتبہ زخمی بھی ہوئے جس کی وجہ سے ان کا کھیل متاثر ہوا تھا۔2013ء میں وہ انصر سی سی کی جانب سے کھیل رہے تھے کہ مخالف ٹیم کے کھلاڑی کی سر پر ٹکر لگنے کی وجہ سے زمین پر گر گئے، ان کے دماغ کی رگ پھٹ گئی اور خون جاری ہوگیا، جس کی وجہ سے وہ کوما میں چلے گئے۔ ڈاکٹروں نے انہیں بچانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن ایک ماہ کوما میں رہنے کے بعد ان کا انتقال ہوگیا۔
گریگوری میرٹنز
گریگوری میرٹنز بلجیم کے پروفیشنل فٹ بالر تھے، جو سینٹرل ڈیفنڈر پوزیشن پرکھیلتے تھے۔ 2015ء میں وہ لوکرین کی ٹیم کی جانب سے کھیل رہے تھے کہ دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے زمین پر گر گئے۔ انہیں اسپتال لے جایا گیا جہاں یوئیفا حکام نے ان کے علاج کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کی، لیکن وہ جان بر نہیں ہوسکے اور چند روز بعد انتقال کرگئے۔
متسوداناؤکی
متسوداناؤکی، جاپانی فٹ بالر تھے، جو وہاں کی قومی ٹیم کی جانب سےسینٹرل ڈیفنڈر کی پوزیشن پر میچ میں حصہ لیتے تھے۔2011ء میں انہوں نے متسوموٹو یاگاما ایف سی کے ساتھ جاپان فٹ بال لیگ کھیلنے کا معاہدہ کیا۔ ٹریننگ سیشن میں پریکٹس کے دوران وہ دل کا دورہ پڑنے کے باعث زمین پر گر گئے، ڈریسنگ روم میں لے جاکر انہیں طبی امداد فراہم کی گئی لیکن ان کی طبیعت بحال نہیں ہوسکی۔ دوسرے روز ان کا انتقال ہوگیا۔
دی وینکاتش
دی وینکاتش بھارتی فٹ بالرتھے جو بنگلور مارس کلب کی جانب سے کھیلتے تھے۔ 2012ء میں، دوستانہ میچ کے آخری لمحات میں میدان میں گر گئے، جب ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا تو وہ فوت ہوچکے تھے۔ ان کی موت کا سبب بھی دل کا دورہ بتایا گیا۔
کرار حسین
پاکستانی فٹ بالر جو کراچی میں ملیر محمڈن کی جناب سے فارورڈ پوزیشن پر کھیلتے تھے۔2001میں آرسی ڈی گراؤنڈ میں ایک دوستانہ میچ کے دوران مخالف کھلاڑی کی کک پیٹ میں لگنے سے زمین پر گر گئے، انہیں قریبی اسپتال لے جایا گیا، جہاں مختلف ٹیسٹ کی رپورٹوں سے معلوم ہوا کہ ان کا پتہ پھٹ گیا تھا۔ ان کی زندگی بچانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن حادثے کے دوسرے روز وہ انتقال کرگئے۔
پیٹرک ایکنگ
پیٹرک ایکنگ کیمرون کے پروفیشنل کھلاڑی تھے اور انہوں نے 2015کے افریقہ کپ آف نیشنز میں بھی حصہ لیا تھا۔ بعد ازاں وہ سوئٹزرلینڈ، اسپین اور رومانیہ میں کھیلتے رہے۔2016ء میں وہ ڈائناموبکورسٹی کلب کی جانب سے وائٹورل کن ٹنٹا کے خلاف میچ کھیل رہے تھے ۔ اس دن صبح ہی سے ان کی طبیعت نڈھال تھی اور وہ دوسرے ہاف میں متبادل کھلاڑی کے طور پر شامل ہوئے تھے۔ دوسرے ہاف کے ساتویں منٹ میں ہی وہ گراؤنڈ میں گر گئے۔ انہیں ایمبولینس میں ڈال کر اسپتال لے جایا گیا، جہاں دو گھنٹے بعد ان کی موت واقع ہوگئی۔ ان کی وفات کے بعد رومانیہ کی وزارت داخلہ کی طرف سے تحقیقات کی گئی تو معلوم ہوا کہ انہیں جس ایمبولینس میں اسپتال لے جایا جارہا تھا، اس میں طبی آلات ناکارہ اور ادویات زائد المیعاد تھیں جب کہ اس میں موجود ڈاکٹر ایلینا ڈیوٹا نے انتہائی شقی القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی زندگی بچانے کی کوئی کوشش نہیں کی، جس کی وجہ سے ان کا مرض شدت اختیار کرگیا، اور نتیجہ ان کی موت کی صورت میں نکلا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rafi Abbasi

Read More Articles by Rafi Abbasi: 109 Articles with 79516 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Jan, 2018 Views: 450

Comments

آپ کی رائے