قرآن کی پکار

(Asif Khursheed Rana, Islamabad)

تحریر: احمد بخش بلوچستانی
ہمارے معاشرے کے انحطاط اور اخلاقی قدروں کے تنزل کا سبب قرآن عظیم الشان یو ں بیان کرتا ہے کہ’’ جس نے ہمارے ذکر (قرآن ) سے اغماض برتا تو ہم اس کی زندگی کو مشکل بنا دیں گئے۔اور قیامت کے دن اسے اندھا اٹھائیں گئے ۔ وہ کہے گا پروردگار دنیا میں تو میں آنکھوں والا تھا پھر مجھے یہاں اندھا کیوں اٹھایا؟ اﷲ تعالی فرمائے گا ہاں اسی طرح تو ہماری آیات کو جبکہ وہ تیرے پاس آئیں تھیں تو نے بھلا دیا تھا۔ اسی طرح آج تو بھلایا جا رہا ہے‘‘۔ (سورت طہ۱۲۶۔۱۲۴)۔ ہم اگر اپنے چاروں اور نظر دوڑائیں تو قرآن کی اس پیشن گوئی کا دنیاوی حصہ عمل پذیر نظر آتا ہے ۔ اس صورتحال سے نکلنے کا راستہ بھی یہی کتاب حکمت و دانائی ہی بتاتی ہے۔ جبکہ ہمارا حال یہ ہے کہ آئمہ مساجد اور منتظمان مدرسہ و محراب کی اکثریت بھی قرآن کو صحیح پڑھنے تک سے قاصر ہے۔

قرآن مجید ایسا لازاوال معجزہ ہے جو کہ رہتی دنیا تک کے لئے ایک سرمایہ رہنمائی ہے۔یہ وہ دور تھا کہ شعرآء اپنے فن کا مظاہرہ کرتے اور اپنے کلام کو بے مثل ثابت کرنے کے لئے اس کو شہر میں آویزاں کرتے جو کہ ایک کھلا اعلامیہ ہوتا تھا اس کو رد کرنے یہ اس سے بہتر کلام لانے کا۔کتاب اﷲ نے سورۃ بقرۃ میں بارہا یہ اعلان کیا کہ کوئی بھی شخص اس جیسی کوئی صورت یا آیت لا کر دکھائے لیکن یہ کسی بھی شاعر دہر کے لئے ممکن نہ ہو سکا ااور جب سورہ کوثر کو کعبتہ اﷲ میں معلق کیا گیا تو شعراء وقت یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ ــــــیہ کسی انسان کا کلام نہیں۔

قران کو سمجھنے کیلئے سب سے اہم سائنس تجوید ہے۔ اس کی لغوی معنی خالص کرنا ہے اور یہ سائنس ایسے اصول وضع کرتی ہے جن کی روشنی میں قرآن کو صحیح پڑھنے کے طریقے واضح ہوتے ہیں۔قرآن کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کی سب سے پہلے اﷲ نے خود تلاوت فرمائی ہے، پھر جبرائیل امین نے اور پھر نبی پاک ﷺنے۔تو تجوید سائنس ہمیں یہ بتاتی ہے کہ وہ مسلمان جو عجمی ہیں وہ کس طرح قرآن کو صحیح پڑھ سکتے ہیں جس طرح اس کا نزول ہوا تھا۔ قرآن کو سیکھنے کے حوالے سے ہمار ا بالعموم جو رویہ ہے اس کو ماہر القادری نے اپنی نظم قرآن کی فریا دمیں کچھ یوں ذکر کیا ہے:
طاقوں میں سجایا جاتا ہوں
آنکھوں سے لگایا جاتا ہوں
کہنے کو میں اک اک جلسے میں
پڑھ پڑھ کے سنایا جاتا ہوں

جس طرح سے طوطے مینا کو
کچھ بول سکھائے جاتے ہیں

اس طرح پڑھایا جاتا ہوں
اس طرح سکھایا جاتا ہوں

ظلمات کے مختلف پہلو ہیں، ایک پہلو عمرانی رویے اور انسانی سماج کی تشکیل ہے ، دوسرا پہلو تعلیم ہے، اور تیسرا پہلو یہ ہے کہ انسان کے دل کے اندر اﷲ اور اس کے رسولﷺ کی محبت کی بجائے حب جاہ اور حب مال پیدا ہوجائے ۔ معاشرے میں بگاڑ ان تینوں میں ودرست سمت کے نہ ہونے سے برپا ہوتا ہے۔جب نبیﷺ کو مبعوث فرما کر آپ کے قلب اطہر پر قرآن نازل کیا گیا تو آپﷺ کو ان ظلمات کو مٹانے کا حدف دیا گیا ۔اﷲ تعالی نے مسلمانوں پر احسان کیا ہے ان میں ایک رسول بھیج کر، وہ رسول آیات کی تلاوت کرتے تھے،ان کا تزکیہ نفس کرتے تھے، ان کو کتاب کی تعلیم دیتے تھے اور ان کو حکمت کی تعلیم دیتے تھے۔آپ ﷺ نے ان تینوں طریقوں سے ان خرابیوں اور تاریکیوں کا سد باب کیا جو کہ معاشرے کیلئے سم قاتل تھیں ۔ چنانچہ آپﷺ کا اسوہ ہی دراصل قرآن کی تفسیر ہے۔اس تفسیر کو صحیح معنوں میں سمجھنے کیلئے تفسیر سائنس کی ضرورت ہوتی ہے۔

قرانک سائنسز کا جو تصور ہے وہ ایک الگ اور عملی تصور ہے جو کہ روایتی طریقہ تعلیم سے یکساں مختلف ہے۔ آج ہم سب کو قرآن کی اساس کو سمجھنے کیلئے جدید طریقہ ہائے تعلیم کے تناظر میں قرآن کے علوم کو فروغ دینا ہے۔ اس ضرورت کو سمجھتے ہوئے ملک کی میگا یونیورسٹی نے دورست سمت میں ایک تابناک قدم اٹھایا ہے۔ جو کہ عبدالودود سنٹر فار قرآنک سائنسزکو قائم کرنا ہے۔ اس ادارے کے حوالے سے تفصیلی معلومات کسی اور موقع پر پیش قارئین کی جائیگی ۔ یہ ادارہ نہ صرف قرآنک سائنسز کی اصطلاح کو متعارف کرواتا ہے بلکہ قرآن کے حولے سے قائم مختلف ممالک کے اداروں سے ربط بھی استوار کئے ہوئے ہے۔اس ادارے کو ایک متحرک قرآن دوست شخصیت عبدالباسط مجاہد شب و روز محنت سے ایک تناور درخت بنانے کے کوشاں ہے۔آج ہمیں بحیثیت امت اس امر کا ادراک کرنا ہے کہ ہم کس طرح اپنا رشتہ قرآن کے ساتھ مضبوط سے مضبوط تر بنائیں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Asif Khursheed Rana

Read More Articles by Asif Khursheed Rana: 87 Articles with 33687 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Jan, 2018 Views: 737

Comments

آپ کی رائے