درندگی

(Sana Ghori, Karachi)

بعض اوقات لکھتے ہوئے میرے ہاتھ کپکپانے لگتے ہیں انگلیاں قلم کی گرفت چھوڑ دیتی ہیں یہ مضبون لکھتے ہوئے بھی میری یہی حالت ہے۔ایسا لگتا ہے 8سالہ کمسن زینب میرے دامن پکڑ کر مجھے آواز دے رہی ہو کہ کیا کیا تم نے میرے لئے اتنے لکھنے والے اتنے لکھاری سب لفظوں کا کھیل کھلتے ہیں لیکن کب تک میری جیسی معصوم کھلیوں کو مسلا جاتا رہے گا۔اور میرے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔زینب کی چیخیں میرے کانوں میں سنائی دیتی ہیں ۔کیسے اُسے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور کیسے اس کا گلا دبا کر موت کے گھاٹ اتارا دیا گیا ۔یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں پنجاپ کے علاقے قصور میں ایک سال کے دوران 7 کمسن بچیوں کو اغواء کرکے یوں ہی قتل کردیا گیا ہے لیکن قانون خاموش ہے ۔ہمارا معاشر انسانیت کے آخری زمرے سے بھی گر چکا ہے اور ہم سب تماشہ دیکھ رہے ہیں ۔ریاست کی طرف سے اپنے شہریوں کے جان ومال کی حفاظت کی طرح اس کی عزت کی حفاظت کی ذمہ داری بھی عاید ہوتی ہے۔لیکن ریاست خاموش ہے اور کبھی قانون حرکت میں آبھی جائے تو ایسے ثبوت مانگے جاتے ہیں جس سے ملزم باآسانی نکل جاتا ہے ۔ عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ اس دور میں بھی جہالت کا سارا سامان ہم نے ایک گٹھری میں باندھ رکھا ہے اور ہمارا قانون اس گٹھری کو سر پر رکھے ناچ رہا ہے۔میں یہ بات بہ بانگ دہل کہتی ہوں کہ اس درندگی کے مرتکب شخص کو سرعام پھانسی دی جائے، تاکہ آئندہ کوئی کسی کی زندگی کو گدھ بن کر نوچنے کی ہمت نہ کرسکے۔ جنسی زیادتی ایک بھیانک جرم ہے۔ قتل سے بھی زیادہ سنگین جرم۔ قتل کی صورت میں تو ایک بارجان چھین لی جاتی ہے، جب کہ جنسی درندگی کا نشانہ بننے والا جسم بار بار مرتا ہے۔ اس کی روح کو اس طرح نوچا گیا ہوتا ہے کہ وہ گھائل روح زندگی کی طرف کبھی نہیں لوٹ پاتی۔ جسم تو زندہ رہتا ہے لیکن وجود مرجاتا ہے۔

کسی بھی انسان کے قتل کا کوئی جواز ہوسکتا ہے، مگر کسی کو بے عزت کرنے کا کوئی جواز تلاش نہیں کیا جاسکتا، سوائے اس کے کہ انسانیت درندگی کی غلام بن جائے۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق پاکستان میں ہر دو گھنٹے بعد ایک فرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، جب کہ ہر چار سے آٹھ دنوں میں اجتماعی زیادتی کا ایک واقعہ سامنے آتا ہے۔ یہ تو وہ واقعات ہیں جو درج کیے جاتے ہیں۔ واقعے کا سامنے نہ آنا یا متاثرہ گھرانے کا خاموش رہنا بھی جرم کو چھپانے میں کردار ادا کرتا ہے۔جنسیات وہ موضوع ہے جس پر ہمارے معاشرے میں کھل کر بات نہیں کی جاتی۔جب کہ ہم میں سے ہر ایک اس حقیقت سے واقف ہے کہ ہمارا معاشرہ کس حد تک تنزلی کا شکار ہوچکا ہے۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ حکومتی سطح پر اور این جی اوز اس طرح کے معلوماتی پمفلٹ شایع اور آگاہی کے پروگرام مرتب کریں، جن میں جنسی بے راہ روی کے نقصانات کے بارے میں بتایا جائے اور خواتین کی عزت اور احترام سے متعلق بنیادی باتوں کا شعور دیا جائے۔پاکستان میں زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی ایک وجہ الیکٹرانک میڈیا پر دکھائے جانے والے ہیجان انگیز مناظر بھی ہیں۔ ایسے مناظر جنس کی طرف مائل افراد کی نفسیات پر بہرحال اثرات مرتب کرتے ہیں اور ایک ایسے ملک میں جہاں بڑے سے بڑا جرم کرنے والے بھی سزا سے بچ نکلتے ہوں، وہاں یہ مناظر بھی کسی انسان کو درندہ بنانے کے لیے کافی ہیں۔یہ قتل نہیںِ، یہ چوری نہیں، یہ ڈاکا نہیں، یہ روح کو زخم زخم کردینے والا وار ہے۔ یہ معصوم بچوں کی معصومیت چھین لینے والا بھیانک فعل ہے ۔حکومت ہو، میڈیا یا معاشرہ، اپنے سماج کو اس درندگی سے بچانے کے لیے ہم سب کو ااپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا جو کتنی ہی عزتوں کو پامال کرچکی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sana Ghori

Read More Articles by Sana Ghori: 312 Articles with 183588 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Jan, 2018 Views: 480

Comments

آپ کی رائے