دل سوز واقعات، احتجاج اور تدارک

(Prof Masood Akhtar Hazarvi, )

 قصور میں حالیہ دنوں کا زینب کے قتل کا دردناک سانحہ ہر پہلو سے قابل مذمت ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ آئے روز ایسی قبیح داستانوں اور افسوسناک واقعات سے اخبارات کے جرائم کی خبروں کے صفحات بھرے ہوتے ہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کا ایک بد نما چہرہ ہے جس کا بگاڑ دن بہ دن بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ کوئی ذی شعور ایسے ظالمانہ اور سفاکانہ سانحات کی حمایت نہیں کرسکتا۔ 17 جنوری 2018 کا متحدہ اپوزیشن کا لاہور کا جلسہ بھی اس سانحہ اورماڈل ٹاؤن لاہور کے مقتولین کے لئے حصول انصاف کی خاطر منعقد ہوا۔ اس جلسہ گاہ میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے قائدین نے بھرپور شرکت کی۔البتہ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ باہمی اختلافات، مستقبل کے انتخابی جلسوں کی نوعیت اور عوامی رد عمل کے تناظر میں حکمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بڑی سیاسی پارٹیوں کے راہنماؤـں نے بہ یک مجلس خطاب کی بجائے علیحدہ علیحدہ نشستوں میں خطاب کرنا مناسب سمجھا۔ شاید عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے یہ کاروائی ضروری تھی۔ پاکستان عوامی تحریک کے ماضی کے جلسوں کے مقابلے میں اس جلسے میں عوامی شرکت قدرے کم تھی۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ سب قائدین ایک دوسرے پر اعتماد اور حسن ظن رکھتے رہے کہ وہ بندے لے کر آئیں گے۔ بہر کیف ان افسوسناک سانحات پر احتجاج ریکارڈ کروانے کیلئے پھر بھی بھرپور جلسہ تھا۔ تمام قائدین نے اپنے اپنے مخصوص لہجے میں ماڈل ٹاؤن کے مقتولین اور زینب پری کے بہیمانہ قتل کی بھرپور مذمت کی۔ اپنے متفقہ سیاسی مخالف میاں محمد نواز شریف اور ان کی پارٹی کی خوب خبر لی۔ اسی غصے کے عالم میں شیخ رشید نے اسمبلی رکنیت سے استعفے کا اعلان کیا جبکہ پی ٹی آئی سربراہ نے اس پارلیمنٹ پر جو مجرم کو ’’پارٹی سربراہ‘‘ بننے کی اجازت دے، لعنت بھیج دی۔ ظلم کے خلاف صدائے احتجاج نہ صرف متاثرین بلکہ ہر درد دل رکھنے والے محب وطن کا حق ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس بات کو ضرور مد نظر رکھنا چاہیے کہ کہیں یہ سانحات سیاسی چپقلشوں اورباہمی کھینچا تانی کی نظر نہ ہو جائیں۔ جو لوگ اس ظلم و بر بریت کے کسی بھی حوالے سے ذمہ دار ہیں انہیں ضرور اس کی عبرتناک سزا ملنی چاہیے۔ مزید برآں ان سانحات کے اسباب پر غور و حوض کر کے آئندہ کیلئے عمدہ لائحہ عمل تیار کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے تا کہ ایسے افسوسناک واقعات کا سد باب کیا جاسکے۔ یہ سارا احتجاجی پروگرام ’’مصطفوی انقلاب‘‘ کیلئے جد و جہد کرنے والی تحریک منہاج القرآن اور پاکستان عوامی تحریک کے پلیٹ فارم سے منعقد ہو رہا تھا اس لئے ہم منتظر تھے کہ شاید میزبانوں کی طرف سے سیاسی عمائدین کو کوئی ایسا ضابطہ اخلاق وضع کرنے کی طرف بھی توجہ دلائی جائے گی جو آئندہ جنسی بے راہ روی کے عفریت کو قابو میں رکھ کر ایسے دردناک واقعات سے نجات دلائے۔ یہ بھی خیال تھا کہ دور اندیشی کے ساتھ ایسے واقعات کے عوارض کا گہرائی سے جائزہ لیکر یہ جماعتیں بے حیائی کے فروغ کے تدارک کیلئے ا یسے نکات اپنے سیاسی منشور کا حصہ بنا لیں گی جو آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام میں معاون ثابت ہوں ۔منہاج القرآن کے عمائدین کی خدمت میں مودبانہ التماس ہے کہ مظلوموں کی داد رسی کیلئے ظلم و جور کے خلاف احتجاج ضرور کریں، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہماری گزارش ہے کہ ایک مرتبہ پھر ماضی کی یاد تازہ کرتے ہوئے’’ مصطفوی ﷺ انقلاب ‘‘کے نعرے کو زندہ کریں۔ یہ حالات نہیں سنور سکتے جب تک ہم اپنے نظام کو نہیں بدلیں گے۔ اس سلسلے میں ترکی میں لائی جانے والی تبدیلی ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ چند سال پہلے وہاں بے حیائی کا طوفان بد تمیزی تھا۔ پردہ اور داڑھی پر پابندی تھی۔ لیکن آج وہ ایک ماڈل اسلامی فلاحی ملک بن چکا ہے۔ ہم کس کو کوسیں اور کس سے انصاف مانگیں۔ یہ رلا دینے والی داستانیں اس سماج کی ہیں جسے اسلام پسندی کا دعوی ہے۔ یہ واقعات اس ملک میں ہو رہے ہیں جس کی بنیاد ہی ’’پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اﷲ‘‘ ہے۔ کیا ہم نے کبھی اس پر بھی توجہ دی کہ آخر ہمارا معاشرہ کیوں بد سے بد تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ہم کیوں انسانیت سے درندگی اور حیوانیت کی طرف جا رہے ہیں۔ اس کی واضح وجہ یہ ہے کہ کہ ہم بحیثیت قوم اسلام کے نعرے بہت لگاتے ہیں۔ اسلام پسندی کے بلند بانگ دعوے ضرور کرتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف اسلامی تعلیمات اور احکام الہی سے رو گردانی ہمارا وطیرہ بن چکا ہے۔ ہمیں اپنی ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کی عزت و آبرو کا بہت پاس رہتا ہے۔ ہماری خواہش ہوتی ہے کہ کوئی آنکھ اٹھا کر ان کی طرف نہ دیکھے۔ بہت اچھی خواہش اور قابل تقلید جذبہ ہے۔ لیکن ذرا سوچو! کیا کبھی ہم نے یہ احساس بھی کیا ہے کہ معاشرے میں رہنے والی دوسری عورت بھی کسی کی ماں بہن، بیوی، بہو اور بیٹی ہے۔ ایک اسلامی معاشرے کی تشکیل کیلئے اسلام کے سنہری اصول موجود ہیں۔ عورتوں کو پردہ کرنے جبکہ مردوں ، عورتوں کو نظریں نیچی رکھ کے چلنے کی تلقین کی گئی تاکہ عورت کی نسوانیت مرد کی نظروں کے زہریلے تیروں سے محفوظ رہے۔ جب سات سالہ معصوم کلی’’ زینب‘‘ کو کسی درندے نے بے دردی کے ساتھ مسل دیا تو ہم سب نے آنسوں بہائے۔ اظہار غم و غصہ کیا۔ لیکن اس طرح کے واقعات سے بچاؤ کیلئے جب ایسی ’زینباؤں‘‘ کے شرعی پردہ کی بات کی جاتی ہے تو سماجی تنظیمیں اورجدت پسند اس پر سخت تنقید کرکے خود ساختہ فلسفہ جھاڑنا شروع کر دیتے ہیں کہ’’ پردہ تو دل کا ہوتا ہے‘‘۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ان واقعات کے بعد ہم سنجیدہ فکری کے ساتھ ان کے اسباب و عوارض پر غور فکر کر کے ان کا مستقل تدارک کرتے۔ مگر یہاں تو گنگا ہی الٹی بہہ رہ ہے۔ان واقعات کے نتیجے میں بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو مل رہی ہیں۔ کچھ تو یہ کہ رہے ہیں کہ ان واقعات کو روکنے کیلئے سکولوں میں’’ سیکس ایجوکیشن ‘‘ شروع کی جائے۔ ماں باپ اور اساتذہ حکمت و دانائی کے ساتھ بچوں کی نظریاتی و نفسیاتی تربیت کے دوران کچھ جنسی حوالے سے بات کہہ دیں تو کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر مغربی معاشرے کے سکولوں کی جنسی تعلیم من و عن اپنے سکولوں میں لاگو کرنا چاہتے ہو تو کسی طور روا نہیں۔یاد رکھیں کہ ان واقعات کے قلع قمع کا یہ علاج ہر گز نہیں کہ جنسی تعلیم عام کر دی جائے۔ ہوش کے ناخن لو! کیونکہ الٹا یہ تعلیم بے حیائی کے فروغ اور مزید پریشان کن و اقعات کا سبب بنے گی۔
بدلنا ہے تو مے بدلو نظام مے کشی بدلو و گرنہ جام و مینا کے بدلنے سے کیا ہوگا

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Masood Akhtar Hazarvi

Read More Articles by Prof Masood Akhtar Hazarvi: 197 Articles with 123919 views »
Director of Al-Hira Educational and Cultural Centre Luton U.K., with many years’ experience as an Imam of Luton Central Mosque. Professor Hazarvi were.. View More
22 Jan, 2018 Views: 314

Comments

آپ کی رائے