کامیاب منصوبہ بندی و اقدام : ہجرت نبویﷺ کی روشنی میں

(Ishteyaque Alam Falahi, Qatar)

صحیح منصوبہ بندی درست اقدام کی پہلی منز ل ہے۔ کسی مثبت نتیجے کے حصول کے لیے انسان کئی سمتوں میں ہزار کوششیں کر سکتا ہے پر ہر کوشش قابلِ ستائش اور بہتر نتیجہ کی ضامن نہیں ہوتی۔ اہداف تک پہونچنے کے لیے کم سے کم دستیاب وسائل کابہتر استعمال ضروری ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب منزل کو پانے کے لیے بہترین منصوبہ بندی کی جائے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ منصوبہ بندی کامیابی کا ایک لازمی حصہ ہے ۔ قرآن کی متعدد آیات میں منصوبہ بندی اور مستقبل کے لیے پیشگی تیاری کی تاکید کی گئی ہے‘ مثلا وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّـهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّـهُ يَعْلَمُهُمْ ۚ وَمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ )الانفال 60) (اور تم لوگ، جہاں تک تمہارا بس چلے، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلہ کے لیے مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعہ سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دُوسرے اعداء کو خوف زدہ کرو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدل تمہاری طرف پلٹایا جائے گا اور تمہارے ساتھ ہرگز ظلم نہ ہوگا)۔ اگر جنگ ‘ جس کا مرحلہ کم آتا ہے‘ کی تیاری کا حکم دیا گیا ہے توزندگی کے دیگر اہم معاملات کی منصوبہ بندی تو اور بھی اہم ہےکہ زندگی چیلنجز اور امکانات سےبھر پورہے۔

رسول اللہ ﷺ کی زندگی کا ہر مرحلہ خواہ وہ خاموش دعوت سے اعلانیہ دعوت کی طرف منتقلی ہو یا غزوات ہوں بہترین اورمثالی منصوبہ بندی کا آئینہ دار ہے ۔ واقعۂ ہجرت جوحق کے لیےامکانات کی تلاش اورجد وجہدکی انتہائی منزل ہے‘ اپنےاندر منصوبہ بندی اور تیاری کےانمول نمونے اور لازوال دروس رکھتا ہے۔رسول اللہﷺ کی منصوبہ بندی کا مطالعہ کرنے سے منصوبہ بندی کے جو زبردست نقوش ملتے ہیں ان میں سے چند حسب ذیل ہیں:
1۔ واضح وژن: ہمارے نبیﷺ کے سامنے نبوت کے اول روز سے یہ بات واضح تھی کہ آپ کو سارے انسانوں کے لیے بھیجا گیا ہے۔ آپ کی قوم آپ کی دشمن بن جائے گی۔ ورقہ بن نوفل نے بھی آپ ﷺ کے پاس جبریل امین کی آمد کی خبر سننے کے بعد اس کی طرف اشارہ کیا تھا کہ : یہی وہ ناموس ہے، جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل فرمایا تھا، کاش میں نوجوان ہوتا، کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا، جب تمہاری قوم تمہیں نکال دے گی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا! کیا میری قوم مجھے یہاں سے نکال دے گی؟ ورقہ نے جواب دیا، ہاں! جو پیغام لے کر تم آئے ہو اسے لے کر جو بھی آیا لوگ اس کے دشمن بن گئے ‘ اگر میں اس وقت تک زندہ رہا تو تمہاری بھر پور مدد کروں گا۔ (بخاری بدء الوحی)۔ آپﷺ کو یہ بات معلوم تھی کہ حق غالب آکر رہے گا اور اہل ایمان کی چھوٹی سی جماعت پھلے پھولے گی ، چنانچہ اسی انداز میں آپ نے صحابۂ کرام کی تربیت کی کہ وہ اپنی صلاحیتوں، شعور اور فہم کے اعتبار سے ایک ریاست کے نمائندے بن سکیں۔ حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی روایت سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں : ایک بار رسول اللہﷺ بیت اﷲ کی دیوار کے سائے میں چادر اوڑھے تشریف فرما تھے ، ہم نے حاضر ہو کر کہا،آپ ہمارے لیے نصرت کی دعا کیوں نہیں مانگتے ؟ آپ کا چہرۂ مبارک سرخ ہو گیا ،بیٹھے بیٹھے ارشاد فرمایا،تم سے پہلی امتوں کے اہل ایمان کو گڑھا کھود کر زمین میں گاڑ دیا گیا اور آروں سے انہیں چیرا گیا لیکن وہ دین متین سے نہ ہٹے۔لوہے کی کنگھیوں سے ان کے گوشت نوچے گئے ،یہ ظلم بھی انھیں راہ حق سے ہٹا نہ سکا۔اﷲ اس کار نبوت کا اتمام ضرور کرے گا حتیٰ کہ ایک سوار یمن کے مرکزی شہر صنعا سے ساحلی علاقے حضرموت تک جائے گا اور اسے اﷲ کے سوا کسی کا خوف نہ ہو گا۔ہاں اسے بھیڑیوں سے اپنی بکریوں کی حفاظت کرنا ہو گی۔تم ذرا جلد بازی کر رہے ہو۔ (بخاری ۔ کتاب الاکراہ)۔ آپﷺ کے سامنے مستقبل کا پورا نقشہ واضح تھا۔ اس نقشہ میں رنگ بھرنے کے لیے ہر طرح کی قربانی، خواہ وہ ہجرت ہی ہو ، کے لیے آپﷺ تیار تھے اور اپنے ساتھیوں کی بھی آپ نے اسی انداز سے تربیت فرمائی۔
2۔ ہدف کا تعین: اللہ کے دین کی اقامت: بندۂ مومن کے نزدیک دین اور اس کی اقامت سے زیادہ قیمتی کوئی چیز نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کا اشارہ ملا کہ اللہ کی سرزمین کشادہ ہے۔ اللہ کے نبیﷺ نے اپنے ساتھیوں کو اس سرزمین کی طرف جانے کا حکم دیا جہاں دین کے قیام کے امکانات تھے۔
اللہ کے رسولﷺ کے پیش نظر یہ بھی تھا کہ جن ساتھیوں نے اسلام قبول کیا ہے انہیں مشرکین کے ظلم و جور سے بچانے کی تدبیر کی جائے اور جو صلاحیتیں موجود ہیں انہیں کارِ دعوت کے لیے نئے میدان میں استعمال کیا جائے۔ اور مسلمانون کی جماعت کو اتنی طاقت حاصل ہو جائے کہ اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی جاسکے۔
3۔ منزل کا انتخاب اور وہاں دعوتی کام: باوجود اس کے کہ اللہ کے رسولﷺ کو اس بات کا یقین تھا کہ وہ اللہ کی حفاظت میں ہیں، آپ نے تمام انسانی، مادی اور معنوی وسائل کا استعمال کیا۔ اول و آخر اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھنے کے ساتھ ساتھ‘ حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے بھر پوری تیاری ضروری ہے۔ اللہ کے رسولﷺ ایسی جگہوں کے بارے میں غور فرماتے رہے تھے جہاں دین کے قیام کا امکان ہو۔ آپ نے ایام حج میں بھی مختلف قبائل کے لوگوں سے بات کی ۔ اور پھر منظر نامہ پر یثرب (مدینہ) کے نیک نفس انسانوں کا ظہور ہوا۔ بیعتِ عقبہ اولیٰ اور ثانیہ کے بعد مدینہ میں مسلمانوں کے لیے ایک نئے وطن کی بنیاد رکھی گئی۔ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے وہاں دعوت کا کام کیا ۔ مصعب بن عمیر اور اسعدبن زرارہ رضی اللہ عنھما کی کوششوں کےنتیجے میں مدینہ کے اندر شیدایانِ رسول کی ایک زبردست جماعت تیار ہو چکی تھی۔ صحابہ کرام نے رسول اللہ کے حکم سے وہاں کا رخ کرنا شروع کیا۔ اس کے بعد رسول اللہﷺ کے استقبال کی تیاری کی گئی۔
4- مناسب وقت کا انتخاب: ۔ اللہ کی طرف سے آپﷺ کو ہجرت کی اجازت ہوئی تو آپ دو پہر کے وقت حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کے پاس جاتے ہیں ۔ یہ ایسا وقت ہے جب کہ عموما لوگ گھروں میں آرام کر رہے ہوتے ہیں۔ ان دنوں قریش کے لوگ آپﷺ کو قتل کرنے کی سازشیں کر رہے تھے۔ ایسے موقع پر ایک ایک مرحلہ انتہائی احتیاط کے ساتھ طئے کرنا ضروری تھا۔
5۔ مناسب سمت اور راستہ: آپﷺ نے آبادی سے نکل کر شمال کے بجائے جنوب کا راستہ اختیار فرمایا۔ فوری مدینہ کی طرف روانہ ہونے کے بجائے آپ نے غارِ ثور میں تین دن قیام فرمایا۔ اور ان ساری تدبیروں کے ساتھ ساتھ وہ مثالی توکل ہمارے سامنےآتا ہے کہ جب مشرکین غار کے دہانے تک پہونچ گئے تو آپﷺ نے حضرت ابوبکر کو یہ کہہ کر تسلی دی کہ : ما ظنك يا أبا بكر بإثنين الله ثالثهما! ( ابے ابوبکر ان دو افراد کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو)۔
6۔ پیشگی تیاری: ہجرت سے کافی پہلے آپﷺ نے ضروری تیاری مکمل کر لی تھی تاکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے روانگی کا پروانہ ملنے پر کسی تاخیر کے بغیر اقدام کیا جا سکے۔ ہجرت سےتقریباچارہ ماہ قبل ہی سواری کا انتظام کر لیا گیا تھا۔ اور وہ بھی اتنے رازدانہ طریقے سے کہ مشرکینِ مکہ کو خبر بھی نہ ہوئی۔
7۔ افراد اور صلاحیتوں کا استعمال : ہجرت کے لیے آپﷺ یوں ہی نہیں نکل پڑے بلکہ یہ اقدام بھرپور منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا ۔ ایک ایک بات نہایت باریکی کے ساتھ طئے کی گئی چنانچہ متعدد افراد کو مختلف ذمہ داریاں دی گئیں۔ حضرت أبو بکر رضی اللہ عنہ کو سفر میں رفاقت کے لیے منتخب کیا گیا۔ وہ آپﷺ کے ایسے دوست تھے جو اس مہم کو کامیابی کے ساتھ انجام دینے میں ہر لمحہ آپ کے ساتھ رہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو لوگوں کی امانتیں واپس کرنے کا کام سونپا گیا۔ انہوں نے آپﷺ کے بستر پر آرام کیا تاکہ کفار کو یہ گمان نہ ہو کہ حجرہ میں کوئی موجود نہیں ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک طاقتور ساتھی تھے۔ ان کو ان کی صلاحیت کے مطابق کام دیا گیا۔
صرف اس تدبیر پر اکتفا نہیں کیا گیا کہ پیارے نبی چند دنوں تک غار میں قیام فرمائیں اور اندازے کی بنیاد پر وہاں سے نکل کھڑے ہوں بلکہ اس کا اہتمام کیا گیا کہ کفار کے منصوبوں سے واقفیت حاصل کی جائے۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن أبوبکر رضی اللہ عنہ دن میں مکہ میں اہل مکہ کے درمیان دن گزارتے وہاں کے حالات معلوم کرتے اور پھر رات میں نبیﷺ کے پاس آکر انہیں حالات سے باخبر کرتے اور فجر سے پہلے مکہ چلے جاتے۔ حضرت أسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا دشوار گزار راستہ طئے کر کے غاز تک کھانا پہونچاتیں۔ روانگی کے وقت حضرت أسماء اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنھما نے انتہائی مستعدی کا مظاہرہ فرمایا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے ان دونوں کے لیے جلدی جلدی سامان تیار کیا۔ أسماء نے جلدی میں سامان باندھنےکے لیےنےاپنے کمر بند (نطاق)کے دو ٹکڑےکیے ، اسی لیے انہیں ذات النطاقین کہا جاتا ہے۔ حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ سے بھی کام لیاگیا وہ ادھرسے بکریوں کا ریوڑ لے کرگزرتے تاکہ پیارے نبیﷺ اور حضرت ابوبکربکریوں کا دودھ بھی پی لیں اور ریوڑ کی وجہ سے ان کے پاس آنے والوں کے قدموں کے نشانات باقی نہ رہیں۔
8۔ تجربہ کار شخص کی خدمات کا حصول: اللہ کے رسولﷺ نے عام راستےسےہٹ کر مختصر اور محفوظ راستہ اختیار فرمایا۔ اس راستے میں رہنمائی کے لیے عبد اللہ بن اریقط نامی شخص کی خدمات اجرت پر حاصل کی۔ گوکہ وہ مشرک تھا لیکن راستوں کا اسے بھر پور علم تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی بھی کام کو بہتر طریقے سے انجام دینے کے لیے مطلوبہ صلاحیت کی کیا اہمیت ہوتی ہے۔ بعض کام وہ ہیں جہاں مطلوبہ صلاحیتوں کے سلسلہ میں سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا خواہ یہ زمینی راستے ہوں یا زندگی کا راستہ۔
ان تمام تدابیر کے ساتھ ہمیں ہرگز اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اللہ کی تائید و نصرت آپ کو حاصل تھی۔ آپ کو قتل کرنے کے ارادے سے جمع مشرکین کے درمیان سے آپﷺ گزرے اور انہیں خبر نہ ہوئی۔ کفار غار کے دہانے تک پہونچ گئے پر اللہ نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ سراقہ بن مالک سو اونٹ کے انعام کی لالچ میں آپ کے قریب تک پہونچ گیا پر اس کے گھوڑے کے پیر زمین میں دھنس گئے۔ اس پورے سفر میں قدم قدم پر پروردگار کی رحمت شامل حال رہی۔

ہمارے رہبرﷺ نے ہجرت کے موقع پر جو منصوبہ بندی فرمائی وہ سخت حالات میں ہمارے لیے منصوبہ بندی کے میدان میں بہترین رہنمائی ہے۔ یہاں قوت (Strength)کا بھی بھر پور اندازہ کیا گیا، جو کمزور پہلو (Weakness)تھے ان کو بھی سامنے رکھا گیا، اور ان سے نمٹنے کی بھر پور تدبیر کی گئی۔ جو مواقع (Opportunities) میسر تھے ان سے بھر پور طریقے سے فائدہ اٹھایا گیا اور جو اندیشے (Threats) سد راہ بن سکتےتھے ان کو دور کیا گیا ، اور نتیجہ یہ ہوا کہ منزل نے قدم چوم لیا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ishteyaque Alam Falahi

Read More Articles by Ishteyaque Alam Falahi: 32 Articles with 21649 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Jan, 2018 Views: 558

Comments

آپ کی رائے