زینب قتل کیس اور ھمارے لیۓ سبق

(Anas Chaudhary, Lahore)
زینب قتل کیس کی اصل وجہ اور ھمارے لیے سبق

Zainab

11 جنوری کی صبح جب آنکھ کھلی میں نے حسب معمول اپنے دن کا آغاز نماز سے کیا۔ کچھ وقت کے بعد ناشتا کیا اور ٹی وی دیکھنے کے لیۓ بیٹھ گیا ویسے میری عادت ایسی نھی مگر آج نا جانے کیوں دل بیٹھ گیا نیوز چینل کھولنےکی دیر تھی کہ بس میرے پاؤں سے زمین نکل گی۔ خبر کچھ یوں تھی کہ
" قصور میں 7 سال کی ننھی پری کے ساتھ کسی درندہ صفت نے زیادتی کی اور قتل کے بعد لاش کوڑے کے ڈھیر میں پھینک دی۔"
بس میرے اندر ایک عجیب سی غصے کی لھر تھی میں کچھ کرنا بھی چاھتا تھا مگر کر نھیں سکتا تھا کیوں کہ یہ حالات ھمارے اپنے پیدا کیے ھوے ھیں۔ میری نظراسوقت اپنے اردگرد کے اس ماحول پر تھی جس میں ھم آزادی کا نعرہ تو لگاتے ھیں مگر اپنے رسم و رواج میں مکمل طور پرغلامی کا شکار ھیں۔ جی ھاں جناب! میں ان رسوم و رواج کی بات کر رھا ھو ں جس نے آج ھمارے معاشرے کو تباھی کے اس دھانۓ پہ لا کر کھڑا کر دیا ھے۔اس تباھی میں سب سے بڑی وجہ ذات پات، مال و دولت کا چند ھاتھوں میں ھونا اور بھت سے ایسے مسایل ھیں جو ےیھاں زیر بحث نھیں لاے جا سکتے۔ ذات پات ھندو معاشرے کا سب سے بڑا گناہ تھا جو ان کی تباھی کا سبب بنا آج وہ ھی مسلہ ھمارے میں موجود ھے۔ آج ھمارے معاشرے میں سب سے مشکل کام زات پات سے باھر نکل کر نکاح کرنا ھے۔ جی ھاں جناب محترم نکاح۔
کیوں کہ آج نکاح کے لیے سب سے زیادہ ضروری چیزذات پات اور حسب نسب ھے اور اس سے بھی زیادہ ضروری مال و دولت ھے۔ھر کوی انا کا مسلہ بنا کے بیٹھ جاتا ھے کہ جی بیٹی کا رشتہ کسی اچھے مالدار گھرانے میں کریں گے، بیٹےکے لیۓ کوی حور ڈھونڈ کے لایں گے اور بیٹا/بیٹی کسی شھزادے اور حور کے انتظا ر میں بھوڑے ھو رھۓ ھوتے ھیں اور پھر وہ اپنی جسمانی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیۓزنا کا سھارا لٰیتۓ ھیں۔ زنا ک لیے اگر کوی راضی ھو جاے تو ٹھیک ورنہ ریپ، زیادتی جیسے مسلے سامنے آتے ھیں۔
ایک دوست نے بتایا کہ وہ کسی اپنی کلاس فیلو کو پسند کرتا تھا اور اس سے شادی کرنا چاھتا تھا مگر اس کے گھر میں اس مسلے کو لے کر لڑاٰی ھوی اور بل آخر لڑکی نے تنگ آ کر خودکشی کر لی اور مسلہ صرف اتنا تھا کہ وہ ھماری ذات کے نھیں ھیں۔ جناب محترم ھم اپنے بچوں کو اعلٰی کردار اور اخلاق کا سبق دیتے ھیں مگر خود اس سبق کو کبھی بھی سمجھنا نھیں چاھتے۔
جناب محترم جب ھم ان باتوں کو لے کر لڑتے جھگڑتے رھیں گے تو ایسی بھت سی بچیوں کے ساتھ زنا بھی ھوتے رھیں گے اور خودکشیاں بھی۔ ھمارا دین ھمیں اجازت دیتا ھے کہ "تمھیں جو عورتیں پسند ھیں ان سے نکاح کر لو" تو پھر ھم نے نکاح کو اتنا مشکل کیوں بنا دیا ھے۔ ھم دین کے ٹھکیدار تو بھت بنتے ھیں مگر دین کے بتاےھوے طریقے کو سمجھنے کے لیے کوی بھی تیار نھیں ھوتا۔ جناب محترم اگرھم نے اپنی رمز کو نہ بدلا اور یہ ھی حالت رھی تو وہ دن دور نھی جب زنا کو ھماری آنے والی نسل کوی بڑا گناہ نھیں سمجھے گی اور ھمارے معاشرے مے انسانوں کی جگہ درندے جنم لیں گے۔ ھم دعوے کرتے ھیں کہ ملک میں اسلامی نظام ھونا چاھیۓ مگر ھم میں سے کوی بھی شاید اس نظام کو سمجھنا نھیں چاھتا۔
قرآن پاک میں حکم ھے کہ:
"اور اگر تم یتیم لڑکیوں سے بے انصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو جو عورتیں تمہیں پسند آئیں ان میں سے دو دو تین تین چار چار سے نکاح کر لو، اگر تمہیں خطرہ ہو کہ انصاف نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی سے نکاح کرو یا جو لونڈی تمہارے ملِک میں ہو وہی سہی، یہ طریقہ بے انصافی سے بچنے کے لیے زیادہ قریب ہے" سورۃ النساء
اگر ھم نے نکاح کو مشکل بنا دیا، دوسری، تیسری شادی کو نفرت کی نگاہ سے دیھکتےرھے تو تباھی اور بربادی ھمارا مقدر بن جایے گی۔ زینب قتل کیس اور اس جیسے بھت سے دوسرے واقعات ھمارے اپنے ھی پیدا کیے ھوے رسوم و رواج کی وجہ سے ھیں جبکہ ان فضول رسم و رواج کی نہ تو کوی دین میں جگہ ھے اور نا ھی پاکستان کے قانون میں۔ لھذا میری آپ سب سے التماس ھے کہ ان فضول رسومات کو چھوڑ کر وہ کام کریں جس کی دین اور دنیا دونوں مے عزت ھو۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Anas Chaudhary

Read More Articles by Anas Chaudhary: 2 Articles with 634 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Jan, 2018 Views: 333

Comments

آپ کی رائے