جہالت کاخاتمہ کیوں ضروری ہے؟ قسط 5

(محمد فاروق حسن, ڈسکہ)
اور اگر پھر بھی ہجرت سے آگے نکل کر مدنی دور میں جھانکنے کی کوشش کی تو پھر زمین سے دوسرے سیاروں کی طرف ہجرت کرادی جائے گی اور راکٹ کے ساتھ باندھ کر خلا میں بھیج دیا جائے گا کہ جیسے کافروں نے عبدالرّحمان ابن عوف سے بیوی بچّے چھین لیے تھے جب وہ مدینہ کی طرف ہجرت کر رہے تھے تو تھوڑی دور کا سفر انھوں نے کیا تھا کہ بیوی کے میکے والوں نے گھیر لیا اور اس سے اس کی بیوی چھین کر لے گئے اور جب تھوڑی دور اور آگے گئے تو بچّوں کو ان کے والد اور بھائیوں نے گھیر لیا کہ یہ ہمارے خرچے پر پلے ہیں تو نے اگر ہجرت کرنی ہے تو اکیلا جا اور سواریاں اور ساز وسامان بھی چھین لیا اور بھوکے پیاسے ان کو کئی دن کا سفر کرنا پڑا-

ناصرف بدلہ لیا جاتا ہے بلکہ یہ ایک سلسلہ ہی عسائیوں نے شروع اس لیے کیا ہوا ہے کہ کہ بدلہ لینے والی مشینیں ہی چلا دی ہیں یہ مشینیں پوری دنیا میں چل رہی ہیں رینچ یا پلاس پیچ کس اسکریو ڈرائیور یہ ایک آلہ ہوتا ہے اور درجنوں اور سینکڑوں آلات کا مجموعہ ہوتا ہے مشین اور آٹو میٹک مشین کا کام ہوتا ہے کہ نان سٹاپ پراڈکٹس کرتے جانا کرتے جانا تو ان لوگوں نے جہالت کی مشینیں ہی چلا رکھی ہیں کہ بدلہ لیتے ہی جانا ہے لیتے ہی جانا ہے اور اس طرح سے ان لوگوں نے مسلمانوں کو پونی صدی یا اس بھی زیادہ پوری صدی پیچھے چھوڑ دیا ہے یہ سکول کالج یونیورسٹیاں ان کی مسلمانوں سے بدلہ لینے والی مشینیں ہیں اسی لیے عیسائی مشینری سکول کہا جاتا ہے -

5 - اللہ نے قرآن پاک میں حکم فرمایا ہے کہ عورتوں کے ساتھ معروف طریقے سے گزر بسر کرو یعنی عورتوں کی تعلیم اسلام کے مطابق ہو وہ اسلام کے مطابق تمھاری اطاعت گزار بن کر رہیں تو ان کے ساتھ معروف طریقے سے زندگی بسر کرو مگر ظالموں نے ایسی سازش کھیلی ہے کہ معروف طریقے ہی بدل ڈالے ہیں اس کی جگہ بدلے کے طریقے رائج کر دئیے ہیں مثال کے طور پر فصل کی کٹائی اگر معروف طریقے سے کی جائے اور مزدوروں کے ذریعہ کرائی جائے تو اگر مشینوں کے ذریعہ سے فصلوں کی کٹائی کی جائے تو ان دونوں طریقوں میں کتنا فرق ہے اور مسلمان معروف طریقے چلتے رہیں اور کافر مشینوں کے ذریعہ بدلے کی سیاست چلائے ہوئے ہیں تو اس صورت میں مسلمان بے چارے تو آہستہ آہستہ ختم ہوتے جائیں گے -

یہ پراکسی وار ہے اگر مسلمان مشینوں والے طریقے اپنانا چاہیں تو ان کو بے شمار ایسے چیلنجز کا سامنہ ہوتا ہے کہ وہ اسلام سے منحرف ہو جائں اور اپنے ملک اور قوم کے ساتھ غدّاری کریں سود کے بغیر گزارہ نہیں اس بات کا عملی طور پر امتحان دیں جب وہ دیکھتے ہیں کہ اب یہ مسلمان نہیں رہا اور مکمل طور پر کریمینل بن چکا ہے تو تب جاکر اس کو مال دار بنایا جاتا ہے جو لوگ اللہ کی نازل کردہ شریعت کی پیروی کرتے ہیں ان کو ہر چیز سے محروم ہونا پڑتا ہے ماں باپ بہن بھائی بیوی بچّے گھر کاروبار نوکری تنخواہ جائداد عزّت و آبرو سب کچھ بھئی جب بدلے کی مشین جو چل رہی ہے تو اس کو جب یہ ظالم روکیں گے نہیں اس وقت تک بے چارہ مسلمان مظلوم کیا کرے -

6 - جو لوگ فرعون کے ظلموں سے نہیں گھبرائے تھے حالانکہ پہلے وہ لوگ اسی کے ہی ساتھی تھے ان جیسے ایمان والوں کے خلاف ظالموں نے مشینیں ہی لگا دی ہیں اور یہ کہا جاتا ہے کہ بریلویوں کو ہم نے میلاد سے آگے نہیں جانے دینا ہے اور دیو بندیوں کو اعلان نبوّت سے آگے نہیں جانے دینا اور اہلحدیثوں کو ہجرت سے آگے نہیں جانے دینا باقی رہ گئے شیعہ اور قادیانی ان کے ذریعے تو ہم مسلمانوں کو مروا رہے ہیں اور قادیانی اور شیعہ وہ ہی تو ہوتا ہیں جو ان کی ڈیمانڈز پر پورا اترتے ہیں اسلام اور ملک کے ساتھ غدّاری کرو شرک سود زنا کاری جادو ٹونہ سمیت تمام گناہوں کا ارتقاب کرو اور ہمارے امتحانات پر پورا اترو تو ہم تم لوگوں کو مشینوں کو استعمال کرنے دیں گے اور پروٹوکول دیں گے اور کہتے ہیں کہ اہلحدیثو اگر ہجرت سے آگے نکلو گے تو یاد رکھو کہ پھر پکّی ہی ہجرت کرنی پڑے گی

جیسے ٹپری واس اپنی جھونپڑ پٹّی جہاں جی کرے لگا کر بیٹھ جاتے ہیں اور جب وہاں لوگ انہیں پہچاننے لگ جاتے ہیں کہ یہ لوگ تو بھکاری ہیں تو لوگ ان کو بھیگ بھی نہیں دیتے اس لئے بے چاروں کو جھونپڑ پٹّی اٹھا کر کہیں اور جانا پڑتا ہے اور اس طرح سے بے چارے اس بات کی سمجھ بوجھ ہی بھول جاتے ہیں کہ ہم لوگوں نے عیسائی مشینریز کی پیروی نہیں کی ہے اور وہ لوگ بینکوں میں اکاّونٹ کھلواتے ہیں اور تمام گناہوں کی پیروی کرتے کرتے دین اسلام سے کوسوں دور چلے جاتے ہیں اور جرائم پیشہ بن جاتے ہیں اور ایسی صورت حال میں ہجرت سے آگے کیسے نکل سکتے ہیں بلکہ حالات کا شکار ہو کر ان کو دیوبندیوں کی طرح اعلان نبوّت تک ہی رہنا پڑتا ہے کہ آقا فرماتے ہیں قولو لاالٰہ الاّ اللہ تملک العرب والٰعجم ایسا صرف کہنے کی حد تک ہی کر سکتے ہیں -

اور اگر پھر بھی ہجرت سے آگے نکل کر مدنی دور میں جھانکنے کی کوشش کی تو پھر زمین سے دوسرے سیاروں کی طرف ہجرت کرادی جائے گی اور راکٹ کے ساتھ باندھ کر خلا میں بھیج دیا جائے گا کہ جیسے کافروں نے عبدالرّحمان ابن عوف سے بیوی بچّے چھین لیے تھے جب وہ مدینہ کی طرف ہجرت کر رہے تھے تو تھوڑی دور کا سفر انھوں نے کیا تھا کہ بیوی کے میکے والوں نے گھیر لیا اور اس سے اس کی بیوی چھین کر لے گئے اور جب تھوڑی دور اور آگے گئے تو بچّوں کو ان کے والد اور بھائیوں نے گھیر لیا کہ یہ ہمارے خرچے پر پلے ہیں تو نے اگر ہجرت کرنی ہے تو اکیلا جا اور سواریاں اور ساز وسامان بھی چھین لیا اور بھوکے پیاسے ان کو کئی دن کا سفر کرنا پڑا-

اور اسی طرح سے عیسائی مشینریز کا کہنا ہے کہ ہم پاوں تلے سے زمین بھی چھین لیں گے اور اس طرح سے سیدھے سادے لوگوں کو ڈرا دیا جاتا ہے اور اتنا ڈرا دیا جاتا ہے اتنا ڈرا دیا جاتا ہے کہ وہ ان کی ڈیمانڈز پوری کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور اپنے مفادات عزّت وآبرو ان کو گروی رکھوانا پڑتا ہے اور پھر بھکاریوں جیسی زندگی گزارنی پڑتی ہے اور پھر اس سے بھی بڑے اور کڑے امتحانوں سے گزرنا پڑتا ہے کہ ٹرپّل سیکس پر مبنی موویاں بنانی پڑتی ہیں اور کئی کئی مردوں سے زنا کرنا پڑتا ہے اور اس بھی بڑھ کر اپنی کھوئی ہوئی عزّت حاصل کرنے کے لئے گھوڑوں اور کتّوں کے ساتھ بھی سیکس کرنا پڑتا ہے اور اس کی وہ موویاں بنا بنا کر دنیا کی مارکیٹوں میں فروخت کرتے ہیں اور نشے کا کاروبار کرنا پڑتا ہے اور خود کش حملوں کی بھی کاروائیاں کرنی پڑتی ہیں ایسے ظالم ہیں عیسائی مشنریوں والے اور خود مذہبی رہنما بن کر بیٹھے ہوتے ہیں اور مذہبی ترقیاتی فنڈز پر خوب دہشت گردی کا کاروبار چلاتے ہیں -

7 - مذہبی راہنما بن کر وہ ظالم کیا کرتے ہیں کہ دعوت و تبلیغ کی آڑ میں عزّت دار امام مسجدوں کی عزّتوں کو پامال کیا جاتا ہے اور اور یہاں تک بے غیرتی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے کہ جب اپنی دینی سرگرمیوں میں مصروف ہوتے ہیں تو ان کی بیویوں کے ساتھ ناجائز مراسم استوار کیے جاتے ہیں اور ایک میرا ماموں کا لڑکا ہے اس نے ایک دن مجھے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ جتنے بھی امام مسجد ہوتے ہیں ان سب کی بیویاں زنا کی عادی ہیں

اور کئی کئی نوجوان لڑکے ان کے یار ہوتے ہیں اور میں ان کا چشم دید گواہ ہوں میں یہ سب سن کر دنگ رہ گیا تھا حالانکہ میں خود جادو کا شکار ہو کر اپنی عزّت گنوا چکا ہوں اور ساتھ ساتھ صحت مندی اور جنسی صحت بھی میں اس کو یہ ہی کہتا رہتا تھا کہ اللہ سے ڈرو ایسی بے ہودہ باتیں نا کیا کرو تو وہ کہتا کہ اللہ سے تو ان لوگوں کو ڈرنا چاہیے جو یہ کالے کرتوت کرتے ہیں یا کرواتے ہیں میں جواب دیا کہ بھائی اللہ تعالیٰ حکمرانوں کو ہدایت دے وہ اسلام کا نفاذ کریں اور کافروں کے خلاف جہاد کا آغاز کریں -

یہ سارے کالے کرتوت عیسائی مشنریوں کے زیر اہتمام ہو رہے ہیں اور وہ بڑی ڈھٹائی سے ایسے بے غیرتی اور بے حمیّتی کے کام کرتے ہیں کیونکہ ان کی کثرت کی وجہ سے اور ملک کی باگ ڈور غلط ہاتھوں میں ہونے کی وجہ سے یہ سارے کام ہو رہے ہیں اور اب تو الیکشن بھی برائے نام ہو رہے ہیں اور مردم شماری بھی اکثر و بیشتر لوگ ان سیاست دانوں سے بے زار ہو چکے ہیں اور پولنگ سٹیشنوں پر سکول ماسٹروں کی ڈیوٹیاں لگتی ہیں اور ظاہر ہے کہ وہ عیسائی مشنریوں کے آڈرز کے خلاف کچھ کام نہیں کر سکتے کیونکہ سکولوں میں نوکریاں کرنا ان کا روزی کا مسئلہ ہے

اور کہا جاتا ہے کہ جس کھاو اسی کےگن گاو میں کہا کرتا ہوں یہی وہ راء کا سقوط بنگلہ دیش سے 10 گنا بڑا منصوبہ ہے جو انھوں پاکستان میں لانچ کیا ہوا ہے اور افسر شاہی اس گھناونے منصوبے پر تیزی سے عمل کر رہے ہیں اور افسر شاہی وہ لوگ ہیں جن پر نا مارشل لاء سے کوئی فرق پڑتا ہے اور نا ہی دوسری حکومتوں کے بدلنے سے وہ اپنے عہدوں پر پکّے رہتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ تینوں قسم کے لوگوں کو افسر شاہی اپنے ہاتھو ں میں رکھتے ہیں کہ مارشل لاء لگا ہوا ہو تو کس سے کیا کروانا ہے اور ان کے پاس جو پیسا ہوتا ہے اس سے دوسرے سیاست دانوں کو بھی اپنی مٹھّی میں رکھتے ہیں جیسے ایک آدمی چار شادیاں کر لیتا ہے تو چاروں بیویوں کا خرچہ برداشت کرتا ہے اسی طرح سے افسر شاہی بھی ایسے سیاست دانوں کو کوٹھیاں بنگلے مراعات دے دے کر اپنے پاس ہی رکھتے ہیں بوقت ضرورت کام آئیں گے جس قسم کے لوگوں کی بھی حکومت آئے گی وہ ہمارے نمک خواروں کی ہوگی اور وہ وہی کام کریں گے جو ہم ان سے کہیں گے اور افسر شاہی اپنے ناپاک عزائم کو جاری رکھے ہوئے ہیں جیسے انھوں نے مشرقی پاکستان علیحدہ کیا کہ اس میں بھی اسلام نافذ کرنا نا ممکن ہو چکا ہے اور پاکستان میں بھی ایسے ہی حالات پیدا کیے جارہے ہیں جیسے بنگلہ دیش اور پاکستان میں دوریاں ڈال دی گئی ہیں اسی طرح پاکستان میں اور افغانستان اور سعودیہ میں بھی ڈالی جارہی ہیں ایسے کاموں میں آئزہ حان اور ماریا واسظی جیسی اداکارائیں جنرل راحیل بھی بن کر ملک کی باگ ڈور سنبھال سکتی ہیں اور اداکار بھی اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اگر ملکوں کے ملک چھنوانے سے بچنا ہے تو اسلام کا خاتمہ ہونے سے بچانا ہے تو جہالت کا خاتمہ کرنا ہوگا ------------------------ جاری ہے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد فاروق حسن

Read More Articles by محمد فاروق حسن: 108 Articles with 82696 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Jan, 2018 Views: 441

Comments

آپ کی رائے