تعلیمی نظام اور طبقاتی تقسیم

(Maryam Naz, )

انسان کی تخلیق مٹی سے کی گئی انسان اپنے شعور کی وجہ سے تمام ذی روح اجسام پر فوقیت رکھتا ہے تعلیم انسان میں شعور پیدا کرتی ہے. تعلیم کی بدولت ہی انسان اچھے برے کی تمیز کر سکتا ہے اچھائی اور برائی میں فرق تعلیم کی بدولت ہی ممکن ہے بعض اوقات آپ نے کسی ان پڑھ شخص کو ایسا عمل کرتے دیکھا ہوگا جو برائی کے زمرے میں آتا ہوگا لیکن وہ اس کو اچھائی سمجھ کر کررہا ہوگا اس سے یہ ثابت ہوا کہ انسان میں کسی کام کو کرنے کا شعور تو ہے لیکن اسے اچھائی اور برائی کی تمیز نہیں ہے تعلیم جو ہے وہ انسان کو اس بات کا شعور دیتی ہے کہ آپ اچھائی اور برائی کا پلڑا الگ الگ رکھیں یعنی تعلیم ہی مسائل کا حل ہے لیکن جیسا کہ آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ ہمارے ملک کا شمار ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے اس لیے ہمارے تعلیمی نظام میں بے شمار خامیاں موجود ہیں ہمارا تعلیمی نظام ہمارے مسائل حل کرنے کی بجائے مسائل بڑھا دیتا ہے۔ آپ خود دیکھیں کہ پاکستان میں تین قسم کے تعلیمی نظام ہیں اور یہ تین طبقاتی تعلیمی نظام ہمارے ملک کی کوئی خاص خدمت نہیں کر رہے بلکہ ہمارے ملک اور نوجوان نسل کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں. ان نظام کی وجہ سے ہمارے طلبا کی ڈگریوں کو بیرون ملک خاص اہمیت نہیں دی جاتی اور انہیں دوبارہ سے اپ گریڈ ہونا پڑتا ہے. بہت سی تنظیموں اور دانشوروں نے اس نظام کے خلاف آواز اٹھائی لیکن حکومت کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی. شاید یہ ان کے نوٹس میں نہیں یا وہ لاپرواہ بیٹھے ہیں یا وہ اسے اتنا اہم مسئلہ نہیں سمجھتے۔
1۔ اردو میڈیم جو سرکاری سکولوں یا گلی محلوں کیسکولوں میں پڑھایا جاتا ہے۔ جس میں اردو مضامین اور اسلامیات کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اور ان سکولوں میں غریبوں کے بچے ہی پڑھ سکتے ہیں۔اور ان سکولوں کے طلبا کو رٹا سسٹم پر لگایا جاتا ہے۔جو ان کے مستقبل کے لئے کار آمد نہیں ہے.
2۔ انگلش میڈیم جو بیکن ہاوس، دی ایجوکیٹرز، کیتھڈرل سکول نمایاں ہیں ان سکولوں کی فیسیں زیادہ ہیں جس کی وجہ سے صرف امرا، جاگیرداروں، سرمایہ داروں کی اولادیں ہی پڑھ سکتی ہیں۔ کسی غریب آدمی کی اولاد مالی حالات کی وجہ سے یہاں نہیں پڑھ سکتی۔ ان سکولوں میں اسلامی مضامین، اردو کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔
3۔ مدرسے۔ جن میں اسلامی مضامین کو اہمیت دی جاتی ہے جبکہ انگلش، کمپیوٹرسائنس، سائنس کے مضامین کو یکسر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ جبکہ بعض مدرسے فرقہ واریت، انتہا پسندی اور نفرت پھیلاتے ہیں اور طلبا کی توجہ صرف دینی علوم پر ہی رکھتے ہیں۔ ان کے طلبا کو صرف یہی بتایا جاتا ہے کہ ان کو صرف مولوی بننا ہے نا کہ ڈاکٹر، سائنسدان، انجینیر وغیرہ.

ہمارے ہاں کوئی تعلیمی نظام مکمل نہیں ہے تو پھر ہم میں شعور کیسے آئے گا۔ یہ سب تعلیمی نظام غریب عوام کے طلبا میں احساس کمتری پیدا کرتے ہیں اردو میڈیم کے طالب علم جب تعلیم سے فارغ ہوتے ہیں تو ان کو ان کوکوئی اچھی نوکری وغیرہ نہیں ملتی۔ یہ لوگ ایم اے یا بی اے کی ڈگری لے کر بھی اچھی طرح انگلش نہیں بول سکتے اور ان میں اعتماد کی کمی ہوتی ہے. جبکہ انگلش میڈیم کے اکثر طلبا میں یہ بات نوٹ کی ہے کہ وہ اردو میں کمزور ہوتے ہیں اور اردو نہ تو ٹھیک طریقے سے لکھ پاتے ہیں اور نہ ہی پڑھ سکتے ہیں اور یہ طلبا اردو مضامین میں اکثر کمزور ہوتے ہیں. مدرسے سے فارغ التحصیل طلبا کا مسئل یہ ہے کہ انہوں نے صرف قرآن، فقہ، حدیث وغیرہ پر عبور حاصل کیا ہوتا ہے جبکہ وہ نہ تو کوئی کلرک قسم کی نوکری کر سکتے ہیں نہ ہی سائنسدان، ڈاکٹر یا انجینئر بن سکتے ہیں. زیادہ تر طلبا کسی مسجد میں امامت شروع کردیتے ہیں یا کسی مدرسے میں پڑھانا شروع کر دیتے ہیں یا پھر وہ حمد و نعت خوانی شروع کر دیتے ہیں. میرے خیال ان افراد کو ہمارے ہاں ایک الگ طبقہ تسلیم کیا جاتا ہے.

میرے خیال میں ایک یکساں تعلیمی نظام جوطلبا کی بہتر رہنمائی کرے اور اس تعلیمی نظام میں جہاں سائنس، ٹیکنالوجی، انگلش، کمپیوٹر کو اہمیت دی جائے وہاں اردو اور اسلامیات اور دیگر دینی علوم کو بھی خصوصی اہمیت دی جائے. اور یہ تعلیمی نظام رٹا سسٹم کا سخت مخالف ہو اور پورے پاکستان کا تعلیمی نظام ایک ہی ہو تاکہ ہم نسلی اورصوبائی عصبیت سے نکل سکیں. اور ہم قابل اور باصلاحیت افراد پیدا کر سکیں.
اس سلسلے میں حکومت کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے. اگر حکومت پورے پاکستان کا تعلیمی نظام ایک کر دیتی ہے تو ہمارے بہت سے مسائل خود بخود حل ہوتے جائیں گے جن میں نوجوانوں میں اعتماد کی کمی، نوجوان نسل کے نفسیاتی مسائل، بہتر مواقع کا مسیر نہ ہونا، باصلاحیت افراد کی کمی وغیرہ شامل ہیں.

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Naz

Read More Articles by Maryam Naz: 51 Articles with 24566 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Jan, 2018 Views: 759

Comments

آپ کی رائے