سانحہ قصور۔انسانیت شرما گئی

(Imtiaz Ali Shakir, Lahore)

حکیم محمد اشرف ثاقب

جب سے یہ واقعہ رونما ہوا ہے دل مضطر ب ہے اور ذہن میں کئی سوالات گردش کر رہے ہیں اپنے آپ سے سوال کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔؟پاکستا ن میں ایسے واقعات کیوں ہو رہے ہیں ۔۔۔۔۔؟دل و دماغ کی شریانیں پھٹنے کو ہیں ۔۔۔۔مسلمان اتنا گر چکا ہے ۔۔۔۔۔ ؟ہمارے ضمیر اتنے مردہ ہو چکے ہیں۔۔۔۔۔؟دور جہالت میں لوگ اپنے لخت جگر کو زندہ درگور کر دیتے تھے کیا بیٹیاں اﷲ کی رحمت نہیں ہیں ۔۔۔۔؟پھر یہ انسانیت سوز سلوک کیوں ہو رہا ہے ۔۔۔؟ان پھول جیسی کلیوں کا کیا قصور ہے ۔۔۔۔؟اﷲ نے ان کو بیٹی پیدا کیا معصوم زینب کا کیا قصور تھا کیا وہ کسی کی بیٹی نہیں تھی ۔۔۔۔؟ظالموں نے اس کو اپنی درندگی کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا ۔

میں ببانگِ دھل کہتا رہوں گا ۔۔۔۔؟یہ واقعات ہوتے رہیں گے ظالم درندے زینب جیسی پھول کلیوں کو مسلتے رہیں گے۔ہوس پرستی ظلم و بربریت کے واقعات رونما ہوتے رہین گے بے بس اور لاچار ماں باپ اپنی ان معصوم کلیوں کے جنازے اٹھاتے رہیں گے ظلم و ستم کابازارکب تک گرم رہے گا ۔۔۔۔؟حوا کی بیٹیوں کی عزتوں کو سر بازار نیلام کیا جاتا رہے گا ۔کیونکہ جس دھرتی پر انصاف نہیں ہوگا وہاں اﷲ کے عذاب آتے رہیں گے اور ایسے واقعات ہماری غیرت کو للکارتے رہیں گے ۔یہ سب کیوں ہو رہا ہے ۔۔۔؟آج فحاشی کے اڈے سر عام چل رہے ہیں میرا ملک سود کی لعنت میں دھنس چکا ہے ،اقربا پر وری نے عدل و انصاف کے تقا ضوں کو ختم کر دیا ہے جس ملک میں رشوت کو اپنا حق تصور کیا جائے وہاں باد سموم کے جھونکوں کوکوئی نہیں روک سکتا ۔میرے دیس میں جھوٹ پر کاروبار چل رہا ہے ،مسلمان کی بیٹی کو شو پیس بنا دیا گیا ہے ۔رہی سہی کثر تعلیمی اداروں میں مخلوط تعلیم کا جراثیم منہ چڑ ھ کر بول رہا ہے ۔موبائل کی لعنت نے نوجوان نسل کو بے راہ روی کا شکار کر دیاہے ۔نسل نو کے اخلاقیات کے جناز ے نکل گئے ۔حرص و ہوس نے معاشرتی اطوار کو تہہ و بالا کر دیا ہے ۔ہماری بصیرت اور بصارت ختم ہو گئی ۔

آج یہود و نصاریٰ امت مسلمہ پر ہنس رہے ہیں کہ جو ہم چاہتے تھے وہی مسلمان کر رہے ہیں ۔آج اسلامی ازم کی بجائے کیپیٹلزم ،سیکولرازم ،اور لبرل ازم کو پسند کیا جا رہا ہے ۔وہ ملک جو اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا تھا ۔آج اس ملک میں عدل و انصاف کے دروازے بند ہو گئے ہیں ۔اﷲ تعالی نے ہمیں اسلام جیسی نعمت عطاء فرمائی رب ذوالجلال نے آنحضورﷺجیسی شخصیت عطاء فرمائی ۔اسلام بنی نوع انسان کے لیے سلامتی والا مذہب ہے ۔قارئین محترم :جب سے ہم نے اسلام سے منہ موڑا ہے جہالت کی گہرائیوں میں چلے گئے ہیں ۔

آپ ﷺ کی حدیث کا مفہوم ہے کہ جس زمین پر عدل نہیں ہوتا اس دھرتی پر اﷲ کا عذاب آتا ہے ۔معصوم آٹھ سالہ زینب کے واقعہ سے قبل پاکستان میں دس بارہ واقعے ہو ئے ہیں ہم وقتی طور پرواویلا کرتے ہیں، میڈیا ٹرائل حکمرانوں اور انتظامیہ کی حرکت دیدنی ہوتی ہے مگر چندروز گزرنے کے بعد ہم خاموش ہو جاتے ہیں کیونکہ ہم اندر سے ایمانی طور پر کمزور ہوچکے ہیں ۔ایمان ایک ایسی طاقت ور روشنی ہے جس سے انسانی شعور بیدار رہتا ہے ۔پھر انسان ہر قدم پر سو چتا ہے کہ یہاں اﷲ کا کیا حکم ہے ۔آج پاکستان کو جوان ہوئے 70سال کا عرصہ بیت چکا ہے ۔آج لوگ آٹا لینے کے لیے قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں ۔وہ زمین جو سونا اُگلتی تھی آج اُس زمین سے آمدن کم ہو گئی ہے ۔آج ہم زکوٰۃسے عاری ہیں اﷲ نے جو قوانین اپنی کتاب قرآن مجید میں نازل کیے ہیں وہ حق ہیں سچ ہیں ہم تسلیم کریں گے تو دنیا و آخرت میں کامیاب ہونگے اگر اُن پر عمل نہیں کریں گے تو دنیا وآخرت میں برباد ہونگے ۔

قارئین محترم :دردِ دل طرب و کرب کی حالت میں قلم طراز ہوں ہم نے اپنی تہذیب وتمدن چھوڑ دیا ہے ۔آج ہم نقال بن گئے ہیں ۔ڈیمو کریسی ڈیمو کریسی کے نعرے لگائے جا رہے ہیں یہ کیسی جمہوریت جہاں امیر و غریب کافرق کیا جا تا ہے ۔یہ کیسی جمہوریت جہاں غریب کے لیے قانون اور امیر کو چھوڑ دیا جاتا ہے ۔آج اُمراء طبقہ بالخصوص حکمرانوں کا پروٹو کول کس بات کی خمازی کرتا ہے ۔

اُٹھا ؤ اپنے اکابرین کی تاریخ عمر بن عبد العزیز تین براعظموں کا خلیفہ تھا جب حکمران بنے تو گھر میں فاقہ تھا گھر سے باہر نکلتے تو عام آدمیوں کا لباس پہنتے اور غریبوں میں بیٹھتے تھے ۔ہم ان کے نام لیوا ہیں جنہیں تاریخ آج بھی سنہری لفظوں سے یاد کرتی ہے ۔معصوم زینب کا واقعہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے اب ہم واپس آجائیں اﷲ ہم سے ناراض ہے ۔آج سر عام اﷲ کے حکموں کی خلاف ورزی ہو رہی ہے ہم اﷲ سے توبہ کریں اﷲ کو منائیں ساری کائنات کا خالق اﷲ ہے ہم اپنی بو دو باش ٹھیک کریں ۔

اُس ذات ِواحد لاشریک پر کامل ایمان رکھیں جس نے زمین و آسمان بنایا جو کالے پہا ڑوں اور کالے سمندروں کا بنانے والا ہے ،رزق کے خزانے اُس کے پاس ہیں صحت و بیماری کو لانے والی ذات صرف ایک ذات ہے مسلمان تو کائنات کا دُولہا ہے ۔

اﷲ تبارک و تعالیٰ کیمددو نصرت تو ایمان والوں کے لئے ہے اورہم کتنے خوش قسمت کہ ہمیں اﷲ نے وہ پیغمبر عطاء کیا جو رحمت ا للعالمینہیں ۔

اگر آپ ﷺ کو پیدا نہ کیا جاتا ہے تو اﷲ تعالےٰ اس کائنات کونہ بناتا ۔

آئیے اﷲ سے توبہ کریں ۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Imtiaz Ali Shakir

Read More Articles by Imtiaz Ali Shakir: 630 Articles with 303389 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Jan, 2018 Views: 327

Comments

آپ کی رائے